Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 04)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

نوفل نے عالیہ کو لےکر ہوسپٹل جانا تھا چیک اپ کے لیے اِس لیے وہ سبحان سے ملکر سارا کام نمٹا کر جلدی آفس سے نکل گیا۔۔۔۔سبحان ایک بہت اہم میٹنگ ہونے کی وجہ سے آج کافی لیٹ ہوچکا تھا۔۔۔وہ جلدی سے اپنا کام ختم کرکے کچھ دیر پہلے ہی آفس سے نکلا ۔۔۔تو موسم نے بھی ہر طرف اپنے پر پھیلائے ہوئے تھے۔۔۔اِتنے خراب موسم میں وہ بمشکل گاڑی ڈرائیو کر پا رہا تھا۔۔۔اُسے آفس سے جلدی نہ نکلنے پر افسوس ہورہا تھا۔۔۔کہ تبھی اُسکی گاڑی کے سامنے کوئی لڑکی آ گئی۔۔۔اُسنے بروقت جلدی سے بریک لگائی۔۔۔جس سے گاڑی چر چراتی ہوئی ایک جھٹکے سے روکی۔۔۔وہ حواس باختہ ہوکر جلدی سے گاڑی سے اُترا۔۔۔اور آگے بڑھ کر دیکھا تو ایک لڑکی منہ کے بل گری کہرا رہی تھی۔۔۔ہیلو مس۔۔۔آر۔۔یو اوکے۔۔۔آپ ٹھیک ہے۔۔۔وہ فکرمندی سے بولا۔۔لیکن سامنے والے کے کچھ نہ بولنے پر وہ غصے سے غرایا۔۔۔اگر اِتنا ہی مرنے کا شوق ہے تو کسی اور کی گاڑی کے نیچے آکر مرو۔۔بلاوجہ میرا ٹاٹم ویسٹ کیوں کررہی ہو۔۔۔وہ بارش میں بھیگتا ہوا غصے سے بولا۔۔۔اُسکے غصے سے بولنے پر فضا نے نظر اُٹھاکر اُسکی جانب دیکھا۔۔۔ تو وہ آس پاس کا ماحول بھلاۓ اِن سبز نگینوں میں ہی کھو گیا جس میں اس وقت رونے کی وجہ سے سرخ ڈورے آ گئے تھے جو اسے بے حد پیاری لگ رہی تھی۔۔۔اُسے ایسا لگا جیسے وہ ان سبز نشیلی آنکھوں کے سہر میں ڈوب جائے گا۔۔۔کیا کسی کی آنکھیں اس قدر بھی خوبصورت ہوسکتی ہے وہ دل میں خود سے ہمکلام ہوا۔

او۔۔تو۔۔بلبل۔۔یہاں۔۔ہے۔۔چل۔۔آجا۔۔بہت۔۔بھاگ۔۔لیا۔۔اب۔۔کچھ۔مزے۔ہوجائے۔۔۔اِن تینوں میں سے ایک کمینگی اور للچائی نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔۔۔اُسکی آواز پر سبحان کا سکتا ٹوٹا۔۔۔غصے سے دماغ کی رگیں اُبھری۔۔۔۔

فضا خوف سے اُسکے سینے سے لگی ہوئی تھی۔۔۔ پلیز سر مجھے بچا لے اِن سب سے۔۔۔میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں پلیز سر۔۔۔فضا اپنی بھیگی سبز آنکھوں کے ساتھ اُسکا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی۔۔سبحان نے ایک نظر اُس پر ڈال کر نظریں پھیر لی۔۔جو مکمل بارش سے بھیگی ہوئی تھی ۔۔ اُسے خود سے الگ کر کے اپنا کوٹ اتار کر اُسے اُڑایا۔۔۔۔

اوۓ مجنوں لڑکی ہمارے حوالے کر یہ ہمارا شکار ہے۔۔۔اگر تمہیں بھی مزے چائیے تو ہمارے بعد تم لے لے نہ۔۔۔وہ سب کمینگی کی ہر حد پار کرتے ہوئے خباثت سے بولے۔۔۔اُسکی بات پر سبحان کی آنکھیں حد درجہ سرخ ہوئی۔۔۔وہ مٹھیاں بھیجے غصہ کنٹرول کرنے کی نہ کام سی کوشش کرنے لگا۔۔۔اور اگر نہ دو تو۔۔۔وہ مزے سے بولا۔۔۔۔

جاؤ جاکر لڑکی کو لاؤ۔۔۔اُن میں سے ایک غصے سے پھنکارا۔۔۔

اب وہ تینوں اپنی اچھی خاصی ہڈیاں تڑوا کر سڑک پر گرے کہرا رہے تھے ۔۔۔

آئیندہ اگر کسی لڑکی کو چھیڑا نہ تو اگلی دافع زندہ نہیں بچو گے۔۔۔سبحان اُن تینوں کی طرف دیکھتا ہوا غرا کر بولا۔۔۔

فضا ایک سائیڈ پر کھڑی خوف اور ٹھنڈ سے مسلسل کانپ رہی تھی۔۔۔۔

وہ مڑکر اُسکی طرف آیا۔۔۔جو نظریں جھکائے آنسو بہا رہی تھی۔۔۔پتہ نہیں کیوں لیکن آج پہلی دفعہ سبحان کو کسی کے آنسو اپنے دل پر گرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔گاڑی میں بیٹھو ۔۔۔وہ سنجیدگی سے اُسکی طرف دیکھتا سرد آواز میں بولا۔۔۔اُسکے پاس فل وقت گاڑی میں بیٹھنے کے علاؤہ کوئی راستہ نہیں تھا تو چاہ نہ چار بیٹھ گئی۔۔۔اُسکے بیٹھتے ہی وہ خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔۔۔اور بنا کچھ بولے ایک جھٹکے میں گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔۔

اِتنی رات کو آپ گھر سے باہر کیا کررہی تھی مس۔۔وہ ڈرائیونگ کرتا ہوا سرد لہجے میں بولا۔۔۔و۔۔وہ۔۔مم۔۔مجھے۔۔کچھ۔ڈاکومنٹس جمع کروانے تھے۔۔تو اِسی میں وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔۔وہ نظریں جھکائے نرمی سے بولی۔۔۔اُسکی اتنی میٹھی خوبصورت آواز پر سبحان کے دل نے ایک بیٹ مس کی ۔۔ ایک نظر اُسکے چہرے پر ڈالے اِس بار نرمی سے بولی۔۔۔ہمم۔۔ آئندہ دھیان رکھیے گا۔۔۔ اس وقت گھر سے اکیلے مت نکلا کرے۔۔انتہائی سنجیدگی سے سرد لہجے میں بولا۔۔اسکے اتنے سرد لہجے پر فضا نے ایک جھرجھری لی۔مجھے آپنے گھر کا ایڈریس بتائے۔۔۔ وہ سنجیدگی سے ڈرائیونگ کرتا ہوا بولا۔۔۔لیکن نظریں گھما پھرا کر اُس سبز پری کے روئے ہوئے چہرے پر جارہی تھی ۔۔جس کو سمجھنے سے وہ خود بھی قاصر تھا۔۔

__________________

فضا جیسے ہی گھر پہنچی تب تک بارش تھم چکی تھی۔۔۔وہ سب سے بچتے بچاتے جیسے ہی اپنے کمرے میں داخل ہوئی۔۔سامنے لیٹے وجود کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ ساکت ہوگئی۔۔۔شان بھائی۔۔اُسکے لب پھڑپھڑاۓ۔۔کاشان جو بیڈ پر لیٹا دیا کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھا۔۔۔ارے۔۔گڑیا تم آگئی۔۔تبھی کاشان کی نظر اُس پر پڑی جو پوری کی پوری بھیگی ہوئی کھڑی تھی۔۔۔فضا بغیر کچھ بولے آگے بڑھ کر اُسکے سینے سے آ لگی۔۔۔گڑیا میری جان کیا ہوا۔۔تم ٹھیک ہو۔۔کیا گھر میں کسی نے کچھ کہا۔۔کاشان دیا کو بیڈ پر لٹاۓ اُسکی طرف مڑکر فکرمندی سے بولا۔۔۔نن۔۔نہی۔۔نہیں۔۔بھائی۔۔کسی۔۔نے۔۔بھی کچھ نہیں کہا۔۔بس میں آپ کو بہت مس کررہی تھی ۔۔اِس لیے اچانک آپ کو اپنے سامنے دیکھ کر کنٹرول نہیں ہوا۔۔۔فضا سوں سوں کرتی ہوئی معصومیت سے بولی۔۔۔آہ۔۔میری جان میں آ تو گیا ہوں۔۔۔کاشان محبت سے فضا کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے مسکرا کر بولا۔۔۔اچھا تم یہ بتاؤ اِتنی دیر کہاں لگا دی اور بارش میں کیسے بھیگ گئی۔۔کاشان اُسکو بھیگا دیکھ فکرمندی سے بولا۔۔بھائی وہ کچھ ضروری ڈاکومنٹس جمع کروانے تھے۔۔تو اِسی میں دیر ہوگئی اور آتے وقت بارش میں بھیگ گئی۔۔فضا نظریں چراۓ آدھی بات بتاتے ہوئے بولی۔۔۔تبھی دیا میڈم کا نہ بند ہونے والا سپیکر سٹاٹ ہوگیا۔۔۔لو میڈم کو ہمارا اِسے اگنور کرنا پسند نہیں آیا۔۔کاشان اسے دیکھ ہنستا ہوا بولا۔۔۔گڑیا جاؤ کپڑے چینج کرلو میں اِسے تب تک سنبھالتا ہوں۔۔۔۔کاشان کی بات پر وہ سر ہلاتی ہوئی الماری کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

_________________

وہ جب سے اُسے چھوڑ کر آیا تھا۔۔۔ اُسکا دل مسلسل بےچین ہورہا تھا۔۔اُسے لگ رہا تھا جیسے اُسکا دل ایک الگ ہی لیول پر ڈھڑک رہا ہے۔۔۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مسلسل فضا کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔اُسکا بھیگا ہوا معصوم چہرہ۔۔۔ ڈر کے مارے اُسکے سینے میں پناہی ڈھونڈنا۔۔۔اور سب سے زیادہ اُسکی گہری سبز آنکھیں۔۔۔جہاں پر آکر نہ چاہتے ہوئے بھی اُسے سوچ بیٹھتا تھا۔۔۔پھر اپنی ہی سوچ پر خود کو کہی القابات نوازتا ہوا سر جھٹک کر اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔اور آرام دہ سوٹ نکال کر واشروم میں گھس گیا۔۔۔کچھ ہی دیر بعد وہ فریش سا واشروم سے نکلا اور جلدی سے اپنے بال سیٹ کرتا نیچے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔وہ جیسے ہی ڈائنگ ٹیبل پر پہنچا تو سامنے بیٹھے علی کو دیکھ کر اُسکی ہنسی نکلی جیسے وہ بمشکل چھپا گیا۔۔۔سبحان نے رول بنایا تھا۔۔کہ جب تک دونوں ڈائننگ ٹیبل پر اکٹھے نہیں ہوتے کوئی کھانا شروع نہیں کرئے گا۔۔۔یہ رول بھی خاص کر علی کے لیے بنایا تھا۔۔۔جسے لیٹ آنے کی بیماری کچھ زیادہ ہی تھی۔۔لیکن آج اُسے سب سے پہلے وہاں موجود دیکھ کر وہ حیران ضرور ہوا تھا لیکن جلد ہی اپنی حیرانگی پر قابو پاۓ وہ ڈائننگ ٹیبل پر پہنچا ۔۔۔

اہ۔۔ہم۔۔سبحان نے گلا کھنکار کر اُسے اپنی جانب متوجہ کروایا۔۔اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔۔۔کیا۔۔بھائی۔۔آج۔۔بھی۔۔لیٹ۔۔آپ کی وجہ سے میں اتنی دیر سے بھوکا پیاسا بیٹھا ہوں۔۔اگر کوچ کر جاتا تو۔۔علی اُسے دیکھا خفا سا بولا۔۔۔اور اپنی پلیٹ میں کھانا نکالنے لگا۔۔۔سوری بچہ۔۔بس آج کچھ ضروری میٹنگ کی وجہ سے لیٹ ہوگیا۔۔۔نیکسٹ ٹاٹم پکا ایسا نہیں ہوگا۔۔۔سبحان جلدی سے معزرت کرتا ہوا بولا۔۔۔ہممم ۔۔ہونا بھی نہیں چائیے۔۔۔نہیں تو آپ کو پینشن منٹ ملے گی۔۔۔وہ روب سے بولا۔۔۔اچھااااا۔۔۔اب تم مجھے یعنی۔۔۔سبحان سکندر کو دا۔ٹوپ۔بزنس مین کو تم پینشن کرو گے۔۔۔۔انٹریسٹنگ ۔۔عبداللّٰہ مسکراتے ہوئے بولا اور کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا۔۔۔

____________________

کھانا کھانے کے بعد وہ کمرے میں آکر دیا کو کندھے سے لگائے کمرے میں چہل قدمی کررہی تھی۔۔جبھی اچانک اُسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔۔بےمشکل ہی چکراتے سر کے ساتھ اُسنے دیا کو بیڈ پر لیٹایا اور لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔۔جب سائیڈ ٹیبل پر پڑا اُسکا فون بج اُٹھا۔۔۔نمبر دیکھ کر اسکے خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔۔جس سے اُسکے شرارتی ڈمپل نے کچھ پل کے لیے اپنی چھاپ دکھلائی۔۔ بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا کر اُسنے فون یس کیا۔۔۔اسلام علیکم۔۔۔

واعلیکم السلام ۔۔کیسی ہو۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔آپ کیسے ہیں۔۔۔

ہم بھی ٹھیک۔۔لیکن آپ کے آ جانے سے اور بھی ٹھیک ہوجاۓ گے سامنے والا معنی خیزی سے بولا۔۔۔۔موسیٰ نہیں کرۓ نہ۔۔۔وہ شرماتے ہوئے بولی۔۔اچھا۔اچھا۔۔نہیں کرتا ۔۔اچھا بتاؤ کیا کر رہی ہو۔۔۔کچھ نہیں بس دیا کو سلا رہی تھی۔۔۔فضا اپنے ہی دھیان میں بولی کہ سامنے والا کتنی مشکل سے ضبط کیے بیٹھا ہے۔۔۔میں بعد میں بات کرتا ہوں جب تمہیں اپنی چہیتی سے فرصت مل جائے ۔۔۔بائے۔۔۔۔اور وہ ہیلو۔۔ہیلو۔۔کرتی۔۔رہ۔۔گئی۔۔۔اب اِن کو اچانک کیا ہوا۔۔۔اور پھر بات سمجھ آنے پر تکلیف سے سر جھٹک کر دیا کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔

تبھی ہادیہ چاۓ کے دو کپ تھامے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔

چاۓ۔۔وہ اُسکے جانب چائے کا کپ بڑھاتے ہوئے مسکرا کر بولی۔۔۔جسے شکریہ کہ کر اُس نے تھام لیا اور گھونٹ گھونٹ کر کے پینے لگی۔۔۔چائے پیتی ہادیہ کی نظر جیسے ہی اُس پر پڑی وہ ساکت نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ہادیہ کو یو خود کو تھکتا دیکھ اُسنے سوالیہ نظروں سے اسے پوچھا۔۔لیکن وہ ویسے ہی بیٹھی رہی۔۔۔ہادیہ کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو۔۔فضا اُسکی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔فف۔۔فضا۔۔تت۔تمہارے۔۔نن۔ناک۔سے۔۔خون۔۔نکل۔۔رہا۔۔ہے۔۔۔ہادیہ اسکی جانب اشارہ کرتے ہوئے بمشکل بولی۔۔۔اُسکی بات پر فضا نے جلدی سے ناک پر ہاتھ لگا کر آنکھوں کے سامنے کیا۔۔۔جیسے دیکھ وہ ساکت ہوگئی۔۔۔اور جلدی سے واشروم کی جانب بھاگی۔۔۔اسکے جانے کے بعد ہادیہ کا سکتا ٹوٹا۔۔اور وہ بھی جلدی سے اسکے پیچھے بھاگی۔۔۔فضا نے جلدی سے واشروم میں آکر پانی سے چہرہ دھویا ۔۔۔اور ٹول سے چہرہ خشک کرتی واشروم سے نکلی۔۔۔فضا جیسے ہی باہر نکلی اُسکو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔۔وہ لڑکھڑا کر گرنے لگی۔۔کہ ہادیہ نے جلدی سے اُسے سنبھالا۔۔۔فضا تت۔۔تم۔۔۔ٹھیک۔۔ہو۔۔ہادیہ فکرمندی سے اسے بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے بولی۔۔۔اور جلدی سے اُسے پانی پلایا ۔۔۔۔فضا۔۔یی۔۔یہ۔۔سس۔۔سب۔۔کیسے۔۔ہادیہ آنکھوں میں نمی لیے اسکی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔یار مجھے خود نہیں پتہ یہ سب کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ۔۔۔فضا آنسو صاف کرتی ہوئی بےبسی سے بولی۔۔۔یار اگر مجھے کچھ ہوگیا تو دیا کا کیا ہوگا۔۔۔اُسے بس دیا کی فکر کھائے جارہی تھی۔۔۔۔پاگل کیا اول فول بول رہی ہے۔۔۔اللّٰہ نہ کرۓ تمہیں کچھ ہو۔۔۔تم ٹیشن مت لو ہم صبح ہی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ٹھیک ہے۔۔۔ہادیہ اُسے تسلی دیتی ہوئی بولی۔۔۔اسکی بات پر وہ سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔اچھااا اب تم کچھ زیادہ مت سوچو اور لیٹ جاؤ۔۔۔ہادیہ اُسے بیڈ پر لیٹاتے ہوئے بولی۔۔۔فضا کو لٹا کر وہ خود بھی دوسری سائیڈ پر آکر لیٹ گئی۔۔۔

یااللّٰہ اب یہ کون سی نئی آزمائش ہے۔۔۔لیکن اگر آپ میرے ساتھ ہو تو مجھے آپ کی ہر آزمائش قبول ہے۔۔۔وہ آنکھیں بند کیے دل میں بولی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *