Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 03)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

ٹھیک چار دن بعد فائق اور لائبہ کی شادی تہ پائی گئی تھی۔۔فائق تو نہیں البتہ لائبہ بےانتہا خوش تھی اسکے تو پاؤں زمین پر ہی نہیں ٹک رہے تھے۔۔ ہر چیز میں وہ بڑھ چڑ کے حصہ لے رہی تھی۔۔۔کپڑوں سے لے کر دوسری چیزوں تک ہر چیز وہ اپنی پسند سے لے رہی تھی۔۔۔اب بھی وہ اپنی ماں کے ساتھ مول باقی کی شاپنگ کرنے مول گئی ہوئی تھیں ۔۔

مرد حضرات سب آفس گئے ہوئے تھے۔۔۔ہادیہ کا آج سیکنڈ سمسٹر کا لاسٹ پیپر تھا۔۔تو وہ یونی گئی ہوئی تھیں۔۔۔۔

فضا گھر پر ہی تھی وہ دیا کو گود میں لیے ہادیہ کو کال کررہی تھی۔۔۔جو دوسری طرف سے ایک دو بل کے بعد اُٹھا لی گئی تھی۔۔ہاں۔۔ہیلو۔۔ہادیہ۔۔یار۔۔کہاں۔۔۔ہو۔۔فضا پریشانی سے بولی۔۔۔فضا یار میں تو یونی میں ہوں۔۔۔ابھی پیپر دیے کر فارغ ہوئی ہوں۔۔کیوں خیریت تم اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو۔۔۔۔ہادیہ اسکی پریشان آواز سن کر خود بھی فکرمندی سے بولی۔۔یار ہادیہ میری یونی کی طرف سے لاٹر آیا تھا لیکن میں دیکھنا بھول گئی اب دیکھا تو۔۔۔تو مجھے کچھ فارم جمع کروانے ہوگے یونی میں اور لاسٹ ڈیٹ بھی آج ہی ہے۔۔۔فضا اپنے آنسؤں کو روکتے ہوئے نم آواز میں بولی۔۔۔یار تو تم جاکر جمع کروا دو اتنی سی ۔۔ہادیہ نے اپنی تہی مشورہ دیا۔۔یار کیسے جاؤ گھر میں کوئی بھی نہیں ہے اور اس میڈم کو میں اپنے ساتھ لے جا نہیں سکتی۔۔۔ملازمہ کے ہاتھوں یہ چپ رہنے والی نہیں ہے۔۔۔فضا دیا کو زبردست گھوری سے نوزاتی ہوئی بولی۔۔۔تو دیا اپنی ماں تپا ہوا دیکھ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔۔۔کافی دیر بعد بھی جب دوسری طرف سے کوئی آواز نہ آئی تو فضا جھجھلا کر دوبارہ بولی۔۔۔کس مراقبے میں چلی گئی ہو۔۔۔ہاں۔۔کہی نہیں ۔۔میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔۔ہادیہ پرجوش سی بولی۔۔۔کیاااا۔۔جلدی بول۔۔۔مجھے ابھی یونی میں تھوڑی دیر لگ جائے گی۔۔۔تم ایسا کرو اِسے میرے پاس چھوڑ کر چلی جاؤ اور اپنا کام کرلینا۔۔۔۔ہاںں۔۔یہ۔۔ہی ٹھیک رہے گا۔۔۔ٹھیک میں تمہیں 20 منٹ تک ملتی ہوں یونی کے باہر۔۔۔چل ٹھیک ہے آجا بائے۔۔۔کہ کر ہادیہ نے فون رکھ دیا۔۔۔

وہ جو کب سے سامنے بیٹھا اُسے نہارنے میں مصروف تھا۔۔اپنی کمر پر لگنے والے زبردست مکے سے وہ ہوش میں آتا کہرا کر بولا۔۔۔آہہ۔۔ہ۔۔ہ۔۔ظالم عورت میں اب کیا کیا۔۔علی معصومیت سے اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔یہ جو تم کب سے مجھے چھچھورو کی طرح گھور گھور کر دیکھ رہے تھے وہ کیا ہے۔۔۔وہ بھی اسکی طرف دیکھتی ہر لفظ چبا چبا کر بولی۔۔۔اسکی بات پر وہ گڑبڑایا۔۔۔ہی۔ہی۔۔ایی۔۔ایسا تو کچھ نہیں ہے۔۔وہ۔۔تو۔۔مم۔۔میں بس۔۔سوچ رہا تھا کہ کنٹین چلتے ہیں۔۔وہ بدلتا ہوا بولا۔۔۔اور جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑے کھینچتے ہوئے اپنا ساتھ لے گیا۔۔۔

________________

وہ آفس میں بیٹھا چہرے پر سرد مہری سجاۓ سنجیدگی سے اپنے سیکرٹری کے ساتھ فائل ڈسکس کررہا تھا۔۔۔۔فیضان کو کچھ ضروری اور مین پوائنٹ سمجھا کر اُسے جانے کا اشارہ کیا تو وہ سر ہلاتا ہوا آفس سے نکل گیا۔۔۔اُسکے جانے کے بعد وہ سکون سے آنکھیں موندے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔۔۔اُسکے آنکھوں بند کرتے ہی ہمیشہ کی طرح اُسکے ماں باپ کا سفید چادر میں لپیٹے جنازے نظر آئے۔۔۔جو ہمیشہ کی طرح آج بھی اُسے کرب میں مبتلا کیے بے چین کر دیتے تھے۔۔۔اُسنے پٹ سے اپنی آنکھیں کھولی۔۔۔اور لمبے لمبے سانس لینے لگا ایسا لگتا جیسے وہ میلوں دور سے بھاگتا ہوا آیا ہے ۔۔۔آنکھیں جو اس وقت لال سرخ ہوچکی تھی۔۔۔کیوں کیوں ماما بابا۔۔۔آپ دونوں ہمیں اکیلا چھوڑ کر کیوں چلے گئے۔۔۔ہمیں ابھی آپ کی ضرورت تھی۔۔۔علی کو ابھی ضرورت تھی۔۔پھر کیوں۔۔وہ۔۔اپنے سر کے بال نوچے بڑبڑاتے ہوئے اپنے ماں باپ سے شکوہ کررہا تھا۔۔آنکھ سے ایک موتی ٹوٹ کر اسکی بیرڈ میں جذب ہوگیا۔۔۔ابھی وہ کتنے ہی پل اِس تکلیف میں گزارتا۔۔۔کہ تبھی ڈور نوک کر کے نوفل اندر آیا۔۔۔ہائے بڈی کیسا ہے۔۔نوفل اندر داخل ہوتے ہوئے مسکرا کر بولا۔۔۔لیکن سبحان کی حالت دیکھ وہ پریشانی سے تڑپ کر اُسکی جانب بڑھا۔۔۔سبحان میری جان آر۔۔یو۔۔اوکے۔۔۔۔اُسنے جلدی سے ٹیبل سے گلاس اُٹھا کر اسکے منھ کو لگایا۔۔۔وہ جانتا تھا۔۔۔آج بھی اسکو اُسی خواب نے پریشان کیا ہے۔۔۔اپنے دوست کی ایسی حالت دیکھ وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پاتا تھا۔۔۔

تم ٹھیک ہو۔۔وہ اُسکی طرف دیکھ کر فکرمندی سے بولا۔۔۔تو اسنے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔اور جلدی سے خود کو کمپرومائز کیے بولا۔۔تم۔۔کب۔آۓ۔۔اسلام آباد سے۔۔اور دوسرے میاں صاحب نہیں آئے۔۔۔عبداللّٰہ اُسکا دھیان ہٹانے کے لیے بولا۔۔۔مم۔۔یار میں تو آج ہی آیا ہوں۔۔۔اور میاں صاحب کو شادی کی شوپنگ کرنی تھی ایک دو دن تک اُسکے بھائی کی شادی ہے اس لیے وہ کل آۓ گا۔۔نوفل تفصیل سے بتاتے ہوئے بولا۔۔۔ بھابھی اور میرا چھوٹا شہزادہ کیسا ہے۔۔وہ بھی تمہارے ساتھ آئی ہے۔۔ دو کپ کافی کا آرڈر کرتے ہوئے مسکرا کر بولا۔۔۔ہاں۔۔جی۔۔وہ۔۔بھی میرے ساتھ ہی آئی ہے پہلے انھیں گھر چھوڑ کر آیا ہوں۔

اور تمہارا پٹاخہ بھی ٹھیک ہے نوفل ہنستے ہوئے بولا۔۔۔تجھے کیسے پتہ میں آفس میں ہوں۔۔۔گھر گیا تھا تو پتہ چلا جناب آفس میں ہے تو میں ہی آفس آ گیا۔۔۔۔یہ تفتیش چھوڑ ۔۔تو بتا۔۔۔علی کیسا ہے۔۔اُسکی حرکتیں ٹھیک ہوئی یہ ویسی ہی ہے۔۔نوفل ہنستے ہوئے بولا۔۔۔کہاں یار وہ انسان کبھی نہیں سدھر سکتا۔۔۔سبحان بھی اسکی شرارتیں یاد کیے مسکرا کر بولا۔۔۔تبھی سیکڑی کافی لے کر اندر داخل ہوا۔۔۔تو وہ دونوں کافی کی جانب متوجہ ہوگئے۔۔۔

_______________

فضا دیا کو لے کر جیسے ہی یونی پہنچی۔۔ تو سامنے ہی ہادیہ اُسے ایک لڑکے کے ساتھ کھڑی دکھائی دی۔۔تو وہ دوبٹہ درست کرتی اُسکی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔اسلام علیکم فضا نے پاس پہنچتے ہی احتراماً سلام کیا۔۔واعلیکم سلام جس کا جواب دونوں نے ایک ساتھ مسکرا کر دیا۔۔۔فضا یہ علی ہے۔۔۔اور علی یہ میری بیسٹ فرینڈ اور کزن ہے۔۔ہادیہ نے مسکرا کر اُن دونوں کا ایک دوسرے سے تعارف کروایا۔۔۔فضا نے ہلکی سی مسکان کے ساتھ سر ہلایا ۔۔۔ہادیہ یہ لو اپنی امانت۔۔۔اور دیا ماما کی جان ماسی کو بالکل پریشان نہیں کرنا۔۔ماما بس کچھ دیر بعد آجائے گی۔۔فضا دیا کی دونوں گالوں پر باری باری بوسہ دیتے ہوئے نرمی سے بولی۔۔۔اور اُسے ہادیہ کو پکڑا دیا۔۔۔تم اِسکا خیال رکھنا۔۔میں جلدی آنے کی کوشش کرو گی۔۔۔کہ کر وہ ایک نظر دیا پر ڈالے وہاں سے چلی گئی۔۔۔

اپنا منہ تو بند کرو مکھی چلی جائے گی۔۔علی کا یو حیران نظروں سے منہ کھلا دیکھ کر ہادیہ چوٹ کرتی ہوئی بولی۔۔۔

ہادیہ یہ تمہاری کزن کی کچھ زیادہ ہی چھوٹی عمر میں شادی نہیں ہوگئی۔۔۔وہ اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے۔۔ حیران نظروں سے دیا کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔جی نہیں۔۔۔اِسکی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔۔۔واٹ۔۔علی کو اُسکی بات پر زور دار جھٹکا لگا ۔۔۔تو پھر یہ بچی کیسے۔۔۔

یہ اُسکی بیٹی نہیں اُسکے بھائی کی بیٹی ہے۔۔۔کہتے ساتھ ہادیہ علی کو ساری بات بتاتی چلی گئی۔۔جسے سن کر اُسے کافی دکھ اور افسوس ہوا ۔۔۔کہ ایسے بھی انسان دنیا میں ہوتے ہیں۔۔ جو اللّٰہ کے فیصلوں کو کسی دودھ پیتی بچی کے ساتھ جوڑ کر اُسے منحوس قرار دے دیتے ہیں۔۔۔کیا کہو یار۔۔۔بس اتنا ہی کہ سکتا ہوں۔۔اللّٰہ ان سب کو راہ راست پر لائے۔۔اور اس بچاری کو اُسکے صبر کا پھل دیے۔۔۔آمین۔۔علی نے دل سے دعا کی جس پر دونوں نے یکے بعد آمین کہا۔۔۔یار ہادیہ دیکھو تو اس پری کی آنکھیں کتنی پیاری ہے۔۔علی اُس کی سبز آنکھوں کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ہممم۔آخر اپنی پھوپھو سے جو چرائی ہے۔۔۔ہادیہ مسکرا کر بولی۔۔۔اور باری باری اسکی دونوں آنکھوں پر لب رکھے۔۔۔اسکی حرکت پر دیا نے برا سا منہ بنایا۔۔۔اسے دیکھ علی کا قہقہہ لگا ۔۔۔

________________

شام کے ساتھ بج رہے تھے۔۔ہر طرف رات کا سناٹا چھایا ہوا تھا ۔۔آسمان بھی کالے گہرے بادلوں میں چھایا ہوا تھا۔۔۔تیز تیز ہوا چل رہی کافی خوفناک منظر پیش کر رہی تھی۔۔۔ جلدی جلدی کے چکر میں اُسے پھر بھی کافی لیٹ ہوچکی تھی۔۔اُوپر سے دیا کی ٹیشن۔۔۔وہ جیسے ہی اپنا کام ختم کرکے یونی سے نکلی۔۔تو موسم کو دیکھ کر ایک دم گھبرا گئی۔۔۔یااللّٰہ اب اس موسم کو بھی ابھی خراب ہونا تھا۔۔وہ ایک نظر آس پاس دوڑاتے ہوئے پریشانی سے بولی۔۔۔وہ اِس وقت اکیلی پریشانی سے سڑک کنارے چل رہی تھی۔۔۔اس وقت کوئی ٹیکسی یا گاڑی سڑک پر نظر نہیں آ رہی تھی۔۔اوپر سے موسم زورں شور سے خراب ہو رہا تھا۔۔۔وہ دھڑکتے دل کے ساتھ سڑک پر تیز تیز چل رہی تھی۔۔۔تبھی اُسے لگا کوئی اُسکا پیچھا کر رہا ہے۔۔اسنے گھبرا کر جلدی سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔۔۔پریشانی اور خوف سے مسلسل اُسے پسینے آرہے تھے ۔۔۔وہ آیت الکرسی جا ورد کرتی اپنے قدموں میں تیزی لاتی ہوئی قدم آگے بڑھا رہی تھی۔۔۔تبھی اُسے لگا کوئی اسے مسلسل گھور رہا ہے۔۔۔جلدی سے مڑکر دیکھا تو سامنے تین گھنڈے کھڑے للچائی نظروں سے اُسے دیکھ کم گھور زیادہ رہے تھے۔۔۔۔سنسان سڑک پر اِتنے خراب موسم میں تین گھنڈے اس وقت اُسکے سامنے موجود تھے۔۔۔اُسے ایسا لگا جیسے وہ اب زندہ نہیں بچ پائے گی۔۔۔۔

کہاں چلی بلبل۔۔۔آجا ہم چھوڑ دیتے ہیں تمہیں۔۔۔اُن میں سے ایک کمینگی سے بولا۔۔۔تو دوسرے دو نے اس کی بات پر قہقہ لگایا۔۔۔ان کی بات پر فضا نے اپنے قدم پیچھے کو لیے۔۔۔اور بغیر وقت ضائع کیے۔۔۔وہ اندھا دھند بھاگنے لگی۔۔۔۔

پکڑو اِسے وہ لڑکی بھاگ رہی ہے۔۔۔ان کا بوس اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھتا ہوا غصے سے بولا۔۔۔اور تینوں جلدی سے فضا کے پیچھے بھاگے۔۔۔

یااللّٰہ مدد کر۔۔۔تیری بندی مصبیت میں ہے۔۔۔یااللّٰہ اپنا کوئی نیک بندہ بھیج۔۔میری عزت و آبرو کی حفاظت اب آپ کے ہاتھ میں ہے میرے مالک۔۔۔وہ روتے ہوئے مسلسل آسمان کی طرف دیکھ کر التجا کررہی تھی۔۔۔اُسے نہیں پتہ وہ کس سمت بھاگ رہی ہے۔۔اُسے بس اتنا یاد ہے اُسے بس کسی بھی ئ ان گنڈھوں سے بچنا ہے بس۔۔۔۔

آسمان سے زورں شوروں سے بارش بھی جاری ہوچکی تھی۔۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے آسمان بھی فضا کے غم میں آنسو بہا رہا ہے۔۔۔وہ مسلسل بھاگ رہی تھی کہ سامنے سے آتی گاڑی سے ٹکرا گئی۔۔

آ۔ہہہ۔۔ہ۔۔ہ۔۔ہہ۔۔ہ۔۔سنسان سڑک پر ایک زور دار چیخ اُسکے ہلک سے برآمد ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *