Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul NovelR50617 Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 26,27)
Rate this Novel
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 26,27)
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul
اگلے دن رمشا کی آنکھ فون کی چنگاڑتی ہوئی آواز سے کھلی۔
ایک دو دفع تو اُسنے اگنور کیا لیکن مسلسل بجتے فون کی وجہ سے اُسنے کسمسا کر سائیڈ ٹیبل سے فون اُٹھا کر نمبر دیکھا۔۔۔نمبر دیکھ کر اُسکی بگ سے اُڑی۔۔بابا۔۔اُسنے بڑبڑاتے ہوئے جلدی سے فون یس کرکے کان سے لگایا۔۔۔ہیلو بابا۔۔کیسے ہے۔۔اُسنے مسکرا کر کہا۔۔۔
کہاں ہو۔۔سامنے والے نے بنا کوئی لگی لپٹی کے سوال کیا۔۔۔رمشا کو اُن کا لہجہ بدلہ سا لگا لیکن وہ سر جھٹک کر اگنور کرگئی۔۔۔۔بب۔بابا وہ میں۔۔وہم۔مم۔میں۔۔اپنی فرینڈ کی طرف آئی ہوں۔۔اُسنے جلدی سے مسکرا کر جھوٹ بولا۔۔اُسکے سفید جھوٹ پر سامنے والے نے غصے سے مٹھیاں بھینجی۔۔۔۔تم اِس وقت جہاں کہی بھی ہو۔۔بیس منٹ میں مجھے داد ہاؤس ملو۔۔۔۔
سامنے والے کی بات پر رمشا کو جھٹکا لگا۔۔ببام۔بابا۔۔آپ۔۔پاکستان۔۔میں۔ہے۔۔ہاں۔۔تم جلدی مجھے ملو۔۔کہتے ہی کھٹاک سے فون رکھ دیا۔۔رمشا نے پریشانی سے بند فون کو دیکھا۔۔۔اور ایک بھرپور نظر خالی کمرے میں دوڑائی۔۔اِس کا مطلب سبحان ساری رات گھر نہیں آۓ۔۔وہ بڑبڑاتے ہوئے بولی۔۔اور پھر کچھ سوچتے ہوئے اُسنے سبحان کا نمبر ملایا۔۔۔۔ایک۔دو۔بل۔۔کے۔بعد دوسری طرف سے فون اُٹھا لیا گیا تھا۔۔۔ہاں۔۔ہیلو۔۔ہممم۔۔بولو۔
سبحان کہاں ہو تم۔۔ابھی تک۔۔گھر کیوں نہیں آۓ۔۔رمشا پریشانی سے بولی۔۔۔ہاں۔۔وہ تمہیں بتایا تو تھا۔۔رات کو سبحان اپنے لہجے کو نارمل رکھتے ہوئے بولا۔۔۔اووو۔۔تو اب کیسا ہے وہ۔۔وہ مصنوعی افسوس کرتے ہوئے بولی۔۔۔لیکن دل ہی دل میں رات سے اب تک کہی گالیوں سے نواز چکی تھی۔۔جس نے اُسکی پہلی نائٹ کا ہی ستیاناس کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔۔
ہممم ابھی بھی اُسکی حالت ویسی ہی ہے۔۔ڈاکٹر۔۔۔کوئی تسلی نہیں دے رہے اُسکی حالت پر سبحان سنجیدگی سے بولا۔۔۔ہمممم۔۔تم گھر کب آو گئے وہ جلدی سے بولی۔۔۔جیسے ہی ڈاکٹر کی جانب سے کوئی مثبت جواب ملتا ہے۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔اپنا خیال رکھنا۔۔کہتے ہی اُسنے فون رکھ دیا۔۔۔فون رکھ کر رمشا نے ایک بھرپور انگڑائی لی اور اپنے کپڑے لے کر واشروم میں گھس گئی۔۔۔
_______________
کچھ ہی دیر میں وہ تیار شیار ہوکر اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچی۔۔جہاں کچھ لوگ بےصبری سے اسکا انتظار کر رہے تھے
آبادی اور شہر سے دور آس پاس جنگل نما جاڑیوں میں بنا سفید خوبصورت سا داد ہاؤس۔۔وہ ایک نظر گھر پر ڈالے اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔اندر باہر ہر جگہ گارڈز کی فوج موجود تھی۔۔وہ سر جھٹک کر اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی تبھی اُسکی نظر شاکر دادا پر پڑی۔۔۔جو خون آشام آنکھوں سمیت اُسے دیکھ کم گھور زیادہ رہا تھا۔۔وہ آگے بڑھ کر خوشی سے اپنے باپ کے گلے لگی۔۔کیسے ہے آپ بابا۔۔کب آے۔۔اور مجھے بھی نہیں بتایا کہ آپ پاکستان آ رہے ہیں۔۔وہ اُن کے گلے لگتی ہوئی آخری بات خفگی سے بولی۔۔۔تم نے نکاح کرتے وقت کون سا مجھے بتایا تھا۔۔وہ بھی دوبدو بولے۔۔۔اُن کی بات پر رمشا نے جھٹکے سے سر اُٹھا کر اُنہیں دیکھا جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔اُسے اِس وقت اس سوال کی توقع بالکل بھی نہ تھی۔۔بابا۔۔و۔۔وہہ۔۔مم۔۔میں۔۔وہ۔۔رمشا سے کوئی بات نہیں بن پارہی تھی۔۔۔رمشا۔۔میں کوئی سوال جواب نہیں کرو گا مجھے بس سچ سننا ہے وہ اُسے دیکھ اِنتہائی سنجیدگی سے بولے۔۔۔اِس سے پہلے رمشا کوئی جواب دیتی۔۔۔تبھی کسی کی گھمبیر اور برف کی طرح سرد آواز اُن سب کی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔۔۔
جس سے ایک پل کو وہاں موجود ہر انسان کانپ اُٹھا۔۔۔۔
کیسے ہو سسر جی۔۔۔آرمی یونیفارم میں ملبوس۔۔۔سر پر بھی آرمی کیپ پہنے۔۔۔سرخ خون آشام آنکھیں جن پر گلاسز لگاۓ حد درجہ سنجیدگی سے اُنکی طرف دیکھتا برف جیسے سرد لہجے بولا۔۔۔
رمشا تو اُسے آرمی یونیفارم میں یہاں دیکھ کر ہی اپنی جگہ ساکت ہوگئی۔۔اُسے اپنے اردگرد سب کچھ گھومتا ہوا محسوس ہوا۔۔البتہ شاکردادا اسے اُوپر سے نیچے تک گھورنے میں مصروف تھے۔۔۔تم۔کون۔۔ہو۔۔یہاں کیا۔۔کررہے۔ہو۔۔اور تمہیں اندر آنے کی اجازت کس نے دی۔۔۔وہ آرمی والے کو اپنے سامنے دیکھ غصے سے پھنکارے۔۔اُنہیں آرمی والوں سے سخت نفرت تھی جو ہر جگہ اُن کا کام بگاڑنے آ جاتے تھے۔ارے۔ارے۔۔آرام سے سسر جی۔۔آپ اپنے داماد کو گھر سے باہر نکالے گے تو یہ سماج آپ کو جینے نہیں دے گا۔۔۔سبحان آنکھیں پٹپٹا کر بولا۔۔۔جبکہ سبحان کی ایکٹنگ پر اُسکے کان میں لگے آلے میں ولی کی ہنسی گونجی۔۔۔اُسکی بات سن کر شاکر دادا کو زور دار جھٹکا لگا۔۔رمشااااا۔۔تم نے ایک آرمی والے سے شادی کی وہ بےیقینی سے غراۓ۔۔۔باپ کے غرانے سے وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔۔۔سس۔سبحان۔۔یہ۔۔سب۔۔کیا۔۔ہے۔۔تم۔تو۔ایک بزنس مین ہو نہ۔۔۔رمشا کو اپنی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔اُسے شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا ۔۔۔اُسکی بات پر سبحان نے قہقہہ لگایا۔۔
سیریسلی بےبی۔۔۔تمہیں ابھی بھی میں بزنس مین لگتا ہوں۔۔سبحان اُسکی طرف ایک مسکراہٹ اُچھالتا ہوا بولا۔۔لیکن لہجے اِنتہائی سرد تھا۔۔۔سبحان تم کیا بول رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی ہے۔۔رمشا اُسکی طرف دیکھتی ناسمجھی سے بولی۔۔۔ابھی سمجھ آ جاۓ گی جب میں تمہارے سامنے تمہارے باپ کو اریسٹ کرو گا۔۔۔سبحان اُسکی طرف دیکھتا اپنی ٹن میں واپس آتا سنجیدگی سے بولا۔۔اُسکی بات پر تینوں کو شدید قسم کا جھٹکا لگا۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ۔۔دادا کا سختا ٹوٹتے ہی وہ غرا کر بولا۔۔۔
ہاہاہاہا ڈئیر سسر جی میں یہاں آپ کی محبت میں مر مٹنے کے لیے نہیں آیا بلکے آپ کو اور کی اِس بیٹی کو نئے سسرال لے جانے آیا ہوں۔۔وہ خون آشام نظریں اُن دونوں پر گاڑتے ہوئے بولا۔۔رمشا تو ساکت سی اُسے دیکھے سب سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔ہاہاہاہا۔۔بچے لگتا ہے تم ابھی شاکردادا کو جانتے نہیں ہو جو ایسی واحیات باتیں کررہے ہو۔۔۔اور تمہارے پاس کیا ثبوت ہے جس کی بنا پر تم مجھے یہاں اریسٹ کرنے چلے آۓ ہو۔۔شاکر دادا ہنستے ہو مکاری سی بولا۔۔۔
اُن کی بات پر سبحان نے ایک بھرپور مسکراہٹ اُن کی طرف اچھالی۔۔۔اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا جاکر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
آپ کی بیٹی پلس میری نام کی بیوی نے خود مجھے پیپرز سائن کرکے دیے ہیں جس میں تمہارے سارے کالے کرتوتوں کے بارے میں ایک ایک حرف صاف صاف لکھا ہے ۔۔۔کہ تم کیسے پاکستان کے ہر شہر سے ہر ماہ لڑکیاں اغوا کرکے باہر کے ممالک سمگل کرواتے ہو۔۔۔یونی کالج سکول میں کیسے تم ڈرگز سے ہماری نئی نسل کو نقصان پہنچا رہے۔۔۔کتنی ہی لڑکیوں کی تم نے اور تمہاری سوکلڈ گینگ نے عزتیں لوٹی ہے۔۔یہ سب کچھ اُن پیپرز میں حرف بہ حرف لکھا ہے جس پر تمہاری بیٹی نے خود اپنے نازک ہاتھوں سے بڑی بےتابی سے سائن کرکے تمہارے ہر کام کی گواہ بنی ہیں سبحان تمسخرانہ ہنسی ہنستا اِنتہائی سرد لہجے میں ہر لفظ چبا چبا کر بولا۔۔۔اُسکی بات پر موسیٰ اور شاکردادا نے ڈر کے مارے اپنا تھوک نگلا۔۔۔
سبحان کی بات پر رمشااا ہوش میں آتی باپ کی طرف دیکھتی نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔۔۔مم۔۔میں۔۔نے۔۔کوئی۔۔پیپر۔۔سائن۔۔نہیں۔۔کیے۔۔بابا۔۔یہ۔۔جھوٹ۔۔ہے۔۔۔۔ہاہاہاہہا۔۔بیوی یار بس بھی کرو اپنے شوہر پر جھوٹا الزام لگا رہی ہو۔جہنم میں جاؤ گی ۔۔سبحان اُسکی بات کاٹ کر ہنستے ہوئے بولا۔۔۔رمشا نے اُسے غصے سے گھورا۔۔اُسنے بالکل بھی نہیں سوچا تھا اُسکی صبح اِس قدر بھیانگ ہوگی۔۔۔
تمہارے پاس کیا ثبوت ہے جو تم میری بیٹی پر الزام لگا رہے ہو۔۔وہ غرا کر بولے۔۔۔سبحان نے بنا دیر کیے اپنی پینٹ کی پاکٹ سے رمشا کے سائن کیے ہوۓ پیپر نکال کر اُن کی طرف اُچھالے۔۔لے جی دیکھ کر اپنی پوری تسلی کرلے تاکے تم تینوں کو سسرال پہنچا کر میں سکون سے گھر جاسکو۔۔میری بیوی اور بچی انتظار کررہی ہو گی۔۔۔وہ آرام سے اُنہیں دیکھتا ہوا بولا۔۔۔پیپرز پڑھ کر اُن کی آنکھیں ابل کر باہر آگئی ایسا ہی حال اُ ن دونوں کا تھا ۔۔۔دادا نے بنا دیر کیے جلدی سے پیپر پھاڑ دیے۔۔۔اور مسکراتا ہوا اُسے دیکھنے لگا۔۔۔لیکن اُسکی حرکت پر سبحان ویسے ہی آرام سے بیٹھا رہا۔۔۔اُسے دیکھ شاکردادا نے مٹھیاں بھینجی۔۔۔۔تم۔۔یہاں۔۔سے زندہ بچ۔کر جاؤ گے تو ہمیں اریسٹ کرو گے۔۔۔آج تک کوئی بھی شاکردادا کے گھر سے زندہ بچ کر نہیں گیا ہے۔۔۔ریاض۔۔دلاور۔۔حاشر۔۔کہاں مرگئے سب کے سب۔۔وہ اپنے آدمیوں کو باری باری آوازیں لگاتا ہوا غصے سے بولا۔۔۔اُن تینوں کو اپنی موت اِس وقت سبحان کی صورت سامنے نظر آرہی تھی ۔۔۔۔
سسر جی چلانے سے کوئی فائدہ نہیں میرے آفیسرز نے اب تک تو اُنہیں ٹکانے لگا دیا ہوگا۔۔۔سبحان اپنی جگہ سے اُٹھتا ہوا اُن کا سکون غارت کر چکا تھا۔۔۔اُسکی بات پر ان تینوں نے اُسے دیکھ تھوک نگلا۔۔۔
ہاں۔۔آجاؤ۔۔سبحان کان میں لگے آلے میں سنجیدگی سے بولا۔۔۔کچھ ہی دیر میں سیکیورٹی آفیسرز نے اُنہیں مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا تھا۔۔۔کاشان نے آگے بڑھ کر کئی گھوسے اور لاتیں موسیٰ کو ماری جس سے وہ زمین پر لیٹا کہرار رہا تھا۔۔مجھے شرم آتی ہے کہ تو ہمارے خاندان کا حصہ لعنت ہے تجھ جیسے شخص پر جو اپنے گھر کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کا بھی نہ ہوسکا۔۔کاشان اُسے دیکھ نفرت سے بولا۔۔۔
کیپٹن نوفل اینڈ کیپٹن ولی۔۔۔انڈر اریسٹ وہ اِنتہائی سنجیدگی کے ساتھ سرد لہجے میں بولا۔۔۔تو وہ سر ہلاتا ہوا آگے بڑھا تبھی ہوا میں فائر کی آواز گونجی۔۔جس سے سب اپنی جگہ ساکت ہوگئے۔۔۔
________________
جب سے سبحان نے رمشا سے نکاح کیا تھا۔۔۔اُسنے کمرے سے بلکل نکلنا چھوڑ دیا تھا۔۔وہ نہیں دیکھ سکتی تھی سبحان کو کسی اور کے پہلو میں۔۔۔سبحان کی بے وفائی کو سوچتے اُسکا دل ہر وقت درد سے پھٹتا رہتا علی نے فضا کی غیر ہوتی حالت کے پیشے نظر ہادیہ کو اُسکے گھر سے لے آیا تھا ہادیہ کو دیکھ وہ اپنا قائم کیا ضبط کھو بیٹھی اور اسکے گلے لگے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔فضا کی حالت دیکھ ہادیہ سبحان پر غصہ افسوس کے علاؤہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔پورا دن وہ فضا کے پاس گزار کر علی کے ساتھ واپسی کے لیے روانہ ہو چکی تھی۔۔دیا بھی علی کے ساتھ ہی تھی۔۔۔فضا گم صُم سی بیڈ پر بیٹھی کسی مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔۔۔اُسنے سوچ لیا تھا وہ یہاں اب مزید نہیں رہ سکتی تھی وہ یہاں سے سبحان سے اِس گھر سے دور جانا چاہتی تھی۔۔۔لیکن آۓ یہ بےبسی۔۔۔وہ اُس وقت اِنتہائی بےںسی کی اِنتہا وں پر تھی۔۔۔ایک طرف وہ جنہوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ جیے یا مرے۔۔زندہ ہے یہ مر گئی۔۔۔اور دوسری طرف وہ جس نے اُسے اپنا سب کچھ بنا کر اپنا نہیں رہنے دیا۔۔۔یہ سب سوچ آتے ہی اُسکا دماغ درد سے پھٹا جارہا تھا۔۔
اُسنے فیصلہ کرلیا تھا وہ اب یہاں مزید نہیں رہے گی۔۔۔کاشان کو بول کر کہی دوسرے شہر کسی فلیٹ میں رہ لے گی سبحان کی پہنچ سے دور۔۔۔لیکن اب مزید سبحان کے ساتھ نہیں رہے گی۔۔۔جس نے اُسے بیچ رہ میں چھوڑ دیا تھا۔۔۔اُسکا دم گھٹ رہا تھا۔۔۔سر کا درد مزید بڑھتا چلا جا رہا تھا۔۔۔اُسنے کھینچ کر سر پر کیا حجاب اُتار دیا۔۔۔اُسے ایسا لگا جیسے کوئی زور زور سے اُسکے سر میں ہتھوڑا مارہا ہے۔۔جو اب اُسکی برداشت سے باہر ہو رہا تھا ۔۔۔۔
Episode 27
اِتنی بھی جلدی کیا ہے آفیسر۔۔۔شاکردادا کو پکڑنا اِتنا بھی آسان نہیں ہے۔۔تم لوگ تو ابھی بچے ہو ۔۔۔وہ مکرو مسکراہٹ لیے بولے۔۔۔سامنے والے کو اِس درندے نما روپ میں دیکھ کر مانو اُن تینوں کو چھ سو والٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔۔وہ تو خواب میں بھی یہ نہیں سوچ سکتے تھے کہ شاکردادا کا دوسرا ساتھی کوئی اور نہیں حسن شاہ ہوگا۔۔۔
بب۔ا۔بابا۔۔کاشان کے لب بےیقینی سے پھڑپھڑاۓ ۔۔وہ بےیقینی سی کیفیت میں اُنہیں دیکھ رہا تھا جو اپنے آدمیوں کے ساتھ اُن سب پر گن تھامے کھڑا ہوۓ تھے۔۔۔اے۔ایس۔کو اپنے سامنے دیکھ اُن تینوں نے شکرادا کیا۔۔اے۔ایس۔۔شکر ہے تم آگئے ورنہ میں نے تو سمجھا تھا آج ہمارا پتا کٹ۔۔اور تمہیں ہمارا پتہ بھی نہیں چلنا تھا ۔۔وہ اُن کی طرف دیکھتا مسکراہٹ اچھالتا ہوا بولا۔۔ہاہاہاہاہذ۔۔دادا ایسے کیسے میں تم لوگوں کو مرنے دے سکتا ہوں۔۔۔اور اِتنے سالوں سے سیاست میں رہ رہ کر ہمیں بھی پتہ چل گیا ہے۔۔کہ کھیل کیسے اور کہاں کھیلنا چاہیے وہ کمینگی سے بولے۔۔۔بابا۔۔آپ یہ۔۔سب۔۔۔کاشان سے بولا بھی نہیں جارہا تھا۔۔۔کیا۔۔ہوا شاک لگا اپنے باپ کو سامنے دیکھ کر لگنا بھی چائیے۔۔۔میں نے بہت کوشش کی سامنے نہ آنے کی لیکن آج اِتنے سالوں میں پہلی بار تم لوگوں کی صرف تم لوگوں کی وجہ سے اے۔ایس کسی کے سامنے آیا ہے۔۔۔جو تم لوگوں کے لیے اب بہت برا ہونے والا ہے۔۔۔آخری بات وہ اِنتہائی سنجیدگی سے بولا۔۔۔سبحان اب تک کچھ نہیں بولا تھا۔۔لیکن اُسکی سرخ آنکھیں اُسکے اندر پل رہے لاوے کا پتہ دے رہی تھی۔۔جو جلد ہی پھٹنے والا تھا۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔ویسے تم میں بھی میجر سکندر خانزادہ کی طرح کافی ہمت و حوصلہ ہے۔۔۔ماننا پڑے گا۔۔وہ بھی تمہاری طرح بہت ہواؤں میں اُڑ رہا تھا۔۔۔پھر کیا ہوا مر گیا بچارا۔۔۔وہ کمینگی کی ہر حد پار کرتے ہوئے خباثت سے بولا۔۔۔اُن کی بات پر سبحان نے مٹھیاں بھینجی۔۔۔اور تم سب کو ایک راز کی بات بتاؤ کہ وہ مرا کیسے۔۔۔ہم۔نے۔۔مارا ہے۔۔اُسکا ایکسیڈنٹ کروا دیا جس سے بچارا اپنی بیوی کے ساتھ دنیا چھوڑ گیا۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔۔تمہیں بھی بول رہا ہوں مجھ سے پنگا مت لو انجام اچھا نہیں ہوگا۔۔۔آخر پر وہ دھمکاتے ہوۓ بولا۔۔۔سبحان کو تو اس کے علاؤہ اور کچھ سنائی ہی نہیں دیا کہ اُسکے ماں باپ کو کسی اور نے نہیں اِس شخص نے مارا ہے۔۔اِن کی وجہ سے وہ دونوں بھائی آج تک یتیموں والی زندگی گزار رہے ہیں۔ماں باپ کی یاد آتے ہی اُسکی آنکھیں سرخ ہوئی۔اُسنے غصے سے مٹھیاں بھینچ کر اپنا اُمڈنے والا غصہ دبایا۔۔۔غصے سے دماغ اور گردن کی رگیں واضح نظر آنے لگی۔۔۔سبحان نے اے ایس کی گن پر گرفت ہلکی دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اُن تینوں کو اِشارہ کیا جسے سمجھ کر اُن تینوں نے ہلکا سا سر ہلایا۔۔۔ون۔۔ٹو۔۔تیری۔۔کہتے ہی سبحان نے بنا دیر کیے اے ایس کے ہاتھ سے گن کھینچ کر اُسے اپنے قبضے میں۔۔لیا۔۔۔خخ۔خبردار۔۔جو۔۔کوئی۔۔اپنی۔۔جگہ۔۔سے ہلا۔۔ودنہ اِسکی کھوپڑی اُڑا دو گا۔۔وہ اِنتہائی سرد لہجے میں غرایا۔۔۔اُن تینوں نے بنا دیر کیے سارے آدمیوں کی اچھی خاصی دہلائی کرکے اُنہیں وین میں ڈالا۔۔۔یو پاسا پلٹتا دیکھ اُن تینوں نے خوف کے مارے اپنا تھوک نگلا۔۔۔۔
سسر جی آپ نے مجھے کمزور سمجھ کر اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی ہے۔۔اور ایک راز کی بات بتاؤ۔۔۔سبحان ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ لاۓ سرگوشی میں بولا۔۔۔۔میں اُسی نڈر بہادر کبھی نہ حوصلہ ہارنے والے۔۔بےخوف ہوکر وطن کے لیے جان دینے والے ۔میجر سکندر خانزادہ کا بیٹا میجر سبحان سکندر خانزادہ ہوں۔۔۔اُسکی بات پر اُن سب کو چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔
دیکھو آج اُسی بہادر نڈر میجر کے بیٹے نے تم لوگوں کو تمہارے انجام تک پہنچایا ہے ۔۔۔
کیپٹن ولی ڈالوں اِن سب کو گاڑی میں ِان کے سسرال والے انتظار کر رہے ہوگے۔۔تو وہ یس سر کہتا اُن سب کو گھسیٹتا ہوا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔جب روتی ہوئی رمشا کی آواز اُسکی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔۔سس۔سبحانن۔۔پلیز۔۔مجھے۔۔بچا۔لو۔۔میں۔م۔م۔جیل۔۔نہیں۔۔جانا۔چاہتی۔۔پلیز بچا لو۔۔آخر تم۔۔میرے شوہر ہو۔۔۔وہ اُسے دیکھ اپنے مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوۓ بولی۔۔۔
کون۔۔سا۔۔شوہر۔۔میڈم۔۔آپ کی آنکھوں سے ہینڈسم کو دیکھنے کی پٹی کھلے تو تم دیکھو کے جس نکاح نامے پر تم نے سائن کیے ہیں وہ تمہاری طرح ایک دم نکلی تھا۔۔۔اندر آتے ولی کی زبان پر کجولی ہوئی تو وہ اُسے دیکھ ہر لفظ چبا چبا کر بولا۔۔۔اُسکی بات پر اُسنے جھٹکے سے سر اُٹھا کر اُسے دیکھا۔۔تت۔تم۔نے۔۔ممم۔مجھے۔دھوکا۔۔دیا۔۔وہ بےیقین سی بولی۔۔۔اور تم نے سوچ بھی کیسے لیا میں تم جیسی لڑکی سے شادی کرو گا جو میرے ہی ملک کو برباد کرنے پر ہوئی ہے۔۔۔اپنے اِسی غرور کے چکر میں لڑکی ہو کر ناجانے تم نے کتنی لڑکیوں کی عزت کو تار تار کی۔۔تف ہے تم پر۔۔سبحان اُسے اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھتا غرا کر بولا۔۔۔اور ایک نظر اُس پر ڈالے وہاں۔ سے نکلتا چلا گیا۔۔۔آج آخر اُسنے نڈر اور بہادری سے اپنے بابا کا چھوڑا ہوا اِتنے سال پرانا مشن مکمل کرلیا تھا۔۔۔
________________
وہ سرشار سا واپس گھر آیا اُسکے ساتھ کاشان بھی تھا۔۔وہ فضا سے ملنے اور اُسے اپنے باپ کی سچائی بتانے آیا تھا۔۔جو اُن سب کے لیے ناقابل قبول تھی۔کہ اُن کا باپ اپنے ہی ملک کا سب سے بڑے غدار ہے۔۔۔سبحان جیسے ہی گھر آیا اُسے ایک عجیب سی بےچینی نے آگھیرا۔۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے اُسکی سانسیں اُسے سے دھیرے دھیرے جدا ہورہی ہے۔۔۔وہ جیسے ہی ڈرائنگ ایریا میں داخل ہوۓ۔۔۔اُسے علی کی دروازا پیٹنے کی آوازیں آ رہی تھی۔۔وہ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھے کسی انہونی کے تہت بےچینی سے سڑھیوں کی جانب بڑھے۔۔۔وہ جیسے ہی اپنے کمرے کی باہر پہنچا تو سامنے ہی اُسے علی اپنے کمرے کا دروازا پیٹتا ہوا دکھا۔۔۔علی۔۔۔اُسنے بےچینی سے اُسے پکارا ۔۔۔بھائی۔۔بھائی۔۔شکر ہے آپ آگے۔۔سبحان کو دیکھ اُسے کچھ ڈھارس ملی۔۔۔کیا ہوا۔۔تم۔یہاں کمرے کے باہر۔۔اور فضا کہاں ہے۔۔وہ بےچینی سے بولا۔۔۔بھائی میں ہادیہ کو چھوڑنے گیا تھا دیا بھی میرے ساتھ تھی تو جب میں واپس آیا تو دیا سو چکی تھی اُسے میں بھابھی کے حوالے کرنے آیا تو دروازا بند تھا اور میں پچھلے آدھے گھنٹے سے دروازا بجا رہا ہوں۔۔بھابھی نہ ہی دروازا کھول رہی ہے نہ اُن کی کوئی آواز آ ر ہی ہیں وہ پریشانی سے بولا اُسکی بات سن کر سبحان پریشانی سے آگے آیا۔۔۔کاشان بھی پریشان سا دروازے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔فف۔فضا۔۔۔فضا۔۔دروازا کھولو۔۔دیکھو۔۔کک۔کون۔۔آیا۔۔ہے۔۔تمہارا بھائی۔۔سبحان دروازا بجاتے ہوئے بولا۔۔لیکن اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔۔
وہ تینوں مزید فکرمند ہوۓ۔۔سبحان کسی خیال کے تہت کچن کی جانب بھاگا۔۔کچھ ہی دیر میں وہ ایک چابی لے کر واپس آیا۔۔اُسکا دل مسلسل گھبرا رہا تھا۔۔۔اُسنے شدت سے سب ٹھیک ہونے کی دعا کی اور چابی گھما کر اُسنے دروازا کھولا۔۔۔تبھی اُسکی نظر زمین پر لیٹی اُس دشمن جاں پر پڑی جو مچھلی کی طرح سر کو جکڑے تڑپ رہی تھی۔۔۔اُسکی حالت دیکھ تینوں اپنی جگہ ساکت ہوگئے ۔۔۔سبحان کو لگا وہ اب کبھی زندگی میں سانس نہیں لے پائے۔۔۔اُسکے سر پر نظر پڑتے ہی اُسکا دل سو ٹکڑوں میں بٹا۔۔۔اُسنے پہلے کہاں دیکھی تھی اُسکی ایسی حالت۔۔۔بب۔بھابھی۔۔علی بےیقینی سی کیفیت میں بولا۔۔اُسکی آواز سن کر وہ ہوش میں آیا اور دیوانہ وار اُسکی جانب لپکا۔۔۔فف۔فضا۔۔میری۔۔جان۔۔کک۔کیا۔۔ہوا۔۔وہ اُسے اپنے سینے سے لگاۓ کرب سے بولا۔۔آنکھیں اِس وقت اِتنی سرخ تھی کہ جیسے ابھی ہی خون جھلک پڑۓ گا۔گڑیا۔۔گڑیا۔۔دیکھو۔۔میں۔۔تمہارا شان۔۔دیکھو میں تم سے ملنے آیا ہوں اپنی گڑیا سے۔۔۔کاشان اُسکے گال تھپتھپاتے ہوۓ تکلیف سے بولا۔۔۔اپنی بہن کی ایسی حالت دیکھ کاشان کی آنکھیں نم ہونے لگی۔۔۔سس۔۔سبحان۔۔ممم۔فضا اپنی آدھا بند کھلی آنکھوں سے بولی۔۔جی میری جان۔۔بولو۔۔سس۔سبحان۔۔مم۔میرا۔سر۔ درد۔۔سے پھٹا۔۔جارہا۔۔ممم۔مجھ۔۔سے۔برداست۔۔نن۔نہیں۔ہورہا ہ۔۔مم۔۔میں۔۔مم۔مرنے۔۔والی۔۔ہوں۔۔وہ۔۔میری۔۔دیا۔۔کا۔خیال۔۔رکھنا۔۔وہ درد برداشت کرتی ہوئی مسکرا کر بولی۔۔۔اُسکی بات پر سبحان نے تکلیف سے آنکھیں میچی۔۔۔تت۔تمہیں۔۔کک۔کچھ۔۔نہیں۔۔ہوگا۔۔تمہیں۔جینا۔ہے۔ابھی۔۔ہم۔۔سب۔کہ۔ساتھ۔۔۔وہ نم آواز میں بولا۔۔۔علی دیا کا خیال رکھنا ہم ہوسپٹل جارہے ہیں وہ کہتے ہی کانپتے ہاتھوں کے ساتھ جلدی سے فضا کو باہوں میں اُٹھاۓ باہر کی جانب بھاگا۔۔۔
کاشان بھی اُسکے پیچھے بھاگا۔۔۔
آدھے گھنٹے کی مسافت تہ کرکے وہ دونوں فضا کو لیے ہوسپٹل میں پہنچے۔۔ڈاکٹر اُسکی حالت دیکھ جلدی سے اُسے لیے آپریشن تھیٹر کی جانب بڑھی۔۔۔کچھ منٹ بعد ڈاکٹر واپس آئی۔۔مسٹر سبحان۔۔۔میں نےآپ کو پہلے ہی بولا تھا اُنہیں سٹریس سے جتنا ہوسکے دور رکھے۔۔۔اور اُن کی مسلسل بگڑتی حالت دیکھ مجھے نہیں لگتا وہ اپنی میڈیسنز بھی ریگولر لیتی ہوں۔۔ڈاکٹر پریشانی سے بولی۔۔۔اُن کی حالت مزید بگڑ رہی ہے جس سے ہمیں ابھی اور اِسی وقت سرجری کرنی ہوگی۔۔اِس کے علاؤہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔اور۔۔۔ڈاکٹر کہتے کہتے روکی۔۔۔اور۔۔سبحان کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔۔۔اور سرجری کے چانسز بہت کم کے وہ بچ پاۓ۔۔۔ڈاکٹر کی بات پر اُن دونوں نے تکلیف سے آنکھیں میچی۔۔۔۔اُن دونوں کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اُن کا جسم بےجان ہو رہا ہے۔۔۔کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر پیپرز سائن کروا کر جاچکی تھی۔۔۔۔ڈاکٹر کے جاتے ہی سبحان تھکا سا کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔اُس نے کہاں سوچی تھی ۔۔فضا کی ایسی حالت۔۔وہ تو مر کے بھی یہ تصور نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ہیہ۔ہمم۔ہمت۔۔رکھو۔یار۔۔وہ۔ٹھیک۔۔ہو۔جاۓ۔گی۔۔کاشان بھرائی ہوئی آواز میں اُسے تسلی دیتے ہوئے بولا۔۔۔کسی اپنے کو پاس پاکر سبحان کا ضبط جواب دے گا اور اُسکے گلے لگے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔۔۔کون کہتا ہے مرد روتا نہیں مرد کو درد نہیں ہوتا۔۔ہوتا ہے درد لیکن وہ روتا ہے لیکن وہ مرد ہے نہ دنیا کے سامنے ظاہر نہیں کرتا۔۔آج وہ دنیا کی پروا کیے بنا بچوں کی طرح رو رہا تھا۔۔۔اپنی محبت کے لیے۔۔اپنے عشق اپنی بیوی کے لیے۔۔۔سبحان یار چپ ہوجا۔۔تو دیکھنا بہت جلد میری گڑیا ٹھیک ہوجاۓ گی۔۔کاشان اُسکی پیٹھ سہلاتے ہوئے بولا ۔۔۔کاشان مم۔میں۔۔اچھا۔۔شوہر۔۔نہیں۔۔مم۔میں۔۔اُس۔سے محبت کا دعویٰ کرتا ہوں۔۔لیکن ممم۔میں۔اُسکا خیال نہیں رکھ پایا۔۔۔یی۔یہ۔سب۔میری۔۔وجہ۔سے۔۔ہوا۔۔ہے۔۔اپنے کام میں میں۔۔اُسکی حالت ہی بھول گیا۔۔۔یی۔یہ۔سب۔میری۔وجہ۔سے ہوا ہے۔۔۔کاشان اُسے بول نہ وہ ٹھیک ہوجاۓ۔۔۔میں اُسکے بغیر نہیں رہ سکتا وہ میری ہر ایک آتی جاتی سانس کی ڈور ہے۔۔وہ بچوں کی طرح اُسکے گلے لگے خود سے شکوہ کررہا تھا
سب۔سس۔سبحان۔یار۔۔تو۔۔ایسے۔۔کرۓ۔۔گا۔۔تو۔۔فضا۔۔کو۔۔کون سنبھالے گا۔۔۔تم۔۔نے۔یہ۔۔کسی۔۔نے۔کچھ۔۔نہیں۔۔کیا۔۔یہ۔۔سب۔اُسکی۔قسمت۔میں۔ہونا۔لکھا۔۔ہے۔۔وہ بھرائی آواز میں بولا۔۔۔
تم ایسا کرو جاؤ اور جاکر وضو کرکے فضا کے لیے دعا کرو۔ اپنے رب سے مانگو اپنی محبت کو وہ رب اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے وہ تمہیں خالی ہاتھ نہیں لوٹاۓ گا۔۔اُسے اِس وقت ہماری دعاؤں کی ضرورت ہے۔۔۔وہ اُسے خود سے الگ کرتے ہوئے بولا تو وہ بچوں کی طرح سر ہلاتا ہوا واشروم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔کاشان نے ضبط سے آنکھ میچی جو شدید ضبط کی وجہ سے سرخ ہورہی تھی۔۔۔۔
_______________
اُسنے وضو کرکے ہوسپٹل میں موجود پیرئر روم میں مغرب کی نماز ادا کی۔۔اُسنے جیسے ہی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے۔۔آنسو خود با خود جارہی ہوگئے۔۔۔یااللّٰہ تو رحیم ہے تو کریم۔۔آہے میرے مالک تو ہی ہم گناہ گاروں کی خطا معاف کرنے والے ہے یا رب مجھ گناہ گار کو معاف۔۔۔اے میرے اللّٰہ میری محبت میری محبوب بیوی کو میری شریکِ حیات کو ٹھیک کردے۔۔۔یااللّٰہ تیری کُن سے کیا کچھ نہیں ہوسکتا تو تو اِن دو جہانوں کا پالنے والا ہے یااللّٰہ میں تجھ سے اپنی محبت اپنی بیوی کی صحت یابی کی بھیک مانگتا ہوں۔۔۔اُسکے ساتھ کہی زندگیاں جڑی ہے رحم کر وہ کہتا ہی سجدے میں گرا بچوں کی طرح بلک بلک کر رہ دیا۔۔۔یہ وہ واحد جگہ تھی جہاں مضبوط سے مضبوط مرد بھی ضبط کھو دیتا تھا۔۔۔جہاں کوئی کسی کے آنسو کا مزاق نہیں بناتا تھا۔۔جہاں بندے اپنے رب کے سامنے اپنا دل کھول کے رکھ دیتے تھے۔۔کتنی ہی دیر وہ وہی بیٹھا رہا آخر ہمت کرکے اُسنے واپسی کے لیے قدم بڑھاۓ۔۔۔
وہ واپس آیا تو نوفل اور رانیہ بھی وہاں موجود تھے۔۔۔علی نے فون کرکے اُنہیں فضا کی کنڈیشن بتائی تھی۔۔۔صبر رکھ میرے بھائی اللّٰہ سب ٹھیک کرۓ گا بھابھی جلدی ٹھیک ہو جاۓ گی۔۔نوفل اُسے دلاسہ دیتے ہوئے بولا ۔۔۔جس کی آنکھیں شدید ضبط کے باوجود سرخ ہورہی تھی ۔۔۔
دو گھنٹے ہونے کو آۓ تھے لیکن ڈاکٹر ابھی تک باہر نہیں آئی تھی۔۔۔اُن سب کی بےچینی مزید بڑھتی چلی جارہی تھی۔۔سبحان کا دل درد کے مارے پھٹا جا رہا تھا۔۔۔وہ مسلسل دل میں فضا کی سلامتی کی دعائیں کررہا تھا۔۔۔
مزید دو گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد ڈاکٹر باہر نکلی ڈاکٹر کو آتا دیکھ سب جلدی سے اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُن کی طرف لپکے ۔۔۔
لیکن پوچھنے کی ہمت کسی کی بھی نہیں ہورہی تھی ۔۔۔
دونوں دھڑکتے دل کے ساتھ ڈاکٹر کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
آپریشن کامیاب ہوا۔۔۔ڈاکٹر اُن سب کی طرف دیکھ کر بولی۔
ڈاکٹر کی بات پر اُن سب نے خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔لل۔لیکن۔۔۔
لیکن۔۔کیا۔۔ڈاکٹر۔۔۔لیکن آگلے چوبیس گھنٹے ان کے لیے بہت اہم ہے۔۔اگر چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اُنہیں ہوش نہ آیا تو وہ کوما میں جا سکتی ہے۔۔۔ڈاکٹر کی بات پر اُن سب نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔
