Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul NovelR50617 Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 06,07)
Rate this Novel
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 06,07)
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul
آخر وہ دن بھی آپہنچا جس کا سب کو بےصبری سے انتظار تھا ۔۔آج فائق اور لائبہ کی مہندی تھی۔۔ہر طرف گہما گہمی کا سما تھا۔۔۔مرد اور عورتوں ہر جگہ جھرمٹ تھا۔۔۔ رضیہ بیگم بھی آج صبح ہی آ چکی تھی۔۔۔وہ بہت خوش تھی کہ ان کا جان سے پیارا بھتیجا زندگی میں آگے بڑھ رہا ہے۔۔۔سب اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔مہندی کا فنکشن لون میں ہی ارینج کیا گیا تھا۔۔لون کو سفید اور پیلے پھولوں کے ساتھ بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔دولہا دلہن کے بیٹھنے کے لیے ایک چھوٹا سا سٹیج بناکر اُس پر جھولا رکھا گیا تھا جسے سفید اور پیلے پھولوں کے ساتھ بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔
ہر کوئی اِدھر سے اُدھر بھاگ رہا تھا۔۔ مہمان آنا شروع ہوچکے تھے۔۔لائبہ کے تو پاؤں زمین پر ہی نہیں ٹک رہے تھے وہ آج اپنے آپ کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔۔۔اب بھی وہ اپنے کمرے میں تیار ہونے میں مصروف تھی۔۔۔سدرہ بیگم باقی کے کام دیکھ رہی تھی۔۔۔ہادیہ نے پیلے اور سبز رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا ساتھ ہلکا سا میک اپ کیے بالوں کو کھلا چھوڑے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔وہ سب کام نمٹا کر فضا کو دیکھنے جیسے ہی کمرے میں آئی تو فضا کو ویسے ہی ایک جگہ بیٹھا پایا۔۔۔فضا تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی باہر سب تمہارا بار بار پوچھ رہے ہیں۔۔ہادیہ اُسکے پاس آتے ہوۓ بولی۔۔ہادیہ میرے بالکل بھی دل نہیں کررہا ہے باہر جانے کو۔۔فضا بےبسی سے اُسکی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔فضا میری جان اگر تم ایسا کرو گی تو سب کو شک ہوجاۓ گا اور پھر سب سو طرح کے سوال کرۓ گئے۔۔۔کاشان بھائی بھی ہزار دفعہ تمہارا پوچھ چکے ہیں ہادیہ اُسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولی۔۔بس کچھ ہی دیر کی بات ہے اور اب تم یہ ڈریس پکڑو اور جلدی سے ریڈی ہوجاؤ تاکہ ہم باہر چل سکے۔۔۔اور میں تب تک اپنی ڈول کو ریڈی کر دو ہادیہ دیا کو اُٹھانے ہی لگی تھی جب فضا بول اُٹھی۔۔۔ہادیہ دیا کو رہنے دو روم میں ہی وہ سو رہی ہے اور ابھی میری ایسی حالت بالکل بھی نہیں ہے کہ میں سب کے طنز و تیر برداشت کرسکو۔۔۔وہ اُسکی کوئی بات سنے بغیر کہتے ہی واشروم میں گھس گئی۔۔۔ہادیہ بھی اُسکی بات سمجھتے ہی پیچھے ہٹ گئی۔۔۔
________________
کچھ ہی دیر میں فضا تیار ہوکر باہر آئی۔۔اُسنے ییلو اور سکاۓ رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا۔۔۔لائٹ میک اپ کیے بالوں کی فرنچ چٹیا بناۓ۔۔۔دوبٹہ ایک کندھے پر سیٹ کیے۔۔ہاتھوں میں گجرے پہنے وہ انتہائی حسین اور پُرکشش لگ رہی تھی۔
