Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul NovelR50617 Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 25)
Rate this Novel
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 25)
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul
علی کو جب سے پتہ چلا کہ سبحان رمشا سے نکاح کرنے والا ہے۔۔تب سے وہ غصے سے بھرا ہوا سبحان کے سر پر جا پہنچا۔۔وہ کیا برداشت کرسکتا تھا اپنی ماں جیسی بھابھی کی جگہ کسی اور کو ۔۔بھائی یہ سب میں کیا سن رہا ہوں۔۔وہ اُسکے سامنے کھڑا بےیقینی سے ہر لفظ چبا چبا کر بولا۔۔کیا۔۔سبحان نے لاعلمی کا اظہار کیا۔۔۔بھائی آپ جانتے ہیں میں کیا پوچھ رہا ہوں۔۔مجھے آپ سے یہ اُمید بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔بھابھی کے ہوتے ہوئے بھی آپ دوسری شادی کررہے ہیں وہ بھی اُس کل کی آئی ہوئی چڑیل سے۔۔۔وہ اِنتہائی سنجیدگی سے بولا۔۔۔مجھے مت بتاؤ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں تم بس اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔سبحان اُسکی طرح دیکھتا ہوا حد درجہ سنجیدگی سے بولا۔۔۔آپ اچھا نہیں کررہے بھائی پلیز مت کررہے بھابھی کو اِن سب سے بہت تکلیف ہوگی۔۔۔وہ اب بھی اُسے سمجھا رہا تھا۔۔ایک پل کو سبحان کے دل میں درد سا اُٹھا لیکن جلد ہی وہ خود کو سنبھالے گویا ہوا۔۔۔۔۔۔۔علییی۔۔مجھے مت سمجھاؤ۔۔۔اور جو ہو رہا ہے چپ چاپ ہونے دو۔۔۔اب جاؤ یہاں سے میں ریڈی ہونے جارہا ہوں وہ بنا اُسکی کوئی اور بات سننے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔وہ جیسے ہی کمرے میں آیا تو پہلی نظر اُس ظالم دل روبہ پر پڑی۔۔جس کی حالت اِس وقت نہ قابلِ قبول تھی۔۔۔رو رو کر آنکھوں سوکھ چکی تھی۔۔خشک ہونٹ۔۔۔بکھرا سا حولیہ۔۔۔جو بیڈ سے ٹیک لگائے گم صُم سی بیٹھی تھی۔۔۔اُسکی حالت دیکھ سبحان کو اپنا دل رکتا ہوا محسوس ہوا اُسے اپنا آپ مجرم سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔۔لیکن پھر کچھ یاد آنے پر وہ اپنے اندر کی تکلیف کو اندر ہی دباۓ۔۔۔ سر جھٹکتا ہوا ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔پندرہ منٹ بعد وہ بلیک شلوار قمیض پہنے اپنی بھرپور وجاہت کے ساتھ باہر نکلا۔۔۔اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہوکر اپنے بالوں کو کنگھی کرنے لگا۔۔۔شیشے سے نظریں ہنور اُسی ظالم حسینہ پر ہی جمی تھی۔۔جو یو ظاہر کررہی تھی کہ اُسکے سوا اِس کمرے میں کوئی موجود نہیں ہے۔۔۔وہ اپنی تیاری مکمل کرتا ایک نظر اُس پر ڈالے۔۔۔باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔فضا نے ایک شکوہ کناں نظر اُسکی چوڑی پشت پر ڈالی اور گھٹنوں میں سر دیے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔شاہد اب اُسکی قسمت رونا ہی لکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ لال رنگ کی لونگ فراق پہنے سر پر دوپٹہ اُوڑھے۔۔۔ڈارک میک اپ کیے۔۔۔وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔تبھی دروازا نوک ہوا ۔۔تو اُسکی دوست ندا نے جلدی سے اُسے دوبٹہ اُوڑھا۔۔
جو کچھ دیر پہلے ہی اُسکے بلانے پر آئی تھی۔۔۔ تبھی نوفل کے ساتھ مولوی صاحب اندر داخل ہوۓ۔۔۔۔
رمشا ملک ولد شاکر ملک آپ کا نکاح سبحان سکندر ولد سکندر اعظم سے ایک کروڑ حق مہر طہ پایا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔قبول ہے۔۔۔اُسنے بنا دیری کیے جلدی سے تین بار قبول ہے کہاں۔اور بنا دیکھے جلدی سے نکاح نامے پر دستخط کیے۔۔۔۔اُسے دیکھ نوفل نے سر نہ میں ہلایا۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اُن دونوں کا نکاح ہوچکا تھا۔۔۔وہ اِس وقت پھولے نہیں سما رہی تھی خوشی کے مارے اُسکے پیر زمین پر نہیں ٹک رہے تھے کہ اُسکا ہینڈسم مین کے ساتھ نکاح ہوچکا تھا نکاح کی خوشی کے وہ اپنے سگے باپ تک کو بھول گئی تھی۔۔۔۔
_________________
شاکر دادا ڈرائنگ روم میں بیٹھا اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا۔۔جبھی ٹیبل پر پڑا اُسکا آئی فون بج اُٹھا۔۔۔اُسنے فون اُٹھاکر دیکھا تو کسی اننون نمبر سے میسچ آۓ ہوۓ تھے۔۔اُسنے بنا دیر کیے میسج اوپن کر دیکھا جہاں کچھ تصویروں کے ساتھ نیچے کچھ لکھا ہوا تھا۔۔۔
اُسنے غور کیا تو۔۔۔بیٹی کا نکاح مبارک ہو سسر جی۔۔۔میسج پڑتے ہی شاکر دادا ٹھٹھکا تبھی تصاویریں اوپن ہوتے ہی اُسکو دو سو والٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔وہ بےیقینی سے تصویر اوپر نیچے کرکے دیکھا رہا تھا۔۔۔رمم۔رمشاااا۔۔۔اُسکے لب پھڑپھڑاۓ وہ غصے سے اپنی جگہ سے اُٹھا۔۔اور بےچینی سے رمشا کا نمبر ملانے لگا جو مسلسل بند جارہا تھا۔۔۔اُسنے غصے سے فون سامنے دیوار میں دے مارا۔۔۔شاکردادا کو اِس قدر غصے میں دیکھ کر سب نے اپنا تھوک نگلا۔۔۔ریاض۔۔ریاض۔۔وہ دھاڑا۔۔جج۔۔جی۔بوس۔۔اُسکا خاص آدمی جن کی طرح حاضر ہوا۔۔۔جیٹ تیار کرو ہم ابھی پاکستان جارہے ہیں۔۔وہ بےمشکل خود کو کنٹرول کرتا ہوا بولا۔۔۔جی بوس۔۔اور ہاں۔۔موسیٰ کو بھی بولا وہ جہاں کہی بھی ہے جلد سے جلد پاکستان پہنچے ورنہ اُسکے لیے اچھا نہیں ہوگا۔۔۔
نکاح کے بعد سب لوگ واپس جاچکے تھے۔۔علی نکاح سے پہلے ہی گھر سے جاچکا تھا۔۔اور ابھی تک اُسکی واپسی نہیں ہوئی تھی۔۔سبحان نے پریشانی سے اُسے کال کی تو نمبر مسلسل بند جارہا تھا۔۔نوفل اُسے ٹیشن نہ لینا کا کہ کر خود علی کو ڈھونڈنے چلا گیا تھا۔۔۔
آو۔۔یی۔یہ۔۔ہیں۔تمہارا کمرہ سبحان رمشا کو اندر لاتا سنجیدگی سے ماتھا مسلتا ہوا بولا۔۔رمشا ایک نظر کمرے کو دیکھ اپنا رخ سبحان کی جانب کرکے بولی۔۔۔سبحان یہ تو تمہارا کمرہ نہیں ہے اور ہم اِس کمرے میں کیوں رہے گے۔۔۔وہ اُسکی طرف دیکھ کر ایک ادا سے بولی۔۔۔
وہ بیزار دل کے ساتھ لہجے میں محبت سموۓ بولا۔۔اُس کا بس نہیں چل رہا تھا سامنے کھڑی لڑکی کا اپنے ہاتھوں سے گلا دبا دے لیکن وہ ضبط کر گیا۔۔۔۔کچھ دن تم یہاں رہو پھر جلدی میں فضا کو کسی اور کمرے میں شفٹ کرواتا ہوں۔۔۔تو وہ سر ہلا گئی۔۔۔۔سبحان تمہیں پتہ ہے آج میں بہت بہت خوش ہوں فائنلی ہم دونوں کا نکاح ہوگیا۔۔وہ بےباکی سے اُس گلے لگتی ہوئی مسکرا کر بولی۔۔۔اُسکی حرکت پر سبحان نے مٹھیاں بھینجی۔۔۔اور چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لاتا ہوا بولا۔۔۔رات کافی ہوگئی ہے اب تم آرام کرو تھک گئی ہوگی۔۔۔وہ نامحسوس طریقے سے اُسے خود سے الگ کرتا ہوا بولا۔۔۔اس سے پہلے رمشا کچھ بولتی۔۔۔سبحان کا فون بج اُٹھا۔۔۔۔سبحان نے فون اُٹھا کر یس کیا۔۔۔ہہ۔ہی۔۔ہیلو۔۔ہاں۔۔بولو۔۔دوسری طرف سے پتہ نہیں کیا کہاں گیا۔۔۔اچھا ٹھیک ہے میں ابھی آتا ہوں۔۔وہ پریشانی سے بولتا فون رکھ گیا۔۔۔
کیا ہوا۔سبحان۔۔کس کا فون تھا۔۔۔رمشا اُسکی طرف دیکھ کر بولی۔۔وہ میرے ایک قریبی دوست کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ۔۔۔اُسکے پاس کوئی نہیں ہے مجھے ابھی جانا ہوگا۔۔سبحان پریشانی سے بولا۔۔۔لیکن۔۔سبحان۔آج۔تو۔۔ہمارا۔نکاح۔ہوا۔ہے۔۔رمشا خفگی سے بولی۔۔۔سوری یار اُس نے میرا بہت ساتھ دیا ہے اب میں اُسے مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔۔تم ریسٹ کرو میں جلدی آنے کی کوشش کرو گا۔۔وہ اُسے پچکارتے ہوئے بولا۔۔اور اُسکی سننے بغیر کمرے سے کمرے سے نکل گیا۔۔۔رمشا غصے سے پیر پٹختی ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
________________
سبحان جیسے ہی فضا کے کمرے کے پاس سے گزرنے لگا۔۔کہ بےساختہ اُسکے قدم تھمے۔۔وہ بےچین دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر آرام سے دروازا کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔نظریں سیدھی اُس ظالم حسینہ پر پڑی جو سوئی ہوئی دیا کے بالوں میں نرمی سے اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی۔۔۔کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرکے اُسنے سر اُٹھا کر دیکھا جہاں سبحان اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔آپ۔۔آپ یہاں کیا کررہے ہے۔۔وہ اُسکی طرف دیکھتی سپاٹ لہجے میں بولی۔۔۔سبحان کچھ نہیں بولا۔۔۔
میں نے کہاں یہاں سے چلے جاۓ ایک بار سمجھ نہیں آتا ہے۔۔اُسے ڈھٹیوں کی طرح وہی کھڑا دیکھ وہ غصے سے غرائی۔۔۔سبحان اُسکی بات کو نظر انداز کرتا بیڈ کی جانب آیا۔۔اور محبت سے دیا کے سر اور گالوں کا بوسہ لیا۔۔فضا نے اُسے دیکھ مٹھیاں بھینجی۔۔۔میں ایک اِنتہائی ضروری کام سے جارہا ہوں۔۔پتہ نہیں واپسی ممکن ہو یہ نہیں۔۔۔دعا کیجیے گا۔۔۔سبحان اُسکی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔اسکی گھمبیر بات پر فضا کا دل دھڑکا۔۔نم آنکھوں سے اُسے نے سبحان کو دیکھا۔۔۔سبحان نے آگے بڑھ کر شدت سے اُسے خود میں پھینجا۔۔سبحان کے سخت حصار میں فضا کو ایسا لگا جیسے ابھی اُسکی پسلیاں ٹوٹ جاۓ گی۔۔۔کچھ دیر بعد سبحان نے اُسے خود الگ کیا اور ایک شدت بھرا لمس اسکے لبوں پر چھوڑے اُسے خیال رکھنے کی تاکید کرتا بغیر اُسکی کوئی بات سننے کمرے سے نکل گیا۔۔۔فضا کو سبحان کی باتیں ڈارا رہی تھی۔۔اُسنے بےساختہ آسمان کی طرف دیکھ کر سبحان کی حفاظت کی دعا کی۔۔۔جیسا بھی لیکن سبحان سے بےاِنتہا محبت کرتی تھی۔۔۔سبحان کے بارے میں سوچ سوچ کر اُسکا سردرد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔
