Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul NovelR50617 Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 09)
Rate this Novel
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 09)
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul
اگلی صبح موبائل فون کے بجنے سے فائق کی آنکھ کھلی اُسنے نے کسمسا کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر ٹاٹم دیکھا۔۔ جہاں صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔۔۔ موبائل واپس ٹیبل پر رکھ کر اُسنے کروٹ لی۔۔۔ تبھی اُسکی نظر لائبہ پر پڑی جو اپنی محبت پر ماتم کرتی روتے ہوئے کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی۔۔۔اُسے دیکھ فائق کو کل شادی اور پھر رات والا سارا واقع یاد آتے ہی وہ ایک جھٹکے سے اُٹھا۔۔۔وہ اپنے درد سے پھٹتے سر کے ساتھ اُسکی جانب بڑھا اور غصے سے مٹھیاں بھینجے اُسکے سر پر آ پہنچا اور ایک ہی جھٹکے میں اُسے بازوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔۔وہ نیند سے آدھی کھلی بند آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے قریب آنے کی۔۔۔یہ مت سمجھنا کل رات جو کچھ بھی ہوا ہے اُس سے میں تمہیں قبول کرکے تمہیں بیوی کا درجہ دے دو گا کبھی نہیں۔۔میری بیوی صرف ایک ہے اور وہ عائشہ ہے سمجھی تم۔۔۔فائق اُسکے بازوں کو دبوچے اپنا پچھلے دنوں کا سارا غصہ اس پر نکالے پھنکارا۔۔۔۔عائشہ مر چکی ہے اب صرف میں آپ کی بیوی ہوں۔۔۔آپ چائے مانے یہ نہ مانے میں آپ کے نکاح میں ہوں اب۔۔۔فائق کی عائشہ کے لیے محبت دیکھ کر وہ بنا سوچے سمجھے غصے سے حلق کے بل چلائی۔۔۔چٹاخ۔۔۔اپنی آواز نیچی رکھو۔۔ جاہل عورت فائق دھاڑا۔۔۔لائبہ اُسکے اتنے شدید تھپڑ سے ڈر کے مارے دو قدم پیچھے ہوئی۔۔۔تم اپنے اِس دماغ میں یہ بات بیٹھا لو عائشہ چاۓ مر چکی ہے۔۔ لیکن وہ ہمیشہ میرے دل میں زندہ ہے اور تم کچھ بھی کر لو۔۔۔لیکن کبھی بھی تم اُسکی جگہ نہیں لے پاؤ گی۔۔۔سمجھی تم فائق اُسکا منہ بےدردی سے دبوچے ہوے غرایا۔۔۔وہ نم آنکھوں سے اپنے مجازی خدا کو دیکھ رہی تھی جس سے وہ بہت محبت کرتی تھی۔۔۔اُسکی اتنی بےحسی پر اسکا دل خون کے آنسو رہ رہا تھا۔۔۔ جو شادی کے اگلے دن ہی اُسے اُسکی اپنی زندگی میں اوقات بتا رہا تھا۔۔۔فائق اُسے بیڈ پر دھکا دیتا الماری سے اپنے کپڑے لیے واشروم میں گھس گیا۔۔۔وہ بیڈ پر اوندھے منہ پڑی اپنی آنے والی زندگی پر آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔
___________________
کچھ ہی دیر میں سب ڈائنگ ٹیبل پر موجود تھے۔۔ رضیہ پھوپھو بھی اپنی فیملی کے ہمراہ ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے ۔۔۔ہادیہ اور فضا سدرہ چاچی کے ساتھ ناشتہ لگانے میں مصروف تھی۔۔۔جب کہ دیا میڈم مزے سے کاشان کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی۔۔۔کاشان کا دیا کو ڈائننگ ٹیبل پر لانا سخت ناگوار گزرا ۔۔۔لیکن کوئی بولا کچھ نہیں وہ جانتے تھے کاشان کی دیا کے لیے محبت۔۔پھر کسی نہ کسی بات پر صبح صبح تلک کلامی ہوتی اور گھر کا ماحول خراب ہوتا۔۔۔اِس اچھا اُن سب نے چپ رہنے میں ہی عافیت جانی۔۔کچھ ہی دیر میں لائبہ اور فائق بھی تیار ہوکر ڈائننگ ٹیبل پر پہنچ چکے تھے۔۔۔لائبہ زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ اُس نے سب کو مسکرا کر سلام کیا۔۔۔نیچے آنے سے پہلے فائق اُسے اچھی خاصی دھمکی دے کر آیا تھا کہ اگر اسنے نیچے کسی کو بھی کچھ بتایا تو وہ بنا کسی کی پرواہ کیے اُسے طلاق دے دیے گا۔۔۔فائق لائبہ کو نارمل دیکھ کر سکون سے سب سے ملکر اپنے جگہ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔کچھ ہی دیر میں سب ناشتہ شروع کر چکے تھے۔۔۔جب رضیہ پھوپھو کی آواز آئی۔۔۔بھائی صاحب مجھے آپ سب سے ایک ضروری بات کرنی تھی وہ اُن سب کی طرف دیکھ کر بولی۔۔سب لوگ اُن کی طرف متوجہ ہوچکے تھے۔۔جی آپا کہیے کیا بات کرنی ہے آپ کو حسن شاہ ناشتہ چھوڑے اُن کی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔بھائی صاحب اب فائق بچے کی بھی شادی ہوچکی ہے۔۔۔کاشان بھی کوئی نہ کوئی ڈھونڈ لے گا۔۔۔تو میں سوچ رہی تھی کیوں نہ اب ہم فضا بچی اور موسیٰ کا بھی نکاح کر دے رخصتی فضا کی پڑھائی ختم ہونے کے بعد پھوپھو فضا کو محبت پاس نظروں سے سے دیکھتے ہوئے گویا ہوئی اُسکی بات پر فضا کی پلکے لرزی۔۔۔اُسنے نظر اُٹھا کر موسیٰ کو دیکھ جو نظریں جھکائے ناشتہ کرنے میں مصروف تھا۔۔۔لیکن آپا ابھی کک۔۔کیسے۔۔اُس سے پہلے حسن شاہ کچھ بولتے رضیہ بیگم گویا ہوئی۔۔بھائی صاحب پلیز منہ مت کیجیے گا میں اب اپنی بیٹی کو اپنا بنانا چاہتی ہوں۔۔اپنے بیٹے کے نکاح میں لینا چاہتی ہوں۔۔اُن کی بات پر حسن شاہ کچھ سوچتے ہوئے بولے۔۔۔ٹھیک ہے آپا جیسا آپ مناسب سمجھیں۔۔۔ہممم تو پھر ٹھیک ہے اِس جمعے فضا اور موسیٰ کا نکاح ہوگا۔۔۔ رخصتی فضا کی پڑھائی ختم ہونے کے فوراً بعد۔۔لیکن پھوپھو اِتنی جلدی فائق نے کچھ بولنا چاہا۔۔بھئی میں جلدی سے جلدی اپنی بیٹی کو اپنے بیٹے کے نام کرنا چاہتی ہوں رضیہ بیگم محبت سے بولی تو فضا نے شرما کر نظریں جھکا لی۔۔۔ٹھیک ہے پھر سب لوگ تیاریاں شروع کردیں۔۔۔ فضا کے نکاح والے دن فائق اور لائبہ کا ولیمہ بھی ہوگا۔۔۔حسن شاہ کہتے ہی آفس جانے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔۔
________________
سب لوگ اِس وقت ٹوٹے پھوٹے مکان کے بیس منٹ میں موجود تھے۔۔۔۔جہاں مخصوص جگہ پر ایس کے اپنی پوری شان سے براجمان تھا۔۔آنکھیں اُسکی لال سرخ رنگ کی ہوچکی تھی جیسے ابھی خون ٹھپک پڑے گا۔۔۔۔ہممم کیا خبر ہے ۔۔وہی سرد روعب دار لہجہ جو سامنے والا کا ایک پل کے لیے خون جما کر رکھ دے ۔۔۔۔ایس کے۔۔شاکر دادا کی گینگ میں موجود ہمارے بندے نے بتایا ہے کہ۔۔شاکر دادا نے دبئی بہت بڑی پارٹی اناوئس کی ہے۔۔ جہاں پوری دنیا سمیت پاکستان کے بھی کچھ سمگلز گینگ ساٹر اُس پارٹی میں شرکت کرنے والے ہے جو ملک کے رکھوالے بننے کا ناٹک کرکے ملک سے ہی غداری کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔۔جو اپنی ہی بہن بیٹیوں کی عزت داؤ پر لگانے میں بھی نہیں ڈرتے۔۔۔سامنے والا انتہائی نفرت اور حقارت سے گویا ہوا۔۔ہمممم۔۔۔سر ایک اور بات ۔۔۔ہممم بولو۔۔۔ایس کے۔۔۔اُسکا پاکستان میں موجود پالتو کتا یعنی اُسکا رائٹ ہینڈ بھی شرکت کرنے والا ہے۔۔جو شاکردادا کے ساتھ ملکر ہمارے ملک میں اپنا گندہ پھیلا رہا ہے۔۔۔ہممم۔۔۔تو اب اِس شاکر دادا کے ساتھ اُسکے کتے سے بھی ایک ملاقات تو بنتی ہے سامنے والا کچھ سوچتا ہوا پُراسرار لہجے میں بولا۔۔اُسکے لہجے میں ایسا کچھ تو تھا۔۔کہ سامنے والے نے سوچ کر بےساختہ جھرجھری لی۔۔۔میری اور کیپٹن کاشان کی دبئی کی فلائٹ بک کرواؤ۔۔۔۔
کیپٹن کاشان تم بھی میرے ساتھ چلو گے۔۔ایس کے۔۔ اُسے دیکھتا سرد آواز میں بولا۔۔۔بٹ سر میں کیسے ممم۔۔میری۔۔بب۔۔۔نو۔مور۔۔ ایکسیوز ۔۔اُسکے بولنے سے پہلے ہی وہ برف جیسے سرد لہجے میں سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔ی۔یس۔سر۔۔تو وہ منہ بناتا ہوا بولا ۔۔کھڑوس۔۔
_______________
فضا اپنا ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے۔جبکے دوسرے ہاتھ سے دیا کو تھپک رہی تھی جو بیڈ پر اُسکے ساتھ لیٹی ہوئی اونگ رہی تھی ۔۔تبھی ہادیہ کمرے میں داخل ہوئی اور فضا کو سوچوں میں گم دیکھ کر اُسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ کیا ہوا فضا۔۔۔ کن سوچوں میں اِتنا گم ہو کہ میرے آنے کا علم ہی نہیں ہوا ۔۔اُسکی آواز پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی اور بیڈ پر سیدھا ہوکر بیٹھ گئی۔۔دیا بھی سو چکی تھی۔۔۔۔ہادیہ کیا میں نے سب کو اپنی بیماری کا نہ بتا کر ٹھیک کیا۔۔۔ اگر موسیٰ کو پتہ چل گیا میری بیماری کا۔۔۔اور آگے کا پتہ نہیں کہ میں زندہ رہ پاؤ گی یہ نہیں تو مجھ سے کہی رشتہ ہی ختم نہ کردے فضا نم آواز کے ساتھ اپنا خوف بیان کرتے ہوئے بولی۔۔۔نن۔۔نہیں۔۔میری جان ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔ موسیٰ بھائی تم سے بہت محبت کرتے ہیں دیکھنا اگر اُنہیں تمہاری بیماری کا پتہ چلا بھی گیا تو تب بھی وہ تمہیں نہیں چھوڑے گے۔۔۔اور تم نکاح کے بعد اُنہیں پیار سے اپنے ساتھ بیٹھا کر اُنہیں بتا دینا ٹھیک ہے۔۔۔وہ سمجھ جاۓ گے اور اِس میں کون سا تمہاری غلطی ہے یہ تو اللّٰہ پاک کی طرف سے ایک آزمائش ہے تمہارے۔۔جس پر تم ہمیشہ کی طرح پورا اُترو گی۔۔۔ہادیہ اُسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے محبت سے بولی تو وہ اُسکی بات سمجھ کر سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔
اب تم یہاں بیٹھو اور موسیٰ بھائی کے خواب دیکھو۔۔۔ بھا۔ئی مجھے تو بہت کام ہے ہادیہ شرارت سے کہتی کمرے سے نکل گئی۔۔۔اُسکے جاتے ہی فضا نے ایک سرد سانس ہوا کے سپرد کی اور اپنی نئی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔
________________
آہان میں نے تمہیں کتنی دفعہ بولا ہے ایسے جھگڑا نہیں کرتے بیٹا بری بات ہوتی ہے رانیہ بے سی سے اپنے چھ سالہ حد درجہ سنجیدہ مزاج بیٹے کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔جو اِس عمر میں بھی ایک میچور بارہ سال کا لڑکا لگتا تھا۔۔ جس کا غصہ ہر وقت ناک پر رہتا تھا۔۔ماما میں نے جھگڑا نہیں کیا تھا۔۔کتنی دفع بتاؤ اُنہوں نے پہلے کیا تو میں نے بھی مارا سامنے والا انتہائی سنجیدگی سے لیکن نرم آواز میں بولا۔۔۔تم نے مارا نہیں بلکے اُسکا سر پھاڑ دیا اور اُسکا ناک بھی توڑ دیا رانیہ اپنے بیٹے کو دیکھتی تاسف سے سر ہلا کر سختی سے بولی تو وہ بےپروائی سے کندھے آچکا گیا۔۔۔
تبھی نوفل گھر میں داخل ہوا۔۔۔کیا ہوا میری جان کیوں اپنا بی پی بڑھا رہی ہو نوفل اپنے بیٹے کا معاملہ سمجھتے ہوۓ شرارت سے بولا۔۔۔اُسکی بات پر رانیہ نے اُسے آنکھیں دیکھائی۔۔۔نوفل میں بول رہی ہوں تمہارا یہ لاڈلا سپوت تمہارے ہاتھوں سے نکل رہا ہے ۔۔۔اب یہ سکول میں گنڈا گردی کرنے پر بھی اُتر آیا ہے رانیہ اُسے دیکھ ایک بار پھر شروع ہوچکی تھی۔۔۔اپنی ماما بابا کو لڑتا دیکھ وہ کندھے اچکاتا ہوا آرام سے وہاں سے کھسک گیا۔۔۔رانیہ۔رانیہ میری جان ریلکس کیوں اِتنا ہائپر ہورہی ہو۔۔تمہاری ایسی حالت کے لیے سٹریس اچھا نہیں ہے ۔۔۔نوفل رانیہ کو صوفے پر بیٹھاتا ہوا فکرمندی سے بولا اور اُسکے منہ کو پانی کا گلاس لگایا ۔۔۔
میں کہ رہی ہو نوفل آپ کا ساپوت ہاتھ سے نکل رہا ہے اِسنے سکول میں دوسرے لڑکے کا سر پھاڑ دیا اور وہ اِس وقت ہوسپٹل میں موجود ہے رانیہ اُسے دیکھ پریشانی سے بولی۔۔۔رانی میری جان ریلکس یار تمہیں تو پتہ ہے نہ آہان بلاوجہ کسی کو نہیں مارتا ضرور اُسی نے کچھ کیا ہوگا ۔۔اور پلیز تم پریشان نہ ہو تمہارے اور ہمارے بےبی کے لیے سٹریس اچھا نہیں ہے نوفل اُسے گلے لگاتے ہوئے محبت سے بولا۔۔تو وہ بھی سکون سے اُسکے کندھے پر سر رکھے آنکھیں موند گئی۔۔۔۔
عامر میں کچھ دنوں کے لیے ملک سے باہر جارہا ہوں۔۔لیکن اُس سے پہلے میں تمہارے حوالے ایک کام کرنا چاہتا ہوں۔۔وہ اپنے روعب دار سرد لہجے میں بولا ۔۔جی۔۔سر حکم کرے۔۔سامنے والا مؤدب انداز میں بولا ۔۔۔تمہیں ایک لڑکی کی حفاظت کرنی ہے اُسکی پل پل کی خبر تم مجھے دو گے وہ کہاں جاتی ہے۔ کس کے ساتھ۔ کیا کرتی ہے سب کچھ ۔۔۔تمہیں ہر پل سایہ کی طرح اُسکے آس پاس رہنا ہے بغیر اُسے کچھ پتہ چلے۔۔۔۔تمہیں ساری ڈیٹیل مل جاۓ گی۔۔۔اور اگر تم اُسکی حفاظت نہ کرپاۓ نہ تو سمجھ لینا تم اُس دنیا سے ختم آخر میں وہ انتہائی سرد لہجے میں سنجیدگی سے بولا۔۔۔کہ سامنے والے نے بےساختہ جھرجھری لی ۔۔۔جج۔۔سر۔۔
