Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 16)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

لیکن اگلے ہی پل فضا جھٹکے سے اُسکی جانب بڑھی۔۔اور کسی کو بھی کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیے بغیر اِنتہائی بےدردی سے اُسکے ہاتھوں سے دیا کو کھینچا۔۔اِس اچانک افتادہ سے سبحان شاک سا فضا کو دیکھنے لگا۔۔۔جو بغیر کسی تاثر کے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ تبھی دیا کی رونے کی آواز سے دونوں اُسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔جو فضا کے اِس عمل سے ڈر کے مارے رونا شروع ہوچکی تھی اور روتے ہوئے مسلسل اپنے ہاتھ سبحان کی طرف بڑھا رہی تھی۔۔۔فضا اُسے چپ کروانے کی کوشش کررہی تھی لیکن ناکام جب سبحان کی گھمبیر آواز گونجی ۔۔۔

فضا یہ کیا حرکت تھی۔۔۔اِس طرح کون بچے کو لیتا ہے۔۔سبحان نرمی سے بولا۔۔اور بغیر اُسکی سننے آگے بڑھ کر دیا کے بڑھتے ہاتھوں کو تھام کر اُسے واپس اپنی گود میں لیا۔۔اُسکے پاس آتے ہی دیا چپ ہوگئی اور واپس سے اُسکی بیرڈ کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہوگئی۔۔۔

آپ پلیز جتنا ہوسکے میری بیٹی سے دور رہے۔۔میں نہیں چاہتی آپ کی وجہ سے میری بیٹی کو کوئی تکلیف ہو۔۔میں ون اینڈ لاسٹ ٹاٹم بول رہی ہوں۔۔وہ اُسکی طرف دیکھ کر سختی سے بولی۔۔۔مسز مجھے لگتا ہے آپ ابھی بھی نیند میں ہی ہے۔۔۔کک۔کیا۔۔مم۔مطلب۔۔فضا نے سخت نظروں سے اُسے دیکھا۔۔ آپ شاہد بھول رہی ہے کہ یہ اب سے قانونی طور پر میری بیٹی ہیں۔۔اور آپ مجھے اُس سے ملنے سے نہیں روک سکتی ہے۔۔ سبحان دیا کے ہاتھ نیچے کرتے ہوئے اُسکی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔ جب تک فائق بھائی پیپرز پر خود سائن نہیں کرتے وہ دیا کسی کو بھی نہیں دے سکتے۔۔وہ بھی دوبدو بولی۔۔۔ڈئیر مسز آپ شاید بھول رہی ہے میرے لیے یہ کام اِتنا بھی مشکل نہیں ہے۔

اور آپ کے پیارے بھائی نے خود اپنے ہاتھوں سے مجھے یہ رحمت سونپی ہے جس کی وہ خود قدر نہ کرسکا۔۔۔ وہ دیا کی جانب دیکھ مسکراتے ہوئے بولا۔۔تو فضا غصے سے مٹھیاں بھینجے اُسے گھورتی رہ گئی۔۔۔

بھوک لگی ہے میری بیٹی کو سبحان دیا کے گالوں کا بوسہ لیتے ہوا بولا۔۔لیکن دیکھ وہ فضا کو ہی رہا تھا۔۔۔دیا جو اُسکے گالوں کو منھ میں ڈالنے کی مسلسل کوشش کررہی تھی۔۔۔آپ فریش ہوجاۓ تب تک میں ناشتہ لگواتا ہوں۔۔وہ اُسکی طرف دیکھ کر کہتا دیا کو لیے کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔اور وہ غصے سے پیر پٹختی ہوئی واپس کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

_________________

فضا تن فن کرتی غصے سے کھولتی ہوئی کمرے میں واپس آئی۔۔۔سبحان کا دیا پر حکم چلانا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔فضا سر جھٹک کر فریش ہونے کی غرض سے واش روم کی جانب بڑھنے لگی تبھی اُسکی نظر صوفے پر پڑے نکاح کے ڈریس پر پڑی جو اُسنے پہنا ہوا تھا۔۔۔۔مم۔میرے۔۔کک۔۔کپڑے۔۔کک۔۔کس۔۔نے۔بدلے۔۔وہ بڑبڑاتے ہوئے بولی۔۔اور زہن سبحان کی جانب گیا۔۔۔سبحان کے زہن آتے ہی فضا کانوں تک سرخ ہوئی ۔۔۔۔لیکن پھر سب سوچے جھٹکتے ہوئے وہ بیگ سے اپنے کپڑے لیے واشروم میں گھس گئی۔۔۔دس منٹ بعد وہ فریش سی نہا کر واشروم سے نکلی اور شیشے کے سامنے کھڑی ہوکر اپنے بال سلجھانے لگی۔۔لیکن بار بار خیال اپنے کپڑوں کی طرف جارہا تھا۔۔تبھی دروازا نوک ہوا۔۔اور ملازمہ اجازت ملتے ہی اندر داخل ہوئی۔۔۔میم سر نے بولا ہے اگر آپ تیار ہوگئی ہے تو ناشتے پر آجاۓ وہ آپ کا ویٹ کررہے ہیں۔۔۔تو وہ سر ہلاتی ہوئی دوبٹہ اُوڑھے اُسکے پیچھ کمرے سے نکل گئی۔۔۔ڈائننگ ٹیبل پر پہنچ کر اُسنے ایک نظر سبحان کو دیکھا جو فریش سا نکھرا ہوا دیا کو گود میں لیے ہوۓ مسکراتے ہوئے جذب لگ رہا تھا۔۔۔فضا سر جھٹک کر ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔۔۔ اور ناشتہ کرنے لگی

لیکن اپنے چہرے پر مسلسل کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرکے اُسنے سر اُٹھا کر دیکھا لیکن سبحان کو دیا میں مصروف دیکھ کر دوبارہ سے ناشتے میں مصروف ہوگئی۔۔۔میسنی نہ ہو تو باپ کے ساتھ تو ماں کو بھول ہی جاتی ہیں۔۔۔

فضا کو اپنا آپ اگنور ہوتا دیکھ بڑبڑاتے ہوئے بولی۔۔۔اُسکی بڑبڑاہت سن کر سبحان کے چہرے پر دلکش سی مسکراہٹ آ گئی جسے وہ ضبط کر گیا۔۔۔۔مم۔میرے۔۔کک۔۔کپڑے۔۔کس۔نے۔چینج۔۔کیے۔۔فضا گھبراتے ہوئے بولی۔۔۔آپ بتاۓ میرے علاؤ کس میں اِتنی ہمت ہے کہ وہ آپ کو بنا لباس کے دیکھے۔۔سبحان مسکراہٹ دباتا ہوا سنجیدگی سے بولا۔۔۔فضا سبحان کی بات پر سٹپٹائی اور سبحان کی خود پر موجود گہری نظروں سے گھبراتی ہوئی۔۔ چپ چاپ ناشتہ کیے اُٹھ کھڑی ہوئی اور بغیر اُسکی جانب دیکھے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔اُسکی حرکت پر سبحان محفوظ سا ہوتا۔۔دیا کی جانب متوجہ ہوا۔ تبھی سبحان کا فون بج اُٹھا۔۔۔اُسنے فون نکال کر یس کیا۔۔ہیلو۔۔ہاں۔۔بولو۔۔سامنے والے کی بات سن کر اُسکا چہرہ انتہا ضبط سے سرخ ہوگیا۔۔۔گردن کی رگیں اُبھرنے لگی۔۔۔ہممم۔۔ٹھیک ہے تیاری کرو۔۔۔میں پہنچ رہا ہوں۔۔۔وہ سنجیدگی سے کہتا فون بند کرگیا۔۔۔اور دیا کو لیے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

وہ جیسے ہی کمرے میں واپس آیا تو فضا کو بیڈ پر بیٹھے پایا۔۔۔وہ دیا کو دوسری جانب بیڈ پر بیٹھاۓ۔۔اردگرد تکیے سیٹ کیے وہ الماری کی جانب بڑھا اور اپنا ایک ڈریس لیے واشروم میں بند ہوگیا۔۔فضا مسلسل اُسکی کاروائی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

دس منٹ بعد وہ فریش ہوکر واشروم سے نکلا اور شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے بال سیٹ کیے۔۔۔

وہ تیار ہوکر فضا کی جانب بڑھا۔۔سبحان کو اپنی جانب آتا دیکھ فضا کی سانسیں تیز ہوئی۔۔۔وہ دم سادھے چپ چاپ سبحان کی کاروائی دیکھ رہی تھی۔۔جو سائیڈ ٹیبل سے میڈیسنز اُٹھا کر ان کا معائنہ کررہا تھا۔۔یہ لے وہ اُسکی جانب میڈیس بڑھاتے ہوئے گھمبیر آواز میں بولا۔۔فضا نے بغیر کچھ کہے میڈیسن پکڑ کر منھ میں رکھ لی۔۔سبحان نے اُسکی جانب پانی کا گلاس بڑھایا۔۔۔اُسکے میڈیسن لینے کے بعد وہ اپنی خوبصورت آواز میں بولا۔۔۔مجھے کچھ ضروری کام کے لیے باہر جانا ہے شام تک واپس آ جاؤ گا۔۔۔آپ اپنا اور میری گڑیا کا بہت سارا خیال رکھنا۔۔۔سبحان دیا کے گلابی پھولے ہوئے گالوں پر بوسہ دیتے ہوئے نرمی سے بولا۔۔۔اور آگے بڑھ کر محبت سے فضا کے ماتھے پر بوسہ دیا اپنا بہت سارا خیال رکھیے گا میں جلد واپس آنے کی کوشش کرو گا۔۔۔وہ اُسکی آنکھوں میں محبت سے دیکھتا ہوا نرمی سے بولا۔۔۔اور ایک نظر اُن دونوں پر ڈالے کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔

فضا تو سبحان کی پیش قدمی پر شاک سی ویسے ہی بیٹھی رہ گئی۔۔۔اسے ابھی بھی اپنے ماتھے پر سبحان کا لمس محسوس ہورہا تھا۔۔۔

__________________

وہ تینوں سر پر کیپ پہنے چہرے پر ماسک لگاۓ کالے کپڑوں میں ملبوس اِس وقت اپنی پوری ٹیم کے ساتھ جنگل میں موجود تھے۔۔

وہ اپنی سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ سرد نظروں سے آس پاس کا معائنہ کرتے ہوئے بلیو ٹوتھ میں بولا۔۔تم سب تیار ہو۔۔وہ اپنی سرد آواز میں سنجیدگی سے بولا۔۔یس ایس کے۔۔وہ سب ہم آواز میں بولے۔۔اُن سب کے لہجوں میں اِس وقت ایک جنون جھلک رہا تھا۔۔دشمنوں کو ختم کرنے کا جذبہ۔وہ سب الگ الگ حصوں میں جنگل میں آگے بڑھ رہے تھے۔۔توڑا آگے جاکر اُن سب کو ایک بڑا سا گودام نظر آیا۔۔وہ چھپتے چھپاتے آگے بڑھے۔۔۔

گائز میں اور نوفل سامنے سے اندر داخل ہوگے۔۔کاشان اور ولی تم دونوں پیچھے کے راستے سے اندر جاؤ گے۔۔باقی سب لوگ پورے گودام کو چاروں طرف سے گھیر لو۔۔۔وہ سرد لہجے میں کہتا آگے بڑھ گیا۔۔۔ہاتھوں میں پسٹل تھامے وہ دونوں دروازا توڑ کر اندر داخل ہوئے۔۔۔لیکن اندر کا منظر دیکھ کر سبحان کا خون کھول اُٹھا وحشت سے اُسنے آنکھیں میچی جہاں ایک آدمی ایک لڑکی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کررہا تھا۔۔سبحان نے بغیر دیر کیے سیدھا اُسکے سر میں گولی ماری۔۔۔گولی کی آواز سن کر باقی آدمی بھی باہر نکلے۔۔سبحان اور نوفل نے بغیر دیر کیے اُن سب کے سر دھڑ سے الگ کردیا۔۔۔اِس وقت غصے سے اُن کی آنکھیں لال سرخ ہوچکی تھی۔۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا سب کو زندہ جلا کر رکھ دے۔۔۔کچھ ہی دیر میں سبحان اور اُسکی ٹیم نے اُن سب کو دھوم چٹا دی تھی۔۔۔وہاں موجود گودام کے ساتھ ساتھ باقی شہروں میں موجود گودام بھی قبضے میں لے چکے تھے۔۔۔وہاں موجود ڈھائی سو گرام ڈرگس۔۔۔20 لڑکیاں جو آج اُن لوگوں نے باہر کے ممالک میں سمگل کرنی تھی۔۔۔رائفلز سب کچھ اُنہوں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔۔۔اُن سب کا ایڈریس چیک کرکے ولی کی ڈیوٹی پر سب لڑکیوں کو اُن کے گھر روانہ کردیا گیا تھا۔۔۔شاکر دارا اب تو تم ضرور آؤ گے۔۔سبحان چمکتی آنکھوں سے بولا۔۔ویلکم ٹو مائی کنٹری۔۔یور۔ویلکم۔ٹو۔دا۔ولڈ۔اوف۔۔یور۔موت۔۔وہ قہقہہ لگاتا ہوا سرگوشی میں بولا۔۔۔اُسکی آنکھوں میں ایک چمک تھی ایک جنون تھا جزبہ تھا۔۔۔جو بھی دیکھ لے اِن آنکھوں کے جنون میں کھو جاۓ۔۔۔

وہاں سے سارا کام نمٹا کر وہ سب بیس منٹ میں واپس پہنچے۔۔۔اُن سب کے بیٹھتے ہی کاشان نے دماغ میں پلتا سوال پوچھ ڈالا۔۔۔ایس کے تمہارے خیال سے شاکر دادا پاکستان آۓ گا۔۔وہ اُسکی طرف دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا۔۔۔جس طریقے سے ہم نے اُسکے بڑے بڑے ڈرگس کے اڈھوں کو نقصان پہنچایا ہے ۔۔۔وہ ضرور آۓ گا یہ جاننے کے لیے کہ کس نے اُس سے پنگا لینے کی جرات کی ہے۔۔۔ایس کے یقین سے بولا۔۔تو اُسکی بات پر سب نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔ایس کے۔۔موسی کا کیا کرنا ہے اب۔۔۔نوفل کی آواز کمرے میں گونجی۔۔۔ولی کیا خبر ہے اُسکے بارے میں آج کل وہ کہاں پایا جاتا ہے۔۔وہ اُسکی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ایس کے آج کل وہ زیادہ تر ایک لڑکی کے ساتھ پایا جاتا ہے کلب۔شوپنگ مول۔۔ریسٹورنٹ۔۔ہر جگہ وہ تفصیل سے بتاتے ہوئے بولا۔۔۔ہمممم۔۔اور وہ لڑکی کون ہے۔۔۔ایس کے سوچنے والے انداز میں منھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔۔شاکر دادا کی بیٹی۔۔ولی نے اُن سب کے سروں پر دھماکہ کیا۔۔۔واٹ سب ایک ساتھ شاک سے بولے۔۔۔یس اُسنے سر ہلاتے ہوئے تصدیق کی۔۔۔لیکن وہ شاکر دادا کی بیٹی کیسے ہوسکتی ہے۔۔ایس کے سوچتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔۔۔شاکر دادا کی فیملی میں اُسکی بیوی جو ایک پاکستانی خاتون تھی۔۔اور اُسکا ایک بیٹا اور بیٹی ہے۔۔۔۔کچھ سال پہلے ایک حادثے میں اُسکی بیوی اور بیٹا مارے گئے۔۔۔بیٹی اپنی کسی دوست کے گھر گئی تھی جس وجہ سے وہ بچ گئی تھی۔۔۔

رمشا شاکر دادا کی جان تھی۔۔۔دادا اُسکی کوئی بات بھی رد نہیں کرتا تھا۔۔۔جان بستی ہے اُس میں۔۔رمشا کو بس ایک چیز اپنی طرح مائل کرتی ہے جس کی وہ دیوانی ہے ولی اُن سب کی طرف دیکھ کر بولا ۔۔اور وہ کیا ہے۔۔کاشان اُسکی طرف دیکھ کر بولان۔۔۔مردوں کی پرسنلٹی اور خوبصورتی۔۔جو موسیٰ یعنی کچھوے کی خوبصورتی پر مر مٹی۔۔۔ولی آخری بات منہ بناتے ہوئے بولا۔۔

تو نہ چاہتے ہوئے بھی سب کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *