Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul NovelR50617 Last updated: 8 April 2026
Rate this Novel
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 01)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 02)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 03)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 04)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 05)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 06,07)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 08)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 09)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 10)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 11,12)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 13)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 14)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 15)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 16)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 17,18)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 19)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 20)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 21)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 22)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 23)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 24) Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 25) Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 26,27)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 28)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 29)Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Last Episode)
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul
ٹھیک چار دن بعد فائق اور لائبہ کی شادی تہ پائی گئی تھی۔۔فائق تو نہیں البتہ لائبہ بےانتہا خوش تھی اسکے تو پاؤں زمین پر ہی نہیں ٹک رہے تھے۔۔ ہر چیز میں وہ بڑھ چڑ کے حصہ لے رہی تھی۔۔۔کپڑوں سے لے کر دوسری چیزوں تک ہر چیز وہ اپنی پسند سے لے رہی تھی۔۔۔اب بھی وہ اپنی ماں کے ساتھ مول باقی کی شاپنگ کرنے مول گئی ہوئی تھیں ۔۔
مرد حضرات سب آفس گئے ہوئے تھے۔۔۔ہادیہ کا آج سیکنڈ سمسٹر کا لاسٹ پیپر تھا۔۔تو وہ یونی گئی ہوئی تھیں۔۔۔۔
فضا گھر پر ہی تھی وہ دیا کو گود میں لیے ہادیہ کو کال کررہی تھی۔۔۔جو دوسری طرف سے ایک دو بل کے بعد اُٹھا لی گئی تھی۔۔ہاں۔۔ہیلو۔۔ہادیہ۔۔یار۔۔کہاں۔۔۔ہو۔۔فضا پریشانی سے بولی۔۔۔فضا یار میں تو یونی میں ہوں۔۔۔ابھی پیپر دیے کر فارغ ہوئی ہوں۔۔کیوں خیریت تم اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو۔۔۔۔ہادیہ اسکی پریشان آواز سن کر خود بھی فکرمندی سے بولی۔۔یار ہادیہ میری یونی کی طرف سے لاٹر آیا تھا لیکن میں دیکھنا بھول گئی اب دیکھا تو۔۔۔تو مجھے کچھ فارم جمع کروانے ہوگے یونی میں اور لاسٹ ڈیٹ بھی آج ہی ہے۔۔۔فضا اپنے آنسؤں کو روکتے ہوئے نم آواز میں بولی۔۔۔یار تو تم جاکر جمع کروا دو اتنی سی ۔۔ہادیہ نے اپنی تہی مشورہ دیا۔۔یار کیسے جاؤ گھر میں کوئی بھی نہیں ہے اور اس میڈم کو میں اپنے ساتھ لے جا نہیں سکتی۔۔۔ملازمہ کے ہاتھوں یہ چپ رہنے والی نہیں ہے۔۔۔فضا دیا کو زبردست گھوری سے نوزاتی ہوئی بولی۔۔۔تو دیا اپنی ماں تپا ہوا دیکھ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔۔۔کافی دیر بعد بھی جب دوسری طرف سے کوئی آواز نہ آئی تو فضا جھجھلا کر دوبارہ بولی۔۔۔کس مراقبے میں چلی گئی ہو۔۔۔ہاں۔۔کہی نہیں ۔۔میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔۔ہادیہ پرجوش سی بولی۔۔۔کیاااا۔۔جلدی بول۔۔۔مجھے ابھی یونی میں تھوڑی دیر لگ جائے گی۔۔۔تم ایسا کرو اِسے میرے پاس چھوڑ کر چلی جاؤ اور اپنا کام کرلینا۔۔۔۔ہاںں۔۔یہ۔۔ہی ٹھیک رہے گا۔۔۔ٹھیک میں تمہیں 20 منٹ تک ملتی ہوں یونی کے باہر۔۔۔چل ٹھیک ہے آجا بائے۔۔۔کہ کر ہادیہ نے فون رکھ دیا۔۔۔
وہ جو کب سے سامنے بیٹھا اُسے نہارنے میں مصروف تھا۔۔اپنی کمر پر لگنے والے زبردست مکے سے وہ ہوش میں آتا کہرا کر بولا۔۔۔آہہ۔۔ہ۔۔ہ۔۔ظالم عورت میں اب کیا کیا۔۔علی معصومیت سے اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔یہ جو تم کب سے مجھے چھچھورو کی طرح گھور گھور کر دیکھ رہے تھے وہ کیا ہے۔۔۔وہ بھی اسکی طرف دیکھتی ہر لفظ چبا چبا کر بولی۔۔۔اسکی بات پر وہ گڑبڑایا۔۔۔ہی۔ہی۔۔ایی۔۔ایسا تو کچھ نہیں ہے۔۔وہ۔۔تو۔۔مم۔۔میں بس۔۔سوچ رہا تھا کہ کنٹین چلتے ہیں۔۔وہ بدلتا ہوا بولا۔۔۔اور جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑے کھینچتے ہوئے اپنا ساتھ لے گیا۔