ہادیہ نے اسے دیکھ دل ہی دل میں اُسکی نظر اُتاری اور نم آنکھوں سے اسے دیکھ کر مسکرا دی۔۔بدلے میں وہ چاہ کر بھی نہ مسکرا سکی۔۔ہادیہ اُسے لےکر جیسے ہی لون میں آئی۔۔۔تو سب اُن دونوں کی جانب متوجہ ہوئے کچھ رشک سے تو کچھ حسد سے اُسے دیکھ رہے تھے ۔۔ہادیہ کو لائبہ نے بلایا تو وہ اُسکی طرف بڑھ گئی۔۔۔فضا سب کی نظروں کی پروا کیے بنا آگے کی طرف بڑھ رہی تھی جب سامنے سے آتے کاشان نے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔واہ ہماری گڑیا تو آج آسمان سے اُتری کوئی پری لگ رہی ہے کاشان اسے دیکھ محبت سے ہنستا ہوا بولا اور آگے بڑھ کر اُسکا ماتھا چوما۔۔تو اُسکی بات پر وہ ہلکا سا مسکرا دی۔۔اور ہماری پرنسز کہا ہے شان دیا کو نہ پاکر بولا۔۔وہ بھائی دیا روم میں سو رہی ہے تو میں نے اُسے نہیں اٹھایا۔۔اس سے پہلے کاشان بدلے میں کچھ بولتا۔۔ تبھی سدرہ چاچی کی آواز آئی ۔۔کاشان تمہیں گلاب کے پھولوں اور گجروں کا بولا تھا کہاں ہے وہ سدرہ چاچی اُسکے پاس آتے تے ہوئے بولی۔۔۔وہ چاچی میری گاڑی میں پڑھے ہے مجھے یاد ہی نہیں رہا میں ابھی لاتا ہوں۔۔
تبھی حسن شاہ نے اُسے آواز دی۔۔۔بھائی لائیے چابی مجھے دیجیئے میں لے آتی ہوں آپ کو بابا بولا رہے ہیں۔۔۔کاشان اُسکی بات پر سر ہلاتا ہوا چابی اُسے تھما کر حسن شاہ کی طرف چل دیا۔۔۔اور وہ باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
فضا گلاب کے پھولوں کی ٹوکری اور گجرے تھامے اپنے دھیان میں چل رہی تھی کہ اچانک کسی کے ساتھ اُسکا زور دار تصادم ہوا اور پھولوں کی ٹوکری اُسکے ہاتھوں سے چھوٹ گئی۔۔اس سے پہلے وہ خود نیچے گرتی کسی کے مضبوط ہاتھوں نے اُسکی نازک کمر کے گرد بازوں حائل کیے اُسے گرنے سے بچایا۔۔۔
سامنے والے کی نظر جیسے ہی فضا کے چہرے پر پڑی وہ تو پلٹا ہی بول گیا۔۔جسے وہ گزرے کچھ وقت سے ہر لمحے ہر وقت اپنے خیالوں میں دیکھتا وہ آج ایسا پوری تیاری کے ساتھ اُسکے سامنے موجود تھی۔۔اُسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا وہ کیا کرۓ۔۔۔فضا ہوش میں آتی جلدی سے خود کو سنبھالتی اُس سے دور ہوئی۔۔اُسکے دور ہونے سے سبحان کا سکتا ٹوٹا۔۔۔
آپ جہاں دیکھے مجھ سے ہی ٹکراتے رہتے ہیں کوئی اور کام نہیں آپ کو۔۔۔فضا پھولوں کی ٹوکری نیچے زمین پر گرے دیکھ کر سارا غصہ اُس پر نکالے پاؤں پٹختی اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔وہ ہونقوں کی طرح اُسے جاتا دیکھتا رہا ۔۔۔میں نے کیا کیا۔۔اُسے یو خفا ہوتا دیکھ وہ دل میں بولا۔۔اور ایک نظر زمین پر ڈالی جہاں وہ بچارے پھول اپنی بربادی کا رونا رہ رہے تھے۔۔۔سمجھ میں آتے ہی وہ بےبسی سے سر پر ہاتھ پھیرتا ہوا اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔
_______________
کچھ ہی دیر میں مہندی کی رسم شروع ہوچکی تھی۔۔۔لائبہ اور فائق ایک ساتھ جھولے پر بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔۔ سب باری باری رسم ادا کررہے تھے۔۔۔بیک گراؤنڈ پر ہلکا سا مہندی کی نصبت میوزک چل رہا تھا۔۔۔سبحان کو اُسکے بعد فضا دوبارہ کہی نہیں دیکھی ۔۔۔دل ایک بار پھر اُس پری کے دیدار کا خواہش مند تھا۔۔۔وہ دونوں کاشان کے گھر والوں سے ملکر اب ایک ٹیبل پر بیٹھے باتیں کررہے تھے۔۔۔جبھی ایک کوئی سفید شلوار قمیض پہنے کندھے پر براؤن شال اُوڑھے ہینڈسم سا نوجوان کاشان کے پاس آیا۔۔کاشی بھائی وہ ماموں بول رہے ہیں کہ کھانا وغیرہ سب کام ہوگیا ہے یا نہیں۔۔اسکی آواز پر سبحان کی نظر اُسکی جانب اُٹھی اسے دیکھ کر سبحان کی چھٹی حس اُسے خطرے کا سگنل دے رہا تھا جسے وہ سر جھٹک کر اُن کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ہاں بابا کو بول دو سب کچھ تیار ہے سارا کام ہوگیا ہے۔۔جج۔ٹھیک۔۔۔گائز یہ موسیٰ ہے میری پھوپھو کا بیٹا اور میرا ۔۔۔کاشان اپنی بات مکمل کرتا اِس سے پہلے ہی موسیٰ کا فون بج اُٹھا۔۔۔سب اُسکی جانب ہی متوجہ تھے۔۔۔موسیٰ نے موبائل نکال کر نمبر دیکھا تو اُسکے چہرے کے تاثرات کچھ عجیب سے ہوۓ۔۔۔کوئی اور تو نہیں البتہ سبحان اُسکے چہرے کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔اُسے وہ کچھ مشکوک سا لگا لیکن وہ سر جھٹک کر رہ گیا۔۔۔وہ معزرت کرتا ہوا آگے بڑھ گیا ۔سبحان کی نظروں نے دور تک اُسکا پیچھا کیا ۔۔۔موسیٰ وہاں سے جا چکا تھا ۔۔لیکن پتہ نہیں کیوں موسیٰ کو دیکھ کر سبحان کو اچھی فیلنگ نہیں آئی۔۔۔ تبھی کاشان کی آواز پر وہ ہوش میں آیا۔۔قسم سے اگر آپ نہ آتے نہ تو میں نے سچی میں کبھی بات نہیں کرنی تھی کاشان سبحان کی طرف دیکھتا ہوا نروٹھے پن سے بول۔۔۔ا اُسکی بات پر وہ مسکرا دیا۔۔۔اُسکی یہ مسکراہٹ وہاں بیٹھی کتنی ہی لڑکیوں کا دل لے اُڑی تھی۔۔۔نوفی کمینے تو بھابھی کو ساتھ نہیں لایا۔۔میں نے اکیلے تجھے یہاں ٹھوسنے کے لیے نہیں بلایا تھا۔۔۔کاشان نوفل کے ہر وقت کچھ نہ کچھ کھانے پر چوٹ کرتا ہوا بولا۔۔۔
تجھے پتہ ہے یار اُس کی کنڈیشن کا تو اِسی وجہ سے میں اُسے ساتھ نہیں لایا ورنہ تو وہ آنے کی بہت ضد کررہی تھی۔۔۔نوفل تفصیل سے سمجھاتے ہوئے بولا۔۔تو اُسکی بات سمجھ کر وہ اثبات میں سر ہلا گیا۔۔۔اور تینوں دوبارہ سے باتوں میں مگن ہوگئے۔۔
کچھ ہی دیر میں مہندی کا فنکشن اپنے اختتام کو پہنچا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں مہمان کھانا کھا کر اپنے اپنے گھروں کی جانب روانہ ہو چکے تھے۔۔۔سبحان اور نوفل بھی کاشان سے ملکر روانہ ہوگئے تھے۔۔۔
_________________
اسلام علیکم کیسی ہو۔۔یونی کیوں نہیں آ رہی۔اور نہ تم میرا فون اُٹھا رہی ہو سب خیریت علی پریشانی سے اُسکے فون اُٹھاتے ہی ایک ساتھ کہی سوال کرتا ہوا بولا۔۔۔۔واعلیکم سلام میں ٹھیک ہوں۔۔۔بس گھر میں شادی چل رہی ہے تو ٹاٹم ہی نہیں ملتا۔۔۔ ہادیہ فضا کی نیند نہ خراب ہونے کی وجہ سے ہلکی آواز میں بولی۔۔وہ ابھی باہر سب کچھ نمٹا کر فریش ہوکر لیٹنے لگی تھی جب اُسکا فون بج اٹھا۔۔۔اچھاا۔۔۔۔کیوٹ چھوٹی سی ڈول کیسی ہے علی محبت سے دیا کو یاد کرتا ہوا بولا۔۔ہممم۔ٹھیک ہے۔۔۔ہادیہ نم آواز میں بولی۔علی کی بات سن کر اُسکے دل میں تکلیف سی اُٹھی ۔۔غیر بھی اُس بچی کو کتنی محبت سے بلاتے ہیں۔۔اور اپنے وہ تو اس معصوم کو دیکھنے کے بھی روادار نہیں ہے۔۔۔ہادی۔۔ڈئیر کیا ہوا۔۔کیا تم رو رہی ہو۔۔۔علی اُسکی بھیگی آواز محسوس کرتا ہوا بےچینی سے بولا۔۔۔نن۔۔نہیمم۔نہیں۔تو۔۔۔ہادیہ اپنی آواز کو حد درجہ نارمل رکھتے ہوئے بولی۔۔
ہادی اگر کوئی بات نہیں ہے تو تم مجھے اِتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو یار ۔۔ کیا گھر میں کوئی بات ہوئی ہے جو تم مجھ سے شئیر نھیں کرنا چاہتی علی ابھی بھی اپنی بات دھرتا ہوا سنجیدگی سے بولا ۔۔۔۔
علی ایسا کچھ نہیں ہے تم بلاوجہ بات بڑھا رہے ہو وہ چڑ کر بولی۔۔۔اوکے اوکے ریلیکس یار نہیں کچھ پوچھ رہا ۔۔۔
بس اتنا یاد رکھنا اگر کبھی بھی کسی بھی جگہ تمہیں میری ضرورت پڑی تو یہ بندہ ناچیز حاضر ہے ہمیشہ ہر پل ہر دم اپنی باندری کے ساتھ موجود ہے ۔۔علی آخری بات شرارت سے بولا۔۔۔تو ناچاہتے ہوئے بھی وہ ہنس دی۔۔۔ایسے ہی مسکراتی رہا کرو علی دل سے بولا۔۔۔کچھ ایک دو باتوں کے اُسنے فون رکھ دیا اور بیڈ کی دوسری سائیڈ آکر لیٹ گئی۔۔۔اُسے پتہ ہی نہیں چلا کب تھکان کی وجہ سے وہ سو گئی۔۔۔
Episode 7
ہممم کیا خبر ہے۔۔۔سب اس وقت اپنی محضوص جگہ پر موجود تھے۔۔جب وہ اپنی جگہ پر براجمان اپنے ازالی اور روعب دار آواز میں بولا۔۔۔اُسکی اتنی سخت آواز پر سامنے والے نے تھوک نگلا۔۔۔س۔سر۔کچھ دیر پہلے ہمارے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شاکر دادا اس وقت دبئی میں موجود ہے۔۔ایک ماہ وہاں رہنے کہ بعد اسکا اگلا ٹھکانہ بھارت ہے۔۔۔ اور پاکستان میں اسکا ایک پالتو کتا بھی ہے۔۔جو شاکردادا کا رائٹ ہینڈ کہلایا جاتا ہے۔۔۔ ڈرگز سمگل۔۔ایک ملک سے دوسرے ملک لڑکیاں سپلائی کرنا۔۔راہ چلتی لڑکیوں کو اٹھانا۔۔اگر اس کتے کا کسی لڑکی پر دل آ جاۓ۔۔تو اسکے گھر والوں کو فون کرکے فروتی کی رکن مانگا۔۔جب پیسے مل جائے تو زیادتی کرکے گھر کے باہر پھینک جاتے۔۔چاۓ وہ مری کیوں نہ ہو۔۔۔سچ سننے کے بعد سامنے والا کس کمال ضبط سے بیٹھا تھا یہ وہی اور اسکا رب جانتا تھا۔۔۔اس وقت ان دونوں کا ایک مقصد تھا اپنے ملک کے گناہگاروں کو موت کے گھاٹ اتارنا۔۔جو ان کی ماں بہن بیٹیوں کو نوچے جا رہے ہیں۔۔۔اُن کو بےدرد ناک موت دینا۔۔۔۔ س۔سر۔۔ آج بھی سڑک سے دو لڑکیاں اغوا ہو چکی ہے۔۔اسکی بات سن کے اسنے ضبط سے مٹھیاں بھینجی گردن کی رگے تن چکی تھی۔۔۔۔ہمیں اس شاکر دادا کو بھارت جانے سے پہلے ہی پکڑنا پڑے گا۔۔۔اگر وہ بھارت چلے گیا تو ہم اسے کبھی نہیں پکڑ پاۓ گے۔۔۔ایس کے کچھ سوچتا ہوا بولا۔۔جسے سمجھ کر سامنے والے نے سر ہلایا اور اس سے اجازت لیتے ہی وہاں سے نکل گیا۔۔۔
__________________
آج فائق اور لائبہ کا نکاح تھا۔۔۔ساتھ ہی رخصتی بھی طہ پائی گئی تھی۔۔نکاح کا سارا انتظام ہال میں کیا گیا تھا۔۔۔اطہر شاہ سب سے پہلے ہال جاکر باقی کے سارے انتظامات دیکھ رہے تھے۔۔۔سب گھر والے باقی کی تیاریوں میں مصروف اِدھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے ۔۔۔لائبہ سدرہ بیگم کے ساتھ پارلر گئی ہوئی تھی اُن دونوں نے پارلر سے سیدھا ہال جانا تھا۔۔۔جب کہ ہادیہ اور فضا گھر پر ہی تیار ہوئی۔۔۔ اب باقی کی تیاریاں دیکھ رہی تھی۔۔۔ہادیہ نے بلیک میکسی کے ساتھ لائٹ سموکنگ میک اپ کیے۔۔ بالوں کا جوڑا بناۓ بہت بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔جب کہ فضا نے بیلو میکسی کے ساتھ لائٹ سا میک اپ کیے۔۔ بالوں کو کرل کیے بہت زیادہ حسین لگ رہی تھی۔۔۔دیا بھی پنک کلر کی باربی فراق پہنے سبز آنکھوں والی ڈول لگ رہی تھی۔۔۔جو اپنی ماما کی گودی میں ہمیشہ کی طرح اپنی مسکراہٹ کے کھلکھلا رہی تھی۔۔اُسے ہنستا مسکراتا دیکھ فضا کو اپنے اندر ڈھیروں سکون سا اُترتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔وہ سب اپنی اپنی تیاریاں مکمل کرکے ہال جانے کے لیے گاڑیوں میں بیٹھ چکے تھے۔۔۔کچھ ہی دیر میں سب بارات کی صورت میں ہال کے لیے روانہ ہوچکے تھے۔
آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد سب دولہے کے ساتھ اِس وقت ہال کے داخلی دروازے پر موجود تھے۔۔اظہر شاہ نے بہت شاندار طریقے سے بارات کا استقبال کیا۔۔۔فائق کو لے جاکر سٹیج پر بیٹھایا گیا تھا جو ہر وقت کسی بھی جزبات سے عاری چہرہ لیے سپاٹ سا سٹیج پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔کاشان اور موسیٰ بھی اُسکے ہمراہ تھے۔۔۔تبھی کاشان کی نظر انٹرس پر پڑی جہاں وہ دونوں شہزادوں جیسی شان کے ساتھ چلتے ہوئے آرہے تھے۔۔۔اُن کو آتا دیکھ وہ خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ اُن کی جانب بڑھ گیا۔۔۔اسلام علیکم سبحان نے اُسے دیکھ مسکرا کر بولا۔۔۔واعلیکم سلام کاشان نے سلام کا جواب دیے کر ان دونوں سے باری باری گلے ملا۔۔۔تو تو ایسے گلے مل رہا ہے جیسے ہم تمہاری پچھڑی محبوبہ ہو۔۔نوفل اُسے دیکھ شرارت سے بولا۔۔جب کہ اسکی بات سن کر سبحان نے اپنی امڈنے والی مسکراہٹ کا گلا گھونٹا۔۔۔کاشان نے اسکی بات پر صرف اُسے گھورنے پر اکتفا کیا۔۔جب کاشان بھی ابھی ٹون میں آیا۔۔ ویسے آج تو آپ نے لڑکیوں کو بھی مات دے دی کاشان کا رک سبحان کی طرف تھا۔۔جسے دیکھ وہ شرارت سے بولا۔۔۔جو وائٹ کرتا شلوار کے نیوی بیلو واسکٹ پہنے ساتھ پیروں میں پشاوری چپل پہنے بائیں ہاتھ میں ریسٹ واچ لگائے۔۔کندھے پر لائٹ براؤن شال اوڑھے۔۔۔کسی ریاست کا شہزادہ ہی تو لگ رہا تھا۔۔۔لڑکیاں تو لڑکیاں لڑکے بھی اتنی ڈیشنگ پرسنلٹی والے ہیرو کو آنکھیں پھاڑے دیکھ کم گھور زیادہ رہے تھے۔۔۔لیکن وہ ان سب سے بے نیاز ان سب کے ساتھ باتوں میں مگن تھا۔۔۔۔
میں بھی یہاں ہو نوفل خود کو اگنور ہوتا دیکھ تپ کر بولا۔۔۔ہاہاہہا۔۔تو۔۔تجھے یہاں کوئی گھاس بھی نہیں ڈالے گا کیوں کہ اب تو شادی شدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اب دوسرے بچے کا باپ بھی بننے والا ہے۔۔کاشان اُس سے اپنی کچھ دیر پہلے والی بےعزتی کا بدلہ لیے اُسے لتاڑتے ہوئے بولا۔۔۔اُسکی بات پر وہ صرف صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گیا۔۔۔
اُن دونوں کی حالت دیکھ کر سبحان کا قہقہہ بےساختہ چھوٹا۔۔جو وہاں بیٹھی کتنی ہی لڑکیوں کا دل دھڑکا گیا۔۔۔
_________________
لائبہ بھی پارلر سے آچکی تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں نکاح کی رسم ادا کر دی گئی تھی۔۔۔۔لائبہ مکمل طور پر فائق کے نام کردی گئی تھی۔۔۔فائق بےبسی سے بیٹھا عائشہ کو سوچ رہا تھا کہ اُسکے جانے کے بعد بھی وہ اُس سے وفا نہ کرسکا۔۔۔ایک موتی ٹوٹ کر اسکی بیرڈ میں جذب ہوگیا۔۔ وہ خالی نظروں سے سب کچھ ہوتا دیکھ رہا تھا۔۔۔نکاح کے بعد لائبہ کو فائق کے ساتھ سٹیج پر لاکر بیٹھایا گیا۔۔۔آج لائبہ کو اُسکی خوشی اُسکی محبت مل گئی تھی۔۔۔اُسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ پوری دنیا کو چیخ چیخ کر بتاۓ کہ وہ فائق شاہ کے نکاح میں آ چکی ہے اُسکی دسترس میں۔۔۔
فضا دیا کو لیے کونے پر پڑی ایک ٹیبل پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔دیا مزے سے اسکی گود میں لیٹی اسکی چوڑیوں سے کھیلتی کھیلتی سو چکی تھی۔۔۔جب کہ اُسے اس شادی سے ان رسموں سے کو سروکار نہیں تھا۔۔وہ بس خالی نظروں سے سب کچھ ہوتا دیکھ رہی تھی۔۔۔اور ایک نظر دیا کے معصوم چہرے پر ڈال لیتی جو اُسکا ہاتھ پکڑے سوئی ہوئی تھی۔۔میری جان۔۔فضا نے کہتے ہی محبت سے اُسکے بند آنکھوں پر باری باری اپنے لب رکھے۔۔۔یہی تو اُسکی کل کائنات تھی اُسکے جینے کی چھوٹی سی وجہ۔۔۔ابھی بھی وہ اُسکے چہرے پر نظریں جمائے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ جب ہادیہ دھپ سے اُسکے پاس آکر بیٹھی۔۔۔کیا ہوا کہا کھوئی ہو۔۔۔ہادیہ اُسے یو بےحس وحرکت بیٹھا دیکھ فکرمندی سے بولی۔۔۔ہممم۔ہاں۔۔کہی۔۔نہیں۔۔تم دو منٹ اِسے پکڑو میں واشروم سے آتی ہوں۔۔فضا دیا کو اُسے پکڑاتے ہوۓ بولی۔۔۔یار جلدی آنا تمہیں اِسکا پتہ ہے نہ ہادیہ دیا کو دیکھ معصوم چہرہ بناۓ خفگی سے بولی۔۔ جو فضا کے علاؤہ جلدی کسی سے چپ ہی نہیں ہوتی۔۔۔۔تو وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی واشروم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
ابھی اُسے گئے بمشکل دس منٹ ہی ہوۓ تھے ۔۔۔کہ پورا ہال دیا کی روتی ہوئی چیخوں سے گونج اُٹھا۔۔دیا فضا کو نہ پاکر مسلسل ہچکیوں سے رہ رہی تھی۔۔۔دیا کو سنبھالنا ہادیہ کے لیے بہت مشکل ہو رہا تھا۔۔وہ اُسے ہر طرح سے چپ کروانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی لیکن وہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔دیا میری جان پلیز چپ ہو جاؤ ماما ابھی آجاتی ہے وہ اُسے دیکھ بےبسی سے بولی۔۔۔ہال میں سب لوگ اُن کی طرف متوجہ ہوچکے تھے۔۔۔کوئی بےانتہا نفرت سے تو کوئی ترس بھری نگاہوں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔کاشان جو سبحان اور نوفل کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا دیا کی مسلسل رونے کی آواز سن کر جلدی سے اُن کی طرف بڑھا۔۔۔وہ دونوں بھی اسی جانب متوجہ ہوۓ۔۔۔ہادی کیا ہوا یہ اِتنا رہ کیوں رہی ہے کاشان اُسے اپنی گود میں لیے پریشانی سے بولا۔۔۔پتہ ۔۔نن۔۔نہیں بھائی پہلے تو کبھی یہ ایسے نہیں روئی آج اچانک پتہ نہیں اِسے کیا ہوگیا ہے۔۔ہادیہ اُسے مسلسل روتا دیکھ پریشانی سے بولی۔۔تبھی سدرہ بیگم غصے سے بھری اُن کے سر پر آ پہنچی۔۔۔اِس منحوس کو چپ کروا لو ورنہ میں نے اب اِسکی جان لے لینی ہے۔۔۔اب ہماری خوشیاں بھی برباد کرنے پر تولی ہوئی ہے یہ منحوس۔۔۔سدرہ بیگم اُن کے پاس آکر نفرت سے پھنکاری۔۔۔ہادیہ اپنی ماں کو صرف افسوس سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔اِسکی جو ماں بنی پھر رہی ہے وہ کہاں ہے اسے بلاؤ یہاں اور اِس کو چپ کرواۓ فضا کو وہاں نہ پاکر وہ غصے سے بولی۔۔۔ماما وہ واشروم گئی ہے۔۔ہادیہ اپنی کو جواب دیتے ہوئے بولی۔۔۔
دیا ابھی تک چپ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔مسلسل رونے کی وجہ سے اب اُسکا سانس پھولنے لگا تھا۔۔۔ ہال میں سبھی لوگ اُن کی طرف متوجہ تھے۔۔۔تبھی فضا سب کچھ فراموش کیے بھاگتی ہوئی اُن کی طرف آئی۔۔۔اور کاشان کے ہاتھوں سے جلدی سے دیا کو لے کر اپنے سینے سے لگایا۔۔۔ماں صدقے ماں واری چپ ہو جاؤ میری جان دیکھو ماما آ گئی اپنی بیٹی کے پاس فضا دیا کو سینے میں بھینجے محبت سے بولی۔۔۔ اور باری باری اُسکے سر اور گالوں پر بوسہ دیا۔۔۔ماں کے آغوش میں آتے ہی وہ سبز آنکھوں والی پری پرسکون سی ہوکر آنکھیں موند گئی۔۔۔
اُسکو چپ ہوتا دیکھ سدرہ بیگم شکر ادا کرتی سٹیج کی طرف بڑھ گئی۔۔۔کاشان بھی شکر ادا کرتا سر نہ میں ہلاتا نوفل اور سبحان کی طرف چل دیا۔۔۔سبحان تو اپنی پری کو یو سامنے دیکھ کر اور اُسکے منہ سے اِس بچی کے لیے لفظ ماما سن کر سکتے میں آگیا۔۔ کچھ ہی دیر تو وہ کچھ اور سننے اور بولنے کے قابل ہی نہیں رہا۔۔۔کہ جس لڑکی سے اُسکا دل محبت کرنے کا اقرار کر بیٹھا تھا وہ ایک بچی کی ماں ہے۔۔سبحان کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔کہ اُسکے ساتھ یہ ہوا کیا ہے قسمت نے کیسا کھیل کھیلا ہے۔۔۔تبھی کاشان کے کندھے پر ہاتھ رکھنے سے وہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا۔۔لیکن اب اُس کے خوبصورت چہرے پر پہلے کی طرح مسکراہٹ نہیں تھی۔۔۔ اب حد درجہ سنجیدگی نے چادر اوڑھ لی تھی۔۔۔کیا ہوا تھا اُس بچی کو اور یہ کس کی بیٹی ہے نوفل کاشان کی طرف دیکھ کر فکرمندی سے پوچھنے لگا۔۔۔کچھ نہیں یار بس معصوم سی جان ابھی سے آزمائشوں میں گری ہوئی ہے۔۔۔یہ فائق بھائی کی بیٹی ہے دیا فائق شاہ۔۔کاشان نے اُن دونوں کے سروں پر بم پھوڑا۔۔واٹ۔۔۔ نوفل کی آواز گونجی۔۔۔کاشان کے کہنے پر سبحان بھی اُسکی جانب متوجہ ہوۓ۔۔۔دیا فائق بھائی کی بیٹی ہے عائشہ بھابھی جنم دیتے ہی اُس بچی کی ذمہداری میری پیاری گڑیا فضا پر ڈالے اسِ دنیا سے رخصت ہوگئی۔۔شاہد انہیں پہلے ہی پتہ تھا اُن کی بچی کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔۔۔فضا اسے سگی اولاد سے بڑھ کر محبت کرتی ہے۔۔۔کاشان ساری باتیں اُن دونوں کے گوشوں گزار کرتے ہوئے بولا۔۔ جسے سن کر دونوں نے تاسف سے سر ہلایا۔۔۔کہ آج کہ زمانے میں بھی پڑھے لکھے لوگ ایسے واحیات چیزوں کو مانتے ہیں۔۔۔کاشان کی باتیں سن کر سبحان کو ایک طرف دکھ اور دوسری طرف خوشی کے ساتھ فخر بھی محسوس ہوا یہ لڑکی اُسکی پہلی اور آخری محبت ہے اُسکی پری صرف اُسکی ہے۔۔یہ سوچ آتے ہی اُسے اپنے اندر ڈھیروں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
__________________
فضا دیا کو گود میں لیے ہادیہ کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی۔۔جب اچانک فضا کو کھانسی آنے لگی۔۔۔وہ ہاتھ منھ پر رکھے بےدردی سے کھانسنے لگی۔۔۔
تبھی اُسکی نظر ہاتھ پر موجود خون پر گئی وہ آنکھیں پھاڑے اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ہادیہ کا حال بھی اِس سے مختلف نہ تھا۔۔۔تبھی وہ جلدی سے دیا کو ہادیہ کے حوالے کیے واشروم کی جانب بھاگی۔۔۔
وہ تینوں کھانے کے ساتھ باتوں میں مصروف تھے۔۔۔۔جب سبحان کا فون بج اُٹھا وہ ایکسیوز کرتا فون سننے کے لیے ہال سے ایک طرف چلا گیا۔۔۔وہ فون سن کر جیسے ہی پلٹا کہ سامنے سے آتی فضا سے ٹکرا گیا۔۔وہ گرنے ہی لگی تھی کہ سبحان نے اُسے کمر سے پکڑ کر گرنے سے بچایا۔۔تبھی وہ ساکت نظروں سے فضا کو دیکھ رہا تھا جہاں لبوں کے پاس کافی سارا خون لگا ہوا تھا۔۔۔چہرے سے نظر ہٹاکر اُسنے نیچے پڑے ٹشو پر نظر ڈالی جو خون سے سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔وہ ساکت نظروں سے کبھی فضا کو تو کبھی ٹشو کو دیکھ رہا تھا کہ تبھی فضا اُس سے اپنا ہاتھ چھڑا کر واشروم کی جانب بھاگی۔۔۔اُسکے جاتے ہی سبحان کا سکتا ٹوٹا۔۔۔اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا یہ سب اُسکے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔۔فضا کی حالت دیکھ کر اُسے اپنے اندر تکلیف محسوس ہوئی۔۔وہ کتنی ہی دیر باہر کھڑا فضا کا انتظار کرنے لگا۔۔۔اُسکا دل اُسے کچھ غلط ہونے کا اعلان کررہا تھا۔۔۔
آدھے گھنٹے کے انتظار کے بعد وہ واشروم سے باہر نکلی اور بغیر اُسکی جانب دیکھ وہاں سے جانے لگی جب سبحان نے اُسکی کلائی تھامی۔۔۔فضا کے قدم تھمے۔۔۔وہ غصے سے اُسکی طرف مڑی۔۔آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی۔۔فضا اُسکی طرف دیکھ غصے سے غرائی اور جھٹکے سے اُس سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔۔۔۔آپ ٹٹ۔ٹھیک۔۔ہے۔ کیا ہوا ہے۔۔۔اور یہ خون ک۔کیسا۔ہے۔۔سبحان اُسکی بات کا کوئی بھی جواب دیے بغیر نرمی سے بولا۔۔۔آپ کون ہوتے ہیں مجھ سے یہ سوال کرنے والے۔۔۔اپنی حد میں رہے۔مسٹر۔۔۔مم۔میں۔آپ۔کو۔۔جواب۔۔دینے۔کی۔۔پابند۔۔نہیں۔ہوں۔۔۔فضا اُسے دیکھ انتہائی باتمیزی سے بول کر وہاں سے جانے لگی۔۔۔ جب سبحان نے اُسے کمر سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچ کر دیوار کے ساتھ پن کیا۔۔۔۔فضا تو اِس اچانک افتادہ پر ہکا بکا اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی گھٹیا انسان فضا اُسے دیکھ غصے سے بولی۔۔۔میں نے پوچھا آپ کے منہ پر وہ خون کیسا تھا۔۔۔ کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔سبحان ایک بار پھر اپنی بار دُھرا کر بولا۔۔لیکن لہجے میں اس بار نرمی کی جگہ بےپناہ سرد پن تھا۔۔۔آنکھیں لال سرخ رنگ کی ہوچکی تھی۔۔جیسے خون ابھی جھلک پڑے گا۔۔جسے دیکھ ایک پل فضا کو اُس سے خوف محسوس ہوا۔۔۔۔
میں آپ کو کسی بھی قسم کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں۔اور نہ ہی آپ میرے کچھ لگتے ہیں کہ آپ کو جواب دو۔۔۔آپ نے اُس دن میری مدد کی اُسکے لیے شکریہ۔۔۔اب دوبارہ میرے راستے میں آنے کی ضرورت نہیں۔۔۔فضا اسکی طرف دیکھ غراتے ہوئے بولی۔۔۔اور اپنا ہاتھ چھڑا کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔جب کہ وہ لب پھینجے اسے جاتا دیکھ اُسکی پست کو گھورتا رہا۔۔۔۔
