Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 15)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

رات کے اندھیرے میں اِس وقت گاڑی سڑک پر فراٹے بھرتی ہوئی دوڑ رہی تھی۔۔۔فضا آنسوؤں سے لبریز اپنی سبز آنکھوں سے باہر کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔

جب کہ دیا فضا کی گود میں سوئی ہوئی تھی۔۔ نوفل اور رانیہ اپنی گاڑی میں تھے۔۔۔ ڈرائیونگ کرتے سبحان گائے بگاۓ نظریں اُس پر بھی ڈال لیتا تھا جو سپاٹ نظروں سے باہر کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔اُسکی ایسی حالت دیکھ سبحان کے دل میں ٹھیس اُٹھی۔۔۔ اُسے دیکھ سبحان نے ایک لمبی سانس ہوا کے سپرد کی اور ڈرائیونگ کی جانب متوجہ ہوگیا۔۔۔

کچھ ہی دیر میں گاڑی خان ولا پہنچ چکی تھی۔۔چوکیدار نے گاڑی دیکھتے ہی فورن دروازا کھولا۔۔۔ایک ہی جھٹکے میں گاڑی اندر داخل ہوچکی تھی۔۔۔آہان کے کافی شور مچانے کے باوجود رانیہ اور نوفل صبح آنے کا وعدہ کرکے وہاں سے ہی سیدھا اپنے گھر جاچکے تھے۔۔۔سبحان گاڑی سے نکل کر فضا کی جانب آیا اور اُسکی گود سے سوئی ہوئی دیا کو اُٹھاکر اپنے کندھے پر لگایا۔۔اور ایک نظر فضا کو دیکھا جو گم صُم سی بیٹھی ہوئی تھی۔۔فضا۔۔فضا۔جانم۔گھر آگیا ہے۔۔۔سبحان کی آواز سے وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔۔اور خود کو سنبھالتی ہوئی گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔

اُسکے سر میں اِس وقت شدت سے درد ہورہا تھا۔۔جو کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جارہا تھا۔۔جسے وہ بےمشکل نظر انداز کر رہی تھی۔۔۔آپ ٹھیک ہے۔۔سبحان اُسے دیکھ فکرمندی سے بولا تو وہ ہاں میں سر ہلا گئی۔۔۔لیکن وہ پھر بھی مطمئن نہیں ہوا تھا۔۔وہ اُن دونوں کو لیے اندر کی جانب بڑھا۔۔۔فضا چپ چاپ اُسکے پیچھے اندر داخل ہوئی۔۔۔اِس وقت گھر میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔ملازم سب اپنے اپنے کوارٹرز میں جاچکے تھے۔۔۔سبحان اُسے لیے اُوپر اپنے کمرے میں آیا۔۔وہ دروازا کھول کر کمرے میں داخل ہوا اور دیا کو بیڈ پر لٹا کر محبت سے اُسکے سر پر بوسہ دیا۔۔۔

اُسکے پیچھے ہی فضا کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔اُن دونوں کو دیکھ کر سبحان کو آج اپنا سب کچھ مکمل سا لگا۔۔وہ محبت سے فضا کو دیکھ رہا تھا۔۔جو بےمشکل درد سے پھٹتے سر کو جھکائے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔کہ تبھی جیب میں رکھا سبحان کا فون رنگ ہوا۔۔جس سے وہ سخت بدمزہ ہوا۔۔اور جیب سے فون نکال کر نمبر دیکھا۔۔۔جہاں کوئی ضروری کال آرہی تھی۔۔۔آپ یہاں بیٹھے۔۔میں بس ابھی آیا۔۔وہ کہتے ہی فون کان سے لگائے کمرے سے نکل گیا۔۔۔

________________

ابھی وہ فون سن کر مڑا ہی تھا۔۔۔جب خان ولا میں فضا کی درد ناک چیخیں گونج اُٹھی۔۔۔وہ حوس باساختہ کمرے کی جانب بھاگا۔۔۔وہ جیسے ہی کمرے میں پہنچا سامنے کا منظر دیکھ کر اپنی جگہ ساکت ہوگیا۔۔۔جہاں فضا کا دوبٹہ چادر فرش پر پڑی ہوئی تھی۔۔اور وہ خود دوبٹے سے بے نیاز کھڑکی کے پاس اپنا سر تھامے بیٹھی چیخ رہی تھی۔۔

اُسکے چیخنے کی آواز پر دیا بھی اُٹھ چکی تھی۔۔فضا آنکھوں سے آنسوں مسلسل جاری تھے۔۔۔سبحان اُسکے چیخنے پر ہوش میں آیا۔۔اور تڑپ کر اُسکی جانب بڑھا۔۔اور اُسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا۔۔فضا۔۔فضا۔۔میری جان کیا ہوا۔۔مجھے بتاؤ کیا۔ہوا۔ہے وہ محبت سے اُسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے ہوئے بول رہا تھا۔۔جو اپنے سر کے بالوں کو بےدردی سے نوچ رہی تھی۔۔۔اُسکی حالت دیکھ سبحان کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔میری جان مجھ ے بتاؤ کیا ہوا۔۔اپنے سبحان کو بتاؤ۔۔سبحان کو فضا کی حالت بہت تکلیف دہ رہے تھی۔۔۔م۔۔میرے سر۔۔مم۔۔درد۔ہے۔۔ایی۔ایسا۔۔لگ۔۔رہا۔۔ہے۔۔میرے۔سر۔کی رگیں۔۔درد۔سے۔پھٹ۔جاۓ۔۔گی۔۔وہ بےمشکل درد ضبط کرتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بولی۔۔۔اُسکی مسلسل بگڑتی حالت دیکھ کر سبحان کے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے۔۔۔کہ تبھی اچانک فضا کا جسم ساکت ہوا اور وہ بالکل برف کی طرح ٹھنڈی ہوگئی۔۔اُسنے مزمت کرنا بھی چھوڑ دی۔۔سبحان نے اپنے سینے سے اُسکا سر اُٹھا کر دیکھا تو وہ بے ہوش ہوچکی تھی۔۔۔اُسکی حالت دیکھ سبحان کی آنکھیں نم ہوئی اُسنے جلدی سے فضا کو گود میں اُٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور جلدی سے ڈاکٹر کو کال کی۔۔ڈاکٹر کو کال کرنے کے بعد وہ دیا کی جانب متوجہ ہوا۔۔جو فضا کی چیخوں سے ڈر کر جاگ گئی تھی۔۔۔۔کیا ہوا۔۔بابا۔۔کی جان۔۔روتے نہیں ۔۔بابا۔۔کی بہادر بیٹی۔۔وہ اُسے اپنے سینے سے لگایے محبت سے بول رہا تھا۔۔کچھ ہی دیر میں وہ دوبارہ سے نیند کے آغوش میں جاچکی تھی۔۔تبھی سبحان کا فون بج اُٹھا۔۔اُس نے جلدی سے اُسے بیڈ پر لٹا کر فون یس کیا۔۔۔اور ڈاکٹر کو کمرے میں لانے کا بولا۔۔۔سبحان نے جلدی سے آگے بڑھ کر فضا کے اُوپر کمبل اوڑھا۔۔۔تبھی دروازا نوک ہوا ۔۔اجازت ملتے ہی ڈاکٹر اندر داخل ہوئی۔۔۔سبحان نے ڈاکٹر کو فضا کی حالت کا بتایا۔۔تو ڈاکٹر جلدی سے فضا کا چیک اپ کرنے لگی۔۔۔سبحان پریشانی سے فضا کو دیکھ رہا تھا۔۔جو سب سے بے نیاز آنکھیں بند کیے ہوئے تھی۔۔۔کیا ہوا ڈاکٹر یہ ٹھیک تو ہے نہ ۔۔۔۔

سبحان ڈاکٹر کی طرف دیکھ پریشانی سے بولا۔۔۔

مسٹر خان یہ آپ کی کیا لگتی ہیں۔۔م۔میری۔۔ بیوی ہے۔۔۔تو آپ کو پتہ ہوگا اِنہیں کیا ہوا ہے۔۔۔جی پتہ ہے وہ تکلیف سے بولا۔۔۔

مسٹر خان جیسی مریض کی حالت ہے یہ جیسی اِن کی کنڈیشن ہے اِس حساب سے جتنا اِن کو ہوسکے سٹریس سے دور رکھے۔۔ اُتنا ہی اِن کی زندگی کے لیے اچھا ہے۔۔۔جب جب یہ سٹریس لے گی تب تب اِن کی حالت ایسی ہوگی۔۔جس کے لیے میں آپ کو میڈیسن لکھ کر دیتی ہوں۔۔۔اگر میڈیسن سے اِن کی کنڈیشن میں کوئی فرق نہیں پڑتا تو اِن کا ہمیں جلد سے جلد ٹریٹمنٹ شروع کرنا پڑے گا۔۔۔اور پلیز اِنہیں سٹریس والی چیزوں سے دور رکھے ۔۔۔نہیں تو یا تو یہ کومہ میں جاسکتی ہے یہ اِن کا بچنا مشکل ہوگا۔۔۔ڈاکٹر کی بات سن کر اُسنے تکلیف سے بےمشکل سر ہلایا۔۔۔

ابھی تو میں نے اِنہیں نیند کا انجکشن لگا دیا ہے کل صبح تک ہوش میں آجاۓ گی۔۔وہ اپنے پروفیشنل انداز میں گویا ہوئی تو وہ ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرتا اُنہیں باہر تک چھوڑ آیا۔۔۔

وہ کمرے میں واپس آیا تبھی اُسکی نظر فضا ہر پڑی جو نیند کے انجکشن کی وجہ سے سو رہی تھی۔۔اُسے دیکھ اُسنے تکلیف سے آنکھیں میچی۔۔۔سبحان نے فضا کو نکاح والے ڈریس میں دیکھا جس کو ابھی اُسنے چینج نہیں کیا تھا۔۔۔وہ اُسے اِن کپڑوں میں بےارام دیکھ کر کچھ سوچتا ہوا فضا کے بیگ کی جانب بڑھا۔۔اور اُس میں سے ایک سمپل ڈریس نکال کر ایک نظر فضا کو دیکھا۔۔اور کمرے کی ساری لائٹس اوف کرکے اپنے قدم فضا کی جانب بڑھاۓ۔۔

اور جھجھکتے ہوئے اُسکے کپڑے چینج کیے۔۔کپڑے چینج کرکے اُسنے لائٹس اون کی اور پورے حق کے ساتھ محبت سے اُسکے ماتھے پر اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کی۔۔۔اور ایک نظر اُن دونوں پر ڈالے واشروم میں گھس گیا۔۔پندرہ منٹ بعد وہ فریش سا ٹروزار شرٹ پہنے واشروم سے نکلا۔۔۔اور اپنی سائیڈ پر آکر لیٹ گیا۔۔دیا کو اُٹھا کر اُسنے اپنے سینے پر لٹایا اور دوسرے ہاتھ سے فضا کو اپنی جانب کھینچا۔۔۔اپنی کل کائنات کو دیکھ کر اُسکے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ بکھری گئی جس سے اسکے گالوں میں موجود ڈمپل نامدار ہوئے۔۔۔سارے دن کا تھکا کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی وادیوں میں اُتر گیا۔۔۔

________________

اگلے دن صبح اذان کی آواز سے سبحان کی آنکھ کھلی۔۔اُسنے کسمسا کر اپنے سینے پر دیکھا جہاں دیا اپنے ننھے ننھے ہاتھ اُسکے چہرے پر رکھے مزے سے سوئی ہوئی تھی۔۔ اور ایک نظر اپنے ساتھ سوئی فضا پر ڈالی اُن دونوں کو دیکھ کر سبحان کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ آگئی۔۔

سبحان نے دیا کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اپنی جگہ اُسے لٹا کر خود واشروم میں گھس گیا۔۔۔دس منٹ بعد وہ وضو کرکے واشروم سے نکلا۔۔فضا کی طبیعت کا سوچ کر اُسے اُٹھانے کا ارادہ ترک کرتا خود نماز کے لیے کھڑا ہوگیا۔۔۔نماز ادا کرکے اُسنے شکرانے کے نوافل ادا کیے اور اپنے رب کا ڈھیروں شکر ادا کیا۔۔ نماز ادا کرکے جیسے ہی وہ مڑا تو دیا کو جاگتا دیکھ سبحان مسکرا دیا جو مسلسل اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے فضا کو جگانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔سبحان نے فضا کی نیند کا سوچ کر اُسنے جلدی سے آگے بڑھ کر دیا کو اپنی گود میں اُٹھایا۔۔۔بابا۔۔کی۔۔جان۔۔اُٹھ گئی۔۔وہ محبت سے ہلکی آواز میں بولا۔۔تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔چلو آؤ ہم باپ بیٹی باہر جاکر باتیں کرتے ہیں ماما کو سونے دو۔۔۔وہ محبت سے اُسکا ماتھا چومتا ہوا بولا اور دروازا بند کیے اُسے لیے باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

اُن کے گئے ابھی ایک گھنٹہ ہوا تھا۔۔جب فضا نے اپنے دکھتے سر کے ساتھ کسمسا کر آنکھیں کھولی اور ایک لیٹے ہوئے نظر پورے کمرے میں دوڑائی۔۔جو بالکل خالی تھا۔کہ اچانک اُسے کل رات کا سارا واقع یاد آنے لگا۔۔وہ جھٹکے سے اُٹھی۔۔۔اور آس پاس نظریں دوڑائیں دیا کو ڈھونڈنا چاہا ۔۔۔لیکن بےسود۔۔وہ جلدی سے بیڈ سے اُٹھی۔۔۔اور بےچینی سے کمرے کا دروازا کھولے باہر نکلی۔۔۔تبھی اُسکے کانوں میں دیا کے کھلکھلاہٹیں گونجنے لگی۔۔۔وہ جلدی سے آواز کی سمت بڑھی۔۔جیسے ہی وہ سڑھیاں اُتر کر نیچے آئی تبھی اُسکی نظر سبحان اور دیا پر پڑی۔۔جو ہر چیز سے بے نیاز ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھے۔۔۔دیا جو سبحان کی گود میں بیٹھی۔۔۔اُسکی بیرڈ کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی۔۔اور سبحان اُسکی شرارتیں دیکھ مسکرا رہا تھا۔۔فضا نے محبت سے اپنی آنکھوں سے یہ مکمل سا منظر دیکھا۔۔۔ لیکن اگلے ہی پل وہ جھٹکے سے اُسکی جانب بڑھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *