Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 08)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

اب بہت جلد تمہیں بتاؤ گا ہونے والی مسز کے تمہارا مجھ پر کیا حق ہے۔۔بس ایک بار تم میری دسترس میں آجاؤ۔۔۔پھر ایک ایک حق بتانے کے ساتھ جتایا نہ تو میرا نام سبحان سکندر نہیں۔۔۔وہ دل میں اُسے مخاطب کرتا ہوا ایک عظم سے بولا۔۔۔اور اسکا کچھ دیر پہلے والا رویہ یاد کرکے اُسکے چہرے پر محفوظ سی مسکراہٹ آئی۔۔۔میری جنگلی بلی۔۔۔لیکن اُسکے منھ پر لگا خون اُسے یہ بات بےچین کیے ہوۓ تھی۔۔وہ پریشانی سے ماتھا مسلتا ہوا آگے بڑھ گیا۔۔۔

۔۔فضا منھ صاف کرتی ہوئی ہادیہ کے پاس آئی۔۔فضا میری جان تم ٹھیک ہو۔۔اسکی بات پر اسنے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔لیکن اُسکی غیر ہوتی حالت صاف بتا رہی تھی کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔۔ جسے وہ مسلسل نظر انداز کررہی تھی۔۔۔اس سے پہلے وہ کچھ بولتی ایک بار پھر فضا کی حالت غیر ہونے لگی۔۔۔ہہ۔۔ہادیہ۔۔مم۔مجھے۔۔ابھی۔۔اور اسی وقت ڈاکٹر کے پاس جانا ہوگا۔۔مجھ سے د۔درد۔برداشت نہیں ہو۔رر۔۔رہا۔۔ہے۔۔اور یہاں سب میری ایسی حالت دیکھ کر پریشان ہوجاۓ گے ۔۔تم پلیز یہاں سب سنبھال لینا۔۔۔فضا بمشکل کھانستے ہوئے لڑکھڑاتے لہجے میں بولی۔۔لیکن فضا تم اِس حالت میں اکیلی کیسے جاؤ گی ہادیہ فکرمندی سے بولی۔۔۔آپ پریشان نہ ہو میں اِنہیں لے جاتا ہوں۔۔سبحان آگے بڑھ کر جلدی سے بولا جو وہاں سے گزر رہا تھا فضا کی حالت دیکھ جلدی سے بولا۔۔۔اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے میں چلی جاؤ گی۔۔۔اور آپ کو کتنی دفعہ بولو مجھ سے یہ میرے معامعلے سے دور رہے۔۔ایک بار سمجھ میں نہیں آتی بات فضا انتہائی غصے سے بولی۔۔۔

شدید درد کی وجہ سے اُسکی آنکھیں بھیگ چکی تھی ۔لیکن وہ ضبط کیے ہوۓ تھی۔۔۔

فضا اگر تم اِس وقت ان کے ساتھ نہیں گئی تو قسم سے میں گھروالوں کو سب بتا دو گی۔۔۔ہادیہ کو سبحان دوسرے لوگوں سے کافی مختلف سا لگا دوسرا اُسکے چہرے پر چھائی فضا کے لیے پریشانی اور فکرمندی۔۔۔اور اس حالت میں اکیلے فضا کو جانے کا رسک بالکل نہیں لے سکتی تھی۔۔ اس لیے ناچاہتے ہوۓ بھی اُسے دھمکی دینی پڑی۔۔۔تمہیں تو میں آکر دیکھتی ہوں۔۔فضا اُسے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔فضا نے جلدی سے چادر اُوڑھی اور اپنے قدم باہر کی جانب بڑھا لیے۔۔تبھی اُسکے کانوں میں دیا کے رونے کی آواز پڑی۔۔۔فضا گہرا سانس لےکر پیچھے مڑی جہاں دیا ہادیہ کی گود میں سنبھلے بھی نہیں سنبھل رہی تھی۔۔۔اسکو یو روتا دیکھ فضا تڑپ کر اُسکی جانب بڑھی۔۔۔اور اسے اپنی گود میں لیے خود میں پھینجا۔۔۔اور باری باری اُسکی گلابی گالوں پر بوسہ دیا۔۔۔میری جان کیوں تنگ کرتی ہو ماما کو۔۔۔جتنا میں تمہیں خود سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہو تم اتنا میرے پاس آتی ہو۔۔۔میری جان میں نہیں چاہتی اگر میں تم سے دور ہوگئی تو بعد میں تمہیں تکلیف ہو۔۔۔فضا آنکھوں میں آنسو لیے بےبسی سے بولی۔۔۔اسکے لہجے میں چھپا درد بے سی وہاں موجود دونوں انسان بخوبی محسوس کرسکتے تھے

سبحان بےبسی سے اپنی محبت کو یو ٹوٹا بکھرا دیکھ رہا تھا۔۔۔اسکا شدت سے دل چاہا اسے خود میں پھینج کر اسکے سارے دکھ درد ختم کردے۔۔۔

وہ بس یہی سوچ رہا تھا آخر فضا کو ہوا کیا ہے۔۔جو وہ اِتنے درد میں ہے۔۔۔وہ جاچکی ہے باہر ہادیہ کی آواز سے وہ ہوش میں آیا۔۔۔۔کیا آپ مجھے بتا سکتی ہے آخر اِنہیں ہوا کیا ہے۔۔اور اِن کے منھ سے خون کیسے۔۔۔سبحان فکرمندی سے بولا۔۔۔

سوری میں اِس بارے میں آپ کو کچھ نہیں بتا سکتی۔۔اور پلیز اس سے اِس بارے میں مت پوچھیے گا۔۔۔ہادیہ التجاء انداز میں بولی تو وہ لب پھینج کر باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

فضا نہ چاہتے ہوئے بھی دیا کو اپنے ساتھ لے گئی تھی اس وقت گاڑی میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔فضا دیا کو گود میں پکڑے خالی اور سپاٹ نظروں سے باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی۔۔دوبارہ اُسکی سبحان سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔۔سبحان چہرے پر سنجیدگی سجائے ڈرائیونگ کرنے میں مصروف تھا۔۔لیکن گاۓ بگاہے نظریں اسی پری پیکر پر جم جاتی تھی۔۔۔مسلسل آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ ہوسپٹل پہنچ چکے تھے۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ ہوسپٹل میں موجود تھے ڈاکٹر کی اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوۓ۔۔۔اسلام علیکم دونوں نے ہم آواز سلام کیا۔۔۔پلیز سٹ آ سیٹ۔۔دونوں کے بیٹھتے ہی ڈاکٹر اپنے پروفیشنل انداز میں گویا ہوئی ۔۔۔

دیکھیے مس فضا میں نے آپ کو پہلے ہی بولا تھا آپ کو پروپلی میڈیسن استعمال کرنی ہوگی۔۔نہیں تو ایسے سم ٹیز دوبار آ سکتے ہیں یا ایک دن میں دو تین بار روز ۔۔۔لیکن ڈاکٹر میں ریگولر میڈیسنز لے رہی ہو فضا ڈاکٹر کی طرف دیکھ پریشانی سے بولی۔۔۔ہممم۔۔تو۔۔۔میں آپ کو میڈیسن چینج کرکے دیتی ہوں ۔مجھے لگتا ہے اِن سے آپ کو آرام نہیں مل رہا ہے۔۔میڈیسن کے ساتھ اپنا روانہ چیک اپ بھی کرواۓ۔۔۔اور ایسے سم ٹیز آپ کو دوبارہ بھی آ سکتے ہیں تو پلیز بی کئیر فولی۔۔۔ایک ماہ آپ یہ میڈیسن استعمال کرۓ۔۔۔نہیں تو پھر آپ کا ہمیں ٹریٹمنٹ شروع کرنا ہوگا۔۔۔ ڈاکٹر اپنے پروفیشنل انداز میں بولی۔۔۔تو وہ پریشانی سے سر ہلاتے ہوئے اٹھ گئی۔۔

فضا کے روم سے جاتے ہی سبحان ڈاکٹر کی جانب متوجہ ہوا۔ڈاکٹر یہ کس چیز کی میڈیسن کھا رہی ہے اور کیسا ٹریٹمنٹ سبحان ڈاکٹر کی طرف دیکھ فکرمندی سے بولا دل ڈر کے مارے مسلسل دھک دھک کر رہا تھا۔۔اُسے شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔۔مسٹر آپ کیا لگتے ہے اُن کے ڈاکٹر اُسے مشکوک نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔مم۔میں۔۔سبحان گڑبڑایا۔۔میں۔۔اِن کے بھائی کا دوست ہوں۔۔۔کیا آپ مجھے بتاۓ گی یہ میں اپنی طرح پتہ کرواؤ۔۔۔سبحان اِس بار تھوڑے سرد لہجے میں بولا۔۔۔ڈاکٹر گڑبڑا کر جلدی سے بولی۔۔۔ان کو بلڈ کینسر ہے۔۔سیکنڈ سٹیج پر۔۔۔ڈاکٹر کی بات اس کے سر پر دھماکے کی طرح لگی۔۔اسے ایسا لگا جیسے کمرے کی چھت اُسکے سر پر آ گری ہو۔۔اسے اپنا دل ٹکروں میں بٹتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔کک۔کب۔سس۔سے۔۔ہے۔۔سبحان کو اپنی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔ایک ماہ سے۔۔۔وہ اپنے بھاری ہوتے قدم گھسیٹتا ہوا روم سے نکل گیا۔۔۔سامنے ہی دیا کھڑی ہوئی تھی۔۔۔وہ اپنے آپ کو کمپرومائز کرتا ہوا اُسکی جانب بڑھا۔۔۔

فضا دیا کو گود میں تھامے باہر کی جانب بڑھ رہی تھی کہ اسے ایک بار بھی چکر آیا۔۔اِس سے پہلے وہ گرتی پیچھے آتے سبحان نے اُسے گرتا دیکھ جلدی سے اُسے تھامہ۔۔۔فضا تم ٹھیک ہو۔۔کیا۔ہوا۔۔سبحان اُسکی طرف دیکھ پریشانی سے بولا۔۔۔ہاتھ بڑھا کر جلدی سے اُسکی گود سے دیا کو پکڑا۔۔۔ہہم۔۔ہممم۔۔میں۔۔ٹھیک۔ہو۔۔بس۔۔چکر آ گیا تھا۔۔فضا خود کو بےمشکل سنبھلتے ہوۓ بولی۔۔۔لیکن نظریں جیسے ہی سبحان پر پڑی جو دیا کو گود میں لیے فکرمندی سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔فضا آس پاس کا ماحول بھلاۓ ہکا بکا سی بس دیا کو دیکھ رہی تھی جو کسی دوسرے کی گود میں جاتے ہی اپنا نہ بند ہونے والا پھٹا سپیکر سٹاٹ کردیتی تھی۔۔۔اب کیسے ٹکر ٹکر سبحان کو دیکھ کر کھلکھلا رہی تھی۔۔۔میسنی۔۔۔فضا اُسے دیکھ منہ میں ہی بڑبڑاتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔سبحان بھی لمبا سانس خارج کرتا پریشانی سے اُسکے پیچھے چل دیا۔۔۔۔آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ گھر پہنچ چکے تھے۔۔فضا گاڑی سے اتر کر اسکا شکریہ ادا کرتی اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔

سبحان نے اُسے جاتا دیکھ بےبسی اور تکلیف سے سر سٹیرنگ پر ٹکا کر آنکھیں موند لی۔۔۔

_________________

گھروالوں نے لائبہ اور فائق کا بہت ہی شاندار طریقے سے استقبال کیا۔۔۔سبھی بہت زیادہ خوش تھے۔۔۔مصروفیات کی وجہ سے کسی نے بھی فضا اور دیا کی غیر موجودگی نوٹ نہیں کی۔۔جس سے ہادیہ نے سدا شکر ادا کیا۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہادیہ لائبہ کو فائق کے کمرے میں چھوڑ کر دروازہ بند کیے۔۔ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔لائبہ بیڈ پر بیٹھی بےصبری سے فائق کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔آخر اتنی محنت کے بعد اسکی محبت اسے ملی تھی۔۔وہ ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ لیے فائق کا بےصبری سے انتظار کر رہی تھی۔۔۔جب ٹک کی آواز سے دروازا کھلا۔۔۔دروازا کھلنے کی آواز پر وہ خود میں جا سمٹی۔۔۔فائق نے دروازہ بند کرکے ایک نظر اُس پر ڈالی جو دولہن کے لباس میں بیڈ پر بیٹھی بہت ہی زیادہ پیاری لگ رہی تھی۔۔فائق نشے میں چور قدم قدم چلتا ہوا بیڈ پر آیا۔۔۔لائبہ کو اپنی خوشی میں انداز ہی نہ ہوا تھا۔۔اُسکی غیر ہوتی حالت کا ۔۔۔۔۔

تم کتنی حسین ہو اور اِس لال جوڑے میں تو اور پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔ فائق مدھوش سا اُسکی ٹھوڈی اُوپر کرتا ہوا گھمبیر آواز میں بولا۔۔۔اُسکی بات پر لائبہ نے شرما کر پلکیں جھکا لی۔۔۔فائق نے آگے بڑھ کر اُسکی آنکھوں پر اپنے لب رکھے۔۔اُسکے لمس پر لائبہ خود میں سمٹی۔۔۔ پسینے سے ہتھیلیاں نم ہونے لگی۔۔۔ فائق سب کچھ بلاۓ مدھوش سا ہوتا اُسکے اوپر جھکا۔۔۔اور اُسکے لبوں کو اپنی قید میں کیے سب کچھ بھلاۓ اپنی تشنگی مٹانے لگا۔۔۔لائبہ بھی آنکھیں بند کیے اُسکا بھرپور ساتھ دینے لگی۔۔۔فائق سب فاصلے مٹاتا ہوا اُس پر مزید جھکتا چلا گیا۔۔۔لائبہ آنکھیں بند کیے فائق کا لمس اپنے جسم پر محسوس کر رہی تھی۔۔۔جب فائق کی سرگوشی سے چھن سے اُسکے اندر کچھ ٹوٹا۔۔۔۔عائشہ آئی۔لو۔یو۔۔پلیز عائشہ مجھے دوبارہ کبھی چھوڑ کر مت جانا۔۔۔میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔فائق کی سرگوشی سے اُسکا دل کرچی کرچی ہوگیا۔۔آنکھوں سے آنسوؤں روانگی کی صورت بہنے لگے۔۔۔اُسکے لیے یہ ایک عذاب سے کم نہیں تھا کہ فائق نشے میں چور اُسے عائشہ سمجھ کر اُسکے پاس آیا تھا۔۔۔نہ کہ اسکی خوبصورتی سے ۔۔۔وہ خالی خالی اور سپاٹ نظروں سے چھت کو گھور رہی تھی۔۔۔فائق کچھ دیر پہلے ہی اپنی طلب پوری کیے کروٹ لے کر سو چکا تھا۔۔۔

________________

کمرے میں ہر طرف گہرا خوفناک اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔اور وہ ریگنگ چئیر پر بٹھا اس اندھیرے کا ہی ایک حصہ ہی معلوم ہو رہا تھا۔۔۔بلڈ کینسر ہے۔۔۔سیکنڈ سٹیج پر۔۔۔اُسکے کانوں میں مسلسل ڈاکٹر کی دل چیر دینے والی باتیں گونج رہی تھی۔۔۔اُسے اپنا دل درد سے پھٹتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔جب سے وہ اُسے چھوڑ کر آیا تھا۔۔۔تب سے ہی اپنے آپ کو کمرے میں بند کیے بیٹھا تھا۔۔۔میری جان نہ ستاؤ مجھے میرے مرنے کے بعد تمہیں تکلیف ہوگی۔۔فضا کی درد میں ڈوبی آواز پر اُسنے اپنی آنکھیں کھولی۔۔۔نن۔۔نہیں۔۔تمہیں۔۔کچھ۔۔نہیں۔۔ہوگا۔۔۔تمہیں۔۔جینا۔۔ہے ہر حال میں تمہیں جینا ہوگا میرے لیے تمہیں جینا ہوگا۔۔سبحان سرگوشیوں میں بڑبڑا رہا تھا۔۔۔۔یااللّٰہ آپ نے مجھ سے میرے ماں باپ چھین لے میں نے کوئی شکوہ نہیں کیا کبھی بھی۔۔۔۔۔۔اے اِس دونوں جہاں کے مالک میری محبت کو مجھ سے دور مت کیجیے گا۔۔۔میں جی نہیں پاؤ گا۔۔کچھ ہی وقت میں وہ لڑکی میرے دل کی دھڑکن بن گئی ہے اگر اسے کچھ ہوگیا تو میں جی نہیں پاؤ گا۔۔۔سبحان آنکھیں بند کیے دل میں اپنے رب سے مخاطب ہوا۔۔۔اُسے اپنی آواز نم ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔

تبھی علی دھڑم سے دروازا کھولے اندر داخل ہوا۔۔۔بھائی۔۔آپ یو کمرے میں اندھیرا کیے کیوں بیٹھے ہو۔۔علی اُسے دیکھ فکرمندی سے بولا۔۔۔کچھ نہیں بچے ایسے ہی سبحان اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا اُسکی فکرمندی پر مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔بھائی اگر کوئی پریشانی ہے تو مجھ سے شئیر کر لے ۔۔۔نہیں بچے ایسی کوئی بات نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں تم ایسا کرو جلدی سے ریڈی ہو جاؤ پھر کہی باہر چلتے ہیں سبحان اُسکی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔

اُسکی بات پر علی حیران نظروں سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔بب۔۔بھائی آپ ٹھیک ہو۔۔بخار تو نہیں ہے علی فکرمندی سے اُسے چھوتے ہوئے بولا۔۔۔

لیکن آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔۔۔جاتا ہے کہ دو لگاؤ۔۔سبحان اُسکی طرف بڑھتا ہوا بولا۔۔۔تو اُسنے باہر کی دوڑ لگائی۔۔۔اُسکے جاتے ہی سبحان نے ایک لمبی سرد سانس ہوا کے سپرد کی۔۔۔جیسے برسوں کا تھکا ہو۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *