Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 13)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

صبح صبح ہی آسمان پر کہی ہلکے کہی گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔۔۔ہر طرف ٹھنڈی یک بستہ ہوا چل رہی تھی جو اِس سخت سردی میں کسی کو بھی کانپنے پر مجبور کر دے۔۔۔لیکن لون میں بیٹھی ہستی پر اِس سردی کا کوئی اثر نہیں ہورہا تھا۔۔۔جو ہر چیز سے بے نیاز کسی اور ہی دنیا میں گم تھی۔۔۔تبھی اس نے کسی احساس کے تحت اپنی دائیں جانب نظریں گھمائی جہاں کاشان اُسکے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔۔شان بھائی آپ کب آۓ۔۔وہ ویسے ہی نظریں جھکائے ہوئے بولی۔۔۔جب تم اکیلے کسی اور دنیا کی سیر پر نکلی تھی۔۔وہ اُسکی طرف دیکھ سنجیدگی سے بولا۔۔ لیکن آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔۔۔اُسکی بات پر وہ ہلکا سا مسکرائی اور دوبار نظریہ جھکائے بیٹھ گئی۔۔۔دونوں میں گہری خاموشی تھی جسے کاشان کی سنجیدہ گھمبیر آواز نے تھوڑا۔۔۔خوش ہو اِس رشتے سے۔۔۔وہ سامنے دیکھتا ہوا بولا۔۔۔اُسکی بات پر فضا نے ایک جھٹکے سے سر اُٹھا کر اُسے دیکھا۔۔۔بب۔بھائی۔۔آپ۔۔کو۔۔کک۔۔اُسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ بولا۔۔۔سبحان میرا صرف دوست نہیں میرے بھائیوں سے بڑھ کر ہے۔۔۔اُسکے لیے تو یہ شاہ اپنی جان بھی قربان کر سکتا ہے۔۔۔سبحان کی بات کرتے وقت کاشان کی آنکھوں میں جو محبت جو احترام اور عزت دیکھائی دے رہی تھی وہ فضا سے مخفی نہ رہ سکا

تم سے بات کرکے اُسنے مجھ سے بات کی تھی۔۔اور مجھے تمہارے لیے اُن سے اچھا لڑکا نہیں مل سکتا۔۔۔وہ تمہیں بہت اِنتہا خوش رکھے گئے۔۔۔اُس کمینے موسیٰ کی طرح نہیں ہے جو مصیبت آنے پر ہاتھ جڑا کر بھاگ جاۓ۔۔۔ اُسکی بات کرتے وقت کاشان کی آنکھوں میں اُس کے لیے نفرت صاف دیکھی جاسکتی تھی ۔۔۔موسی کے نام پر اُسکے دل میں ایک ہوک سی اُٹھی۔۔۔لیکن بھائی گ۔گھر۔۔ والے۔۔۔اور مجھے نہیں لگتا میں اُن کے قابل ہوں وہ نظریں جھکائے بولی۔۔۔گڑیا گھروالوں کو میں دیکھ لو گا اور تم کچھ بھی ایسا ویسا مت سوچو۔۔۔اپنے رب پر سب کچھ چھوڑ دو وہ تمہیں کبھی مایوس نہیں کریں گا۔۔کاشان اُسکو ساتھ لگاۓ محبت سے بولا اور اُسکا ماتھا چوم گیا۔۔۔تو بدلے میں وہ مسکرا دی ۔۔۔

چلو بھائی اب تم بھی آجاؤ باہر سردی بھی ہے اور مجھے تیاریاں بھی کرنی ہے آخر میری بہن کو شادی کی کچھ زیادہ ہی جلدی تھی جو سیدھا اگلے دن ہی آنے کا بول دیا۔۔کاشان شرارت سے کہتا اُٹھ کھڑا ہوا۔۔بھائییییی۔اُسکی بات پر وہ کانوں تک سرخ ہوگئی۔۔۔اور اپنی خفت مٹانے کے لیے وہ وہاں سے اندر کی جانب بھاگ گئی۔۔۔مجھے پوری اُمید ہے آپ میری بہن کا دھیان اپنی جان سے بھی زیادہ رکھے گے۔۔وہ محبت سے کہتا فضا کے لیے دعا کرتا ایک گہری سانس لیے اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

________________

فضا اپنے کمرے میں بیٹھی دیا کو کپڑے چینج کروا رہی تھی۔۔صبح کاشان سے ہوئی بات سے وہ کافی حد تک خود کو سنبھل گئی تھی۔۔جب دھڑم سے دروازا کھول کر ہادیہ تن فن کرتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔کیا ہوا کیوں آندھی طوفان بنی ہوئی ہو۔۔بغیر اُسکی طرف دیکھے وہ اپنی ہی دھن میں بولی۔۔۔باہر یہ سب کیا چل رہا ہے۔۔اور مجھے پورا یقین ہے کہ تمہیں پتہ ہے کہ کیا چل رہا ہے وہ اُسکی طرف دیکھے غصے سے ہر لفظ چبا چبا کر بولی۔۔۔نہیں مجھے تو نہیں پتہ تم بتاؤ کیا ہو چل رہا ہے۔۔دیا کے گندے کپڑے بیڈ سے اُٹھاتے وہ اُسے زچ کرتی ہوئی بولی۔۔۔یہ باہر کس کی شادی کی تیاریاں چل رہی ہے۔۔وہ ہر لفظ چبا چبا کر بولی یقیننا اُسے پتہ چل چکا تھا لیکن وہ اُسکے منہ سے سننا چاہتی تھی۔۔۔اپنی ماسی کو اِتنا غصے میں دیکھ کر دیا کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔اِسے ہنستا دیکھ کر ہادیہ نے اُسے گھورا۔۔۔اچھااا۔یار۔غصہ کیوں ہو رہی ہو بتاتی ہوں۔۔یہاں بیٹھو۔۔۔وہ اُسے اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے ساری بات اُسکے گوشوگزار کردی۔۔۔جسے سن کر ہادیہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔بہنا منھ بند کر لو مکھی چلے جاۓ گی۔۔اُسکی بات پر وہ جلدی سے ہوش میں آئی اور ایک رکھ کر اُسے دی۔۔کمینی اِتنا سب کچھ ہوگیا اور تم مجھے اب بتا رہی ہو۔۔وہ اُسے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔تو وہ کندھے آچکا گئی۔۔

ہادیہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی پتہ نہیں میں یہ سب ٹھیک کررہی ہوں یا غلط وہ یک دم سنجیدگی سے بولی۔۔میرے پاس اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔۔۔دیا کے ساتھ گھر والوں کا رویہ دن با دن خراب تر ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ابھی تو وہ چھوٹی ہے۔۔۔لیکن جب وہ بڑھی ہو جائے گی محسوس کرنے لگے گی۔۔وہ نم آنکھوں سے اُسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔فضا میری جان پریشانی نہ ہو اور مجھے نہیں لگتا کہ تمہارا فیصلہ غلط ہے سبحان بھائی بہت اچھے ہیں۔۔ مجھے تو پہلے دن سے ہی بہت اچھے لگے تھے۔۔۔ اُن کی آنکھوں میں میں نے تمہارے لیے فکر احترام عزت ہر چیز دیکھی تھی۔۔۔اِس لیے تو میں نے اُس دن اُن کے ساتھ تمہیں بھیج دیا تھا۔۔۔اور اب تم ٹیشن مت لو میری جان اور اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچوں دوپہر کو تمہارا نکاح ہے۔۔۔ہادیہ اُسکی طرف دیکھ کر محبت سے بولی۔۔۔اور اُسے خود سے لگا لیا۔۔دیا کو ہر بار کی طرح اپنا اگنور ہونا برداشت نہیں ہوا اور اب وہ اپنا سپیکر اون کر چکی تھی۔۔۔جل ککڑی کہی کی ہادیہ فضا سے الگ ہوتی اُسے دیکھ چبا کر بولی۔۔۔

_________________

کاشان نے پتہ نہیں ایسا کیا کہا تھا گھروالوں سے کہ سب ہی بغیر کوئی سوال جواب کیے۔۔نکاح کی تیاریاں کررہے تھے۔۔۔

کچھ ہی دیر پہلے سبحان نے اپنی پسند کا اُسے نکاح کا ڈریس بھیجا تھا۔۔۔

اُس کے چینج کرنے کے بعد فضا کے بار بار منہ کرنے کے باوجود ہادیہ اپنی مرضی سے اُسے تیار کررہی تھی۔۔۔سفید شرارا پہنے جس پر گولڈن اور سرخ رنگ کا ہلکا سا کام ہوا تھا۔۔۔ساتھ سرخ دوبٹہ سر پر اچھی طرح سیٹ کیے۔۔ہلکا میک اپ کیے۔۔۔وہ اِنتہائی حسین اور دلکش لگ رہی تھی۔۔کہ کوئی بھی ایک نظر دیکھ کر اپنا دل ہار بیٹھے۔۔۔جسے خدا نے بےتہاشہ حسن سے نوازا تھا۔۔۔

ماشاءاللہ میری جان تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔اُوپر والا تمہیں ہر کالی نظر سے بچاۓ۔۔ہادیہ محبت سے اُسکے سر پر بوسہ دیتے ہوئے بولی۔۔تو وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔۔۔

اچھاا اب تم اپنی محبوبہ کے ساتھ کھیلو۔۔۔پھر کچھ دیر بعد کوئی اور ہی تمہارا محبوب بننے والا ہے۔۔۔میں ابھی آتی ہوں ہادیہ شرارت سے کہتی کمرے سے نکل گئی۔۔۔جبکہ وہ اُسکی بات پر سوچوں میں گم ہوچکی تھی۔۔۔کاش۔۔موسیٰ تم ایسا نہ کرتے۔۔۔تو آج مجھے یو لاوارثوں کی طرح کسی ایسے شخص سے شادی نہ کرنی پڑتی جس کو کبھی چاہا ہی نہ تھا۔۔جو زخم تم نے مجھے دیا ہے اُسکی وجہ سے میں چاہ کر بھی اُس شخص سے محبت نہیں کر پاؤ گی۔۔۔تم نے میری محبت کو یو سر عام نیلام کرکے اچھا نہیں کیا۔۔۔خدا کرۓ تم بھی کبھی چین سے جی نہ پاؤ۔۔۔فضا اپنا آپ آئینے میں دیکھ کر بےتہاشہ روتے ہوئے بولی۔۔۔

سبحان نوفل کی فیملی اور اپنے ایک دو قریبی کے ساتھ شاہ ہاؤس آچکا تھا۔۔۔علی آوٹنگ پر گیا ہوا تھا تو وہ اِس سب سے بےخبر تھا۔۔۔وہ باری باری فضا کے سب گھر والوں سے ملا۔۔کاشان اُسے لیے صوفے کی جانب بڑھ چکا تھا۔۔۔سب ہی اُسکی سنجیدہ روعبدار پرسنلٹی سے بہت متاثر ہوۓ تھے۔۔۔خاص کر حسن شاہ۔۔۔سبحان نے وائٹ کرتا شلوار کے اوپر بلیک واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔پیروں میں پشاوری چپل پہنے۔۔۔بالوں کو جل سے سیٹ کیے۔۔۔دائیں ہاتھ رولکس کی واچ لگاۓ۔۔۔کندھے پر مہرون شال اُوڑھے وہ اِنتہائی ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔جیسے کیسی ریاست کا شہزادہ جو اپنی ملکہ کو اپنے نام کرنے آیا تھا۔۔ایک پل کو تو لائبہ کو فضا سے بےپناہ حسد ہونے لگی۔۔۔جسے اِتنا خوبصورت شوہر ملا تھا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *