Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

ٹھیک چار دن بعد فائق اور لائبہ کی شادی تہ پائی گئی تھی۔۔فائق تو نہیں البتہ لائبہ بےانتہا خوش تھی اسکے تو پاؤں زمین پر ہی نہیں ٹک رہے تھے۔۔ ہر چیز میں وہ بڑھ چڑ کے حصہ لے رہی تھی۔۔۔کپڑوں سے لے کر دوسری چیزوں تک ہر چیز وہ اپنی پسند سے لے رہی تھی۔۔۔اب بھی وہ اپنی ماں کے ساتھ مول باقی کی شاپنگ کرنے مول گئی ہوئی تھیں ۔۔
مرد حضرات سب آفس گئے ہوئے تھے۔۔۔ہادیہ کا آج سیکنڈ سمسٹر کا لاسٹ پیپر تھا۔۔تو وہ یونی گئی ہوئی تھیں۔۔۔۔
فضا گھر پر ہی تھی وہ دیا کو گود میں لیے ہادیہ کو کال کررہی تھی۔۔۔جو دوسری طرف سے ایک دو بل کے بعد اُٹھا لی گئی تھی۔۔ہاں۔۔ہیلو۔۔ہادیہ۔۔یار۔۔کہاں۔۔۔ہو۔۔فضا پریشانی سے بولی۔۔۔فضا یار میں تو یونی میں ہوں۔۔۔ابھی پیپر دیے کر فارغ ہوئی ہوں۔۔کیوں خیریت تم اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو۔۔۔۔ہادیہ اسکی پریشان آواز سن کر خود بھی فکرمندی سے بولی۔۔یار ہادیہ میری یونی کی طرف سے لاٹر آیا تھا لیکن میں دیکھنا بھول گئی اب دیکھا تو۔۔۔تو مجھے کچھ فارم جمع کروانے ہوگے یونی میں اور لاسٹ ڈیٹ بھی آج ہی ہے۔۔۔فضا اپنے آنسؤں کو روکتے ہوئے نم آواز میں بولی۔۔۔یار تو تم جاکر جمع کروا دو اتنی سی ۔۔ہادیہ نے اپنی تہی مشورہ دیا۔۔یار کیسے جاؤ گھر میں کوئی بھی نہیں ہے اور اس میڈم کو میں اپنے ساتھ لے جا نہیں سکتی۔۔۔ملازمہ کے ہاتھوں یہ چپ رہنے والی نہیں ہے۔۔۔فضا دیا کو زبردست گھوری سے نوزاتی ہوئی بولی۔۔۔تو دیا اپنی ماں تپا ہوا دیکھ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔۔۔کافی دیر بعد بھی جب دوسری طرف سے کوئی آواز نہ آئی تو فضا جھجھلا کر دوبارہ بولی۔۔۔کس مراقبے میں چلی گئی ہو۔۔۔ہاں۔۔کہی نہیں ۔۔میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔۔ہادیہ پرجوش سی بولی۔۔۔کیاااا۔۔جلدی بول۔۔۔مجھے ابھی یونی میں تھوڑی دیر لگ جائے گی۔۔۔تم ایسا کرو اِسے میرے پاس چھوڑ کر چلی جاؤ اور اپنا کام کرلینا۔۔۔۔ہاںں۔۔یہ۔۔ہی ٹھیک رہے گا۔۔۔ٹھیک میں تمہیں 20 منٹ تک ملتی ہوں یونی کے باہر۔۔۔چل ٹھیک ہے آجا بائے۔۔۔کہ کر ہادیہ نے فون رکھ دیا۔۔۔
وہ جو کب سے سامنے بیٹھا اُسے نہارنے میں مصروف تھا۔۔اپنی کمر پر لگنے والے زبردست مکے سے وہ ہوش میں آتا کہرا کر بولا۔۔۔آہہ۔۔ہ۔۔ہ۔۔ظالم عورت میں اب کیا کیا۔۔علی معصومیت سے اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔یہ جو تم کب سے مجھے چھچھورو کی طرح گھور گھور کر دیکھ رہے تھے وہ کیا ہے۔۔۔وہ بھی اسکی طرف دیکھتی ہر لفظ چبا چبا کر بولی۔۔۔اسکی بات پر وہ گڑبڑایا۔۔۔ہی۔ہی۔۔ایی۔۔ایسا تو کچھ نہیں ہے۔۔وہ۔۔تو۔۔مم۔۔میں بس۔۔سوچ رہا تھا کہ کنٹین چلتے ہیں۔۔وہ بدلتا ہوا بولا۔۔۔اور جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑے کھینچتے ہوئے اپنا ساتھ لے گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *