Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 28)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul 

اگلے چوبیس گھنٹے جیسے اُن سب نے کانٹوں پر گزارے تھے۔۔۔یہ گزرے چوبیس گھنٹے اُن سب کی زندگی کا سب سے برا وقت تھا جو شاید وہ زندگی میں کبھی نہیں بھول سکے گے۔۔۔کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر نے فضا کی ہوش میں آنے کی اطلاع دی۔۔۔ جسے سن کر اُن دونوں نے خدا کا شکر ادا کیا۔۔دونوں ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرتے ڈاکٹر سے اجازت لے کر باری باری اندر داخل ہوۓ جہاں وہ گنودگی کی وجہ سے سوئی ہوئی تھی۔۔کاشان نے ایک نظر بہن کو دیکھ کر تکلیف سے آنکھیں میچی سرجری کی وجہ سے فضا کے مکمل بال ہٹا دیے گئے تھے۔۔۔کاشان یاد آیا فضا کو کیسے اپنے بالوں سے عشق تھا وہ نم نظر اُس پر ڈالے اُسکے سر کا بوسہ لیے شکرانے کے نوافل ادا کرنے کمرے سے نکل گیا۔۔۔اور سبحان کی حالت کی وجہ اُسے اپنا وہاں رہنا ٹھیک نہیں لگا۔۔۔نوفل اور رانیہ کچھ دیر میں واپس آنے کا بول کر فضا کا صدقہ دینے گئے تھے۔۔ اُسکے جاتے ہی سبحان تھکے تھکے قدم لیتا اُسکی جانب بڑھا۔۔پیلی رنگت۔۔گلابی چہرہ جو اِس وقت زرد پڑ چکا تھا۔۔۔ہاتھوں پر لگی ڈرپس سر پورا پیٹوں میں جکڑا اُسکی حالت دیکھ سبحان کا دل کیا اپنی ڈول کو کہی دور لے سب سے پوری دنیا سے دور۔۔شدت غم سے اُسکا دل پھٹ رہا تھا۔۔۔اُسنے تو مر کے بھی نہیں سوچی تھی اپنی زندگی کی ایسی حالت۔۔۔وہ اُسکے پاس بیٹھا اُسکا ڈریپ والا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں لیے اُسکے چہرے کو بغور دیکھنے لگا۔۔۔وہ نظریں اُسی پر جماۓ ہوئے تھا۔۔۔۔جیسے صدیوں کا پیاسا ہوا۔۔۔ااے

اُسے پتہ ہی نہیں چلا اُسے دیکھتے دیکھتے کب اُسکی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔۔۔یہ سوچ ہی جان لیوا تھی کہ اگر وہ اُسے کھو دیتا تو۔۔۔یہاں آ کر اُسکا دل تکلیف سے پھٹنے لگتا۔۔۔فضا کو نیند میں اپنے ہاتھ اور چہرے پر کچھ گیلا گیلا محسوس ہوا۔۔اُسنے دکھتے سر کے بےمشکل اپنی موندی موندی آنکھیں کھولی۔۔۔حواس بیدار ہوتے ہی اُسنے نظریں گھما کر دیکھا لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر اُسکا دل تڑپ ہی تو اُٹھا۔۔۔جہاں وہ مضبوط اعصاب کا مالک رہ رہا تھا بےتحاشہ۔۔۔اُسے یو روتا دیکھ وہ تڑپ کر بولی۔۔۔اُسے کہاں گوارا تھا سبحان کی آنکھوں میں آنسو ۔۔عورت جتنی بھی مضبوط کیوں نہ لیکن اپنے مرد کی آنکھوں میں آنسو کبھی نہیں دیکھ سکتی۔۔سس۔سبحان۔۔۔فضا کی آواز سن کر اُسنے جھٹکے سے سر اُٹھا کر اُسے دیکھا جو نم آنکھوں سے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔اسے ہوش میں آتا دیکھ وہ مضبوط مرد ضبط کھوتا اُسکے سینے سے لگے بچوں کی طرح بلک بلک کر رہ دیا۔۔۔اُسے یو بلک بلک کر روتا دیکھ فضا بوکھلائی۔۔۔۔سس۔سبحان۔۔مم۔میں۔۔ٹھیک۔۔ہوں۔۔پلیز۔۔آپ۔۔رونا۔۔بند۔۔کرۓ۔۔۔وہ۔اُسے دیکھ پریشانی سے بولی۔۔۔فضا آج تمہاری حالت دیکھ مجھے ایسا لگا جیسے میں نے تمہیں کھو دیا اپنا سب کچھ کھو دیا۔۔۔تمہاری حالت دیکھ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسا میں مر رہا ہوں۔۔مر ہی رہا تھا اِن گزرے گھنٹوں میں میں پل پل مرا ہوں۔۔۔پلیز فضا مجھے معاف کردو میں تم پر دھیان نہیں دے پایا۔۔۔وہ اُسکے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے شرمندگی سے بولا۔۔۔ننن۔نہھںن۔سبحان۔۔آپ کیوں معافی مانگ رہے ہیں اِس میں آپ کا کوئی قصور نہیں یہ سب تو قسمت میں لکھا تھا۔۔۔وہ اُسکے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے بولی فلحال وہ رمشا کے بارے میں بلکل نہیں سوچنا چاہتی تھی۔۔۔

فضا آئی لو یو میری جان پلیز مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا میں تمہارے بغیر مر جاؤ۔۔۔میری ہر اک آتی جاتی سانس کی تو مالک ہو۔۔۔تمہیں اگر کچھ ہوا تو سبحان بھی زندہ نہیں رہ پاۓ گا۔۔ اُسکے نرم ہاتھوں پر بوسہ دیتے ہوئے وہ نم روندھی آواز میں بولا۔۔۔فضا نے نم آنکھوں سے مسکرا کر اُسے دیکھا۔۔۔

سس۔سبحان۔۔دیا۔۔کہاں۔۔ہے۔۔سبحان کے علاؤہ کسی کو وہاں نہ پاکر وہ پریشانی سے بولی۔۔۔علی اور ہادیہ کے پاس ہے گھر پر۔۔۔سبحان اپنے عشق کو محبت سے دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔

________________

پانچ دن بعد فضا کو ہوسپٹل سے ڈسٹارج کردیا گیا۔۔اِن پانچ دنوں میں نوفل رانیہ کاشان علی ہادیہ سب باری باری اُس سے ملنے آتے رہے۔۔دیا صرف ایک دفعہ ہی آئی تھی۔۔۔ڈاکٹر نے اُسے ایک ماہ مکمل بیڈ ریسٹ بتائی تھی ۔۔۔کمزوری اور نقاہت کے بائس وہ ابھی چل پھر نہیں سکتی تھی۔۔ہادیہ اور علی نے بہت شاندار طریقے سے اُسکا ولکم کیا۔۔فضا تو اِتنی محبت پاکر اپنے رب کا شکر ادا کرتے نہیں تھک رہی تھی۔سبحان اُسے گود میں اُٹھاۓ اوپر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔کہ تبھی فضا کی آواز اُسکی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔۔آپ مجھے گیسٹ روم میں چھوڑ آیا۔۔۔وہ نظریں جھکائے مدھم سا بولی۔۔۔اُسکی بات پر وہ ٹھٹھکا۔۔گیسٹ روم میں کیوں۔۔وہ ماتھے پر بل ڈالے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھ کر بولا۔۔۔۔

یہ کمرہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا ہے۔۔اور فلحال میں ابھی کوئی تماشا نہیں چاہتی وہ سنجیدگی سے کہتی رخ موڑ گئی۔۔۔سبحان بغیر کچھ بولے اُسے لیے کمرے کے اندر داخل ہوا۔۔۔سبحان نے اُسے احتیاط سے بیڈ پر بیٹھایا۔۔تبھی فضا کے بولنے سے پہلے ہی وہ بولا اُٹھا۔۔۔یہ کمرہ میرا اور میری بیوی کا ہے اور اِس وقت میری بیوی ہی میرے کمرے میں موجود ہے۔۔۔کسی تیسرے کا کوئی حق نہیں ہے یہاں۔۔۔وہ اُسکی سبز آنکھوں میں دیکھتا ہوا گھمبیر آواز میں بولا۔۔۔آپ ریسٹ کرو میں آپ کے لیے کچھ کھانے کو لاتا ہوں اُسکے سر پر شدت بھرا بوسہ دیتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔کسی تیسرے کا کوئی حق نہیں ہے ہونہہ ۔۔۔سوکھن میرے پہ لا کر بول رہے ہیں۔۔۔وہ اپنے آنسو بےدردی سے صاف کرتے ہوئے بڑبڑائی ۔۔جو کمرے کے باہر کھڑے سبحان نے باخوبی سننی تھی۔۔۔اور وہ ایک فیصلہ کرتا ہوا نیچے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔اب وہ مزید فضا سے دوری برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔

وہ نیچے آیا تو علی اور کاشان باتوں میں مصروف تھے۔۔رانیہ اور نوفل دوبارہ آنے کا بول کر ہوسپٹل سے ہی واپس جا چکے تھے ۔۔۔ہادیہ کچن میں فضا کے لیے سوپ بنا رہی تھی۔۔۔کاشان کی گود میں موجود دیا سبحان کو دیکھ کر اُسکی طرف لپکنے لگی۔۔جسے آگے بڑھ کر سبحان نے مسکرا کر اُسکی گود سے لیا۔۔اور اُسکے سر اور گالوں پر بوسہ دیتا علی کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔کاشان مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے وہ اُسے دیکھ سنجیدگی سے بولا اُسکی بات پر اُسنے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔

میں چاہتا ہوں تم ابھی اور اِسی وقت فضا کو جاکر ساری سچائی بتا دو۔۔۔لیکن سبحان ابھی کیسے اُسکی حالت تو دیکھو کاشان فکرمندی سے بولا۔۔۔یہی وقت سہی ہے یہ سب بتانے کے لیے میں مزید اُسے خود سے دور جاتا نہیں دیکھ سکتا وہ مجھ سے بدظن ہو رہی ہے وہ فکرمندی سے پیشانی مسلتا ہوا بولا اُسکی بات سمجھتے ہی وہ اُسے تسلی دیتا اوپر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔بھائی آپ کس قدر چھپے رستم نکلے۔۔آج تک مجھے خبر تک نہیں ہونے دی کہ آپ ایک آرمی مین۔۔۔علی اُسے دیکھ شاک سا بولا۔۔۔اُسے ابھی کچھ ہی دیر پہلے کاشان نے ساری سچائی اُسے بتائی تھی کہ سبحان کے ساتھ وہ سب ایک خاص مشن پر تھا جس میں اُنہیں یہ سب کرنا پڑا۔۔۔

_________________

فضا آنکھیں موند بیڈ گراؤنڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھی اپنی گزری ہوئی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔جب دروازا نوک کرکے کاشان اندر داخل ہوا ۔۔اُسنے آنکھیں کھول کر دیکھا تو کاشان کھڑا تھا۔۔۔کیسی ہو گڑیا۔۔وہ اُسے دیکھتا ہوا سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ٹھیک ہوں۔۔آپ کیسے ہے۔۔فضا کو کاشان تھکا تھکا سا لگا۔۔۔ہممم۔۔ٹھیک ہو۔۔وہ لمبی سانس ہوا کے سپرد کیے بولا۔۔۔میں یہاں تم سے ایک بات کرنے آیا ہوں۔۔۔مجھے نہیں پتہ تم کیا راہیکٹ کرو گی لیکن تمہارے لیے یہ سب جاننا بہت ضروری ہے وہ اُسے دیکھتا سنجیدگی سے بولا۔۔۔فضا نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا کہ ایسی کون سی بات ہے جس کے لیے کاشان اِتنی تہمید باندھ رہا ہے ۔۔۔

سبحان جیسا تمہیں دکھتا ہے وہ ویسا بالکل بھی نہیں ہے۔۔

اور نہ ہی وہ کوئی بزنس مین ہے۔۔۔اور آج تک وہ تمہارے ساتھ مخلص ہے اُس جیسا شخص میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔۔۔آپ کہنا کیا چاہتے ہیں بھائی مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا وہ الجھتی ہوئی بولی۔۔وہ ایک بہادر نڈر شخص ہے۔۔اُسکے نام سن کر دشمن کانپ اُٹھتے ہیں موت کا دوسرا نام۔۔۔ایس۔کے۔۔میجر سبحان سکندر خانزادہ اِس ملک کا رکھوالا انڈر کور آفیسر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمنوں کا مقابلہ کرکے اُنہیں مات دینے والا ۔۔۔۔اُسکا نام سن کر بڑے سے بڑا دشمن بھی اندر تک کانپ اُٹھتا ہے۔۔۔اسنے ملک کے دشمنوں کو کبھی دوسرا موقع نہیں دیا۔۔۔فضا ساکت سی اُسے سن رہی تھی۔۔۔سبحان اور رمشا کا نکاح یہ سب بھی ایک مشن کا ہی حصہ تھا ہم اِس وقت ایک مشن پر تھے۔۔۔اور رمشا سے ہم نے کچھ ضروری انفارمیشن لینے کے لیے جھوٹا نکاح کیا تھا۔۔اُسکی بات سن کر فضا کو اپنے اندر ڈھیروں سکون اُترتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔کاشان جیسے جیسے اُسے بتاتا گیا اُسے خود پر بےتحاشہ غصہ آنے لگا کہ کیوں اُسنے سبحان پر اعتبار نہیں کیا۔۔۔

اور ایک بہت اہم بات۔۔۔کاشان سانس خارج کرتا ہوا بولا۔۔۔کون سی اُسنے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔اِس سب گندھے کاموں میں ڈرگس سمگل کرنا لڑکیوں اغوا کرکے دوسرے ممالک بھیجنا۔۔

اُن کا کاروبار کرنا اِن سب میں شاکر دادا کا ساتھ دینے والا کوئی اور نہیں ہمارا سگا باپ ہے کاشان سپاٹ لہجے کے ساتھ آنکھوں میں نفرت لیے بولا۔۔۔اس وقت اُسکی آنکھیں حد سے زیادہ سرخ ہورہی تھی ضبط کے مارے۔۔۔اُسکی بات سن کر فضا کا وجود زلزلے کی ضد میں آگیا وہ بے یقینی سے کاشان کو دیکھ رہی تھی جو بےمشکل ضبط کیے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔کاشان نے ساری سچائی اُسکے گوشوگزار کردی جسے سن کر اُسے شدید قسم کا جھٹکا لگا۔۔۔اُسکا باپ سیاست کے نام پر یہ سب کررہا تھا اُسے اس وقت اپنے باپ سے شدید قسم کی نفرت محسوس ہورہی تھی۔۔۔

کاشان ایک لمبا سانس خارج کرتا اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُسکے نزدیک آیا۔۔۔فضا گڑیا یہ سب سبحان کے لیے ضروری تھا وہ چاہ کر بھی تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا تھا۔۔۔وہ تم سے اور دیا سے بےپناہ محبت کرتا ہے۔۔۔آج پہلی دفعہ میں نے اِس قدر اُس مضبوط شخص کو تمہارے لیے روتے دیکھا ہے۔۔جس کے سامنے بڑھے سے بڑھا دشمن چند پل میں ڈھیر ہو جاتا ہے۔پلیز تم بھی سارے گلے شکوے ختم کرکے اُسکے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات کرو کاشان محبت سے اُسکے سر پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔۔۔اور ایک نظر اُسے دیکھے کمرے سے نکل گیا۔۔۔

اُسکے جاتے ہی وہ جو ضبط کررہی تھی گھٹنوں میں سر دیے پھوٹ پھوٹ کر رو دی اُسکا باپ اس قدر گھٹیا نکلے گا اُسنے مر کے بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔ماں کے بعد باپ ہی تھا تو پھر یہ سب کیوں۔۔باپ جو اپنے ہی ملک کو برباد کرنے کے در پر ہوا تھا۔۔۔اور بیٹا جو اُسی ملک کے لیے جانے دینے کا خواہش مند تھا۔۔۔کتنی ہی دیر میں یویہی بیٹھی پیچھلی باتوں کو یاد کرتے ہوئے روتی رہی۔۔۔

رات کافی ہوچکی تھی۔۔سبحان ہادیہ اور کاشان کو رخصت کرکے دیا کو لیے اپنے کمرے میں داخل ہوا جو اُسکے سینے سے لگی کب کی سو چکی تھی۔۔۔وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو فضا بیڈ گراؤنڈ سے ٹیک لگائے بیٹھے بیٹھے سو گئی تھی۔۔سبحان ایک نظر اُسے دیکھے دیا کو بیڈ پر لٹاۓ اُسکی جانب بڑھا۔۔چہرے پر آنسوؤں کے موٹے موٹے نشان واضح نظر آ رہے تھے۔۔۔۔اُس نے آگے بڑھ کر نرمی سے اسے سیدھا کرکے بیڈ پر لٹایا اور اُسکے ماتھے پر شدت بھرا بوسہ دیتا ہوا بولا۔۔۔مائی لائف

اور ایک محبت بھری نظر اپنی دھڑکن اور دل پر ڈالے الماری سے اپنے کپڑے لیے واشروم میں گھس گیا۔۔۔دس منٹ بعد وہ فریش ہوکر واشروم سے نکلا ۔۔تبھی اُسکی نظر فضا پر پڑی جو بیڈ گراؤنڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔آپ تو سو گئی تھی سبحان اُسے دیکھتا ہوا فکرمندی سے بولا۔۔۔ہممم۔۔آنکھ کھل۔۔گئی۔۔تھی۔۔وہ نظریں جھکائے بولی۔۔۔بہت برداشت کے باوجود اُسکی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر اُسکے ہاتھ پر گر رہے تھے۔۔۔سبحان اُسے روتا دیکھ بوکھلا گیا۔۔۔فف۔دضا۔۔میری جان کیا ہوا رؤ کیوں رہی ہے۔۔وہ آگے بڑھ کر محبت اُسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے ہوئے بولا۔۔۔کہی درد ہورہا ہے۔۔۔اُسکی بات پر اُسنے نفی میں سر ہلایا۔۔۔اور بنا کچھ بولے اُسکے سینے پر سر رکھ بلک بلک کر رو دی۔۔۔۔پلیز مجھے ممم۔معاف۔۔کردے۔۔میم۔میں۔۔نے۔آپ۔۔کو۔۔کتنا۔۔غلط۔۔سمجھا۔۔آپ۔۔کو۔کتنا۔برا۔۔بھلا۔۔بولا۔۔پلیز مجھے معاف کردے وہ روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان بےمشکل بولی۔۔۔سبحان نے اُسے کچھ دیر یونہی روتے رہنے دیا۔۔جب وہ کچھ سنبھلی تو وہ اُسے خود سے الگ کرتا ہوا اُسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے ہوۓ بولا۔۔۔فضا آپ کو معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں آپ اپنی جگہ ٹھیک تھی۔۔آپ کی جگہ اگر میں ہوتا تو شاہد اس سے بھی زیادہ اوور راہیکٹ کرتا۔۔۔۔وہ سب ایک مشن کا حصہ ہے۔۔۔آپ کبھی بھی ایسا سوچیے کا مت کے آپ کی جگہ میں کسی کو دے سکتا۔۔۔سبحان سکندر مر کر بھی یہ نہ کرسکے گا مجھ پر بھروسہ رکھے۔۔۔وہ نرمی سے اُسکی بھیگی سبز آنکھوں پر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔آئی لو یو سبحان میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں ؤہ نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی ہوئی مسکرا کر بولی۔۔۔اپنی محبوب بیوی سے اظہار محبت سن کر وہ اندر تک سرشار ہوگا۔۔۔اور مدہوش سا ہوتا اُسکے دونوں گالوں پر باری باری اپنے دہکتے لب رکھے گیا۔۔۔کیوں اب یہ اِتنے دنوں کی دوریاں ختم کی جاۓ۔۔بہت مشکل سے اِتنے دن آپ سے دور رہا ہوں۔اب اور نہیں میری جان۔۔۔وہ اُسکے کان میں سرگوشی کرتا اُسکے کان کی لو دانتوں تلے دبا گیا۔۔۔اُسکی باتوں پر وہ پیرؤں تک سرخ ہوئی شرم کے مارے نظریں ہی نہیں اُٹھا پا رہی تھی۔

اجازت ہے میری جان۔۔۔وہ اُسے دیکھتا ہوا بولا۔۔۔اُسکی بات کا کوئی بھی جواب دیے بغیر وہ اُسکے سینے میں منہ چھپا گئی۔

وہ اُسے خود سے الگ کرتا اپنے پیاسے لب اُسکے لب پر رکھے اپنی اِتنے دنوں کی پیاس مٹانے لگا۔۔۔

رات گزرنے کے ساتھ وہ قطرہ قطرہ بہت نرمی سے اُس دشمن جاں پر اپنی محبت برسا رہا تھا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *