Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 05)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

اگلے دن وہ دونوں دیا کو کاشان کے حوالے کیے۔۔شوپنگ کے بہانے اِس وقت ڈاکٹر کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔دیکھے مس فضا۔۔جو سم ٹیز آپ نے بتائے اِس حساب سے دعا کرۓ جو میں سوچ رہی ویسا بالکل بھی نہ ہو ڈاکٹر فکرمندی سے اُن دونوں کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔آپ کے کچھ ٹیسٹ کیے جاۓ گے۔۔۔جن سے پتہ چلے گا کہ ہوا کیا ہے۔۔ڈاکٹر اپنے پروفیشنل انداز میں بولی۔۔۔تو دونوں نے ڈاکٹر کی بات پر سر ہلایا۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں بلڈ سیمپل دے کر وہ دونوں ہوسپٹل سے نکل گئی تھی۔۔۔

رپورٹ اُنہیں کل تک ملنی تھی۔۔۔ہادیہ تمہارے حساب سے رپورٹس کیسی آۓ گی۔۔۔فضا سر جھکاۓ پریشانی سے بولی۔۔۔یار تم فکر مت کرو انشاللّٰہ سب ٹھیک ہوگا۔۔۔اچھا تم اب اپنا موڈ ٹھیک کرو چلو آؤ کہی لنچ کرتے ہیں اور ساتھ شادی کی شوپنگ بھی۔۔۔ہادیہ محبت سے اُسے اپنے ساتھ گھیسٹتے ہوۓ بولی۔۔۔فضا کے نہ نہ کرنے کے باوجود اس کی زد پر اسے ساتھ چلنا پڑا۔۔۔۔

دونوں نے سب سے پہلے ایک اچھے سے ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا۔۔۔اور پھر اُن دونوں نے خود کی اور دیا کی خوب ساری شوپنگ کی۔۔۔وہ ابھی شوپنگ کرکے فارغ ہوئی تھی کہ تبھی فضا کے فون پر کاشان کی کال آنے لگی ۔۔جی بھائی۔۔۔فون یس کرتے ہی فضا بولی۔۔۔یار گڑیا اور کتنی دیر ہے۔۔۔پرنسز مجھ سے نہیں سنبھل رہی اب کاشان بےبسی سے بولا۔۔۔اُسکی بات پر ان دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔ڈونٹ وری بھائی ہم بس دس منٹ تک آرہے ہیں گھر فضا نے کہتے ہی فون بند کردیا اور اپنے قدم گاڑی کی جانب بڑھا لیے۔۔۔

__________________

سبحان اسوقت اپنے آفس میں بیٹھا نہ چاہتے ہوئے بھی فضا کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔آج وہ کسی کلائنٹ سے ملنے ریسٹورنٹ آیا تھا کہ تبھی اُسکی نظر سبز آنکھوں والی پری پر پڑی جو کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔اُسے پہلے کی نسبت آج کافی کمزور اور مرجھائی سی لگی۔۔۔جب تک وہ وہاں سے چلی نہیں گئی وہ وہاں بیٹھا اُسے دیکھتا رہا۔۔۔اسے خود اپنی حالت سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ اُسکے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔۔۔وہ ابھی انہی باتوں میں گم تھا جب اُسکا فون رنگ ہوا۔۔۔اسنے فون اٹھاکر نمبر دیکھا تو پل میں چہرے کے تاثرات سرد ہوۓ۔۔۔اُسنے فون یس کرکے کان سے لگایا۔۔۔ہیلو۔۔ہمم۔۔کہو۔۔۔وہ حد درجہ سنجیدگی سے بولا۔۔۔لیکن سامنے سے کہی بات سن کر اسکی آنکھیں پل میں لال ہوئی۔۔۔چہرے کے تاثرات مزید سرد ہوۓ۔۔۔ہمم۔۔میں کچھ ہی دیر تک پہنچتا ہوں۔۔۔سب کو بلاؤ ۔۔ابھی اور اسی وقت۔۔۔کہتے ہی اُسنے کھٹاک سے فون رکھ دیا۔۔۔اور اپنا کوٹ اٹھاۓ باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ ریش ڈرائیونگ کرکے ایک پوش علاقے میں پہنچا۔۔جہاں دور دور تک کوئی زی روح کا نام ونشان نہ تھا۔۔آسمان اس وقت بادلوں سے گرا ہوا تھا۔۔۔سر پر بلیک کیپ پہنے چہرے پر بھی بلیک ماسک کے ساتھ آنکھوں پر گلاسز لگاۓ وہ گاڑی سے نکلا اور ایک گہری سنجیدہ نظر آس پاس دوڑاۓ۔۔۔ایک مکان کی جانب بڑھا۔۔۔

