Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 10)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

کاشان کے اچانک واپس جانے پر سب گھروالے بہت زیادہ خفا تھے کہ بہن کہ نکاح کے بعد چلے جاۓ۔۔۔لیکن اسنے جوب کا بہانا بنا دیے۔۔دل تو اُسکا بھی بہت تھا اپنی اک لوتی بہن کے نکاح میں شامل ہونے کا۔۔ لیکن کیا کرتا پیچھے سے سخت والا اوڈر تھا۔۔جسے وہ چا کر بھی رد نہیں کرسکتا تھا۔۔۔کاشان کے جانے کا سن کر فضا کافی اُداس تھی ایک وہی تو تھا اُسکو سمجھنے والا۔۔ لیکن کاشان کے بار بار سمجھانے پر وہ سمجھ گئی تھی۔۔۔آج کاشان کو گئے ہوۓ تیسرا دن تھا۔۔گھر کے سب لوگ نکاح کی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔شام کو فضا اور موسیٰ کا نکاح تھا۔۔۔گھر کو بہت ہی زیادہ خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔

ہادیہ زبردستی فضا کو اپنے ساتھ مول لے جاکر نکاح کا ڈریس لائی تھی۔۔۔لیکن فضا کا دل کسی انہونی کا پتہ دے رہا تھا۔۔۔

__________________

آخر وہ وقت بھی آپہنچا جس کا سب کو بےصبری سے انتظار تھا۔۔آج فضا اور موسیٰ کے نکاح کے ساتھ فائق اور لائبہ کا ولیمہ بھی تھا۔۔سب لوگ مختلف تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔ہر طرف گہما گہمی کا سما تھا۔۔فنکشن کو گھر کےلون میں ہی رکھا گیا تھا۔۔لون کو لائٹنگ کے ساتھ سفید اور گلابی پردوں سے بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا کہ دیکھنے والا تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔۔سب لوگ تیار ہوۓ باقی کی تیاریاں دیکھ رہے تھے۔۔۔لائبہ اور فضا کو بیوٹیشن گھر پر تیار کررہی تھی۔۔

فضا نے سفید پیروں کو چھوتی فراق پہنی ہوئی تھی جس پر گولڈن کڑاہی کی ہوئی تھی۔۔۔دوبٹہ سر پر سیٹ کیے ہوۓ۔۔۔لائٹ میک اپ کیے۔۔ہاتھوں میں گجرے پہنے وہ انتہائی حسین شہزادی لگ رہی تھی۔۔ہادیہ تو کہی بار اُسکی نظر اُتار چکی تھی۔۔۔لائبہ سکن کلر کی میکسی پہنے بالوں کا اونچا جوڑا بناۓ۔۔میچنگ میک اپ کیے ساتھ میچنگ جیولری پہنے دوبٹہ سر پر سیٹ کیے بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ دونوں تیار ہو چکی تھی۔۔۔

کچھ ہی دیر میں موسیٰ بھی اپنی فیملی کے ہمراہ وہاں پہنچ چکا تھا۔۔۔اور اب فائق کے ساتھ سٹیج پر بیٹھا فضا کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔

کہ تبھی دولہنوں کے آنے کا شور اُٹھا۔۔۔

پیروں کو چھوتی سفید رنگ کی کامدار فراق پہنے سر پر بھی لال دوپٹہ اُوڑھے چہرے پر ہلکا سا میک کیے۔۔وہ سبز آنکھوں والی حسین گڑیا سہج سہج کر پاؤں رکھے سب کے درمیان چلتی ہوئی سٹیج کی طرف آ رہی تھی۔۔۔مشکل وقت گزار کر اِتنے دکھوں کے بعد آج بھی وہ زخمی مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ ہوئے تھی۔۔۔دل اُسکا زوروں سے شور مچا رہا تھا۔۔ وہ آج خوش بھی تھی لیکن اندر ہی اندر بےچینی بھی ہورہی تھی جو کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی تھی۔۔آج جسے پچپن سے چاہا۔۔بچپن سے دل و دماغ میں سوچا تھا۔۔جس کے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب سجائے تھے۔۔آج وہ مکمل اُس ایک شخص کی تاعمر کے لیے بننے جارہی تھی۔۔۔اپنے سارے حقوق اُس شخص کے نام کرنے جا رہی تھی ۔۔۔لیکن اپنے اُدھورے نامکمل رشتوں کے ساتھ۔۔اِنہی سوچوں میں غرق وہ سٹیج پر براجمان ہو چکی تھی۔۔۔لائبہ بھی فائق کے ساتھ صوفے پر براجمان ہوچکی تھی۔۔فائق نے اُسے ایک نظر دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا۔۔۔نم آنکھوں سے اُس بےرحم شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔پھر خود ہی سر جھٹک کر رہ گئی۔۔۔

فضا کو بیٹھے ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ تبھی اُسکے کانوں میں دیا کی رونے کی آواز پڑی۔۔

دیا کے رونے کی آواز سن کر اُسکا پورا جسم لرزنے لگا۔۔رنگت پیلی پڑنے لگی۔۔۔جیسے اُسے پتہ تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے ۔۔۔

وہ آس پاس نظریں گھمائے بےچینی سے پہلو بدلنے لگی۔۔اُسکو اس قدر بےچینی سے پہلو بدلتے دیکھ کر موسیٰ کی کچھ دیر پہلے والی قائم مسکراہٹ سمٹی۔۔۔دلہے سمیت وہاں موجود ہر انسان نے اُسکی حد سے زیادہ بڑھتی بےچینی بہت شدت سے نوٹ کی۔۔۔موسیٰ کا چہرہ اِنتہا کے ضبط سے لال سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔ مٹھیاں بھینجے وہ بمشکل غصہ کنٹرول کرنے کی ناکام سی کوشش کررہا تھا۔۔۔اُسکی ماں آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے باز رہنے کی التجاء کررہی تھی۔۔۔کافی دیر بعد بھی اُسکی بےچینی ختم نہیں ہوئی تھی۔۔سبز آنکھیں جھلکنے کو بےتاب تھی۔۔دل مسلسل زور شور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔ آس پاس کا ماحول بلائے اُسنے اپنے تڑپتے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر کسی کو اپنے پاس بلا کر اُسکے کان میں کچھ کہا۔۔۔جسے سن کر سامنے والی سر ہلاتی ہوئی ایک طرف چلی گئی۔۔۔ہمارا آج نکاح ہے اور تمہارے چہرے پر کوئی خوشی نہیں جھلک رہی ہے۔۔۔مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں تم سے زبدستی گن پوائنٹ پر نکاح کررہا ہوں۔۔اور اتنا بےچین کیوں ہو رہی ہو سب ہماری طرف ہی دیکھ رہے ہے۔۔۔ کم از کم آج کے دن تو اُس منہوس کو کچھ دیر کے لیے بھول جاؤ۔۔۔تمہاری اِس حرکت سے سب مہمان ہمیں ہی گھور رہے ہیں۔۔۔موسیٰ سامنے دیکھتا غصہ ضبط کرتا ہوا اُسکے کان کے قریب جھکتا ہوا ہر لفظ چبا چبا کر بولا۔۔۔کچھ دیر پہلے آئی کال کی وجہ سے وہ ڈسٹرب تھا اوپر سے فضا کا رویہ اُسے طیش دلانے کے لیے کافی تھا۔ ۔اس سے پہلے وہ مڑ کر کوئی جواب دیتی۔۔تبھی ہادیہ دیا کو تھامے اُسکے جانب آئی۔۔۔اُسنے آگے بڑھ کر تڑپتے دل کے ساتھ دیا کو تھاما۔۔اور سینے سے لگائے کب سے بےسکون دل کو سکون پہنچانے لگی۔۔۔دیا میری جان میرا بچہ۔۔۔ماما کی گڑیا ماما یہی تھی اِس میں رونے والی کیا بات بھلا۔۔۔وہ نم آنکھوں سے اُسکا ایک ایک نقوش چومتے ہوئے نم آواز سے بولی۔۔۔جو ماں کے آنچل میں آتے ہی پرسکون ہوکر اپنی موٹی موٹی سبز آنکھوں سے اُسے ہی نہار رہی تھی۔۔۔سٹیج کا ایسا منظر دیکھ کر مہمانوں میں چگ موگیاں شروع ہوگئی تھی۔۔۔کوئی محبت سے تو کوئی حسد سے سامنے کا منظر دیکھ رہا تھا۔۔اور ساتھ ایک دوسرے کے کانوں میں تبصرے بھی کررہا تھا۔۔۔۔اتنا سب ہونے کے بعد اُسکی برداشت ختم ہوئی اور وہ ایک جھٹکے میں اپنی جگہ سے اُٹھا۔۔۔۔بسسس۔۔۔بہ۔بہت ہوا۔۔۔بہت کر۔لیا۔۔نکاح۔۔بہت دیکھ لیا تماشا۔۔بہت ہوگئی محبت۔۔۔نکلو سب کے سب یہاں اب یہاں کوئی نکاح نہیں ہوگا۔۔وہ یک دم دھاڑا۔۔۔اور ایک نفرت بھری نظر اُس پر اور اُس ننھی سی بچی پر ڈالے دوبارہ غصے سے گویا ہوا۔۔۔سب ساکت نظروں سے اُسے دیکھ رہے تھے۔۔کہ کہی اُن سے سننے میں کوئی غلطی تو نہیں ہو گئی ہے۔۔۔

موسیٰ یہ تم کیا بول رہے ہو ہوش میں تو ہو۔۔۔حسن شاہ دھاڑے۔۔۔میں ہوش میں ہی اب آیا ہوں ۔۔۔مجھے نہیں کرنی شادی ۔۔۔وہ بھی غصے سے بولا اور اپنا رک فضا کی جانب کیا۔

بچپن سے تم میرے نام پر بیٹھی ہو۔۔ہمارا رشتہ بچپن سے جڑا ہوا ہے۔۔میں بھی تمہیں پسند کرتا تھا۔۔۔لیکن تمہارے بارے میں سب پتہ لگنے کے بعد اور تمہارا مجھ سے زیادہ اس منحوس کی پروا کرنا جو میری بہن کو پیدا ہوتے ہی کھا گئی ۔۔۔مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں ایک بٹی ہوئی چیز لے رہا ہوں۔۔موسیٰ غصے سے اُسکی طرف دیکھ کر بول رہا۔۔سب دم سادھے اُسے سن رہے تھے۔۔۔مانتا ہوں میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔۔لیکن میں تمہاری وجہ سے اپنی زندگی بالکل برباد نہیں کرسکتا۔۔۔لیکن پھر بھی میں ماما کی وجہ یہ شادی کررہا تھا۔۔۔کہ اُن کی پیاری بھانجی کو اب کوئی اپناۓ گا بھی یہ نہیں۔۔۔ نہیں تو میرا بھائی جیتے جی مر جاۓ گا۔۔لیکن یہاں تو اُن کی بیٹی کو ایک رشتے کے علاؤہ تو کوئی رشتہ نظر آتا ہی نہیں۔۔کہاں سے آپ لوگوں کو لگ رہا ہے کہ آج ہمارا نکاح ہے اور یہ دلہن ہے۔۔۔وہ سنجیدگی سے اُسکی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا۔۔۔ہدیوں کا ڈھانچا بنی۔۔آنکھوں کے نیچے پڑے کالے ہلکے جسے میک اپ سے کور کیا ہوا تھا۔۔لیکن پھر بھی نظر آ رہے تھے ۔۔سوکھے لرزتے خشک ہونٹ۔۔۔آنکھوں میں ٹھہرے بےپناہ آنسو ۔۔سفید رنگ کا لباس پہنے۔۔۔وہ دیا کو گود میں اُٹھاۓ کھڑی اُس بےمورت کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔

جیسے ابھی کوئی آکر اس سے اُسکی دیا اُسکی گڑیا چھین لے گا۔۔۔اگر شادی نہیں کرنی تھی تو ہمیں پہلے ہی بتا دیتے۔۔۔اِتنے سارے مہمانوں میں ہماری عزت کا تماشا تو نہ بتاتے۔۔۔فائق اُسکی طرف دیکھتا ہوا غصے سے چلایا۔۔۔۔

جو بھی ہو لیکن اب میں ایک مریضہ جس کا کچھ پتہ نہیں کسی بھی۔۔وو۔ق۔۔۔فضا نے آنکھیں مینچی۔وہ بولتے بولتے رُکا اور اپنے الفاظ پر غور کرنے لگا۔۔۔۔کچھ سیکنڈ کے بعد وہ دوبارہ بولا۔۔۔میں یہ شادی نہیں کرسکتا ۔۔۔اور نہ ہی ایک بچی کو پال سکتا ہوں جو میری معصوم بہن کی موت کی وجہ بنی ہو۔۔۔اِتنا بڑا ظرف میرا نہیں ہے ۔۔اور نہ مجھ میں اِتنی ہمت اور حوصلہ ہے۔۔میں یہ شادی نہیں کرسکتا اور نہ ہی مجھے اپنی زندگی خراب کرنے کا کوئی شوق ہے۔۔۔۔وہ ایک نظر سب پر ڈالے نظریں جھکا کر سنجیدگی سے بولا۔۔۔اور پھر رُکا نہیں۔۔۔سب کو اپنی اپنی جگہ پر ساکت چھوڑے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔

وہ ساکت وجود کے ساتھ کھڑی سامنے دیکھ رہی تھی جہاں سے کچھ دیر پہلے وہ بےرحم شخص اُسے سب کے سامنے ٹھکرا کر گیا تھا۔۔اُسکی عزت کی اُسکی محبت کی دھجیاں اُڑا کر گیا تھا۔۔۔۔کیا محبت ایسی ہوتی ہے۔۔کیا محبت اتنی خود غرض ہوتی ہے۔۔آنکھوں سے آنسو روانگی کی صورت تیزی سے بہنے لگے۔۔۔ایک تلخ مسکراہٹ نے اُسکے چہرے کا طواف کیا۔۔۔کیا اِتنی بڑی سزا ملتی ہے کسی کو بچانے کی کسی کو اِس بے رحم دنیا میں نہ رلنے دینے کی۔۔جہاں ہر جگہ بھیڑیاں بیٹھے ہے نوچنے کو۔۔وہ اِس ننھی سی گڑیا کی جانب نظریں گاڑے ہوئے سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔جو نیند میں بھی رونے کی وجہ سے مسلسل ہچکیاں لے رہی تھی۔۔۔۔اُس ننھی سی کلی کی طرف دیکھ کر کچھ ہی پل میں اُسنے ایک فیصلہ کیا تھا۔۔۔جس سے اُسکو اپنے اندر تک ایک سکون اُترتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔اُسنے بھیگی آنکھوں کے ساتھ زور سے دیا کو خود میں بھینجا۔۔کہ تبھی اُسکے گرنے سے پہلے ہادیہ نے بروقت اُسکے ہاتھوں سے دیا کو تھاما اُسکے تھامتے ہی وہ صوفے پر گرنے والے انداز میں جھول گئی۔۔اسکے گرنے کی آواز پر سب ہوش میں آتے ہی اُسکی جانب بھاگے۔۔بےمشکل ہی وہ آنکھیں کھولے سب سمجھنے کی کوشش کررہی تھی ۔۔۔لیکن جو زخم جو دکھ اُسکی قسمت نے اُسے دیا تھا۔۔وہ ایسے تو کم نہیں ہوگا۔۔۔سر درد سے بےتحاشہ پھٹ رہا تھا۔۔۔دماغ میں مسلسل موسیٰ کے الفاظ گردش کررہے تھے ۔۔۔اور اِن الفاظوں کی باز گشت میں وہ اپنی آنکھیں موند گئی۔۔۔۔

________________

فائق سمیت سب گھر والے جلدی سے اُسکی طرف بڑھے۔۔جو ہر چیز سے بے نیاز اپنی آنکھیں موند گئی تھی۔۔فضا گڑیا آنکھیں کھولو۔۔گڑیا۔۔پلیز آنکھیں کھولو۔۔فائق اُسکا چہرہ تھپتھپاۓ مسلسل اُسے اُٹھانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔فائق نے جلدی سے اُسکی نبض چیک کی جو حد سے زیادہ سلو چل رہی تھی۔۔۔

بھائی ہمیں جلدی سے اِسے ہوسپٹل لےکر جانا ہوگا۔۔۔اِسکی حالت بہت کریٹیکل ہے۔۔۔ہادیہ ڈاکٹر کی بات یاد آتے ہی جلدی سے گویا ہوئی۔۔جس نے صاف صاف منہ کیا تھا فضا کو کسی بھی طرح کا سٹریس نہیں ہونا چاہئے نہیں تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔۔بیٹی کی ایسی حالت دیکھ کر حسن شاہ کی آنکھیں نم ہوئی۔۔فائق جلدی سے فضا کو گود میں اُٹھاۓ باہر کی جانب بھاگا۔۔اُسکے پیچھے ہی باقی گھر والے بھی نکلے۔۔۔

ایک گھنٹے کی مسافت فائق نے بیس منٹ میں طہ کی۔۔۔وہ سب اِس وقت ہوسپٹل میں موجود تھے۔۔فضا کو آئی۔سی۔یو۔۔میں لے جایا گیا تھا۔۔وہ سب پریشانی سے باہر بیٹھے ڈاکٹر کے باہر آنے کا بےصبری سے انتظار کررہے تھے۔۔۔تبھی فائق کے دماغ میں جھمکا ہوا وہ ہادیہ کی طرف بڑھا جو دیا کو سینے سے لگائے روتی ہوئی اپنی جان سے پیاری بہن کے لیے دعا کررہی تھی۔۔۔۔ہادیہ موسیٰ نے گڑیا کو مریضہ کیوں بولا تھا۔۔۔کیا اُسے کچھ ایسا تھا جو ہم میں سے کسی کو نہیں پتہ۔۔فائق اُسکے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔و۔ہ۔۔بھائی۔۔وہ۔۔فف۔۔ہادیہ مجھے صرف سچ سننا ہے وہ سخت آواز میں بولا۔۔۔سب گھروالے اُن دونوں کی جانب متوجہ ہو چکے تھے۔۔۔بھائی۔۔فف۔فضا۔۔ہمیں۔۔چھوڑ کر چلی جاۓ گی۔۔ہادیہ بس اِتنا کہتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔سب ساکت نظروں سے اُسے دیکھ رہے تھے سب کو اُسکی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔۔کک۔۔کیا۔۔مم۔مطلب۔۔اِس بار حسن شاہ بولے۔۔۔فف۔فضا کو۔۔بلڈ کینسر ہے سیکنڈ سٹیج پر۔۔۔اُسکی بات پر اُن سب کو ایسا لگا جیسے ہوسپٹل کی چھت اُن کے سر پر آگری ہو ۔۔فائق کے قدم لڑکھڑائے۔۔۔تبھی ڈاکٹر روم سے باہر نکلی ۔۔سب لوگ اُن کی طرف متوجہ ہوئے۔۔ڈڈ۔ڈاکٹر۔۔کک۔۔کیسی۔۔ہے اب۔۔وہ۔۔۔۔دیکھے سر ہم نے اِن کو پہلے ہی کہا تھا ان کو کسی بھی قسم کا سٹریس ان کی حالت کے لیے بالکل ٹھیک نہیں ہے۔۔یہ تو شکر کرۓ کہ پہلی دوفعہ تھا اور بروقت ہوسپٹل لانے سے وہ ٹھیک ہے اب۔۔لیکن ابھی اُنہیں ہم نے نیند کا انجکشن لگایا ہے تو فلحال اُنہیں آرام کی ضرورت ہے۔۔ڈاکٹر اپنے پروفیشنل انداز میں گویا ہوئی ۔۔ڈاکٹر کی بات پر سب نے سکھ کر سانس لیا۔۔۔ایک اور بات اگر اب اُنہیں کسی بھی قسم کا سٹریس دیا یہ اُنہوں نے لیا تو پھر کم ہی چانسز ہے کہ وہ دوبارہ سرواہی کر سکے۔۔۔۔ہم دھیان رکھے گے۔۔ڈاکٹر کی بات پر وہ جلدی سے بولے تو وہ سر ہلاتی ہوئی چلی گئی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *