Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 02)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

وہ ہینڈ فری کانوں میں لگائے ہر چیز سے بے نیاز مسلسل وہ چار گھنٹے سے ایکسرسائز مشین پر دوڑ رہا تھا ۔۔۔۔سفید پیشانی جس پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں چمک رہی تھی۔۔۔کالے سلکی بال جو اِس وقت پیشانی پر چپکے ہوئے اُس منفرد بنا رہے تھے۔۔۔گہری چوکلیٹ براؤن آنکھیں جو کسی کو بھی ایک پل کے لیے اپنے سہر میں جکڑ سکتی ہے۔۔۔سنجیدگی سے آپس میں پیوست عنابی لب۔۔۔جو اسے اِس وقت کافی ہینڈسم اور دلکش بنا رہا تھا۔۔۔بلا شعبہ وہ ایک حسین مرد تھا۔۔۔جسے دیکھ کوئی بھی لڑکی اپنا دل ہار بیٹھے۔۔۔جس کی پرسنلٹی کے چرچے ہر جگہ کیے جاتے ۔۔۔

پورے چار گھنٹے کی کڑی محنت کے بعد وہ ایکسرسائز مشین سے نیچے اُترا اور تولیے سے اپنا جسم خشک کرنے لگا۔۔۔پھر کچھ سوچتے ہوئے اُسنے اپنے سیکریٹری کو کال کی۔۔۔اسلام علیکم اپنی عادت کے مطابق اُسنے سب سے پہلے سلام کیا۔۔۔فیضان آج آفس میں جتنی بھی میٹنگز ہے۔۔مجھے آج اُن کا شیڈول میسج کردو۔۔۔کہ کر اُسنے سامنے والے کی بات سن کر فون رکھ دیا۔۔۔اور اپنا رُک اپنے کمرے کی جانب کرلیا۔۔۔کمرے میں جانے سے پہلے وہ سیدھا اس گھر کے آفت کے پرتولے کے کمرے میں آیا تھا۔۔۔اُسنے جیسے ہی دروازہ کھولا۔۔۔تو کمرے کی حالت دیکھ کر اُسکا سر چکرا کر رہ گیا۔۔۔جہاں ہر چیز نیچے پڑی اپنی غیر ہوتی حالت کا پتہ چیخ چیخ کر دیے رہی تھی۔۔۔جگہ جگہ کولڈرنک ،لیز کے رپر،یہاں تک کہ اسکے بیڈ پر بھی اُس سے مختلف حالت نہ تھی اور وہ بیچ میں لیٹا ہر چیز سے بےخبر سویا ہوا تھا۔۔۔وہ تو نفاست پسند تھا ہر چیز کو اپنی جگہ رکھنے کا عادی۔۔۔سبحان کو یہ سب دیکھ کر کوفت ہوئی اور اُس نے ایک غصے بھری نظر اپنے چھوٹے بھائی پر ڈالی جو آئے دن اُسکا جینا حرام کر رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔سبحان اُسے اٹھانے کے لیے بمشکل ہر چیز سے بچتے بچاتے اُسکے سر پر پہنچا۔۔۔علی۔۔علی اُٹھو۔۔۔علی صبح ہوگئی ہے ُاُٹھو ۔۔۔ایک۔بار۔۔دو۔بار۔۔کہی بار اسنے آوازیں لگائی لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔۔۔تبھی سبحان کی نظر سائیڈ ٹیبل پر موجود پانی کے جگ پر پڑی اسنے ہاتھ بڑھا کر جگ اُٹھایا اور پورا کا پورا اُسکے منھ پر پھینک دیا ۔۔۔تبھی وہ جلدی سے ہڑبڑا کر اُٹھا۔۔۔۔کس کی اتنی ہمت جس نے علی سکندر کو۔اااٹھا۔۔ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتا تبھی اُسکی نظر اپنے ہٹلر بھائی پر گئی جو اُسے ہی غصے سے گھور رہا تھا۔۔۔سب سمجھ آنے پر آج اُسے اپنا آپ اس دنیا سے مٹتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔دل ہی دل میں وہ دعا مانگ چکا تھا۔۔۔بھائی۔۔۔وہ۔۔۔بھائی۔۔مم۔۔میں۔۔کہتے ہی وہ بغیر وقت ضائع کیے بیڈ سے چھلانگ لگاتا باہر کی جانب دوڑا۔۔۔رُک۔۔بھائی۔۔۔کے بچے ۔۔تجھے تو ابھی بتاتا ہوں۔۔۔کہتے ہی سبحان بھی اُسکے پیچھے بھاگا۔۔۔ہر چیز سے بے نیاز وہ دونوں اب بچے بن چکے تھے جو پچھلے دس سالوں سے اُن کا روز کا معمول تھا۔۔علی سیڑھیاں اُتر کر جلدی سے نیچے آیا۔۔پتہ بھی تھا وہ جتنا مرضی بھاگ لے لیکن اُسکا ہٹلر بھائی نے اُسے پکڑ تو لینا تھا لیکن وہ پھر بھی بھاگ رہا تھا۔۔۔بھائی یار سوری نہ ۔۔۔معاف کر دیے ۔۔۔دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔علی منمناتے ہوئے بولا۔۔۔علی تمہیں کتنی دفعہ کہاں ہے مجھے گندگی بالکل نہیں پسند۔۔۔اور تم نے اپنے کمرے کی حالت دیکھی یے۔۔۔جانور بھی اپنی جگہ صاف کرکے بیٹھتا ہے۔۔۔سبحان اُسے اچھا خاصا لتاڑتے ہوئے بولا۔۔۔

اچھا سوری نہ بھائی۔۔۔میں ابھی بوا کو بول کر صاف کروا دیتا ہوں۔۔علی نے اپنی طرف سے اُسے پتے کی بات بتائی۔۔۔

نن۔۔۔نہیں بالکل نہیں ۔۔۔کوئی تمہارا کمرہ صاف نہیں کرے گا۔۔تم خود آج اپنا کمرہ صاف کرو گے ۔۔۔سبحان کی بات پر اُسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔وہ سبحان کو حیران نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ممم۔۔میں۔۔کیسے۔۔۔بھائی۔۔۔گھر ۔۔میں اتنا سارا سٹاف ہے کوئی بھی کردے گا۔۔۔وہ ناک سے مکھی اُڑاتا ہوا بولا۔۔۔نو۔۔میں نے جو کہ دیا سو کہ دیا۔۔۔اب جاؤ اور صاف کرو ۔۔۔اور اگر مجھے تمہارا کمرہ دوبارہ ایسا ملا تو اپنے کمرے کے ساتھ ساتھ گھر کے باقی کمرے بھی تم صاف کرو گے۔۔۔۔۔سبحان صوفے پر بیٹھا مزے سے کافی پیتا ہوا بولا۔۔۔جو ہونقوں کی طرح منہ کھلے اُسکی بات سن رہا تھا۔۔۔وہ شاہد بول گیا تھا وہ بھی اُسکا بڑا بھائی تھا ۔۔۔جانتا تھا اس آفت کو کیسے سیدھا کرنا ہے۔۔۔

یہاں اب کیوں کھڑے ہو جاؤ جاکر ریڈی ہو جاؤ یونی نہیں جانا۔۔۔سبحان کافی دیر سے اُسے ایک جگہ ہی کھڑا دیکھ کر بولا۔۔۔تو وہ ہوش میں آتا ہڑبڑا کر اُوپر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

تو وہ مسکراتا ہوا سر نہ میں ہلاتا دوبارہ کافی کی جانب متوجہ ہوگیا۔۔۔۔

__________________

یہ منظر تھا سکندر ہاؤس کا۔۔۔جہاں اُن دونوں نافوس کے علاؤہ ملازموں کی فوج موجود تھی۔۔۔سکندر صاحب اور اُن کی بیگم صوفیہ دس سال پہلے ایک بم بلاسٹ میں مارے گئے۔۔۔جس کے بعد اُن دونوں کی زندگی بدل سی گئی تھی۔۔۔سکندر صاحب کی دو اولادیں ہوئیں تھی۔۔۔بڑا بیٹا سبحان سکندر۔۔۔نہایت ہی سنجیدہ اور روکھا مزاج۔۔۔۔جو ابھی تک اپنے ماں باپ کی موت کو نہیں بھلا پایا تھا۔۔۔ ہر وقت چہرے پر سنجیدگی سجائے علی کے بقول اِنتہائی کھڑوس بندہ ۔۔۔۔جس کی ایک سرد گھوری بھی سامنے والے کو کانپنے پر مجبور کردیتی تھی۔۔۔ ایجوکیشن کے بعد اپنے باپ کا بزنس ہینڈل کررہا تھا۔۔۔ سبحان کے صرف دو ہی دوست تھے۔۔جو اُسکے ہر قدم پر دوست سے زیادہ بھائی ثابت ہوۓ تھے۔۔۔جو بچپن سے اب تک ہمیشہ اُسکے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے تھے۔۔۔تینوں میں ایک دوسرے کی جان تھی۔۔۔ایک مصیبت میں ہوتا تو باقی دونوں وہاں پہنچ جاتے۔۔۔تینوں ایک دوسرے کے ساتھ ایک ان دیکھی ڈور کے ساتھ جڑے تھے۔۔۔۔۔سبحان سے چھوٹا اُسکی کل کائنات اسکی جان سے پیارا بھائی۔۔۔علی سکندر۔۔۔اپنے بڑھے بھائی سے بےحد مختلف ۔۔لیکن ایک شکل ہی تھی جو اسے اپنے بڑے بھائی سے تھوڑا ملاتی تھی۔۔سبحان کی کاپی بس آنکھوں کا رنگ اور تھوڑے نین نقش الگ تھے۔۔۔۔اپنی دنیا جینے والا۔۔ہر وقت اسکی شرارتی رگ پھڑکتی رہتی تھی۔۔یونی میں بھی سب اس پرتولے سے تنگ تھے۔۔ہر وقت آوار گردی کرنا۔۔۔جنہیں سبحان کے کہنے پر اُسکے بوڈی گارڈز نے قابو میں رکھا ہوا تھا۔۔۔علی کی پل پل کی خبر سبحان تک پہنچاتا تھا۔۔۔جس سے وہ کبھی کبھی جھجھلا جاتا تھا۔۔۔یونی کا ٹوپر ہونے کے ساتھ ساتھ اُن سب کا جینا بھی حرام کر رکھا تھا۔۔۔۔۔سب اُس سے کوسوں دور رہتے تھے کیا پتہ کب کس کی شامت آ جائے۔۔۔

پڑھائی کے ساتھ ساتھ اسے پتہ ہی نہیں چلا کب وہ اپنے جیسی پری پر دل ہار بیٹھا۔۔۔جس سے وہ پری بھی انجان تھی۔۔۔

__________________

سب اِس وقت رات کے کھانے پر موجود تھے۔۔۔دیا کمرے میں سو رہی تھی۔۔۔فضا اُسکے پاس گھر کی پرانی ملازمہ کو چھوڑ کر آئی تھی۔۔۔ہادیہ لائبہ اور فضا ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی۔۔۔کچھ ہی دیر میں سب نے ملکر کھانا کھایا۔۔۔کھانے کے بعد حسن شاہ نے سب کو ڈائننگ ہال میں اکٹھے ہونے کا بولا۔۔۔اور خود ہاتھ صاف کر کے اُٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔سبھی ایک دوسرے سے اشاروں میں پوچھتے جلدی سے کھانا ختم کرکے اُٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔

بابا خیریت آپ سب نے ہمیں ایک ساتھ کیوں بلایا ہے۔۔۔فائق حسن شاہ کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔سب ہی اُن کے بولنے کے منتظر تھے۔۔۔حسن شاہ نے نظریں اظہر شاہ کی جانب کی اور آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دیتے گویا ہوۓ۔۔۔۔

برخودار میں نے تمہارے لیے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔۔اُمید ہے تم انکار نہیں کرو گے۔۔حسن شاہ اُن کی طرف دیکھتے سنجیدگی سے بولے۔۔۔اُن کی بات پر فضا بھی ٹھٹکی۔۔۔اُسنے بھی نظریں اپنے باپ پر گاڑی۔۔۔کک۔۔کیسا۔۔۔فیصلہ۔۔بابا۔۔۔فائق مشکوک نظروں سے انھیں دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔

ہم نے تمہارا نکاح لائبہ سے کرنے کا سوچا ہے وہ بھی اِس جمعے کو۔۔۔ساتھ ہی رخصتی بھی۔۔۔انھوں نے اُن سب کے سروں پر بم پھوڑا۔۔۔فضا نے اُن کی بات پر کسی بھی طرح کا کو ریکشن نہیں دیا۔۔۔وہ چپ چاپ کھڑی سپاٹ نظروں سے سب کو دیکھ اور سن رہی تھی۔۔۔

بابا۔۔مم۔۔اب۔۔شادی۔۔نہیں۔۔کرنا۔۔چاہتا۔۔۔آپ کو کتنی دفعہ بولو۔میں صرف عائشہ سے محبت کرتا ہوں۔۔۔فائق اپنے آواز کو نرم رکھے تکلیف دہ لہجے میں بولا۔۔۔فائق تم کیوں نہیں سمجھ رہے ہو عائشہ اب اِس دنیا میں نہیں ہے۔۔۔اب تمہیں آگے بڑھنا چاہیے ۔۔ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے۔۔۔اور مجھے اپنے گھر کا وارث بھی چائیے سمجھے تم۔۔آخری بات وو غصے سے بولے۔۔اب مجھے کوئی بات نہیں سنی تمہاری شادی لائبہ سے ہوگی وہ بھی اِسی جمعے کو ۔۔۔

لیکن بابا۔۔میں۔۔۔تمہیں عائشہ کی قسم۔۔۔فائق کے کچھ بولنے سے پہلے ہی حسن شاہ بولے۔۔۔انھوں نے اُسے نہ مانتے دیکھ کر آخری حربہ آزمایا۔۔۔جو کارآمد ثابت ہوا۔۔

فائق بےیقینی اور خالی خالی نظروں سے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔آپ بہت بڑی غلطی کررہے ہے یاد رکھیے گا میں آپ کی بھتیجی کا جینا حرام کر دو گا ۔۔۔بعد نہ کہیے گا۔۔وہ اُنہوں وارننگ دیتا ہوا ایک خفا نظر اُن سب پر ڈالے ہونٹ پھنیجے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔فضا بھی ایک نظر اُن سب پر ڈالے وہاں سے چلی گئی۔۔۔

لائبہ پہلے ہی اپنی شادی کا سن کر کمرے میں بھاگ گئی تھی۔۔۔شروع دن سے ہی وہ فائق کو بہت پسند کرتی تھی۔۔۔لیکن فائق کی شادی عائشہ سے ہوتی دیکھ ۔۔وہ چپ ہو گئی۔۔۔لیکن ایک حسد اور جلن کی آگ ہمیشہ اُسکے اندر رہی۔۔۔دیا سے بھی وہ بےانتہا نفرت کرتی تھی۔۔۔۔کیونکہ وہ عائشہ اور فائق کی پیار کی نشانی تھی ۔۔۔جس کا اظہار وہ فضا کے سامنے کھلے عام کرتی تھی ۔۔۔

اظہر سدرہ تم سب کل سے ہی تیاریاں شروع کردو۔۔۔لیکن بھائی صاحب ۔۔ظہر شاہ کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ بولے۔۔تم ٹیشن مت لو وہ ایسا کچھ نہیں کرۓ گا بس اِس وقت تھوڑا جذباتی ہوگیا ہے۔۔وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجاۓ گا۔۔۔تم ٹیشن مت لو ہم بہت دھوم دھام سے بچوں کی شادی کرے گئے۔۔۔حسن شاہ اُن سب کی طرف دیکھ کر تسلی دیتے ہوئے بولے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *