Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 19)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

دونوں بھائی ڈائننگ ایریا میں اِس وقت اکیلے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوۓ تھے۔۔علی خونخوار نظروں سے سبحان کو دیکھ کم گھور زیادہ رہا تھا۔۔۔علی کی حالت دیکھ کر سبحان نے اپنا اُمڈنے والا قہقہہ ضبط کیا۔۔۔تم کب آۓ تھے۔۔سبحان اپنی نظریں دیا پر جماۓ ہوۓ بول۔۔جو اُسکا ہاتھ منہ میں لینے کی کوشش کررہی تھی۔۔

ابھی کچھ دیر پہلے ہی آیا تھا۔۔وہ لفظ چبا چبا کر بولا۔۔۔یار کیوں بھڑک رہے ہو۔۔سبحان محفوظ سا ہوتا ہوا بولا۔۔۔

بھائی ابھی بھی آپ مجھ سے پوچھ رہے کہ میں کیوں بھڑک رہا سیریس لی۔۔وہ خفا سا بولا۔۔۔آپ نے اپنے اک لوتے بھائی کے بنا شادی کرلی اور بھابھی بھی گھر لے آۓ وہ بھی ہادیہ کی کزن اور مجھے کانوں کان خبر تک نہیں۔۔۔علی اُسے دیکھ مارے حیرت کے خفا سا بولا۔۔۔

تمہیں کیسے پتہ یہ ہادیہ کی کزن ہے۔۔سبحان اُسکی طرف دیکھ کر سنجیدہ سا بولا۔۔بھائی ہادیہ میری دوست ہے ہم دونوں یونی میں ساتھ پڑھتے ہیں۔۔ایک بار ملاقات ہوئی تھی اِس پرنسز کی وجہ سے بس اِس لیے۔۔۔سبحان نے سمجھ کر ہاں میں سر ہلایا۔۔۔

اب آپ بتانا پسند کریں گے کہ اچانک آپ پر شادی کا بھوت کیسے سوار ہوا ۔۔۔شادی بھی کر لی وہ بھی میرے بنا۔۔۔ہاۓ ربا میرے کھڑوس بھائی میرا نا رہا۔۔۔وہ دوھائی دیتے ہوئے بولا۔۔۔ علی کو تو بار بار یہی صدمہ کھاۓ جارہا تھا کہ وہ اپنے کھڑوس بھائی اور اک لوتے بڑے بھائی کی شادی میں شامل نہیں تھا۔۔۔سبحان نے اُسکو زیادہ پھیلتا دیکھ ساری بات اُسکے گوشوگزار کردی۔۔۔جسے سن کر اُسے کافی دکھ ہوا۔۔۔حد ہے ایسے گھٹیا لوگ بھی دنیا میں پاۓ جاتے ہیں۔۔علی نے سوچ کر تاسف سے سر ہلایا۔۔۔سبحان نے بھی اُسکی بات پر سر ہلایا۔۔ویسے بھائی بھابھی بہت پیاری لاۓ ہو علی شرارت سے بولا تو اُسکی بات پر سبحان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری گئی ۔۔نظر نہ لگا دئی۔۔ہاہاہاہاہا۔۔علی ہنستا ہوا سبحان کے ساتھ مزید باتوں میں مصروف ہوگیا۔۔۔

کچھ ہی دیر میں کھانا تیار ہوچکا تھا۔۔۔فضا اور ہادیہ نے ملکر ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگایا۔۔سبحان اور علی فریش ہوکر ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے۔۔۔دد۔دیا۔۔کہاں۔۔ہے۔۔فضا سبحان کے ساتھ دیا کو ناپاکر بےچینی سے بولی۔۔۔دیا اب زیادہ تر سبحان کے پاس پائی جاتی تھی۔۔۔سبحان ساتھ ہو تو دیا کو فضا یاد بھی نہیں ہوتی تھی۔۔دونوں ہی ایک دوسرے کے بنا نہیں رہ سکتے تھے۔۔۔وہ سو گئی تھی تو میں اُسے کمرے میں لٹا کر بوا کو اُسکے پاس چھوڑ کر آیا ہوں۔۔اُسکی بات پر وہ سر ہلا کر سب کو کھانا سرو کرنے لگی۔۔۔ گڑیا کیسی جارہی ہے آپ کی یونی سبحان کھانا کھاتے ہوۓ نرمی سے مسکرا کر بولا۔۔۔۔جی بھائی الحمدللّٰہ اچھی جارہی ہے۔۔ہادیہ نے بھی نرمی سے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔گھر پر سب کیسے ہیں۔۔سبحان کی بات پر فضا کا کھانا کھاتا ہاتھ روکا۔۔۔سبحان سمیت سب اُسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔سبحان اُسکی حالت سمجھ چکا تھا لیکن بولا کچھ نہیں۔۔۔فضا کچھ بھی کہے بغیر سپاٹ چہرے سے دوبارہ کھانے میں مصروف ہوچکی تھی۔۔۔جی سب ٹھیک ہے ہادیہ نے ایک نظر فضا کو دیکھ کر نرمی سے جواب دیا۔۔۔کچھ ہی دیر میں سب کھانا کھا کر فارغ ہوچکے تھے۔۔کھانے کے بعد فضا نے سب کے لیے اپنے ہاتھوں سے چاۓ بنائی۔۔

سب نے ڈائننگ ایریا میں بیٹھ کر خوشگوار ماحول میں گپ شپ کے ساتھ چاۓ پی۔۔ہادیہ سب سے ملکر سبحان کے حکم پر علی ہادیہ کو گھر چھوڑنے گیا ہوا تھا۔۔۔

ہادیہ کے جانے کے بعد فضا نے جلدی سے سارا کچن سمیٹا۔۔

سارے کام سے فارغ ہوکر وہ روم میں آئی تو سبحان کپڑے چینج کیے لیپ ٹاپ لیے صوفے پر بیٹھا تھا۔۔فضا ایک نظر اُسے دیکھ سر جھٹکتی ہوئی اپنے کپڑے لیے واشروم میں بند ہوگئی۔۔۔دس منٹ بعد وہ فریش سی کپڑے چینج کرکے واشروم سے نکلی اور بغیر کچھ کہے دیا کے ساتھ اپنی جگہ پر آکر لیٹ گئی۔۔۔

سبحان نے اُسکے روکھے رویے پر ایک سرد سانس ہوا کے سپرد کی اور اپنی کنپٹی سہلاتے ہوئے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لی۔۔۔

_________________

فضا اور سبحان کی شادی کو تین ماہ سے زیادہ وقت ہوچکا تھا۔۔۔لیکن دونوں کی روٹین پہلے دن کی جیسی تھی۔۔سبحان کہی بار کوشش کرچکا تھا کہ فضا خود سے اُس سے کچھ کہے۔اُس سے باتیں کرۓ لڑے جھگڑے۔۔لیکن ناکام۔۔۔اِن تین ماہ میں فضا ہر طرح سے سبحان کی ضرورت کا خیال رکھتی تھی۔۔اُسکے کپڑوں سے لےکر اُسکے جوتوں تک ہر چیز خود دیکھتی تھی۔۔۔سبحان بھی اُسکا ہر طرح سے خیال رکھتا تھا۔۔اُسکی میڈیسن ڈائٹ سب کچھ وہ خود دیکھتا تھا۔۔ دیا کو بھی سگے باپ سے بھی زیادہ محبت کرتا تھا۔۔دیا کی آنکھ میں ایک بھی آنسو اُسے ناگوار تھا۔۔۔ایک اُسکی جان تھی تو دوسری اُسکی دھڑکن۔۔۔دونوں کے بنا وہ اُدھورا تھا۔۔۔۔علی کے ساتھ فضا نارمل رہتی تھی۔۔وہ فضا اور دیا سے وہ اِن دو ماہ میں کافی اٹیچ ہوچکا تھا۔۔دیا تو چاچو کی جان بن چکی تھی۔۔۔فضا کو اِن گزرے دنوں میں اپنا دل اپنے قابو میں نہیں لگ رہا تھا۔۔۔وہ جب بھی سبحان کے سامنے جاتی اُسے ایسا لگتا جیسے اُسکا دل نارمل دنوں کے نصبت زیادہ تیز دھڑک رہا ہے جسے وہ سمجھںے سے قاصر تھی۔۔۔وہ اپنی حالت کو کوئی بھی نام نہیں دینا چاہتی تھی ابھی تک وہ شاید اعتبار نہیں کر پارہی تھی سبحان پر۔۔۔اُسے لگ رہا تھا سبحان صرف اُسکی محبت اور توجہ پانے کے لیے دیا سے محبت کرنے کا دعویٰ کررہا ہے۔۔اگر وہ اپنی بیماری سے لڑ نہ پائی ہار گئی تو اُسکے بعد دیا کا کیا ہوگا۔۔

ہر وقت یہ سب سوچ سوچ کر اُسکا دماغ پھٹنے لگتا تھا۔۔۔

دوائیوں کے استعمال کے باوجود اُسکی حالت دن با دن بگڑتی جارہی تھی جس سے سبحان ابھی تک بےخبر تھا۔۔۔

اگلے دن دونوں صبح کے وقت ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کررہے تھے دیا سبحان کی گود میں بیٹھی تھی جسے وہ اپنے ہاتھوں سے بریڈ کے چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر کھلا رہا تھا۔۔۔علی کہاں ہے۔۔ڈائننگ ٹیبل پر علی کو نہ پاکر سبحان فضا کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔

وہ یونیورسٹی چلا گیا ہے فضا بریڈ کی بائٹ لیتے ہوئے نرمی سے بولی۔۔۔ہمممم۔۔آج اِتنی جلدی ۔۔۔جی کچھ ضروری ٹیسٹ ہے شاہد۔۔۔عہ جواب دیتے ہوئے دوبارہ ناشتے میں مصروف ہوگئی۔۔۔دیا سبحان کی گود سے نکلنے کی کوشش کررہی تھی۔۔سبحان نے مسکرا نرمی سے اُسے گود سے اُتارا ۔

دیا اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے سبحان کو پکڑے کھڑی تھی۔۔

اُسنے ایک ماہ پہلے ہی سبحان کی انگلی پکڑ کر چلنا شروع کیا تھا۔۔اُس دن سبحان کی خوشی کی کوئی اِنتہا نہ رہی کہ اُسکی بیٹی نے پہلا قدم اُسکی انگلی پکڑ کر اُٹھایا۔۔۔اُس دن سبحان نے دیا کے صدقے بیس لاکھ ڈونیشن کیمپ کو بھیجے تھے۔۔سبحان کی دیا کے لیے اِس قدر محبت دیکھ کر ایک پل کو وہ حیران رہ جاتی کہ وہ تو اُسکی سگی بیٹی بھی نہیں ہے۔۔۔پھر وہ شخص کیسے کسی اور کی اولاد سے اِتنی محبت کرسکتا ہے ۔۔۔یہ سب سوچ سوچ کر اُسکا دماغ گھوم جاتا۔۔۔

سبحان ایک ہاتھ احتیاط سے دیا کے گرد پھیلاۓ۔۔دوسرے سے ناشتہ کرنے میں مصروف تھا۔۔۔تبھی اُسکا فون بج اُٹھا ۔۔

سبحان کی مشکل سمجھ کر فضا نے اپنی جگہ سے اُٹھ کر دیا کو اپنی گود میں اُٹھایا اور دوبارہ سے اپنی جگہ بیٹھ کر دیا کو اپنے ہاتھوں سے انڈہ کھلانے لگی۔۔۔سبحان نے مسکرا کر جیب سے فون نکال کر یس کیا۔۔ہاں۔بڈی۔۔کیسا۔۔ہے۔۔تو۔۔اور بھابھی۔۔کیسی۔۔ہے۔۔سبحان مسکراتا ہوا بولا۔۔۔

میں بھی ٹھیک ہوں جانی۔۔اور مبارک ہو تجھے تو ایک بار پھر سے چاچو بن گیا۔۔اللّٰہ نے مجھے اپنی رحمت سے نوازا ہے۔۔نوفل کی خوشی سے بھر پور آواز گونجی۔۔۔ماشااللّٰہ مبارک ہو تمہیں بہت بہت۔۔۔اور بھابھی کیسی ہے۔۔۔شکریہ جناب اور رانیہ بھی بالکل ٹھیک ہے وہ نرمی سے مسکراتا ہوا بولا۔۔اُس کے لہجے سے اپنی بیٹی کے لیے خوشی جھلک رہی تھی ۔۔۔۔چل ٹھیک ہے میں اور فضا کچھ دیر تک آتے ہیں بھابھی اور بچی سے ملنے۔۔سبحان نے کہتے ہی فون رکھ دیا

فضا تیار ہوجاۓ ہمیں ہوسپٹل چلنا ہے۔۔بھابھی اور بچی سے ملنے سبحان اپنے فون پر جھکا ہوا نرمی سے مسکرا کر بولا۔۔تو وہ سر ہلاتے ہوئے دیا کو لے کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

__________________

مبارک ہو بڈی سبحان نوفل کے گلے ملتے ہوۓ مسکرا کر بولا گلابوں کا بوکے اُسے دیا۔۔جسے اُسنے شکریہ کہ کر تھام لیا۔۔

وہ دونوں دیا کو لیے اِس وقت ہوسپٹل میں موجود تھے۔۔

فضا نے مسکرا کر بچی کو اپنی گود میں اُٹھایا۔۔ماشااللّٰہ آپی بہت پیاری ہے بچی۔۔فضا گلابی سی بچی کا ماتھا چومتے ہوئے مسکرا کر بولی جو پوری کی پوری کمبل میں لپٹی ہوئی تھی۔۔۔۔آہان اِن سب سے بے نیاز اپنی اینجل کے ساتھ مصروف تھا۔۔۔لگ ہی نہیں رہا تھا کہ اُسکی بہن اِس دنیا میں آئی ہے جب سبحان کی آواز پر وہ اُسکی طرف متوجہ ہوا۔۔چمپ اب تو آپ کی بہنا بھی آگئی ہے۔۔اب آپ اُسکے ساتھ کھیلا کرو اور میری بیٹی کو اب میرے حوالے کرو۔۔سبحان اُسے دیکھ شرارت سے بولا۔۔۔نو چاچو۔۔وہ میری بہنا ہے۔۔یہ اونلی مائی گرین آئیز والی اینجل ہے۔۔آہان سبحان کو گھورتا ہوا بولا اور دوبارہ سے دیا کے ساتھ مصروف ہوگا۔۔اُسکی بات پر سب نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا۔۔

اب تم دونوں بھی جلدی سے دیا کا بھائی لانے کی تیاری کرو۔۔جس کے ساتھ وہ کھیلے گی۔۔رانیہ کی بات پر فضا کی مسکراہٹ سمٹی۔۔جو سبحان سے مخفی نہ رہ سکی۔۔۔مجھے لگتا ہے اب تم دونوں کو بھی بچہ پلان کر لینا چاہیے ۔۔رانیہ فضا کی طرف دیکھتی ہوئی شرارت سے بولی۔۔۔سبحان نوفل کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا۔۔لیکن اُسکا دھیان فضا اور رانیہ کی طرف ہی تھا۔۔۔رانیہ کی بات پر فضا کا رنگ زرد ہوا۔۔۔وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹھی ہوئی۔۔۔ جب سبحان کی گھمبیر آواز کمرے میں گونجی ۔۔

بھابھی میری پہلی سے ہی بہت پیاری سی بیٹی ہے ماشاءاللہ سے۔۔۔اور ابھی ہمیں دوسرے بچے کی ضرورت نہیں ہے۔۔سبحان رانیہ کی بات کا جواب دیتا ہوا بولا۔۔تو فضا اُسکی بات پر کچھ بول ہی نہ سکی۔۔وہ تو کہی اور گم ہوچکی تھی۔۔۔وہاں کچھ دیر اور رُک کر رانیہ اور بچی سے ملکر وہ لوگ واپس گھر آ چکے تھے۔۔لیکن فضا کا ذہن مختلف سوچوں میں گر چکا تھا۔۔۔

_________________

فضا کچن میں علی کی فرمائش پر کافی بنا رہی تھی۔۔سبحان اور دیا اپنے کمرے میں موجود تھے۔۔سبحان بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر ضروری کام کررہا تھا۔۔اور دیا اُسکے پاس بیڈ پر بیٹھی کھیل رہی تھی۔۔جب اُسنے سبحان کو لیپ ٹاپ میں مصروف دیکھا تو وہ آگے بڑھ کر اپنے ننھے ننھے ہاتھ اُسکے چہرے پر پھیرے اُسے اپنی جانب متوجہ کرنے لگی۔۔سبحان کو اُسکی حرکت سمجھ میں آتے ہی مسکراتا ہوا لیپ ٹاپ بند کیے اُسے اپنے سینے پر بیٹھا گیا۔۔دیا۔۔نے بابا۔۔کے شات۔۔کھیلنا ہے۔۔سبحان محبت سے اُسکی آنکھوں پر بوسہ دیتے ہوئے بولا۔۔جو اُسکے عشق سے اُسنے چرائی تھی۔۔تبھی اچانک کمرے میں آتی فضا نے دیا کو سبحان سے دور کیا۔۔فضا کی حرکت سبحان کو اِنتہائی ناگوار گزری۔۔وہ ایک فیصلہ کرکے آئی تھی جس پر اب اُسے عمل کرنا تھا۔۔فضا یہ کیا طریقہ ہے۔۔تمہیں کتنی بار بولنا پڑے گا۔۔۔سبحان اُسے دیکھ ایک دم سختی سے بولتا اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔۔۔دیا مسلسل فضا سے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔فضا نے نرمی سے اُسے اپنی گود سے اُتار کر نیچے کاوچ پر بیٹھایا۔۔۔۔سبحان میں بھی آپ کو بار بار بولتی ہوں۔۔آپ دیا سے دور رہا کرۓ وہ آپ کی بیٹی نہیں ہے اور بہتر ہوگا کہ آپ اُس پر اپنا پیار بھی نہ جتاۓ۔۔فضا بےخوف اُسکی آنکھوں میں اپنی سبز آنکھیں گاڑتی ہوئی بولی۔۔۔یہ جانے بغیر کہ اُسکی کہی باتوں سے سامنے والے کا دل کتنے ٹکڑوں میں تقسیم ہوا ہے۔۔سبحان نے وحشت سے آنکھیں میچی۔۔دیا پینجوں کے بل گھیسٹی ہوئی کمرے سے باہر نکل چکی تھی۔۔جس کی اُن دونوں کو بالکل بھی خبر نہ تھی ۔۔فضا آپ شاید بھول رہی ہیں دیا اب میری بیٹی ہے سبحان اُسکی طرف دیکھتا ہوا حد درجہ سنجیدگی سے بولا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *