Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 14)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

کچھ ہی دیر میں کاشان اور فائق مولوی صاحب کو لیے کمرے میں داخل ہوۓ۔۔۔فضا لال دوپٹہ اُوڑھے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔ہادیہ بھی اُسکے پاس تھی۔۔۔

فضا حسن شاہ۔۔ولد حسن شاہ ۔۔۔آپ کا نکاح سبحان سکندر ولد سکندر خانزادہ سے حق مہر ایک کروڑ طہ پایا ہے۔۔کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔مولوی صاحب کے الفاظوں پر فضا کی آنکھیں نم ہوئی اُسے اِس پل شدت سے اپنی ماں کی کمی محسوس ہوئی۔۔۔کاشان نے بہن کی حالت سمجھ کر آگے بڑھ کر اُسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔اُسنے لمبی سانس ہوا کے سپرد کیے ۔۔۔ق۔قبول ہے۔۔قبول ہے۔۔ قبول ہے۔۔تین دفعہ بول کر اپنی رضامندی ظاہر کی اور کپکپاتے ہاتھوں سے نکاح نامے پر دستخط کیے۔۔۔کاشان نے نم آنکھوں سے مسکرا کر کر اپنی گڑیا کو سینے سے لگایا اور ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دی۔۔۔

مولوی صاحب کے جانے کے بعد وہ کتنی ہی دیر ہادیہ کے گلے لگی ہچکیوں کے ساتھ روتی رہی۔۔یہی حال ہادیہ کا تھا ۔۔۔

فضا کے بعد مولوی صاحب سبحان کی طرف آۓ۔۔جو حسن شاہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اُسکے ساتھ آہان بھی موجود تھا۔۔مولوی صاحب بولتے اِس سے پہلے ہی حسن شاہ کا فون بج اُٹھا وہ نکاح شروع کرنے کا کہتے خود معزرت کرتے فون سننے کے لیے وہاں سے چلے گئے ۔۔۔

مولوی صاحب آپ شروع کرۓ فائق سنجیدگی سے بولا۔۔۔

سبحان سکندر۔۔ولد سکندر خانزادہ آپ کا نکاح۔۔فضا حسن شاہ ولد حسن شاہ سے ایک کروڑ حق مہر طہ پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔اُسنے بنا دیر کیے تین بار قبول ہے کہ کر۔۔۔اپنی محبت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے نام کرچکا تھا۔۔۔اُسنے سرشاری سی کیفیت میں نکاح نامے پر دستخط کیے۔۔۔سب نے باری باری اُٹھ کر اُسے گلے لگا کر مبارک باد دی۔۔۔مبارک ہو ایس کے کاشان اُسکے کان میں سر گوشی کرتا ہوا بولا۔۔۔اُسکی بات پر اُسنے مسکراہٹ ضبط کی۔۔۔شکریہ سالے صاحب ۔۔۔وہ بھی دوبدو بولا۔۔۔بھئی ہمیں بھی موقع دو کیا تم اب گلے ہی پڑ گئے ہو۔۔نوفل شرارت سے بولا۔۔تو دونوں نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا۔۔۔

ہادیہ دیا کو لیے باہر آئی جہاں دونوں فیملی ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔

کاشان بھائی پلیز دیا کو پکڑے مجھے باقی کے کام بھی دیکھنے ہے۔۔۔یہ مجھے کچھ کرنے ہی نہیں دے رہی ہیں ہادیہ دیا کو کاشان کو پکڑاتے ہوۓ خفگی سے بولی۔۔۔تو اُسنے مسکرا کر اُسے پکڑا۔۔۔آہان جو سبحان کے ساتھ سنجیدگی سے بیٹھا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔۔تبھی اُسکی نظر سبز آنکھوں والی پری پر گئی۔ جو کاشان کی کسی بات پر کھلکھلا رہی تھی۔۔اُسے دیکھ آہان کی آنکھیں چمکی اور ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ آئی۔۔۔ مائی اینجل۔۔۔۔اُسکے لب پھڑپھڑاۓ۔۔۔اُسکی بڑبڑاہت سن کر سبحان کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ آ گئی جسے وہ جلدی ہی چھپا گیا۔۔۔

_______________

مجھے لگتا ہے اب ہمیں رخصتی کردینی چائیے کافی ٹائم ہوگیا ہے جاتے جاتے ٹائم لگ جاۓ گا۔۔۔کاشان کی بات پر سب گھروالے ٹھٹکے سواۓ سبحان لوگو کے۔۔۔کیا مطلب رخصتی۔۔رخصتی کی تو کوئی بات ہی نہیں ہوئی تھی۔۔۔حسن شاہ اُسکی طرف دیکھ کر بولے۔۔۔بابا فضا ساتھ رخصتی بھی چاہتی ہے۔۔کاشان نے اُن کے سر پر بم پھوڑا۔۔لیکن۔کاشان۔۔فائق کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ بول اُٹھا۔۔۔کبھی نہ کبھی تو رخصتی کرنی ہے تو ابھی کیوں نہیں اور رہی پڑھائی کی بات پہلے بھی وہ پرائیویٹ پڑھ رہی تھی اب بھی پڑھ لے گی۔۔سبحان نے کون سا منہ کرنا ہے۔۔۔نکاح کے بعد ویسے بھی لڑکی اپنے شوہر کی زمہ داری ہوتی ہے کاشان کی بات پر سب ہی چپ رہے۔۔۔

کچھ ہی دیر میں رانیہ فضا کو چادر اُوڑھے باہر لائی۔۔۔دیا ہادیہ کی گود میں موجود تھی۔۔۔جسے کوئی اپنی نیلی آنکھوں سے ٹکر ٹکر گھور رہا تھا۔۔۔فضا کو دیکھ کر ایک پل کے لیے سبحان کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس۔۔وہ سبز آنکھوں والی ڈول اُسکے لاۓ ہوئے ڈریس میں اِس قدر حسین لگ رہی تھی۔۔ کہ سبحان نے جلدی سے اپنی نظریں پھیریں کہ کہی اُسکی ہی نظر نہ لگے جاۓ۔۔فضا سب سے پہلے حسن شاہ کے گلے لگی۔۔ہمیشہ خوش رہو وہ محبت سے اُسکا ماتھا چومتے ہوئے بولے۔۔پھر اظہر شاہ سے پیار لیا۔۔باری باری وہ سب سے ملی۔۔۔جب لائبہ کی چنگاڑتی ہوئی آواز گونجی۔۔اِس نحوست کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ۔۔کم سے کم اِس منحوس سے ہماری جان تو چھوٹے گی۔۔وہ نفرت سے پھنکاری۔۔۔۔اُسکی بات پر سبحان نے مٹھیاں بھینجی لیکن بولا کچھ نہیں۔۔۔لیکن آپی اِس سے پہلے ہادیہ کچھ بولتی فائق کی بات نے فضا کے دل میں فائق کے لیے جو تھوڑا بہت احترام تھا وہ بھی آج ختم ہوگیا تھا۔۔۔

لائبہ بالکل سہی کہ رہی ہے اِس کو بھی اپنے ساتھ ہی لے جاؤ اور میں نہیں چاہتا اِسکی نحوست کا سایہ بھی میرے ہونے والے بچے پر بھی پڑے وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔اُسکی بات پر لائبہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔

ایک ہفتے پہلے ہی لائبہ کی طبیعت خرابی کی وجہ سے سدرہ بیگم کے کہنے پر وہ اُسے ڈاکٹر کے لےکر گیا تھا۔۔جہاں اُنہیں لائبہ کے ماں بننے کی خوش خبری ملی۔۔۔جس سن کر فائق سمیت سب گھر والے بہت خوش تھے۔۔۔فائق لائبہ کا ہر طرح سے خیال رکھتا تھا۔۔۔جس سے لائبہ کو اپنا آپ ہواؤں میں اُڑتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

وہ اِس بچے کے ذریعے فائق کے دل میں جگہ بنانے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔

________________

اِس سے پہلے سبحان یہ کوئی اور کچھ بولتا۔۔کسی نے فائق کو زور سے دھکا دیا جس وہ لڑکھڑا کر چند قدم پیچھے ہوا۔۔۔خبردار اگر آپ نے میری اینجل کے بارے میں اور کچھ گندہ بولا ۔۔۔نہیں تو میں آپ کا سر پھاڑنے میں دیر نہیں لگاؤ گا۔۔۔وہ اپنی نیلی آنکھوں سے جو اِس وقت لال سرخ ہوچکی تھی اُن سے دیکھتا ہوا غرا کر بولا۔۔۔

نوفل اور رانیہ تو اپنے بیٹے کی حالت کو دیکھ کر ہی حیران ہوگئے۔۔۔تیرا بیٹا تو ابھی سے مجنوں کے لسٹ میں پہلے نمبر پر آ گیا۔۔سبحان نوفل کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا بولا۔نوفل اُسے بس گھور کر رہ گیا۔۔ جب کہ فضا سمیت باقی گھر والے ہکا بکا سے اِس چھ سال کے بچے کو دیا کے لیے لڑتا دیکھ رہے تھے۔۔۔

اگر میری اینجل کو آپ نے دوبارہ کچھ بولا نہ تو جان سے مار دو گا۔۔وہ غصے سے وارن کرتا ہوا بولا۔۔۔سبحان تو اُسکے اندازے پر اش اش کر اُٹھا۔۔۔دیکھ لے مسٹر فائق شاہ۔۔۔دیا اکیلی نہیں ہے۔۔اُسکے ساتھ بہت سارے لوگ ہے۔۔۔ویسے بھی پہلے ہی آپ اُسے اپنی بیٹی مانے سے انکار کررہے ہیں تو اب سے وہ آپ کی بیٹی ہے بھی نہیں۔۔۔اب سے وہ صرف اور صرف میری بیٹی ہے۔۔سبحان سکندر کی بیٹی دیا سبحان سکندر۔۔۔وہ اُسکی طرف دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا۔۔

اُسکی بات پر فضا نے نظریں اُٹھا کر اُسے دیکھا۔۔۔دیا اب قانونی طور پر میری بیٹی ہے میں اُسکی کسٹڈی لے چکا ہوں۔۔آپ کو مبارک ہو آپ کا نیا بچہ۔۔۔آخری بات وہ انتہائی سنجیدگی سے بولا۔۔

فضا جانم چلے گھر۔۔لیٹ ہورہا ہے۔۔۔سبحان اُسکی طرف دیکھ کر بولا۔۔تو وہ ہوش میں آتے ہی ہاں میں سر ہلا گئی۔۔۔سبحان نے آگے بڑھ کر ہادیہ کی گود سے دیا کو لیا۔۔۔بابا کی جان۔۔وہ محبت سے اُسکے دونوں گالوں پر بوسہ دیتے ہوئے بولا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔لائبہ نے نفرت اور حقارت سے یہ سارا منظر دیکھا۔۔۔۔

فضا قدم قدم چلتی ہوئی فائق کے سامنے آئی۔۔۔اور اُسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔۔مبارک ہو مسٹر فائق شاہ آپ کو آپ کا بچہ آپ کا گھر ۔۔آپ کی بیوی۔۔۔ اب سے میرا اور دیا کا اِس گھر سے اِس گھر کے لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آج سے میں آپ سب سے اپنا ہر تعلق توڑتی ہوں۔۔۔حسن شاہ غصے سے اُسے دیکھتے ہوۓ بولے۔۔میں بالکل ٹھیک بول رہی ہوں۔۔دیا تو پہلے ہی آپ سب کے لیے مر گئی ہے۔۔آپ سمجھ جائیے گا میں بھی اپنی بیماری سے لڑتی لڑتی مر گئی۔۔اور شاہد جلد ہی مر جاؤ۔۔۔اُسکی بات پر فائق نے تڑپ کر اُسکی جانب دیکھا۔۔فکر مت کریں آپ کو کوئی تکلیف نہیں دو گی۔۔اور ہاں میرے جنازے میں بھی آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔میرا شوہر ہی کافی ہے میرے لیے۔۔فضا۔۔۔سبحان تڑپ کر بولا۔۔

اور یاد رکھیے گا ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ آپ اِسے دیکھنے کے لیے پیار کرنے کے لیے ترسو گے ۔۔۔اور میں فضا سبحان سکندر کا یہ وعدہ ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں میں آپ کو کبھی بھی اسکی شکل دیکھنا بھی نصیب نہیں کرو گی۔۔۔وہ سپاٹ لہجے میں کہتی ایک نم نظر اپنے گھر پر ڈالے سبحان کے ساتھ اپنی زندگی کے نئے سفر پر رخصت ہوچکی تھی۔۔۔فائق کتنی ہی دیر ساکت نظروں سے کھڑا دروازے کو دیکھتا رہا۔۔جہاں سے وہ کچھ دیر پہلے گئی تھی اپنے سارے تعلق ختم کرکے۔۔۔فائق آپ ٹھیک ہے۔۔فائق لائبہ کے ہلانے سے ہوش میں آیا اور بغیر کسی کی طرف دیکھے باہر نکل گیا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *