Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul NovelR50617 Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 24)
Rate this Novel
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 24)
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul
سبحان کو کسی ضروری کام کی وجہ سے جلدی جانا تھا اِس لیے وہ ناشتے کے فوراً بعد گھر سے جاچکا تھا۔۔اسکے جانے کے کچھ دیر بعد علی بھی یونی روانہ ہوچکا تھا۔۔۔
اِس وقت وہ دونوں اکیلی تھی گھر میں۔۔۔ڈارئنگ ہول میں دیا نیچے کاوچ پر بیٹھی کھیل رہی تھی جبکہ فضا کچن میں گھسی دیا کے لیے کچھ بنا رہی تھی۔۔۔تبھی رمشا فون کان سے لگائے اپنی ٹک ٹک کرتی ہیل کے ساتھ ڈارئنگ ہول میں داخل ہوئی۔۔۔
اور بےدھیانی میں چلتی ہوئی اپنی ہیل والا پاؤں دیا کے ہاتھ پر رکھ دیا۔۔جس سے خانزادہ ولا دیا کی دل خراش چیخوں سے گونج اُٹھا۔۔۔
فضا حواس باساختہ سی کچن سے نکل کر اُسکی طرف بھاگی۔۔۔رمشا پریشان سی اُسکے پاس کھڑی ہوئی تھی جس کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھی۔۔۔
فضا نے جلدی سے اُسے گود میں تھاما۔ششش۔۔روتے نہیں۔دیا۔بش۔بش۔وہ اُسے پچکارتے ہوئے بولی۔۔ماما۔۔کی۔۔جان۔کو۔۔کیا۔۔ہوا۔۔ہممم۔۔ماما۔کو۔۔بتاؤ۔۔وہ اُسکے سر کا بوسہ لیتی اُسے سینے سے لگاۓ بہلاتے ہوئے بولی۔۔۔دیا نے روتے ہوئے اُسکے سامنے اپنا ننھا سا ہاتھ کیا۔۔۔جس پر گہرا نیل پڑ چکا تھا۔۔
فضا نے فکرمندی سے اُسکا ہاتھ تھاما۔۔اور نہ سمجھنے والے انداز میں آس پاس دیکھنے لگی۔۔ تبھی اُسکی نظر میک اپ کی دکان رمشا پر پڑی۔۔ایک پل میں ساری بات اُسکے سمجھ میں آتے ہی وہ غصے سے کھولتی ہوئی اُسکی جانب موڑی۔۔۔
آپ آندھی ہے دیکھ کر چل نہیں سکتی تھی۔۔آنکھیں ہے یہ بٹن۔۔وہ اُسکی آنکھوں میں اپنی سبز آنکھیں گاڑتی ہوئی غصے سے بولی۔۔۔یہ تم مجھ سے کس لہجے میں بات کررہی ہو تمیز نہیں ہے کسی سے کیسے بات کرتے ہے گوار کہی کی۔۔۔رمشا اُسکی بات کو نظر انداز کیے غصے سے سر جھٹکتے ہوئے بولی۔۔۔جس لہجے میں تمہیں سمجھ آتی ہے اُسی لہجے میں سمجھا رہی ہوں۔۔۔تمہارے لیے بہتر ہوگا جتنا ہوسکے میری بیٹی اور میرے شوہر سے دور رہو نہیں تو تم کو اپنے گھر سے پھیکوانے میں دیر نہیں لگاؤ گی۔۔وہ غصے سے کھولتی انگلی اُٹھا کر اُسے وارن کرتی ہوئی سڑھیاں کی جانب بڑھ گئی۔۔تبھی رمشا کے کہے الفاظ نے اُسکے بڑھتے قدم روک لیے۔۔۔
سبحان اب تمہارا نہیں رہا فضا میڈم۔۔وہ کمینگی مسکراہٹ سے اُسے دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔وہ بہت جلد مجھ سے شادی کرنے والا ہے۔۔۔اُسکی بات پر فضا کو ایسا لگا جیسے پورے گھر کی چھت اُس کے سر پر آگری ہو۔۔اُسکے قدم لڑکھڑائے۔۔۔یہ جو تم سبحان کے دم پر اِتنا اکڑ رہی ہو نہ بہت جلد تمہاری یہ اکڑ ٹوٹے گی۔۔۔اور۔۔وہ بھی سبحان خود توڑے گا۔۔جس پر تم اِتنا اترا رہی ہو۔۔وہ سینے پر بازوں باندھے اُسے دیکھ مزے سے بولی۔۔۔۔۔
تت۔تت۔تم۔۔جھوٹ۔۔بب۔بھول۔۔رہی۔۔ہو۔۔سبحان۔اا۔ایسا۔۔کیوں۔۔کرۓ۔گے۔۔وہ۔صرف۔۔مجھ۔سے۔محبت۔کرتے۔۔ہیں۔۔وہ۔۔تم۔۔سے۔۔شادی۔کیوں۔۔کرے۔۔۔گا۔۔فضا۔۔کو۔اپنی ہی۔آواز۔۔۔۔کسی۔کھائی۔سے۔آتی۔۔ہوئی۔۔محسوس ہوئی۔۔سبز آنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگے۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہایایا۔۔یار تم بھی بہت بھولی ہو۔۔تمہارے پاس وقت ہی کتنا بچا ہے۔۔تمہارے مرنے کے بعد بھی تو اُسنے کرنی ہی ہے۔۔تو پھر ابھی کرۓ۔۔یہ۔۔بعد میں۔۔وہ اُسکی طرف مسکراہٹ اچھالتے ہوئے بےدردی سے بولی۔۔۔فضا کو لگا جیسے اُس کے منہ پر کسی نے زور دار تھپڑ مارا ہو۔۔۔اُسکا وجود سناٹوں کی زد میں آگیا۔۔آنکھوں روانگی سے بہ رہی تھی۔۔وہ چند قدم لڑکھڑائی۔۔۔ہر۔۔ہر۔۔آرام سے۔۔۔مجھے پتہ ہے تم یہی سوچ رہی ہوگی نہ کہ مجھے یہ سب کس نے بتاۓ۔۔افکورس یار سبحان نے۔۔۔وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولی۔۔اپنے ہینڈسم مین کو کسی اور کے پاس دیکھ کر اُسکو آگ ہی لگ گئی تھی اند دیکھی آگ۔۔۔اِس لیے اُسنے بنا کچھ سوچے سمجھے جان بوجھ کر ساری سچائی اُسکے گوشوگزار کردی جسے سبحان نے اُسے سختی سے بتانے سے منہ کیا تھا۔۔۔۔
رمشا کے جانے کے بعد وہ کتنی ہی دیر ساکت و جامد سی وہی کھڑی رہی اور پھر پھٹتے سر کے ساتھ لرزتے کانپتے جسم کے ساتھ وہ کچھ دیر دیا کو بوا کے حوالے کیے سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔.
__________________
فضا دیا کو بوا کے حوالے کیے خود تھکے ہارے قدموں کے کمرے میں داخل ہوئی اور دروازے بند کیے لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ بیڈ کی جانب آئی اور وہی بیڈ کے ساتھ نیچے بیٹھتی چلی گئی۔۔اُسکو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ سبحان نے اُسے اِتنا بڑا دھوکا دیا۔۔۔ابھی کل رات ہی تو اُسنے اپنا سب کچھ اُس شخص کے حوالے کیے تھا۔۔اُسے اپنی روح میں اُترنے کی اجازت دی تھی۔کل رات کی سوچ آتے ہی وہ گھٹنوں میں سر دیے دھاڑے مار کر پھوٹ پھوٹ کر رہ دی۔۔
اُس کا دل کررہا تھا وہ خود کو ختم کر لے۔۔۔یا اِن سب سے کہی دور چلی جاۓ جہاں کوئی بھی نہ ہو۔۔۔کک۔کیوں۔سس۔سبحان۔۔کیوں۔۔کیا۔۔میرے۔ساتھ۔ایسا۔مم۔میں تو۔۔آپ۔سے۔۔محبت۔کرنے۔۔لگی۔تھی۔تو پھر کیوں میرے جزبات کے ساتھ میرے اعتبار کے ساتھ کھیلا آپ نے۔۔مم۔میں۔آپ کو۔۔کبھی معاف نہیں کرو گی۔کبھی بھی نہیں خود سے کہتی ہی وہ ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔اُسکا دل شدت درد سے پھٹا جارہا تھا۔۔۔
صبح سے رات ہوچکی تھی۔۔۔اِس وقت رات کے سات بج رہے تھے۔۔فضا دوبارہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھا۔۔دیا ابھی تک بوا کے پاس تھی۔۔وہ ہر چیز سے بےخبر گھٹنوں پر سر رکھے نیچے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔رو رو کر اب تو آنکھیں بھی سوجھ چکی تھی۔۔۔۔
تبھی دروازا کھولے سبحان اپنے دھیان میں اندر داخل ہوا۔۔لیکن جیسے ہی اُسکی نظر فضا پر پڑی وہ ٹھٹکا۔۔اُسے شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔۔فف۔فضااا۔فف۔فضااا۔۔اُسنے وہی سے اُسے پکارا۔۔
اُسنے نے سر اُٹھا کر خالی آنکھوں سے اُسکی جانب دیکھا۔۔۔جہاں نہ کوئی جزبات تھے نہ دکھ نہ درد نہ خوشی ہر چیز سے خالی تھی۔۔اُسکی حالت دیکھ سبحان تڑپ ہی تو اُٹھا۔۔۔
اور دیوانہ وار اُسکی جانب بڑھا ۔۔۔۔
فف۔فضا۔۔مم۔میری۔۔جان۔۔کیا۔ہوا۔۔ایسے۔۔نیچے۔کیوں۔بیٹھی ہو۔۔سبحان اُسے کندھوں سے تھامے کھڑا کرتے ہوئے فکرمندی سے بولا۔۔۔لیکن فضا کو کہاں کچھ سنائی دے رہا تھا وہ تو بس یک ٹک خالی نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
فضا جان کیا ہوا۔۔وہ اُسکی گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔۔جسے فضا نے بےدردی سے جھٹکا۔۔اور سر نفی میں ہلاتی اُس سے چند قدم دور ہوئی۔۔سبحان ساکت سا اپنے ہاتھ اور فضا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
آپ۔نن۔نے۔اچھا۔۔نننہیں۔کیا۔۔کک۔سس۔سبحان۔کیوں۔۔ کیوں۔۔میرے۔ساتھ آپ نے ایسا کیا۔۔میں۔۔ نے کیا بگاڑا تھا آپ کا۔۔وہ اُسے دیکھ روتے ہوئے بولی۔۔سبحان نہ سمجھی سے سب سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔آآآپ۔۔ نے۔۔ خود مجھ سے شادی کی بات کی تھی۔۔میری بیماری ۔۔یہاں تک کہ دیا کا بھی آپ کو پتہ تھا۔۔پھر مجھے دھوکا کیوں دیا۔۔۔وہ آخر میں غم و غصے سے چلائی۔۔اُسکا سانس پھول رہا تھا جسے وہ نظر انداز کر گئی۔۔کیا۔۔بول۔۔رہی۔ہو۔۔میں۔نے۔کیا۔دھوکا دیا تمہیں وہ بھی اب اُسکی بگڑتی حالت دیکھ کر سنجیدگی سے بولا۔۔۔
موسیٰ نے تو نکاح والے دن منہ کیا تھا اور آپ نے جب تک دل چاہا میرے ساتھ کھیل کر مجھے ایک دم سائیڈ پر کر دیا۔۔۔دوسری شادی کررہے ہے نہ۔۔۔وہ اُسکو دیکھتی سنجیدگی سے بولی۔۔۔اُسکی بات پر سبحان نے پتھرائی و ساکت نظروں سے اُسے دیکھا۔۔کہ فضا کی یہ حالت اِس وجہ سے ہوئی ہے۔۔۔شوق سے کرۓ۔۔مم۔۔میں۔۔آپ۔۔کو۔نہیں۔روکو۔۔گی۔۔لیکن اُس سے پہلے مجھے طلا۔۔ق۔۔
فضااااا۔۔۔وہ دھاڑا۔۔چٹاخ۔۔۔سبحان کی دھاڑ کے ساتھ ایک زور دار تھپڑ فضا کی گال کی زینت بنا۔۔جس سے وہ چند قدم لڑکھڑائی۔۔خخ۔خبردار جو دوبارہ تمہارے منہ سے یہ لفظ بھی۔ نکلا تو۔۔زبان گدھی سے کھینچ لو گا۔۔اپنی سرخ ہوتی آنکھیں اُسکی سبز آنکھوں میں گاڑتے ہوئے غرا کر بولا۔۔۔مم۔۔مجھے۔۔نن۔نہیں۔۔رہنا۔۔آپ۔۔کے۔ساتھ۔وہ۔۔بھی۔ہچکیوں کے درمیان روتے ہوئے چلائی۔۔۔اُسکی بات پر سبحان کا دماغ گھوما۔۔اُسنے اُسے کندھوں سے پکڑ کر بےدردی کے ساتھ دیوار کے ساتھ لگایا۔۔۔۔تم جو مرضی کہ لو۔۔رہنا تو تمہیں میرے ساتھ ہی ہے۔۔مرتے دم تک آخری سانس تک وہ اُسے کمر سے جکڑے خود کے قریب تر کرتا ہوا بولا۔۔۔
نن۔نہیں۔۔رہنا۔مجھے۔آپ۔جیسے۔۔دھوگلے۔۔شخص کے ساتھ۔۔میں یہاں سے چلی جاؤ گی۔۔بہت جلد۔۔آپ کی پہنچ سے بہت دور چلی جاؤ گی۔وہ بھی غصے سے دوبدو بولی۔۔
اُسکی بات پر سبحان نے قہقہہ لگایا۔۔ہاہاہاہاہاہا۔۔۔اُسکو ہنستا دیکھ فضا کو اُسکی دماغی حالت پر شک ہوا۔۔۔ڈئیر بیوی۔
وہ اُسکی طرف دیکھتا ہوا ہر لفظ چبا چبا کر بولا۔۔تم۔۔یہاں۔۔سے کہاں۔۔جا۔و۔گی۔۔بھلا۔اپنے گھر تو تم جا نہیں سکتی۔۔کیوں۔۔کہ۔جہاں۔تک مجھے یاد ہے تم سارے تعلق توڑ کر یہاں آئی ہو۔۔اور جہاں تک مجھے یاد ہے اِس گزرے وقت کسی نے ایک بار بھی فون کرکے نہیں پوچھا کہ تم ٹھیک ہو یا نہیں۔۔۔سبحان اُسکے بال کان کے پیچھے اڑاستا ہوا پھنکارا۔۔اُسکی بات پر فضا کے قدم لرزے آنکھوں سے ایک بار پھر برسات جارہی ہوچکی تھی۔۔جس سے سبحان نے بےمشکل نظریں چرائی۔۔۔تمہیں یہی رہنا ہوگا اِسی گھر میں میرے ساتھ۔۔اور ہاں کل میں رمشا سے نکاح کرنے والا ہوں۔۔اُسکی آخری بات پر اُسنے جھٹکے سے سر اُٹھایا۔۔سبحان اُسکی سبز آنکھوں میں شکوہ غم و غصّہ درد۔۔ دیکھ اُس سے نظریں چراتا تکلیف سے بھرے دل کو سنبھالے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
اُسکے جاتے ہی وہ وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی ۔۔۔۔
اس نے اِس وقت شدت سے اپنے مرنے کی دعا کی۔۔۔
جو۔۔شاہد بہت جلد قبول ہونے والی تھی ۔۔۔۔
________________
سبحان غم و غصے سے کھولتا۔۔سڑھیاں اُتر کر نیچے آیا۔۔اُسکا دماغ فضا کی باتوں کی وجہ سے پھٹا جارہا تھا۔۔غصے سے دماغ کی رگیں اُبھری ہوئی تھی اُسنے کہاں سوچا تھا بات اِس حد تک پہنچ جاۓ گی۔۔۔وہ ابھی بھی فضا کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا جبھی بوا روتی ہوئی دیا کو لے کر وہاں آئی۔۔۔سبحان بیٹا فضا بیٹی کہاں ہے۔۔بوا سبحان کو دیکھ فکرمندی سے بولی۔۔بوا اُن کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ دیا کو مجھے دے دیے۔۔سبحان خود کو نارمل کرتا ہوا نرمی سے بولا۔۔تو بوا نے روتی ہوئی دیا اُسکی گود میں دی سبحان کے پاس آتے ہی وہ چپ ہوگئی۔۔۔تبھی سبحان کی نظر اُسکی سوجھے ہاتھ پر گئی جہاں ابھی بھی نیل پڑا ہوا تھا۔۔۔بوا دیا کے ہاتھ پر یہ کیا ہوا سبحان فکرمندی سے اُسکا ننھا اپنے ہاتھ میں لیتے ہوۓ بولا۔۔۔تو بوا نے ساری بات اُسکے گوشوگزار کردی جسے سن کر سبحان کا خون کھول اُٹھا اُسنے غصے سے مٹھیاں بھینجی
بوا آپ اِس کے لیے کچھ کھانے کو لے آیا ساتھ کوئی کریم بھی دیجیے گا مجھے۔۔۔۔سبحان اُسکے ہاتھ کا بوسہ لیتا ہوا بولا تو وہ مسکراتی ہوئی کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔تبھی رمشا اپنی ٹک ٹک کرتی ہیل کے ساتھ ڈائنگ ہال میں داخل ہوئی۔۔اور سبحان کو سمائل پاس کرتی وہی اُسکے برابر بیٹھ گئی۔۔
اُسکے دیکھ دیا نے ڈر کے مارے سبحان کے سینے میں منہ چھپا لیا۔۔دیا کی حرکت سبحان نے مخفی نہ رہ سکی۔سبحان کو اِس وقت رمشا کا مسکرانا زہر سے بھی زیادہ برا لگ رہا تھا جس نے اُسکے منہ کرنے کے باوجود فضا کو سب کچھ بتا دیا۔۔اور دیا کو تکلیف پہنچائی۔۔سبحان نے زبردستی اُسکو سمائل پاس کی۔۔۔ہم کل نکاح کررہے ہیں تم نے جو بھی تیاری کرنی ہے کرلو۔۔۔سبحان دیا کو دلیا کھلاتا ہوا بولا۔۔اُسکی بات سن کر رمشا بےیقینی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔
سبء۔سبحان۔۔تت۔تم۔۔سچ۔۔کہ۔۔رہے۔۔ہو۔۔رمشا کی بےیقینی سی آواز ہال میں گونجی۔۔تو سبحان نے سنجیدگی سے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔تو وہ خوشی سے جھومتی گنگناتی ہوئی وہاں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔نکاح کی تیاری کرنے۔۔۔اُسکے جاتے ہی سبحان نے ایک لمبی سانس ہوا کے سپرد کی اور ایک نظر اوپر اپنے کمرے کی جانب ڈالی۔۔جہاں ظالم حسینہ خود پر ظلم کررہی تھی۔۔اور پھر وہ سر جھٹکتا ہوا دیا کی جانب متوجہ ہوگیا۔۔۔