گھر میں داخل ہوکر وہ ایک کمرے میں داخل ہوا کمرے میں موجود دائیں جانب دیوار کی جانب بڑھا۔۔۔اور ایک مخصوص بٹن دبا کر اُسنے دروازہ کھولا۔۔۔بٹن کے دبتے ہی وہ مخصوص دروازا کھلتا چلا گیا۔۔ دروازا کھلتے ہی اُسنے اپنے قدم اندر کی جانب بڑھا لیے۔۔۔

اُسے آتا دیکھ سب احترام اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔۔۔اور جلدی سے سلیوٹ کیا۔۔جس کا جواب اُسنے مخصوص سر ہلاکر دیا اور اپنی جگہ پر براجمان ہوگیا۔۔۔ساتھ اُن سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔ماسک میں چھپا چہرہ اس وقت بےحد سنجیدہ تھا۔۔۔ہممم شروع کرو۔۔۔اپنی گھمبیر اور سرد آواز میں عالی کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔سر۔۔۔جہاں تک ہمیں پتہ چلا ہے۔۔۔ان سب بم بلاسٹ۔۔۔ہر ہفتے کسی نہ کسی بلڈر کی لاش سڑک کنارے کچرے کے ڈبے میں ملنا۔۔۔اور ہر ماہ سڑک پر کوئی نہ کوئی راہ چلتی کم عمر لڑکی کو اُٹھانا۔۔۔ان سب کے پیچھے شاکر دادا دادا کا ہاتھ ہے جو یہ سب کروا رہا ہے۔۔شاکر دادا دبئی کا سب سے بڑا سمگلر مافیا ڈون ہے۔۔جس کے انڈر کئی سارے لوگ کام کرتے ہیں۔۔۔ اور اپنے ہی ملک کہ ساتھ غداری کررہے ہیں۔۔اُسے آج تک کسی بھی ملک کی فوج یا پولیس نہیں پکڑ پائی ہے۔۔۔وہ ہماری سوچ سے بھی زیادہ کی آگے کی سوچا تھا۔۔۔۔عالی اُسکے سامنے شاکر دادا کی فائل رکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔۔۔اُسکی بات پر وہاں موجود سب لوگوں نے مٹھیاں بھینجی۔۔۔وہ اپنی لال سرخ آنکھوں کے ساتھ فائل ریڈ کر رہا تھا۔۔۔ہمممم۔۔تو اب اس شاکر دادا سے بھی جلدی ہی ملنا پڑے گا۔۔۔ایس کے کچھ سوچتا ہوا سرد آواز میں بولا۔۔۔

ایک اور بات سر عالی سنجیدگی سے بولا۔۔۔ہمم۔کہو۔۔۔سر۔۔۔ہماری انفارمیشن کے مطابق ہمارے ملک کے سب سے بڑے سیاستدان بھی اُن کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔۔۔جو ملک کے متعلق ضروری معلومات ان تک پہنچا رہے ہیں۔۔۔۔

ہمم۔۔۔ٹھیک ہے اب لگ جاؤ تم سب اپنے اپنے کام پے۔۔۔اب ہمیں اس شاکر دادا کے ساتھ ساتھ اپنے ہی ملک سے غداری کرنے والوں کو اُن کے انجام تک پہنچانا ہوگا۔۔۔ملک سے غداری کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے انہیں بھی تو پتہ ہونا چاہیئے۔۔۔اب انہیں ہم اب بتائے گئے۔۔۔ایس کے اُن سب کی طرف دیکھتا ایک عظم سے بولا۔۔۔یس سر۔۔۔سب یک زبان ہوکر بولے۔۔۔

حسن مجھے بتہ کرکے بتاؤ۔۔شاکر دادا اِس وقت کس ملک میں رہائش پذیر ہے۔۔۔اور اُسکا اگلا ٹارگٹ کیا ہے۔۔۔یس سر۔۔۔اور ابرام تم ان سب کا پتہ لگاؤ جو پیٹھ پیچھے چھرا گھونپ رہے ہیں ۔۔۔جو اپنے ہی ملک کو سانپ کی طرح ڈس رہے ہیں۔۔۔وہ سرد آواز میں سنجیدگی سے کہتا۔۔۔میٹنگ برخاست کرتا میٹنگ روم سے نکلا گیا۔۔۔۔

__________________

فرش پر بیڈ کے ساتھ بیٹھی وہ دھاڑے مار مار کر رہ رہی تھی۔۔۔۔وہ کہی سے بھی پہلے والی فضا نہیں لگ رہی تھی یہاں تو کوئی موت کا ماتم منا رہی تھی ۔۔۔اُسے بس اتنا یاد تھا کہ وہ کچھ ضروری کام کا بول کر ڈاکٹر سے اپنی رپورٹس لینے گئی ہوئی تھی ۔۔۔اُسے بالکل حوش نہیں تھا۔۔وہ گھر اپنے کمرے میں کب کیسے پہنچی ۔۔۔وہ تو بس اس وقت کسی بچی کی طرح بلک بلک کر روئے جارہی تھی۔۔۔تبھی ہادیہ اُسے بلانے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔لیکن سامنے اُسے یو ٹوٹی بکھری حالت میں بیٹھا دیکھ وہ تڑپ کر اُسکی جانب بڑھی۔۔۔فضا میری جان کیا ہوا۔۔۔اور یہ کیا حالت بنا رکھی ہے ۔۔۔میری جان مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔کسی نے کچھ کہا۔۔وہ اُسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے فکرمندی سے پوچھ رہی تھی۔۔۔لیکن وہ کچھ بھی بولے بغیر مسلسل روئے جارہی تھی۔۔۔اُسکو یو تڑپتے ہوۓ روتا دیکھ اسے مزید تشویش ہونے لگی۔۔۔فضا میری جان مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے میرا دل بیٹھا جارہے ہیں۔۔وہ اس بار اُسے کندھوں سے تھامے تھوڑا سختی سے بولی۔۔۔ہہ۔۔ہادیہ۔۔۔مم۔۔میں۔۔مرنے والی۔۔ہوں۔۔وہ یہ کہتے ہی اُسکے گلے لگے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔فضا یہ کیا بکواس کررہی ہو۔۔ہوش میں تو ہو۔۔اُسکی بات پر ہادیہ بھڑک اٹھی۔۔۔۔ہادیہ سب ختم ہوگیا سب۔۔۔میں مرنے والی ہو۔۔اگر۔میں۔۔مر گئی تو۔ تو۔دیا۔۔دیا کا کیا ہوگا۔۔۔اُس سے تو پہلے ہی سب گھر والے نفرت کرتے ہیں۔۔فضا اپنی ہی دھن میں بولی جارہی تھی۔۔۔فضا۔۔یہ کیا بکواس کررہی ہو کب سے۔۔تم کیوں مرنے والی۔۔اور ایسا کیا ہوا ہے جو تم مرنے کی باتیں کررہی ہے۔۔۔ہادیہ اُسے جھجھوڑتے ہوئے غصے سے چیخی۔۔۔۔ہادیہ آا۔۔آج۔۔مم۔۔میں۔۔ڈاکٹر کے پاس گئی تھی۔۔اپنی رپورٹس لینے۔۔تو۔۔ڈڈ۔۔ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ مجھے ۔۔بل۔بلڈ۔۔کینسر ہے۔۔۔سیکنڈ سٹیج پر۔۔۔کہتے ہی فضا اُسکے گلے لگی ہچکیوں سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ہادیہ کو ایسا لگا جیسے کمرے کی چھت اُسکے سر پر آ گری ہو۔۔وہ بےیقینی سے فضا کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔فضا کے کچھ دیر پہلے کہے الفاظ ابھی بھی اُسکے کانوں میں گونج رہے تھے ۔۔وہ ساکت نظروں سے فضا کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

ہادیہ مم۔میں۔۔مرنا۔۔نہیں۔۔چاہتی۔۔مم۔مجھے۔۔جینا۔۔ہے۔۔ابھی۔۔دیا کے۔۔لیے۔۔مجھے۔۔جینا۔۔یے۔۔فضا اُسکے گلے لگی روتے ہوئے بول رہی تھی۔۔ہادیہ نے تڑپ کر اُسے خود میں پھینجا۔ہاں۔۔تمہیں۔۔جینا۔ہے۔۔دیا۔۔کے۔۔لیے۔۔جینا۔۔یے میرے لیے۔۔گھروالوں۔۔کے۔لیے۔۔تمہیں۔۔جینا۔ہے۔تمہیں جینا ہوگا۔تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔رونا بند کرو۔۔۔ہادیہ حوش میں آتی اُسے خود سے الگ کرکے اسکے آنسو صاف کرتی ہوئی نم آواز میں بولی۔۔۔میری جان تم ٹھیک ہو جاؤ گی انشاللّٰہ میں کاشان بھائی کو بتاؤ گی وہ تمہارا بہت اچھے طریقے سے علاج کروائے گے۔۔۔۔نن۔نہیں۔ہہ۔۔ہادیہ۔۔کیسی کو بھی تم کچھ نہیں بتاؤ گی۔۔تمہیں میری قسم۔۔فضا سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولی۔۔۔ٹھیک ہے نہیں بتاؤ گی۔۔لیکن ہم تمہارا پروپر چیک اپ کروائے گئے اور تم کل میرے ساتھ چلو گی۔۔ٹھیک ہے۔۔اب تم اپنے آنسو صاف کرو جلدی سے اور بالکل رونا نہیں انشاللّٰہ تم ٹھیک ہوجاو گی۔۔ہادیہ اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولی۔۔۔

یااللّٰہ تو رحم و رحیم ہے تو تو ہر چیز پر قادر ہے میرے مالک میری بہن کی آزمائش میں اُسے ثابت قدم رکھنا۔۔۔ہادیہ آسمان کی طرف دیکھ کر دل سے دعا دیتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

___________________

سب اِس وقت رات کے کھانے کے لیے ڈائنگ ٹیبل پر موجود تھے۔۔سوائے فضا کے۔۔سب کے پوچھنے پر ہادیہ نے اُسکی طبیعیت خرابی کا بہانہ بنا کر سنبھال لیا۔۔۔سب ہی کھانا کھا کر فارغ ہوئے تھے۔۔جب حسن شاہ کی آواز آئی۔۔۔کل شام لائبہ اور فائق کی مہندی کی تقریب گھر میں سادگی سے ہوگی۔۔کچھ پاس کے رشتے داروں کو مدعو کر لو۔۔۔لیکن نکاح کا فنکشن بڑی دھوم دھام سے ہوگا۔۔۔رضیہ آپا بھی کل صبح آجاۓ گی۔۔۔حسن صاحب تفصیل سے بتاتے ہوئے بولے۔۔۔اُن کی بات پر فائق کچھ نہیں بولا۔۔۔کاشان تم اظہر اور ملازمین کے ساتھ ملکر مہندی کی تیاریاں دیکھو گے۔۔۔جی ٹھیک بابا جان۔۔۔کاشان نے اُن کی بات پر جلدی سے حامی بھری۔۔۔کچھ ہی دیر میں سب باری باری اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔ہادیہ جلدی سے اپنا کام نمٹا کر اپنے لیے اور فضا کے لیے کافی بنائے اپنے روم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔ہادیہ جیسے ہی کمرے میں آئی تو فضا دیا کو گود میں لیے کسی گہری سوچ میں گم تھی۔۔۔اُسے دیکھ ایک پل کو ہادیہ کی آنکھیں نم ہوئی۔۔۔۔ جو گھر والوں کے اتنے برے رویے کی باوجود بھی وہ ہمیشہ خوش رہتی تھی اور آج کیسے ٹوٹی بکھری گڑیا کی مانند لگ رہی تھی۔۔۔اُسے دیکھ ہادیہ کے دل میں تکلیف ہوئی۔۔۔ ہادیہ جلدی سے اپنے آپ کو کمپرومائز کرتی آگے بڑھی۔۔۔دیا اب خالہ کے پاش آئی گی ہینا۔۔۔ہادیہ کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتی دیا کو پکڑتے ہوئے بولی تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔ہادیہ نے ایک نظر اس پر ڈالی جو ہنور ویسے ہی بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔فضا میری جان کیوں پریشان ہورہی ہو۔ دیکھنا انشاللہ تم بہت جلدی ٹھیک ہو جاؤ گی۔۔۔تمہیں ایسے گم سم دیکھ کر مجھے تکلیف ہورہی ہے ہادیہ اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے نم آواز میں بولی۔۔۔ہادیہ مم۔میں کیا۔۔کرو۔۔مجھے۔۔بس۔۔دیا۔۔کی فکر کھاۓ جا۔۔رہی۔۔ہے۔۔اگر میں مر گئی تو سب لوگ ایک بار پھر سے اِس معصوم کو منحوس بولے گے۔۔۔کچھ نہیں ہوتا میری تم بس اللّٰہ سے اچھے کی دعا کرو۔۔۔ہادیہ اُسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے پیار سے بولی۔۔۔

اپنے کمرے میں وہ بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر آفس کا کچھ کام کررہا تھا۔۔۔کی پیڈ پر مسلسل انگلیاں حرکت کررہی تھی کہ تبھی سائیڈ پر پڑا اُسکا فون بج اُٹھا۔۔نمبر دیکھ کر اسکے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی موبائل یس کرکے اسنے کان سے لگایا۔۔۔اسلام علیکم

کیسے ہو۔۔۔وعلیکم سلام میں ٹھیک آپ کیسے ہیں سامنے والا محبت اور احترام سے بولا۔۔الحمداللّٰہ۔۔۔علی کیسا ہے۔۔وہ بھی ٹھیک ہے تم سناؤ تم کب آۓ وہ اپنی مخصوص گھمبیر آواز میں بولا۔۔۔بس کل شام کو آیا ہوں۔۔ویسے آپ اتنے بھی بھولے نہیں ہے جیتنے بن رہے ہیں۔۔۔اس کمینے نوفلی نے میرے اک اک سکینڈ کی خبر آپ کو دی ہو گی وہ نروٹھے پن سے بولا۔۔۔ سامنے والے کی بات سن کر اُسکا قہقہ بےساختہ لگا جس سے اُسکے خوبصورت ڈمپل نمایا ہوۓ۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔اور بتاؤ گھر میں سب کیسے ہیں وہ بات پلٹتا ہوا بولا۔۔۔اللّٰہ کا شکر ٹھیک ہے سب۔۔۔آپ کو ایک انوٹیشن دینے کے لیے فون کیا تھا۔۔۔کیسا انوٹیشن سبحان ناسمجھی سے بولا۔۔ فائق بھائی کی شادی ہے کل اور آپ کو ضرور آنا ہے۔۔۔اچھااا اور اگر میں نہ آؤ تو وہ مزے سے بولا۔۔۔

تو پھر مجھے بول جائیے گا۔۔۔ کہتے ہی کھٹاک سے فون رکھ دیا گیا۔۔اسکے ساتھ یہ جرات صرف وہی کرسکتا تھا۔۔اسکے علاوہ کوئی بات کرتے اسکا فون کاٹ دے تو سمجھ لو وہ اس دن سے کوچ کر چکا ہے۔۔۔اسکے فون کھٹاک سے رکھنے پر وہ ارے ۔ارے کرتا رہ گیا ۔۔۔یہ لڑکا کبھی نہیں سدھر سکتا وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا دوبارہ سے اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔۔۔ان تینوں کی یہی تو ہر چیز سے پاک دوستی تھی جہاں محبوبہ کی طرح روٹھا اور منایا جاتا تھا۔۔۔جان تھے تینوں ایک دوسرے کی جہاں بے انتہا محبت بےانتہا پیار بے انتہا خلوص بے انتہا عشق تھا اُنہیں عشق تھا اپنی یاری سے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *