Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul NovelR50617 Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 11,12)
Rate this Novel
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 11,12)
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul
کچھ ہی دیر بعد فضا کو ہوش آچکا تھا۔۔۔سب باری باری روم میں گئے تھے اُس سے ملنے۔۔۔لیکن وہ بس خالی خالی نظروں کے ساتھ سب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔لاڈلی بہن کی ایسی حالت دیکھ فائق کی آنکھیں نم ہوئی۔۔۔جو بغیر کسی کو بتاۓ اتنی بڑی جنگ خود کے ساتھ لڑ رہی تھی۔۔۔کیسی طبیعت ہیں میری گڑیا کی حسن شاہ محبت سے اُسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔۔۔ہہ۔۔ہو۔۔ٹھیک ہوں۔۔۔فضا نے اپنے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے ہلکی آواز میں کہا۔۔۔میری بیٹی بہت بہادر ہے۔۔دیکھنا کیسے جلدی سے ٹھیک ہوجاۓ گی۔۔۔حسن شاہ اُسکے بال سہلاتے ہوئے بولے۔۔۔تبھی ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔
آپ سب روم سے جاۓ پیشنٹ کو آرام کرنے دے۔۔۔ڈاکٹر اپنی پروفیشنل انداز میں گویا ہوئی۔۔۔تو وہ سب باری باری فضا سے ملکر کمرے سے جاچکے تھے۔۔۔ڈاکٹر نے اُسے نیند کا انجکشن لگایا۔۔۔تو وہ کچھ ہی دیر میں نیند کی وادیوں میں اُتر گئی۔۔۔
________________
دوبئی کے مشہور ترین ہوٹل میں رات کے اِس وقت پارٹی زوروں شوروں سے اپنے عروج پر تھی۔۔ہر طرف عورتوں اور مردوں کا ایک جہان آباد لگ رہا تھا۔۔۔جو انتہائی نازیبا کپڑے پہنے غیر مردوں کے باہؤں میں مزے سے جھول رہی تھی۔۔کچھ ایک دوسرے کے ساتھ ڈانس کرنے میں مصروف تھی۔۔۔ایسا گندہ وحشت زدہ ماحول دیکھ کر ایس کے نے غصے سے مٹھیاں بھینجی اور اپنے اندر پل رہے اشتعال کو دبانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔دور سے ہی کاشان اُسکی حالت دیکھ کر پریشانی سے اُسکی جانب بڑھا۔۔آپ ٹھیک ہو۔۔کاشان اُسکی حالت دیکھ کر بولا۔۔تو وہ گہرا سانس لیتا ہاں میں سر ہلا گیا۔۔۔وہ دونوں اِس وقت ویٹر کے ڈریس پہنے چہرے پر نکلی مونچھیں داڑھی لگاۓ۔۔۔ہاتھوں میں جوس سے بھرے گلاس پکڑے ۔۔۔کوئی ویٹر ہی لگ رہے تھے۔۔۔چاہ کر بھی کوئی اُنہیں پہچان نہیں سکتا تھا۔۔۔وہ ابھی کھڑے ہی تھے۔کہ تبھی شاکر دادا اپنے وفادار بندوں کے ساتھ وہاں انٹر ہوا۔۔۔دائیں جانب کاشف اور بائیں جانب کاشان کی پر نظر پڑھتے ہی اُسکو چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔کچھ ایسا ہی حال ایس کے کا تھا۔۔۔وہ دونوں ساکت نظروں سے سامنے کا منظر دیکھ رہے تھے۔۔۔جیسے اُنہیں دیکھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہو۔۔۔
یہ۔۔تو۔۔مم۔۔موسیٰ۔۔ہے۔نہ تمہارا کزن۔۔ایس کے ہوش میں آتے ہوۓ بولا۔۔ایس کے کی آواز سن کر وہ ہوش میں آیا۔۔۔
اِس کا مطلب ہمارے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والا اپنے ہی ملک کی ماؤں بیٹیوں کی عزت نوچنے والا درندہ شاکر دادا کا بائیں ہاتھ کوئی اور نہیں۔۔۔موسیٰ شاہ ہے۔۔۔ایس کے کی آخری بات کاٹتے ہوئے بولا۔۔۔وہ نفرت اور حقارت سے موسیٰ کو دیکھ رہا تھا جو شاکردادا کے ساتھ کھڑا مسکرا کر اُن سے باتیں کر رہا تھا۔۔۔۔تبھی کاشان کو کچھ یاد آیا۔۔۔
اگر یہ کمینا یہاں ہے۔تو۔گگ۔۔گڑیا کا۔۔نکاح۔۔یاخدا۔۔۔کاشان کو ایک اور جھٹکا لگا۔۔اُسکی بات پر ایس کے ٹھٹکا۔۔۔کیا۔۔مطلب۔
نن۔نکاح۔۔ایس کے اُسکی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔کل گڑیا اور فائق کا نکاح تھا۔۔فضا کا رشتہ بچپن سے ہی جوڑا گیا تھا۔۔۔
اُسکی بات ایس کے کے سر پر دھماکے کی طرح لگی۔۔۔اُسے ہوا میں آکسیجن کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔۔۔ اسے لگا جیسے وہ پوری دنیا میں ایک بار پھر اکیلا ہوگیا ہو۔۔۔اسکی محبت کسی اور کے نام یہ سوچ آتے ہی اسکا دماغ پھٹنے اُسے لگا اُسکا سب کچھ ختم ہوگیا۔۔۔مم۔میں۔۔ایسا۔۔نہیں۔ہونے۔۔دوگا۔۔میری گڑیا کی زندگی برباد نہیں ہونے۔۔دو گا۔۔۔چاۓ جو بھی ہوجاۓ۔۔کاشان کی آواز سے وہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا۔۔۔۔اُن دونوں کا دل تو کیا جہاں سے چلے جاۓ۔۔۔لیکن ملک کے لیے اپنا فرض یاد آتے ہی وہ دونوں نا چاہتے ہوئے بھی اِنتہائی سنجیدگی سے اپنے اندر پلتے اشتعال کو دوباۓ جب تک پارٹی جاری رہی وہی موجود رہے۔۔۔۔
کچھ ہی دیر پہلے ہی پارٹی ختم ہوتے ہی وہ اپنے اپارٹمنٹ پہنچے کاشان سب کچھ پیٹھ پشت پر ڈالے ۔۔۔بےچینی سے فائق کا نمبر ملانے لگا۔۔۔ایس کے تو کچھ کہنے سننے سمجھنے کے قابل ہی نہیں رہا۔۔۔اُسکا دل درد سے پھٹا جا رھا تھا۔۔
ہاں۔۔ہیلو۔۔فائق بھائی۔۔گڑیا کی۔کیسی ہے۔۔ابھی کاشان کچھ اور کہتا۔۔اِس سے پہلے ہی سامنے سے جو کچھ کہا گیا اُسے سنتے ہی کاشان کو اپنے اندر ڈھیروں سکون اُترتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔شکراللّٰہ تیرا۔۔۔کاشان زیر لب کہتا صوفے پر ڈہ گیا۔۔جی بھائی میں کل واپس آ رہا ہوں پھر باقی بات کرتے ہیں یہ کہتے ہی اُسنے فون رکھ دیا۔۔۔
اور جلدی سے ایس کے کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔جو پتہ نہیں کہاں گم تھا۔۔۔ایس کے۔۔کاشان کے بلانے پر وہ ہوش میں آیا۔۔ہوں۔ہاں۔۔بولو۔۔وہ سنجیدگی سے اُسکی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔کاشان نے جلدی سے ساری بات اُسکے گوشوگزار کردی۔۔۔جسے سنتے ہی وہ سکون سے صوفے کی بیک پر سر ٹکا گیا۔۔۔اور دل میں کتنی ہی دفع اپنے رب کا ڈھیروں شکر ادا کیا۔۔۔
۔۔اسکی بات پر اسے لگا جیسے خزاں کے موسم میں بہار آ گئی ہو ۔۔اسے ایسا لگا جیسے اسکے دل میں لگی آگ پر کسی نے پانی پھینک دیا ہو۔۔
________________
اِس واقعے کو گزرے ایک ماہ سے زیادہ ہو چکا تھا۔۔۔فضا جب سے ہوسپٹل سے واپس آئی تھی بالکل خاموش سی ہوگئی تھی۔۔۔بس کسی کے بلانے پر ہو ہاں میں جواب دیے دیتی۔۔نہیں تو چپ چاپ گم سے بیٹھی رہتی تھی۔۔۔رضیہ بیگم دوبارہ شاہ ہاؤس نہیں آئی تھی اور نہ ہی ان میں سے کسی نے اُن سے رابط کرنے کی کوشش کی تھی۔۔لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کی طرف سے فون پر حسن شاہ سے معافی مانگی تھی
لیکن انہوں نے کوئی بھی جواب دیے بغیر فون رکھ دیا۔۔ فضا کی حالت کے پیشے نظر کسی نے بھی اُس سے کسی بھی قسم کا کوئی سوال نہیں کیا تھا۔۔۔سدرہ بیگم اور لائبہ کے علاؤہ سب اُسکی حالت کو لےکر کافی پریشان رہتے تھے۔۔۔
ہادیہ آج یونی گئی ہوئی تھی اُسکا دل تو نہ تھا فضا کو اکیلے چھوڑنے کا۔۔ لیکن ضروری اسائمنٹ جمع کروانی تھی۔۔۔مرد حضرات سب آفس گئے ہوئے تھے۔۔فضا اپنے کمرے میں بیٹھی دیا کے کپڑے چینج کررہی تھی۔تبھی دروازا کھول کر کاشان اندر داخل ہوا۔۔اُسے اپنے سامنے دیکھ کر فضا نے نم آنکھوں سے مسکرا کر اُسے دیکھا۔۔گڑیا میری جان کہتے ہی اُسنے بہت محبت سے آگے بڑھ کر خود میں پھینجا۔۔۔کاشان نے کل فائق کو فون کیا تھا۔۔تبھی فائق نے اُسے فضا کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔۔جسے سن کر وہ تڑپ اُٹھا کہ وہ اپنی بہن کی حالت سے اِتنا غافل کیسے رہ سکتا ہے۔۔یہ سب سوچتے ہی اُسکی آنکھ سے ایک بےمول آنسو بہہ کر فضا کے بالوں میں جذب ہوگیا۔۔کیسی ہے میری شہزادی وہ اُسے خود سے لگاۓ محبت سے بولا ۔۔۔ہمم ٹھیک ہو آپ کیسے ہیں۔۔ہمم۔میں بھی ٹھیک۔۔۔طبعیت کیسی ہے اب۔۔۔
ہوں۔۔ٹھیک ہے وہ مختصر سا بولی۔۔ تبھی دیا کو اپنا اگنور ہونا برداشت نہیں ہوا اور وہ بیڈ پر بیٹھی اپنے ہونٹ باہر نکالے اپنا پھٹا سپیکر سٹاٹ کرچکی تھی۔۔جو وہ ہر بار کرتی تھی
لو۔جی۔۔اب اِس جل ککڑی کو اپنا اگنور کرنا برداشت نہیں ہوا۔۔کاشان ہنستے ہوئے بولا اور اُسے اپنی گود میں اُٹھا گیا۔۔
اسکی بات پر فضا بھی مسکرا دی۔۔۔
بھائی آپ دونوں باتیں کرو میں آپ کے لیے کچھ لےکر آتی ہوں وہ ہلکی سی سمائل سے کہتی روم سے نکل گئی۔۔۔اُسکے جاتے ہی کاشان نے سرد سانس ہوا کے سپرد کی اور دیا کی جانب متوجہ ہوگیا۔۔۔
________________
ہممممم کیا خبر ہے وہ اپنے ازالی سرد لہجے میں کہتا سامنے والے کا دل دھڑکا گیا۔۔۔اب بنا رُوکے میرے جانے سے لے کر اب تک کی ساری معلومات دو۔۔۔وہ اپنی سہر زدہ پرسنلٹی کے ساتھ سنجیدگی سے بولا۔۔۔وہ جانتے بوجھتے بھی اُس سے سب پوچھ رہا تھا۔۔۔سس۔سر۔۔میم۔کا ایک ماہ پہلے نکاح تھا۔۔وہ اپنا تھوک نگلتے ہوۓ بولا۔۔۔ ۔تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا یو باسٹر وہ اس بار بولا نہیں دھاڑا تھا اُسکی دھاڑ پر کمرے کی دیواریں تک لرز اُٹھی۔۔۔سس۔۔سر۔۔میم۔۔کا۔۔نن۔نکاح۔۔تھا۔۔پر۔۔ہوا۔۔نہیں۔۔۔سامنے والے نے جلدی سے بات مکمل کی کہ کہی وہ مارا ہی نہ جاۓ۔۔۔مجھے پوری بات بتاؤ بنا روکے وہ اس بار اِنتہائی سرد لہجے میں گویا ہوا۔۔۔سامنے والے نے بغیر روکے ایک ایک بات اُسکے گوشوگزار کردی۔۔۔اسکی بات سن کر اُسکے دل میں درد کی ٹھیس اٹھی کہ اُسکی ڈول نے اتنا درد کیسے اکیلے سہا رہی ہیں۔۔۔ایک طرف بےپناہ خوشی بھی تھی کہ اُسکی ڈول صرف اُسکی ہے۔۔۔جو بات اُسکے دکھ پر سب سے زیادہ بھاری تھی۔۔۔۔
اتنا سب کچھ ہوگیا اور تم نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا وہ غصے سے چلایا۔۔۔سس۔۔سر۔۔میں۔۔نے آپ کو ہر دفع کال کی تھی پر آپ کا نمبر مسلسل بند جارہا تھا۔۔۔وہ ڈرتے ہوئے بولا۔۔۔ہممم۔۔تم جاؤ اور اپنا کام کرو باقی میں دیکھ لو گا۔۔۔وہ سرد مہری سے کہتا کال کی طرف متوجہ ہوگیا جو کب سے آ رہی تھی۔۔۔
________________
عصر کے وقت سب اپنے اپنے کمروں میں موجود آرام کررہے تھے۔۔کاشان اپنے دوست کی طرف گیا ہوا تھا۔۔ہادیہ اپنی دوست کے ساتھ مول گئی تھی۔۔۔فضا دیا کے ساتھ روم میں بیٹھی کھیل رہی تھی۔۔تبھی اذان کی آواز سُن کر وہ دیا کو بیڈ پر لٹایے اُسکے ہاتھ میں کھلونا پکڑاۓ وضو کرنے واشروم میں گھس گئی۔۔۔دیا کروٹ لیتی ہوئی بیڈ کے کنارے پر پہنچ گئی۔۔۔تبھی دھڑام کی آواز سے دیا بیڈ سے نیچے گر گئی۔۔۔فائق جو فضا سے اُسکی طبیعیت کا پوچھنے آیا تھا دیا کو نیچے گرا دیکھ اُسے کوئی فرق نہیں پڑا۔۔۔فضا دیا کے رونے کی آواز سن کر واشروم سے نکلی تبھی اُسکی نظر دیا پر پڑی جو نیچے گری ہوئی تھی۔۔فضا تڑپ کر اُسکی جانب بڑھی اور اسے اٹھا کر سینے میں بھینجا۔۔۔بس بس میرا بچہ۔۔مم۔ماما۔۔آگئی ہے۔۔اب اپنے بچے کو چھوڑ کر کہی نہیں جاؤ گی۔۔۔فضا دیوانہ وار اُسکی ہر ایک چیز چومتے ہوئے بولی۔۔سدا شکر تھا نیچے کارپٹ ہونے کی وجہ سے اُسے چوٹ نہیں آئی تھی۔۔۔اُسنے ایک شکوہ کناں نظر اپنے بھائی پر ڈالی۔۔جو شان بے نیازی سے کھڑا تھا۔۔وہ غصے سے کھولتی ہوئی اُسکے جانب بڑھی۔۔۔آپ کا دل نہیں کانپا اپنی بیٹی کو نیچے گرا دیکھ کر ۔۔۔۔کم سے کم اپنی بیوی کی آخری نشانی سمجھ کر ہی اُسے گلے لگا لیتے۔۔۔۔کتنے پتھر دل ہے آپ۔۔۔میں نے آپ نے ہم سب نے ایک نہ ایک دن مرنا ہے موت برحق ہے۔۔کسی کی پہلے کسی کی بعد میں کسی کا بھی قصور نہیں اِس میں وہ آنچ دیتے ہوئے لہجے میں غرا کر بولی۔۔۔تم جو بھی کہو لیکن یہ میرے لیے منحوس ہے اور رہے گی اِسکی وجہ سے میری محبت مجھ سے پچھڑ گئی۔۔فائق غصے سے بولا۔۔۔آپ بہت برا کررہے ہیں۔۔۔ایک دن ایسا بھی آۓ گا کہ آپ اس معصوم کی شکل دیکھنے کو بھی ترسے گئے اور یاد رکھیے گا میں آپ کو کبھی بھی اسکی شکل دیکھنا نصیب نہیں کرو گی۔۔یہ میرا فضا حسن شاہ کا وعدہ ہے وہ اُسکی آنکھوں میں اپنی سبز آنکھیں گاڑتی ہوئی بےخوف سی بولا۔۔۔اُسکی بات پر فائق کے دل میں ایک پل کے لیے درد ہوا لیکن وہ نظر انداز کرتا وہاں سے نکل گیا۔۔اُسکے جاتے ہی سب باری باری وہاں سے چلے گئے۔۔جب لائبہ اُسکے نزدیک آکر تمسخرانہ ہنسی ۔۔۔۔تمہاری یہ بھول ہے فائق کبھی اِس محنوس کی شکل دیکھنے کو ترسے گے۔۔۔۔جب اُن کی اولاد اِس دنیا میں آۓ گی تو وہ اِس منحوس کو کہاں یاد رکھے گئے۔۔وہ اُسکی طرف دیکھ بول کر وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔۔اِن سب کے جاتے ہی وہ دروازہ بند کیے دیا کو سینے میں پھینجے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
عائشہ میں تھک رہی ہوں یار تمہارا شوہر تمہاری بیٹی کے معاملے میں بہت ظالم ثابت ہوا ہے یار۔۔وہ نم آنکھوں سے عائشہ کو یاد کرتی شکوہ کررہی تھی۔۔۔دیا ٹکر ٹکر اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی جو آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
Episode 12
سبحان نہا دھو کر بالوں کو تولیے سے خشک کرتا واشروم سے نکلا۔۔وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیک ٹروزار پہنے شیشے کے سامنے کھڑا بالوں کو کنگھی کررہا تھا۔۔جب کسی کے چلانے کی آواز پر وہ باہر کی جانب متوجہ ہوا جہاں سے کسی کے چلانے کی آواز آ رہی تھی۔۔۔وہ اپنا فون اُٹھاۓ جلدی سے نیچے کی جانب بڑھا۔۔۔وہ ابھی سیڑھیاں اُتر ہی رہا تھا۔۔۔ جب سامنے علی کی حالت کو دیکھ کر اُسکے ماتھے پر لاتعداد بل پڑے۔۔۔ وہ غصے سے سڑھیاں اُترتا ہوا نیچے آیا۔۔۔کہاں سے آ رہے ہو تم۔۔اور یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے۔۔۔وہ اُسکے سامنے آتا سرد لہجے میں بولا۔۔۔ سبحان کو سامنے دیکھ کر علی کو اپنا آپ دنیا سے اُٹھتا ہوا محسوس ہوا۔۔بب۔۔بھائی۔۔آپ۔۔کک۔۔کب آۓ۔وہ اپنا تھوک نگلتا ہوا اٹک کر بولا۔۔۔میں نے جو پوچھا ہے اُسکا جواب دو وہ اُسکی بات پر نظر انداز کرتا ہوا بولا۔۔۔بب۔۔بھائی۔۔وہ۔۔میں۔۔وہ۔۔مجھے سچ سننا ہے وہ سرد لہجے میں بولا۔۔۔بھائی وہ ریس لگائی تھی یونی کے دوست کے ساتھ تو اِس میں یہ سب کچھ ہو گیا۔۔۔وہ نظریں جھکائے اپنے جرم کا اعتراف کررہا تھا۔۔۔علی تمہیں کتنی دفعہ میں نے ریسنگ سے منہ کیا تمہاری زد پر ریسنگ بائیک لے کر دی اِسکا مطلب یہ نہیں تم دوستوں کے ساتھ ریس لگاؤ۔۔۔وہ علی کی طرف غصے سے گھورتا ہوا بولا۔۔اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آۓ تو میں اِس کو آگ لگانے میں زرا دیر نہیں لگاؤ گا۔۔۔سس۔سوری۔بھائی۔۔۔آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔۔وہ اُسکی طرف دیکھ معصومیت سے منمنایا۔۔۔اُسکی شکل دیکھ سبحان کو ہنسی آئی جو وہ ضبط کر گیا۔۔۔اب تمہاری یہ سزا ہے کہ تم یونی سے آکر پورے دس دن کچن میرا اور اپنا روم صاف کرو گے۔ بنا کسی کی مدد کے۔۔سبحان سکون سے اُسکا سکون غارت کر چکا تھا۔۔وہ ہکا بکا آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ لنگڑا کر چلتا ہوا اُسکے ساتھ صوفے پر آکر بیٹھا ۔۔دس۔از۔نوٹ۔۔فیر۔۔بھائی۔وہ نروٹھے پن سے بولا۔۔۔علی بچہ میں نے تمہیں کتنی بار کہا ہے ایسا الٹے سیدھے کام مت کیا کرو۔۔۔تمہیں پتہ ہے تم میں میری جان بستی ہے تمہاری چوٹ پر میرا دل پھٹتا ہے سبحان اِس بار اس کے گرد حصار باندھتے ہوۓ نرمی سے سمجھاتے ہوئے بولا۔۔۔سوری بھائی آئندہ دھیان رکھو گا۔۔۔وہ بھی محبت سے اُسکے ساتھ لگ کر بولا۔۔۔تو وہ مسکرا دیا۔اچھا اب روم میں جاکر فریش ہوکر نیچے آو ملکر کھانے کھاتے ہیں پھر تم پین کلر لے لینا۔۔۔وہ محبت سے بولا تو وہ جی بھائی کہتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔تو وہ سر نہ میں ہلاتا ہوا اپنے فون میں متوجہ ہوگیا۔۔۔
__________________
دیا کے ساتھ ہوۓ واقعے کے بعد فضا پورے دن دوبارہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی ۔۔۔۔ وہ صرف اپنے کمرے تک محدود رہ چکی تھی۔۔ ہادیہ اُسے شام کے کھانے کے لیے بلانے آئی تو اُسنے یہ کہ کر منہ کردیا کہ اُسے بھوک نہیں ہے۔۔تو وہ بھی بنا کوئی بات کیے کمرے سے نکل گئی۔۔اُسے کچھ ہی دیر پہلے اپنی ماں سے فائق اور فضا کی باتوں کا پتہ چلا تھا تو وہ فائق پر صرف افسوس کرتی رہ گئی کہ کوئی اپنی بیٹی سے اپنی محبت کی آخری نشانی سے اِس قدر نفرت کیسے کرسکتا ہے۔۔۔
فضا دیا کو سینے سے لگائے کمرے میں ہی چہل قدمی کررہی تھی۔۔کچھ ہی دیر میں دیا سو گئی تو وہ اُسے آرام سے بیڈ پر لٹاۓ وضو کرنے واشروم میں گھس گئی۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ وضو کرکے واشروم سے نکلی اور دوبٹہ نماز کے سٹائل سے باندھ کر عیشاء کی نماز کے لیے کھڑی ہوگئی۔۔۔نماز ادا کرکے اُسنے جیسے ہی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے اسکی سبز آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی صورت بہنے لگے۔۔۔یااللّٰہ تو رحیم ہے تو کریم ہے ہم تیرے گناہ گار خطا گار بندے ہے۔۔یااللّٰہ تو ہی تو ہمیں بخشنے والا مہربان ہے تو ہی ہمارے ہر قدم پر ہمارے ساتھ چلنے والا ہے۔۔ اے میرے مولا تو تو دلوں کے بھید جانتا ہے نہ میں نے کبھی تیری ناشکری نہیں کی۔۔میرے مالک مجھے تجھ سے کوئی شکوہ نہیں میں دنیا میں رہو یہ نہ رہو بس اِس معصوم کو خوشیاں نصیب کر اِسکے لیے کوئی مضبوط سائبان بنا جو ایک محافظ کی طرح اسکی ہر قدم پر حفاظت کرۓ۔۔وہ روتے ہوئے اپنے پوری شدت سے اپنے رب سے اِس معصوم کی خوشیوں کی دعا مانگ رہی تھی۔۔وہ شاہد نہیں جانتی تھی کہ اُسکی دعاؤں پر کُن فرما دیا گیا تھا۔اِسکی ممتا کی تڑپ دیکھ کر عرش پر موجود اُس پروردگار نے کُن فرما دیا گیا تھا۔۔۔وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر اُٹھی ہی تھی جب اُسکا موبائل فون رنگ ہوا۔۔۔۔وہ جانماز کو اُسکی جگہ پر رکھے اُسنے آگے بڑھ کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اُٹھا کر نمبر دیکھا جہاں اننون نمبر سے کال آرہی تھی ۔۔اُسنے فون کاٹ کر سائیڈ پر رکھا اور بیڈ گراؤنڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تبھی ایک بار پھر فون رنگ ہوا۔۔اُسنے اُٹھا کر دیکھا تو اُسی اننون نمبر سے کال آرہی تھی۔۔اُسنے جھجکتے ہوئے فون یس کرکے کان سے لگایا ۔۔۔
اسلام علیکم۔۔سامنے والا اپنی سہر زدہ آواز میں نرمی سے سلام کرتا فضا کے دل کو دھڑکا گیا۔۔۔ واعلیکم سلام۔۔ کون ۔۔وہ اپنے آپ کو کمپرومائز کرتی ہوئی بولی۔۔۔اِتنی جلدی مجھے بھول گئی آپ۔۔سامنے والا خفا سے لہجے میں بولا۔۔۔اُسکی بات سن کر فضا کے دماغ میں کچھ کلک ہوا۔۔۔ آاپ ۔۔وہ حیرانگی سے بولی۔۔۔اُسکے حیرانگی سے کہنے پر سامنے والے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری جس سے اُسکے گالوں میں موجود گڑھوں نے اپنی چھاپ دکھلائی۔۔۔ جی میں محترمہ وہ بھی نرمی سے بولا۔۔مجھے کال کرنے کی وجہ اور میرا نمبر کہاں سے لیا ۔۔اِس بار وہ تھوڑا سختی سے بولی۔۔۔ ڈئیر ڈول۔۔۔میں آپ کی ڈول نہیں ہوں سمجھے آپ وہ غصے سے بولی۔۔۔اچھااا دیکھتے ہیں وہ مزے سے بولا۔۔کال کرنے کی وجہ اِس بار بھی وہ سختی سے بولی۔۔۔ ہادیہ روم میں نہیں تھی وہ کچن میں اپنے اور فضا کے لیے چاۓ بنانے گئی ہوئی تھی۔۔۔پہلی بات آپ کا نمبر لینا میرے لیے کوئی مشکل بات نہیں ہے دوسری بات آپ سے مجھے بہت اہم بات کرنی ہے ۔۔۔آخر پر وہ تھوڑا سنجیدہ ہوا۔۔۔
جی بولے ۔۔۔ وہ نہ ناچاہتے ہی بھی بول گئی۔۔۔
میری پوری بات سن کر بولیے گا۔۔۔پتہ نہیں کب لیکن جب آپ کو پہلی بار سڑک پر اُن گنڈوں سے بچنے کے لیے میرے سینے میں پناہ ڈھونڈتے دیکھا۔۔۔تب پہلی بار میرا دل بہت زور سے دھڑکا تھا۔۔جو زندگی میں ایسے پہلی بار دھڑکا تھا۔۔ ۔وہ دم سادھے اُسے سن رہی تھی۔۔۔آپ کی سبز آنکھوں سبحان اللہ ۔۔وہ مسکراتا محبت سے بول رہا تھا۔۔۔دوسری دفع آپ کو فائق کی شادی میں دیکھا اور آپ کو اُس سبز آنکھوں والی گڑیا کی ماما کہتے سنا تب ایسا لگا جیسے میں بھری دنیا میں اکیلا رہ گیا میرے ہاتھ کچھ نہیں آیا مجھے ایسا لگا جیسے مجھے سانس نہیں آ رہی ہے۔۔۔پھر مجھے کاشان سے آپ کا اور اُس پیاری سی ڈول کا پتہ چلا۔۔۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ سے میری محبت بھرتی جارہی ہے۔۔۔وہ بہت ہی محبت سے اپنے دل کی ہر بات اُسے بتا رہا تھا جو دم سادھے حیرانگی سے سن رہی تھی۔۔۔جب مجھے آپ کے نکاح کا پتہ چلا میں پاگل سا ہوگیا تھا۔۔کہ قسمت میرے ساتھ کیا کھیل کھیل رہی ہے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں ہار گیا۔۔۔میری محبت کسی اور کے نام یہ سوچ آتے ہی میری روح تک کانپ گئی۔۔۔لیکن اب سب پتہ چلنے کے بعد میں اور دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اِس لیے آپ کو اپنے دل کی ہر بات بتا دی۔۔۔میں چاہتا تو کاشان سے بھی بات کرسکتا تھا لیکن پہلے میں آپ کی مرضی جاننا چاہتا تھا۔۔۔وہ اپنی بات کہتے ہی چپ ہوا۔۔۔۔ کافی دیر بعد بھی دونوں طرف گہری خاموشی تھی۔۔۔۔جب ایک بار پھر سبحان کی بھاری آواز گونجی ۔۔آپ کچھ بول کیوں نہیں رہی۔۔۔اُسکی بات پر وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی۔۔۔ہممم۔۔ہاں۔۔وہ غائب دماغی سے بولی۔۔۔
آپ کا جو بھی فیصلہ ہے مجھے بتا دے میں زبردستی کا قائل نہیں ہوں۔۔لیکن آپ صرف اور صرف میری ہے چاۓ آپ ہاں کرے یہ نہ وہ آخری بات اِنتہائی سنجیدگی سے بولا۔۔۔
لیکن آپ میرے بارے میں کچھ نہیں جانتے وہ اُسکی بات نظر انداز کرتے ہوئے بولی۔۔۔مجھے آپ کے بارے میں سب پتہ ہے اور مجھے کوئی مثلا نہیں۔۔۔سب مطلب سب وہ حیرانگی سے بولی۔۔ جی سب مطلب سب۔۔آپ سے میں کبھی غافل نہیں رہا۔۔میری بیماری کا بھی وہ کرب سے بولی ۔۔۔جی وہ تکلیف اور کرب سے بولا۔۔اور اگر میں مر گئی تو۔۔۔آپ کو کچھ نہیں ہوسکتا جب تک میں زندہ ہوں۔۔وہ تڑپ کر انتہائی سنجیدگی سے بولا۔۔۔اُسکی بات پر فضا کا دل دھڑکا۔۔۔آج کا سارا واقع فضا کے ذہن میں گردش کرنے لگا۔۔دیا کے ساتھ فائق اور گھروالوں کا رویہ یاد آتے ہی دل میں اُٹھتے درد کی ٹھیسوں کو نظر انداز کیے آخر اُسنے ایک فیصلہ کیا۔۔۔۔
میں آپ سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔اُسکی بات پر سبحان کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ آئی۔۔لیکن میری کچھ شرائط ہے۔۔۔مجھے آپ کی ہر شرائط دلوں وجان سے قبول ہے وہ محبت سے بولا۔۔اُسکی بات پر فضا نے کان سے فون ہٹا کر اُسے گھورا ۔۔۔پہلے سن لے۔۔۔ جی بولے ۔۔۔شادی کے ساتھ ہی رخصتی ہوگی ۔۔قبول ہے۔۔مجھے اور کیا چاہئے۔۔اُسکی بات پر فضا سٹپٹائی۔۔۔جب تک میں زندہ ہو دیا میری بیٹی بن کر میرے ساتھ رہے گی وہ نم آنکھوں سے بولی۔۔۔قبول ہے۔۔دیا آپ کی نہیں میری بیٹی بھی ہے۔۔۔وہ محبت سے بولا۔۔۔۔اُسکی بات کو نظر انداز کیے وہ دوبارہ بولی۔۔۔شادی کے بعد میرا یا آپ کا اس گھر سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔۔وہ دکھی اور فیصلہ کن لہجے میں بولی۔۔۔قبول ہے۔۔آپ کا تعلق میرے علاؤ کسی کے ساتھ ہونا بھی نہیں چاہئے ۔۔۔۔میری جان مجھے آپ کی ہر شرط دل وجان سے قبول ہے۔۔۔اُسکے بے باکی سے جان کہنے پر وہ کانوں تک سرخ ہوئی۔۔۔ٹھیک ہے میں تیار شادی کے لیے اور ہماری شادی کل ہی ہوگی ۔۔۔اُسنے سپاٹ لہجے میں کہتے ہی کھٹاک سے فون بند کردیا ۔۔۔۔اور گھٹنوں میں سر دیے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔گھروالوں کے رویے کی وجہ سے اُسنے آج اپنی زندگی کا ایک اِنتہائی اہم فیصلہ کیا تھا۔۔۔اُسے آج شدت سے اپنی ماں اور عائشہ کی یاد آئی جو اُسے اِس ظالم دنیا میں اکیلا چھوڑ گئی تھی۔۔۔
________________
آج اُسکے چہرے سے مسکراہٹ چاہ کر بھی جدا نہیں ہورہی تھی وہ سرشار سا آنکھیں موندے اپنی ڈول کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔ جو بہت جلد صرف اور صرف اُسکی ہونے والی تھی بہت جلد اُسکی دسترس میں آنے والی تھی یہ احساس ہی بہت خوش کن تھا۔۔اُسے بالکل اُمید نہیں تھی کہ وہ اِتنی جلدی مان جاۓ گی۔۔۔آج وہ خود کو ہواؤں میں اُڑتا ہوا محسوس کررہا تھا۔۔اُسنے سوچ لیا تھا وہ اپنی محبت سے فضا کے ہر درد دکھ سمیٹ لے گا۔۔۔تبھی کچھ یاد آنے پر اُسنے جلدی سے موبائل نکال کر ایک نمبر ملایا ۔۔۔دوسری جانب دو تین بلز کے بعد کال اُٹھا لی گئی تھی۔۔۔ہاں۔۔ہی۔ہیلو
مجھے تم سے ملنا ہے ابھی اور اِسی وقت تم دس منٹ میں کافے پہنچو ۔۔۔کہتے ہی اُسنے بغیر اور کچھ سنے موبائل رکھ دیا اور اپنے قدم باہر کی جانب بڑھا لیے۔۔۔
ساری رات اُسکی سوچتے سوچتے گزر گئی کہ اُسنے یہ فیصلہ ٹھیک کیا ہے یہ نہیں۔۔اُسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کیا کرے پریشانی سے اُسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔تبھی فجر کی اذان سن کر وہ اپنی جگہ سے اُٹھی اور وضو کرنے واشروم میں بند ہوگئی ۔۔کچھ ہی دیر میں وہ نہا دھو کر وضو کیے واشروم سے نکلی اور نماز کے سٹائل سے دوبٹہ لیے جانماز بچھائی اور ایک نظر بیڈ پر سوئی دیا پر ڈالے نماز کے لیے کھڑی ہوگئی ۔۔نماز ادا کرکے اُسنے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ۔۔۔اے دلوں کے بھید جاننے والے تو تو اپنے بندے کے ہر حال سے واقف ہے مجھے حوصلہ دینا اپنے فیصلے پر قائم رہنے کا اور یہ فیصلہ میرے اور میری بیٹی کی حق میں بہتر ثابت کرنا۔۔۔میرے مالک۔۔دعا مانگ کر اُسنے جانماز سمیٹی ۔۔۔اور ایک نظر دیا پر ڈالے کمرے سے نکل گئی۔۔۔
