Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul NovelR50617 Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 20)
Rate this Novel
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 20)
Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul
نہیں ہے وہ آپ کی بیٹی کتنی بار بولا وہ چلائی۔۔۔وہ آپ کا سگا خون نہیں ہے۔۔جب اُسکے سگے خون نے اُسکے سگے باپ نے جب اُسے چھوڑ دیا تو پھر آپ تو پراۓ ہیں۔۔ جب آپ کی خود کی اولاد ہوئی تو آپ کو تو وہ یاد بھی نہیں رہے گی۔۔۔اور میں نہیں چاہتی میرے مرنے کے بعد وہ آپ کے پیار کے لیے دن رات ترسے۔۔۔وہ روتے ہوئے بول رہی تھی اِس وقت اسکا کلیجا درد سے پھٹ رہا تھا۔۔ اُسے ابھی سے عادت ڈالنی ہوگی کہ وہ اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی اِس بھری دنیا میں اکیلی ہے کوئی اُسکا نہیں ہے کوئی بھی نہیں وہ یت۔۔یتیم۔۔۔۔فضاااا۔۔۔۔۔۔۔چٹاخ۔۔۔۔
اُسکی اِس قدر دل دہلا دینے والی بات پر سبحان کا ہاتھ اُٹھا۔۔۔خبردار وہ دھاڑا۔۔۔۔خبردار۔۔۔فضا۔۔۔۔ جو دیا کو اب یتیم بولا۔۔نہیں ہے وہ یتیم سمجھی آپ ابھی اُسکا باپ زندہ ہے ابھی۔۔۔وہ دھاڑا۔۔اُسکی اِس قدر دھاڑ سے کمرے کی دیواریں تک لرز اُٹھی۔۔فضا ڈر کے مارے دو قدم پیچھے ہوئی۔۔۔
اُسنے کہاں دیکھا تھا سبحان کا ایسا خوفناک روپ۔۔اُسنے تو ہمیشہ اُسکی نرمی اور محبت دیکھی تھی۔۔بس۔۔
علی جو کسی دوست سے ملنے گھر سے باہر جارہا تھا۔۔تبھی اچانک اُسکی نظر سیڑھیوں کی جانب اُٹھی اور وہی ساکت ہوگئی۔۔۔سامنے کا منظر ہی اِس قدر دل دہلا دینے والا تھا جہاں دیا خون میں لت پت بہوش سیڑھیوں کے پاس نیچے گری ہوئی تھی۔۔دیا۔۔علی کے لب پھڑپھڑاۓ۔۔۔وہ ہوش میں آتے ہی جلدی سے اُسکی جانب بھاگا۔۔۔۔
اور اُسے اُٹھانے کی کوشش کرنے لگا لیکن ناکام ۔۔بب۔بھائی۔۔بھائییییی۔۔بھابھیییی۔۔۔وہ زور سے چلایا۔۔دیا کی حالت دیکھ کر اُسکا جسم لرز رہا تھا۔۔اُسے اِن گزرے دو ماہ میں دیا بہت عزیز ہوچکی تھی۔۔۔وہ ایک بار پھر سے چلایا۔۔۔
سبحان اِس سے پہلے اور کچھ بولتا۔۔۔تبھی علی کی آواز اُن دونوں کی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔جو مسلسل چلا چلا کر اُنھے بلا رہا تھا۔۔۔سبحان بےچینی اور دھڑکتے دل کے ساتھ نیچے کی جانب بھاگا۔۔فضا بھی اُسکے پیچھے کمرے سے نکلی۔۔اُن دونوں کو کچھ غلط ہونے کا شدت سے احساس ہوا
سبحان سڑھیوں پر پہنچا تھا تبھی اُسکی نظر خون میں لت پت دیا پر پڑی۔۔جسے علی روتے ہوئے مسلسل اُٹھانے کی کوشش کررہا تھا۔۔سبحان ساکت نظروں سے دیا کو دیکھ رہا تھا۔۔اُسے اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔ تبھی دیا کو دیکھ فضا کی چیخ نکلی۔۔۔سبحان۔۔ہوش میں آتے ہی تڑپ کر اُسکی جانب بڑھا۔۔اور اُسے اپنی گود میں لیے اُٹھانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔دد۔۔دیا۔۔بب۔۔بابا۔۔کی جان۔۔آنکھیں۔۔کھولو۔۔دی۔دیکھو۔۔بابا۔۔آپ کو۔بلا۔۔رہے۔۔ہے۔۔سبحان دیوانہ وار اُسکا چہرہ تھپتھپاتا اُسے اُٹھانے کی کوشش کررہا تھا۔۔جو ناکام۔۔۔سبحان۔۔جلدی سے اُسے گود میں لیے باہر کی جانب بھاگا ۔۔۔فضا اور علی بھی اُسکے پیچھے بھاگے۔۔۔ آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ تینوں دیا کو لیے ہوسپٹل پہنچے۔۔۔دیا کو جلدی سے آپریشن تھیٹر۔۔میں لے جایا گیا۔۔
سبحان وہی ایک کرسی پر ڈہ سا گیا۔۔ایسا لگا رہا تھا جیسے وہ صدیوں کا سفر طے کرکے آیا ہے۔۔اُسکے کپڑوں پر جگہ جگہ دیا کا خون لگ چکا تھا۔۔۔وہ سر ہاتھوں میں گراۓ مسلسل دیا کی سلامتی کی دعائیں کررہا تھا۔۔۔اُسنے ابھی تو دیا کے آنے سے ہسنا مسکرانا سیکھا تھا۔۔دیا کی کھلکھلاہٹیں ہی اُسکے سنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ لے آتی۔۔۔کہاں وہ صبح کے تین تین بجے گھر آتا تھا۔۔اور کہاں اب سات بجتے ہی اُسکو گھر جانے کی جلدی ہوتی ہے کہ اُسکی پرنسز اُسکا ویٹ کررہی ہے۔۔۔فضا بھی دیوار کے ساتھ لگی نڈھال سی روتی ہوئی دیا کی سلامتی کی دعائیں کررہی تھی۔۔سبحان نے نظر اُٹھاکر فضا کو دیکھا جو نڈھال سی دیوار کے ساتھ لگی رہ رہی تھی۔۔سبحان نے گہرا سانس لے کر آگے بڑھ کر اُسکے گرد بازوں کا حصار بنایا۔۔۔اپنے محافظ کا حصار ملتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔سس۔سبحان۔۔وو۔۔وہ ٹھیک۔تو۔۔ہوجاۓ۔گی۔۔نہ۔فضا اُسکے سینے سے لگی۔۔بےمشکل روتے ہوئے بول رہی تھی۔۔فضا میری جان چپ ہوجاۓ۔۔انشااللّٰہ ہماری بیٹی بہت بہادر ہے دیکھنا وہ بہت جلد ٹھیک ہوجاۓ گی۔۔سبحان نم آواز میں بولا۔۔سبحان کی آواز میں نمی محسوس کرکے فضا کو اپنا آپ بےاِنتہا شرمندگی گرا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
تبھی ڈاکٹر کی آواز پر وہ اپنی گہری سوچوں سے باہر نکلی۔۔ڈاکٹر کیسی ہے میری بیٹی سبحان بےچینی سے بولا۔۔۔
سر دیکھیے ابھی ہم کچھ نہیں کہ سکتے بچی کے سر پر کافی گہری چوٹ لگی ہے جس کی وجہ سے اُسکا خون کافی حد تک ضائع ہو چکا ہے۔۔۔بچی کو اِس وقت خون کی اشد ضرورت ہے۔۔ڈاکٹر اپنے پروفیشنل انداز میں گویا ہوئیں۔۔اگر جلد ہی خون کا بندوست نے ہوا تو ہم بچی کو نہیں بچا پاۓ گے۔۔ڈاکٹر کی بات پر فضا کا دل ایک پل کے لیے بند ہوا۔۔۔
تو کرۓ نہ خون کا بندوست۔۔وہ غصے سے دھاڑا۔۔۔
ہوسپٹل کے بلڈ بینک میں تو ہوگا نہ سبحان ڈاکٹر کی طرف دیکھ کر فکرمندی سے بولا۔۔س۔س۔سوری۔۔ سر ہوسپٹل کے بلڈ بینک میں اِس وقت خون نہیں ہے ڈاکٹر شرمندگی سے بولی۔۔۔اگر میری بیٹی کو کچھ ہوا نہ تو میں اِس ہوسپٹل کو آگ لگا دو گا۔۔۔وہ غصے سے دھاڑا۔۔کہ ڈاکٹر بھی سہم کر دو قدم پیچھے ہوئی۔۔۔بب۔بھائی ریلکس۔۔یہ ہوسپٹل ہے۔۔علی سبحان کو کندھوں سے تھامے ہوئے بولا۔۔۔ڈاکٹر کون سا بلڈ گروپ ہے۔۔علی فکرمندی سے بولا۔۔۔ ب۔۔بی۔پو۔ پوزیٹو۔۔خون ہے۔۔ڈاکٹر ڈر کے مارے اٹک کے بولی۔۔۔۔
مم۔۔میرا۔۔بی۔پوزیٹو۔۔ہے۔۔آپ کو جتنا چاہیے لے لے لیکن بس میری بیٹی کو بچا لے۔۔۔ڈاکٹر کے بولتے ہی سبحان جلدی سے بولا۔۔بس میری بیٹی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے نہیں تو تم سب کو میں چھوڑو گا نہیں ڈاکٹر کے سامنے التجا کرتے ہوئے آخری بات اِنتہائی سنجیدگی سے بولا۔۔تو ڈاکٹر اپنا گلا تر کرتی اُسے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتی ہوئی اُس ساتھ لیے وہاں سے جاچکی تھی۔۔۔فضا آج اپنے آپ سے نظریں ملانے کے قابل ہی نہیں بچی تھی۔۔دیا کے لیے سبحان کا اِس قدر فکرمندی دیکھ فضا کو خود سے شرم محسوس ہورہی تھی۔۔کہ وہ سبحان کے بارے کس حد تک غلط سوچ رہی تھی۔۔۔وہ سبحان کو بھی فائق جیسا سمجھ رہی تھی۔۔کہ مطلب پورا ہوتے ہی وہ بھی اپنی اصلیت دکھا دے گا۔۔ لیکن سبحان تو بالکل اُسکی سوچ کے برعکس تھا ۔وہ تو سچ میں دیا سے بےاِنتہا محبت کرتا تھا۔۔فضا کو آج دیا کی قسمت پر رشک محسوس ہو رہا تھا۔۔وہ اپنی ہی سوچو میں گم تھی جب علی کے بلانے سے وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔۔۔بھابھی ٹیشن مت لے پرنسز جلدی ہی ٹھیک ہوجاۓ گی۔۔پھر وہ اپنے چاچو کے ساتھ ملکر آپ کو بہت پریشان کرے گی۔۔علی نم آنکھوں سے مسکراتا ہوا بولا۔۔۔
اُسکی بات پر فضا مسکرا بھی نہ سکی۔۔۔
__________________
کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر نے اُنہیں دیا کے خطرہ سے باہر ہونے کی اطلاع دی تھی جسے سن کر اُن تینوں نے خدا کا شکر ادا کیا۔۔سبحان نے وضو کرکے ہوسپٹل میں موجود کمرے میں شکرانے کے نوافل ادا کئے۔۔۔فضا تو حیران سی سبحان کا رویہ دیکھ رہی تھی۔۔۔کچھ ہی دیر میں دیا کو ہوش آچکا تھا۔۔۔ڈاکٹر اُن دونوں کو دیا سے ملنے کی اجازت دیتی جاچکی تھی۔۔دونوں بےچینی سے کمرے میں داخل ہوۓ۔۔۔دیا کو یو سفید پٹیوں میں جکڑا دیکھ اُن دونوں کے دل کٹ کر رہ گئے۔۔۔۔۔کہاں سوچا تھا اُنہوں نے اُسے اِس حالت میں۔۔دیا نے ایک نظر اُن دونوں پر ڈالی۔۔جو نم آنکھوں سے اُسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔فضا نے آگے بڑھ کر والہانہ محبت سے اُسکا ہر ایک نقوش چوما۔۔ماما۔۔کی۔۔جان۔۔۔سبحان اُسے دروازے کے پاس کھڑا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔بب۔بابا۔۔۔
دیا سبحان کو دیکھ کر ہلکی سی مسکان کے ساتھ بولی۔۔
اُسکے منہ سے پہلا لفظ بابا سن کر دونوں اپنی جگہ شاک اور حیران تھے۔۔۔سبحان کے تو کانوں میں لفظ بابا مسلسل گردش کررہا تھا۔۔یہ احساس ہی اِس قدر خوبصورت تھا۔۔وہ نم آنکھوں سے دیا کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔اور بنا کسی اور چیز کی پروا کیے محبت سے آگے بڑھ کر اُسے اپنی گود میں اُٹھا کر محبت سے اُسکا ماتھا چوما۔۔۔جی بابا۔۔کی۔۔جان۔۔ سبحان نم آنکھوں سے مسکرا کر بولا تو کھلکھلا کر ہنس دی۔۔کیوں کے دیا نے پہلا لفظ ماما کی بجاۓ بابا بولا تھا۔۔۔فضا نم آنکھوں سے مسکرا کر اُن دونوں باپ بیٹی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔جو سب کچھ فراموش کیے ایک دوسرے میں گم ہوچکے تھے۔۔۔فضا کے دل میں سبحان کے لیے احترام عزت بڑھ چکی تھی۔۔۔اُسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ خدا نے سبحان کی صورت میں اُسے اِتنے پیارے تحفے سے نوازا ہے۔۔۔۔وہ جتنا شکر ادا کرتی کم تھا۔۔۔
ڈاکٹر کی طرف سے کچھ ضروری ہدایات کے بعد دیا کو ڈسٹارج کردیا گیا تھا۔۔۔وہ تینوں رات کے گیارہ بجے دیا کو لے کر گھر آ چکے تھے۔۔۔علی اپنے روم میں سونے کے لیے جاچکا تھا۔۔فضا دیا کے لیے سوپ بنا رہی تھی جبکہ دیا باپ کی گود میں بیٹھی اُس سے باتوں میں مصروف تھی۔۔۔کچھ ہی دیر پہلے دیا کی حالت کا پتہ چلتے ہی کاشان اور نوفل کا باری باری فون آچکا تھا۔۔۔جسے سبحان مطمئن کرچکا تھا کہ وہ اب ٹھیک ہے۔۔ان دونوں کو آنے کی ضرورت نہیں تو وہ دونوں صبح آنے کا بولتے ہی فون رکھ چکے تھے۔۔۔
فضا ٹرے میں سوپ کے باؤل کے ساتھ جوس کا گلاس رکھے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔اور ایک نظر اُن دونوں پر ڈالے سبحان کی طرف آئی ۔۔اور اُسے سوپ کا باؤل تھاما کر جوس کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھے خود سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔سبحان محبت سے دیا کو بیڈ پر بیٹھاۓ سوپ پلا رہا تھا۔۔جو منہ بسورتی ہوئی وہ پی رہی تھی۔۔۔تبھی فضا کو سوچوں میں گم دیکھ کر وہ لمبی سانس کھینچتا اپنی گھمبیر سنجیدہ آواز میں بولنا شروع ہوا۔۔۔فضا میں اپنی مری ماں کی قسم کھا کر کہتا ہوں میں آج تک کبھی بھی دیا سے دیکھاوے کے لیے محبت نہیں کی۔۔
سبحان کی قسم کھانے پر فضا نے تڑپ کر اسکی جانب دیکھا جو بے نیاز سا بیٹھا دیا کو سوپ پلا رہا تھا۔۔ آپ کو اعتراض تھا نہ کہ دیا میری بیٹی نہیں اُسکی رگوں میں میرا خون نہیں دوڑ رہا۔۔۔میں صرف دیکھاوے کے لیے اُس سے محبت کرنے کا دعویٰ کررہا ہوں۔۔۔آپ کی اِن باتوں سے میرا دل کہی ٹکروں میں تقسیم ہوگیا تھا ایسا لگا جیسے سب کے سامنے میری ہی محبت نے میرے منہ پر زور دار ٹماچہ مارا ہو سبحان تکلیف سے بولا۔۔۔اُسکی بات پر فضا شرمندگی سے سر جھکا گئی۔۔۔میں آپ کو صرف اِتنا ہی بولو گا۔۔کہ اب دیا صرف اور صرف میری بیٹی ہے۔۔سبحان خانزادہ کی بیٹی دیا سبحان خانزادہ اور یہ بات آپ ہمیشہ یاد رکھیے گا۔۔ اُسکی رگوں میں کسی اور کے علاؤہ اب میرا خون دوڑ رہا ہے۔۔۔تو پلیز دوبار یہ مت کہیے گا کہ دیا میری بیٹی نہیں ہے۔۔۔سبحان آخر پر التجا کرتا ہوا بولا۔۔۔اور ٹشو سے دیا کا چہرہ صاف کرتا برتن سائیڈ ٹیبل پر رکھے بغیر اُسکی طرف دیکھے الماری سے اپنے کپڑے لیے واشروم میں گھس گیا۔۔۔کیا۔۔تھا یہ انسان۔وہ آج تک نہیں سمجھ پائی۔۔کوئی کیسے کسی اور کے بچے سے اِس حد قدر والہانہ محبت کرسکتا ہے۔۔۔فضا صرف سوچ ہی سکی۔۔اُسے دیا کی قسمت پر رشک آ رہا تھا۔۔۔اُس کی دعا قبول ہوچکی تھی خدا نے سبحان کی صورت دیا کو مضبوط ہاتھوں میں سونپ دیا ہے اب وہ سکون سے مر سکے گی۔۔۔
ابھی وہ یہ سب سوچ ہی رہی تھی۔۔جب واشروم کا دروازا کھولا۔۔اور سبحان ٹروزار شرٹ پہنے فریش سا واشروم سے نکلا۔۔اور شیشے کے سامنے کھڑا اپنے بال سیٹ کرنے لگا۔۔۔
فضا اُسے نظریں جھکائے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑنے لگی۔۔سبحان کو اُسکی حرکت سے پتہ چل گیا تھا کہ وہ کوئی بات کرنا چاہ رہی ہے۔۔جبھی اُسکی خوبصورت آواز کمرے میں گونجی۔۔آئی۔ایم۔۔سوری۔۔پلیز مجھے معاف کردے مجھے وہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔فضا نظریں جھکائے شرمندگی سے بولی۔۔۔سبحان اسکے لہجے میں صاف شرمندگی محسوس کرسکتا تھا۔۔۔لیکن اُسے سبق سکھانا ضروری تھا۔۔۔اِس لیے بغیر کچھ بولے وہ اپنے جگہ پر جاکر لیٹ گیا۔۔اور آنکھوں پر بازو رکھ لی۔۔۔
اُسکے کچھ نہ بولنے پر فضا کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی اور وہ بھی سر جھٹک کر اپنے جگہ پر آکر لیٹ گئی۔
