Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 17,18)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

سبحان کے جانے کے بعد فضا کتنی ہی دیر ساکت بیٹھی رہی تبھی اُسکی نظر دیا پر پڑی جو کھیلنے میں مصروف تھی۔۔اُسے دیکھ دیا کا خود کے ساتھ اختیار کیا رویہ یاد آنے لگا۔۔۔میسنی نہ ہو تو باپ ملتے ہی ماں کو کیسے بھول گئی۔۔۔فضا بےدھیانی میں ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بولی۔۔ اب میں بھی تم سے بات نہیں کرو گی۔۔۔فضا ناراضگی سے رخ موڑ کر لیٹ گئ۔۔۔۔دیا جو فضا کی طرف آنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ماں کو یو ناراض لیٹا دیکھ رہی تھی۔۔۔دیا آگے بڑھ کر محبت سے فضا کے چہرے پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔۔۔فضا جو سونے کا ناٹک کررہی تھی دیا کی حرکت دیکھ کر اُسکے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ آ گئی جسے وہ جلدی چھپا گئی۔۔۔

فضا کو کوئی حرکت نہ کرتا دیکھ دیا کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔۔اور پھر وہ کچھ ہی دیر میں اپنا سپیکر پھاڑ کر رونا شروع ہوچکی تھی۔۔۔اُسکو یو زور زور سے روتا دیکھ فضا نے جلدی سے اُسے اُٹھا کر سینے سے لگایا۔۔۔دیا میری۔۔جان۔۔میں۔۔مزاق۔۔کررہی۔۔تھی۔۔روتے نہیں ہے۔۔ماما۔۔کا۔۔اچھا۔بچہ۔۔ وہ اُسکا ماتھا چومے اُسے پچکارتے ہوئے بولی۔۔تو وہ سوں سوں کرتی ہوئی فضا کے گالوں پر اپنے لب رکھ گئی۔۔جس سے فضا کھلکھلا کر ہنس دی۔۔یہ اُسکا منانے کا طریقہ تھا۔۔جب بھی فضا اُس سے ناراض ہوتی تھی تو وہ ایسے ہی مناتی تھی۔۔چلو اب بس بہت لاڈیاں ہوگئی۔۔۔اب دیا نہائے گئی۔۔۔۔فضا اُسکے بالوں پر بوسہ دیتی اُسے اٹھا کر واشروم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ اُسے نہلا کر مکمل ٹول میں لپیٹے ہوئے باہر لائی۔۔۔فضا نے اُسے پنک کلر کی باربی فراق پہنائی۔۔۔جس سے وہ چھوٹی سی سبز آنکھوں والی پری سچ مچ کی پری لگ رہی تھی۔۔فضا نے اُسے دیکھ محبت سے اُسکے دونوں گالوں پر بوسہ دیا۔۔اور دل ہی دل کہی بار اُسکی نظر اُتاری۔۔۔فضا اُسے بیڈ پر بٹھاۓ خود باقی پھیلا ہوا سامان سمیٹنے لگی۔۔۔جب دروازا نوک ہوا۔۔۔آجاۓ۔۔۔اجازت ملتے ہی ملازمہ اندر داخل ہوئی۔۔

میم وہ نیچے نوفل صاحب کی فیملی آئی ہوئی ہے۔۔ملازمہ سر جھکاۓ ادب سے بولی۔۔۔ہممم۔۔ٹھیک ہے آپ جاکر چاۓ اور کچھ لازامات کا انتظام کرے میں آتی ہوں۔۔تو ملازمہ سر ہلاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔۔۔

_________________

فضا کے اِس طرح رخصت ہوکر جانے سے کسی کو بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا۔۔سواۓ ہادیہ اور کاشان کے۔۔وہ بالکل بھی نہیں چاہتے تھے کہ فضا اِس طرح رخصت ہوکر جاتی۔۔سب واپس اپنی روٹین پر آچکے تھے۔۔۔لائبہ اور سدرہ بیگم نے فضا کے ساتھ ساتھ اُس منحوس سے جان چھوٹ جانے پر خدا کا لاکھ بار شکر ادا کیا۔۔لائبہ ماں بننے کی وجہ سے آج کل سب گھر والوں سے اپنے لاڈ اٹھوا رہی تھی۔ ۔۔ہادیہ کو کبھی کبھی اپنی ماں اور بہن کی حرکتوں پر سخت غصہ آتا تھا لیکن وہ بچاری پھر بھی چپ رہتی تھی۔۔۔فضا کے جانے کے بعد فائق کافی وقت اکیلا دل اور دماغ کی جنگ لڑتا رہا۔۔۔دل کہتا تھا تونے اپنے ہی خون کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔اپنی محبت کی آخری نشانی کی قدر تک نہیں کی۔۔آخرت میں کیا منہ دیکھاۓ گا عائشہ کو ۔۔۔دماغ کہتا تھا شکر کر اُس منحوس سے جان چھوٹی۔۔جس نے تم سے تمہاری محبت چھین لی۔۔اب تُو اپنے آنے والے بچے کے بارے میں سوچ۔۔۔آخر دماغ اور دل کی کشمکش میں جیت دماغ کی ہوئی۔۔۔اور وہ سب کچھ بھلاۓ اپنی نارمل روٹین پر واپس آچکا تھا۔۔جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔حسن شاہ کو تو ویسے ہی بزنس اور سیاست سے فرست نہیں ملتی جو وہ کسی کو یاد کرے۔۔اِن سب کو دیکھ ایسا لگتا ہے جیسے اِن کو فضا کے ہونے یہ نا ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ہے۔۔کاشان اپنے گھروالوں کے رویے پر افسوس کے سوا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔

اُسنے کہی بار اپنے رب کا شکر ادا کیا کہ وہ فضا کو اُسکے محافظ کے حوالے کرچکا ہے۔۔جو بنا کسی غرض سے اُس سے بےپناہ محبت کرتا ہے۔۔

_________________

فضا دیا کو اپنے گود میں لیے سڑھیاں اُتر رہی تھی۔۔۔جب آہان کی نظر اپنی سبز آنکھوں والی اینجل پر پڑی جسے دیکھ کر اُسکے سنجیدہ چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ آ گئی جس سے اُسکے گالوں میں موجود گڑھے نامدار ہوۓ۔۔۔اسلام علیکم فضا نے اُن کے پاس پہنچ کر احتراماً سلام کیا۔۔۔واعلیکم سلام۔۔رانیہ اُٹھنے ہی لگی۔۔جب فضا کی آواز گونجی۔۔۔آپی آپ پلیز بیٹھے رہے فضا نرمی سے مسکرا کر بولی تو وہ بھی مسکرا دی۔۔۔چاچی۔۔کیا میں اپنی اینجل کو پکڑ سکتا ہوں۔۔آہان اُس کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔تو فضا نے سر ہاں میں ہلا کر ہلکی سی مسکان کے ساتھ دیا کو اُسکی گود میں دیا۔۔آہان اپنی گود میں موجود اپنی اینجل کو ٹکر ٹکر دیکھ رہا تھا جیسے اِس دنیا میں اِس سے زیادہ اہم کوئی کام نہیں۔۔رانیہ تو اُسکے رویے پر ہی حیران ہورہی تھی کہاں وہ سنجیدہ مزاج چھ سال کا بچہ اور کہاں اب وہ سب کچھ بھلاۓ دیا کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھا۔۔۔ رانیہ سر جھٹکتے ہوئے فضا کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔کیسی ہو فضا۔۔گھر میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی۔۔رانیہ اُسے دیکھ نرمی سے بولی۔۔جی سب ٹھیک تھا۔۔وہ نرمی سے مسکرا کر بولی۔۔سبحان نے زیادہ تنگ تو نہیں کیا وہ اُسے دیکھ شرارت سے بولی۔۔۔وہ گھبراتی ہوئی بولی نن۔نہیں۔۔۔تبھی ملازمہ ٹرالی گھسٹتی ہوئی آئی۔۔۔اُسے دیکھ فضا اپنی جگہ سے اُٹھی۔۔آپ جاۓ باقی میں کرلو گی۔۔وہ ملازمہ کو دیکھتے ہوئے بولی تو وہ سر ہلا کر چلی گئی ۔۔۔فضا اس سب کی کیا ضرورت تھی۔۔رانیہ اِتنا سب کچھ دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔کوئی بات نہیں آپی۔۔۔آپ کو تو ویسے بھی اِس حالت میں کچھ نہ کچھ کھاتے پیتے رہنا چاہیے۔۔وہ مسکراتی ہوئی اُن کی جانب کپ بڑھاتے ہوۓ بولی جسے رانیہ نے شکریہ کہ کر تھام لیا۔۔۔

تبھی اُن دونوں کی نظر دیا کی جانب گئی۔۔۔جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے آہان کا چہرہ تھام کر اُسکے گال پر بوسہ دیے رہی تھی۔۔۔دیا کی حرکت پر آہان کو بلش ہوتا دیکھ اُن دونوں کا بےساختہ قہقہہ چھوٹا۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔آہان بیٹا آپ بلش کررہے ہو۔۔۔رانیہ اُسے دیکھ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔

________________

تبھی اندر آتے سبحان کی آواز گونجی۔۔۔کیا بات۔۔ہے۔۔کس۔۔بات۔۔پر اِتنا ہنسا جا رہا ہے۔۔سبحان نوفل کے ساتھ گھر میں داخل ہوتے ہوئے مسکرا کر بولا۔۔نوفل نے رانیہ کو کچھ دیر پہلے فون کیا تھا تب اُسے پتہ چلا وہ فضا سے ملنے سبحان کے گھر آئی ہوئی ہے۔۔تو وہ بھی سبحان کے ساتھ ہی یہاں آگیا۔۔کاشان بھی آنا چاہتا تھا لیکن اچانک کچھ ضروری کام کی وجہ سے وہ آ نہ سکا۔۔۔۔

ہمیں بھی بتاؤ کیوں اِتنا مسکرایا جارہا تھا۔۔۔نوفل رانیہ کی طرف دیکھ کر بولا۔۔آپ کا بیٹا۔۔رانیہ آہان کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے مسکرا کر بولی۔۔۔دونوں نے نظریں گھما کر آہان کی جانب دیکھا جس کا چہرہ لال سرخ ہو رہا تھا۔۔رانیہ چمپ کی طبیعت ٹھیک ہے یہ اِتنا لال کیوں ہورہا ہے۔۔نوفل اُسے دیکھ فکرمندی سے بولا۔۔۔تو رانیہ نے کچھ دیر پہلے والی بات اُن دونوں کے گوشوگزار کردی جسے سن کر اُن دونوں کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا۔۔۔

آہان خفا نظروں سے ماں کو دیکھ رہا تھا۔۔اُسے دیکھ رانیہ کندھے آچکا گئی۔۔۔

اآ۔و۔و۔آہا۔۔دیا کو اپنی جانب ہاتھ بڑھاتا دیکھ سبحان نے مسکرا کر آہان کی گود سے دیا کو پکڑا۔۔۔تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔بابا کی جان۔۔بری۔۔بات۔بڑے۔بھائی۔۔کو۔۔تنگ۔۔نہیں۔۔کرتے۔۔۔۔۔سبحان جان بوجھ کر دیا کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔لیکن اُسکی نظریں آہان پر ہی تھی۔۔۔جو اُسکی سوچ کے مطابق بھڑک اُٹھا۔۔۔نو۔۔چاچو۔۔میں۔۔اِس۔۔کا۔۔بھائی۔۔نہیں۔۔ہوں۔۔۔اٹس۔۔اونلی۔۔مائی۔۔اینجل۔۔آہان۔۔غصے سے سبحان کو گھورتے ہوئے بولا۔۔اُسکے ریکشن پر سبحان کا قہقہہ کا لگا۔۔۔اور دیا کو لیے فضا کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔آہان کی بات پر ناچاہتے ہوۓ بھی فضا سمیت سب مسکرا دیے۔۔۔

میں چاۓ لے کر آتی ہوں۔۔فضا کہتی ہی وہاں سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔میں بھی چلتی ہوں تمہارے ساتھ۔۔نہیں آپی آپ بیٹھے میں لاتی ہوں۔۔کہتے ہی وہ وہاں سے چلی گئی۔۔۔

نوفل اپنے بیٹے کی نظریں قابو میں رکھو۔۔کیسے میری بیٹی کو تاڑ رہا ہے۔۔اُسکے باپ کے سامنے۔۔۔سبحان سنجیدگی سے بولا لیکن آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔۔۔

نہ بھائی یہ تیرا ہی پر تُو ہے۔۔ اپنے چمپ کو تو ہی سنبھال۔۔۔جیسے یہ دیا کا دیوانہ ہو چکا ہے نہ مجھے لگتا ہے ہمیں ابھی سے رشتے کی بات کر لینی چاہیے۔۔نوفل کی بات پر وہ تینوں ہی مسکرا دیے۔۔۔

کچھ ہی دیر میں چاۓ آچکی تھی۔۔۔سب نے بہت خوش گوار ماحول میں چاۓ بھی۔۔۔پھر نوفل لوگ شام کا کھانا کھا کر اپنے گھر روانہ ہوچکے تھے۔۔۔

فضا دیا کو بیڈ پر بیٹھاۓ اردگرد تکیے سیٹ کیے۔۔خود کپڑے لے کر شاور لے کر واشروم میں گھس چکی تھی۔۔۔

سبحان جیسے ہی کمرے میں آیا دیا کو بیڈ پر بیٹھا کھلونوں کے ساتھ کھیلتا دیکھ اُسکے پاس آیا اور اُسے اُٹھا کر اینے پر بیٹھا کر خود لیٹ گیا۔۔۔بابا۔۔کی جان۔۔اکیلی۔۔ہے۔۔ماما۔۔کدھر ہے۔۔وہ محبت سے اُسکی ناک دباتا ہوا بولا۔۔۔تو وہ منہ بسورتی ہوئی دوبارہ کھیلنے میں مصروف ہوچکی تھی۔۔۔

تبھی واشروم کا دروازا کھولا اور وہ اپنے دھیان میں بغیر دوبٹے کے گیلے بالوں کے ساتھ فریش سی باہر نکلی۔۔۔تبھی اُسکی نظر سبحان پر پڑی جو اُسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔فضا نے گڑبڑا کر جلدی سے دوبٹہ اُٹھا کر کندھے پر پھیلایا۔۔

اُسکی حرکت سبحان سے مخفی نہ رہ سکی اور وہ مسکراہٹ دباتا ہوا دیا کو واپس بیڈ پر بیٹھاتا۔۔۔۔اُسکی جانب بڑھا۔۔۔جو شیشے کے سامنے کھڑی سبحان کی نظروں سے کنفیوز ہوتی کپکپاتے ہاتھوں سے بالوں کو کنگھی کررہی تھی۔۔۔سبحان کو اپنی جانب آتا دیکھ فضا کی سانسیں تھمی۔۔سبحان اُسے کمر سے پکڑ کر اُسکے گیلے بالوں میں منہ چھپانے لگا۔۔۔اُسکی حرکت پر فضا کے ہاتھ ساکت ہوۓ۔۔برش چھوٹ کر زمین پر گرا۔۔۔سبحان نے ایک لمبی سانس کھینچ کر اُسکے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اُتاری۔۔۔یور۔۔سمیل۔۔اِز۔۔سو۔۔گڈ۔۔وہ گھمبیر آواز میں اُسکے کان میں سرگوشی کرتا اُسکے کان کی لو کو چوم گیا۔۔اُسکی حرکت پر فضا کا جسم لرزا۔۔س۔سب۔۔سبحان۔۔اُسکی قربت میں وہ بےمشکل اُسکا نام لے سکی۔۔۔سبحان مدہوش سا ہوتا اُسکا رخ اپنی جانب کر گیا۔۔۔فضا لرزتی کانپتی سبحان کے سہارے پر کھڑی تھی۔۔۔سبحان اُسکے گلابی ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتا مدہوش سا ہوتا۔۔۔اُسے کمر سے جکڑے خود سے قریب کرتا اُسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ گیا۔۔۔۔فضا اُسکی شرٹ مٹھیوں میں دبوچے آنکھیں پھاڑے اُسکی کاروائی دیکھ رہی تھی جو مسلسل اُسکی سانسیں پی رہا تھا۔۔فضا کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔اُسے لگا وہ اب کبھی سانس نہیں لے پاۓ گی۔۔۔وہ اُسکے سینے پر ہاتھ رکھے اُسے پیچھے ہٹانے کی کوشش کررہی تھی۔۔لیکن ناکام۔۔۔وہ مدہوش سا اُسکے ہونٹوں پر جھکا اپنی پیاس بجھا رہا تھا۔۔۔

تبھی اچانک فضا نے مزمت ترک کر دی۔۔۔اُسکا جسم ڈھیلا پر گیا۔۔۔اگر سبحان اُسے پکڑے نہ ہوتا تو وہ کب کی زمین بوس ہوچکی ہوتی۔۔سبحان غیر محسوس انداز میں پیچھے ہٹا تو وہ اُسکی باہوں میں جھول گئی۔۔۔اُسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔یا خدا یہ میں نے کیا کردیا۔۔وہ سر پر ہاتھ پھیرتا ہوا بڑبڑاہا۔۔۔اور اُسے باہوں میں اُٹھا کر بیڈ پر لٹایا۔۔۔۔

تبھی اُسکی نظر سائیڈ ٹیبل پر موجود میڈیسنز پر پڑی جو ویسی کی ویسی ہی پڑی تھی۔۔میڈیسن کو ویسے ہی پڑا دیکھ سبحان کو شدید غصہ آیا۔۔۔اور فضا سے صبح پوچھنے کا ارادہ کرتا۔۔خود واشروم میں گھس گیا۔۔۔پندرہ منٹ بعد وہ سادہ سے حولیے میں واشروم سے نکلا اور لائٹ اوف کیے دیا کو اپنے سینے پر لٹاۓ اپنی سائیڈ پر آکر لیٹ گیا۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ سبز آنکھوں والی پری نیند کی وادیوں میں اُتر گئی۔۔۔سبحان نے فضا کے گرد اپنا آثار باندھا۔۔۔۔میری چھوٹی سی گستاخی پر ہی بےہوش ہوگئی میری ڈول۔۔۔میری محبت میرے جنون کی شدتیں کیسے جھیلو گی اپنی ننھی سی جان پر وہ اُسکے چہرے پر نظریں جمائے دل میں بولا۔۔۔اور آنے والے وقت کے بارے میں سوچ کر ایک خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ وہ اپنی آنکھیں موند گیا۔

Episode 18

اگلے دن صبح ناشتے کے فضا ملازمہ کے ساتھ ملکر ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ لگا رہی تھی۔۔جب سبحان بلیک پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے۔۔ فریش سا تیار ہوکر ڈائننگ ٹیبل پر پہنچا۔۔اُسنے ایک گہری نظر فضا پر ڈالی اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔۔دیا روم میں سو رہی تھی۔۔فضا وہاں سے جانے لگی جب۔۔سبحان کی گھمبیر آواز گونجی۔۔کہاں جا رہی ہیں۔۔رات کے واقعے کے بعد فضا کے لیے سبحان کا سامنا کرنا مشکل ہورہا تھا اِس لیے وہ جلد سے جلد وہاں سے جانے چاہتی تھی۔۔وو۔دد۔دیا۔۔روم۔۔سو۔رہی۔۔ہے۔۔کسی۔کونہ پاکر رونا شروع کر دے گی۔۔فضا اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے بےمشکل بولی۔۔سبحان اُسکے نظریں چرا کر بات کرنے سے بات سمجھ چکا تھا۔۔لیکن اُسے تنگ کرنا تو بنتا تھا۔۔۔میں۔ملازمہ کو اُسکے پاس چھوڑ کر آیا ہوں۔۔آپ بیٹھ کر ناشتہ کر۔۔پرنسز جب اُٹھ جاۓ گی ملازمہ لے آۓ گئی۔۔سبحان اُسے دیکھ مسکراہٹ ضبط کرتا ہوا بولا۔۔تو وہ نہ چار چپ چاپ بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگی۔۔ویسے رات والا جوس کچھ زیادہ ہی میٹھا تھا۔۔۔سبحان جوس کا گلاس لبوں سے لگاۓ اُسے گہری نظروں سے دیکھتا شرارت سے بولا۔۔اُسکی بات کی گہرائی سمجھ کر فضا سٹپٹائی۔۔اور بغیر کچھ بولے اپنا سر مزید پلیٹ پر جھکا لیا۔۔سبحان اُس کی غیر ہوتی حالت دیکھ مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتا دیکھ گھمبیر آواز میں بولا۔۔۔

کل میڈیسن لی تھی۔۔وہ اُس پر نظروں جماے بولا۔۔اُسکے لہجے میں اِس وقت کوئی بھی نرمی نہیں تھی۔۔وہ سنجیدگی سے اُس سے سوال کررہا تھا۔اُسکی بات پر فضا کا ناشتہ کرتا ہاتھ تھما۔۔نن۔۔نہیں۔۔وجہ۔۔وہ اُسے دیکھ حد درجہ سنجیدگی سے بولا۔۔۔ممم۔میرا۔دل۔۔نن۔نہیں۔۔تھا۔۔سبحان نے اُسکی بات پر گہری سانس ہوا کے سپرد کی۔۔۔فضا کیا آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کے ساتھ زبردستی کرو۔۔آئندہ دھیان رکھیے گا۔ میں دوبارہ اِس طرح کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرو گا۔۔دھیان رکھیے گا۔۔وہ اپنی جگہ سے اُٹھتا ہوا بولا۔۔۔اُسکے اِس طرح حکم چلانے پر فضا کا دماغ گھما۔۔

آپ ہوتے کون ہے مجھ پر اِس طرح حکم چلانے والے۔۔۔میں کھاؤ۔نہ کھاو۔۔مرو۔۔جیو۔۔جو مرضی کرو۔۔۔شوہر ہے تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھ پر اِس طرح حکم چلاۓ گئے۔۔۔ اپنی حد میں رہے مسٹر سبحان خانزادہ۔۔۔وہ غصے سے اُسے گھورتی ہوئی چلائی۔۔۔سبحان نے مٹھیاں بھینجے اپنا غصہ کنٹرول کیا۔۔۔اور اُسے بغیر کچھ سمجھنے کا موقع دیے اُسے کھینچ کر دیوار کے ساتھ پن کیے اُسکے گلابی ہونٹوں پر جھک گیا۔۔اور قطرہ قطرہ اُسکی سانسیں پینے لگا۔۔۔وہ اِس اچانک افتادہ پر بوکھلائی اور مسلسل مزمت کرتی اُس چٹان نما انسان کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی لیکن ناکام۔۔۔اُسکی مدھم ہوتی سانسوں کو محسوس کیے وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹا۔۔۔

اُسکے پیچھے ہٹتے ہی وہ لمبی لمبی سانسیں لینے لگی۔۔شرموں حیا سے اُسکا چہرہ لال ٹماٹر ہوگیا تھا۔۔سبحان اُسکے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکا کر گھمبیر آواز میں بولا۔۔۔

دوبارہ مجھے کبھی حد نہ بتانا مسز۔۔کیوں کے جس دن میں نے اپنی حد پار کی نہ تو تمہاری یہ ننھی سی جان مشکل میں آ جاۓ گی۔۔وہ اُسے گہری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا ۔۔

اور آئندہ تم نے اپنی صحت کے بارے میں کوئی بھی کوتاہی کی نہ تو ابھی یہ اُسکا ٹریلر تھا۔۔۔پکچر ابھی باقی ہے۔۔۔وہ اُسکے گال سہلاتے ہوئے آنکھ دبا کر بولا۔۔۔اور اُسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے اُسے اپنا اور دیا کا خیال رکھنے کا بول کر گھر سے نکل گیا۔۔۔

کتنی ہی دیر وہ وہاں کھڑی اپنی سانسوں کو نارمل کرتی رہی۔۔دل تھا کہ ابھی جیسے پسلیاں توڑ کر باہر نکل آۓ گا۔۔

سبحان کی حرکت یاد آتے ہی وہ لال سرخ ہوتی۔۔۔۔۔شکر تھا وہاں کوئی ملازمہ نہ تھا۔۔۔ٹھرکی نہ ہوتو۔۔۔وہ اُسے کہی القابات سے نوازتی کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

__________________

نن۔۔نہیں۔۔ایسا۔۔نہیں۔ہوسکتا۔۔کون۔۔ہے جسے اپنی زندگی پیاری نہیں ہے۔۔۔کس میں اِتنی ہمت جو شاکردادا سے پنگا لے شاکر دادا سے پنگا بہت مہنگا پڑے گا۔۔وہ اپنی بدصورت چنگاڑتی ہوئی آواز میں بول رہا تھا۔۔اُسے ابھی کچھ ہی دیر پہلے یہ خبر ملی تھی کے پاکستان میں موجود اُسکے سب سے بڑے اڈھوں پر کسی ایس کے نے قبضہ کرکے اُسکا سارا مال اپنے قبضے میں لے لیا ہے تب سے وہ پاگل ہونے کے در پر تھا۔۔تم لوگ سوۓ تھے کمینوں جب وہ یہ سب کر رہا تھا۔۔وہ اپنے ایک آدمی پر آگ کی طرح برساتا ہوا بولا۔۔۔موسیٰ کہاں ہے۔۔کچھ سوچتے ہوئے اُسنے موسیٰ کے بارے میں پوچھا جو پاکستان میں موجود اُسکے اڈھوں کو سنبھالتا تھا۔۔بب۔۔بوس۔۔وہ۔۔موسی دادا۔۔۔آپ کی بیٹی کے ساتھ کسی پارٹی مم۔میں گئے ہوۓ ہیں۔۔دوسرا آدمی ڈرتے ہوئے بولا کہی اُسکا بوس اُسے ہی نہ مار ڈالے۔۔اُسکی بات پر شاکر دادا نے مٹھیاں بھینجی۔۔۔جلد سے جلد یہاں کے سارے کام سمیٹو۔۔۔اب ہم انڈیا کے بجائے اِس پاکستان جاۓ گے۔۔۔آخر میں بھی تو دیکھو کس کو اپنی جان نہیں پیاری۔۔جس نے اپنی موت کی پروا کیے بغیر شاکردادا سے پنگا لینے کا سوچا ہے۔۔۔اور بیٹھے بیٹھاۓ اپنی موت کو خود دعوت دے رہا ہےشاکر دادا کچھ سوچتا ہوا کمینگی ہنسی ہنستے ہوئے بولا۔۔۔

لیاقت۔۔ججج۔ببوس۔۔وہ ڈرتے ہوئے اُسکے سامنے جن کی طرح حاضر ہوا۔۔۔اُس لڑکی کا کیا بنا جسے شیخ نے پسند کیا تھا۔۔وہ سگریٹ سلگاتے ہوۓ بولا۔۔۔بب۔بوس۔۔نہم۔۔نے اُسے اغوا کر لیا تھا۔لیکن۔۔۔۔

اُسکا آدمی اپنا تھوک نگلتے ہوۓ بولا۔۔۔لیکن کیا۔۔۔شاکر دادا ہوا میں دھواں اُڑاتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔۔۔لیکن جہاں۔۔ہہ۔ہم۔۔نے۔۔اُسے۔۔رکھا۔۔وہاں۔۔اب۔۔اُسکی۔لاش۔۔ملی۔۔ہے۔۔وہ ڈرتے ہوئے بولا۔۔۔

دھت۔۔تیری۔کی۔۔۔تم۔لوگ۔۔سوۓ۔ہوۓ۔تھے۔۔کیا۔کمینوں۔اس پر نظر نہیں رکھ سکتے تھے۔۔۔وہ دھاڑا۔۔۔سس۔سوری۔۔بوس۔۔۔شاکر دادا نے اُسے خونخوار نظروں سے گھورا۔۔۔اب کوئی اور لڑکی ڈھونڈ جلد از جلد۔۔اُس لڑکی سے بھی زیادہ خوبصورت اور شیخ کو خوش کرو۔۔ورنہ کمینہ ہمارے کام میں ٹانگ اٹکاۓ گا۔۔۔۔

شاکردادا اپنے آدمیوں کی طرف دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔تو وہ تابعداری سے سر ہلاتے ہوئے وہاں سے گم ہوگئے۔۔۔

__________________

فضا دیا کو پکڑے ڈرائنگ ایریا میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔جو پتہ نہیں کیوں آج بلاوجہ مسلسل روۓ جاری تھی۔۔فضا اُسے ہر طرح سے چپ کروانے کی کوشش کررہی تھی۔۔جو چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔دیا چپ ہوجاؤ میری جان کیوں ماما کو پریشان کررہی ہو۔۔فضا اُسے سینے سے لگائے فکرمندی سے بولی۔۔تبھی داخلی دروازے سے ہادیہ اندر داخل ہوئی۔۔اُس پر نظر پڑتے ہی فضا اپنی جگہ ساکت ہوگئی۔۔۔یہی حال ہادیہ کا تھا۔۔فضا ہوش میں آتے ہی آنکھوں میں نمی لیے ہادیہ کی جانب بڑھی یہی تو تھی اُسکی ہمدرد۔۔جس نے کبھی بھی اُسکا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔۔دونوں کافی دیر ایک دوسرے کے گلے لگی روتی رہی۔۔دیا ایک نظر ہادیہ کو دیکھ دوبارہ رونا شروع ہوچکی تھی۔۔اُسے دوبارہ روتا دیکھ فضا پریشانی سے اُسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔کیا ہوا فضا یہ ایسے کیوں رو رہی ہے۔۔پہلے تو تمہارے پاس کبھی ایسے نہیں روئی۔۔ہادیہ بھی اُسے دیکھ فکرمندی سے بولی۔۔پتہ نہیں یار کیا ہوگیا ہے آج اِسے صبح سے ہی ایسے روۓ جا رہی ہے۔۔۔ہممم۔تم اِسے مجھے پکڑاو۔۔اور اِسکا دودھ لاؤ۔۔ہادیہ اُسکے ہاتھ سے دیا کو لیتے ہوئے بولی۔۔۔تو فضا سر ہلا کر کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔کیا ہوا۔۔خالہ کی جان کیوں رو رہی ہے۔۔ہادیہ صوفے پر بیٹھی اُسے مسلسل بہلانے کی کوشش کررہی تھی۔۔

او۔جانے نے جانا۔۔ڈھونڈے تجھے دیوانہ۔۔سپنوں میں روز۔۔آنا۔۔۔۔آہ۔۔زندگی۔۔میں۔۔آنا۔۔صنم۔۔

کوئی اپنی بےسروی آواز میں گنگناتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا۔۔تبھی آنے والی ہستی اور ہادیہ دونوں کی بیک وقت نظریں ملی۔۔۔اور دونوں ہی اپنی جگہ ساکت ہوگئے۔۔علی کے ہاتھ سے بیگ چھوٹا۔۔۔تم۔۔وہ شاک سا بولا۔۔یہی حال ہادیہ کا تھا۔۔تم۔۔۔یہاں۔۔۔

ہادیہ یہ لو۔۔اب تم کوشش کرکے دیکھ لو۔۔فضا اُس کی جانب فیڈر بڑھاتے ہوئے بولی۔۔۔تبھی اُسکی نظر علی پر پڑی جو شاک کے علم میں دروازے پر ہی کھڑا تھا۔۔۔۔

جج۔جی۔۔آپ۔۔کون۔۔اور کس سے ملنا ہے۔۔فضا کو کالج والی ملاقات بالکل بھی یاد نہ تھی اِس لیے اُسے دیکھ کر بولی۔۔

فضا کی آواز سن کر وہ ہوش میں آیا۔۔۔

یی۔یہ۔۔میرا۔۔گھر۔۔ہیے۔۔اور آپ۔۔دونوں۔۔یہاں۔۔کیا۔۔کررہی۔۔ہیں۔علی اُن دونوں کو دیکھتا ہوا بولا۔۔واٹ۔۔تو سبحان بھائی تمہارے بھائی۔۔ہے۔۔ہادیہ صدمے سے چلائی۔۔ہاں۔۔وہ میرے بڑے بھائی ہیں۔۔کیوں۔۔علی الٹے اُسی سے سوال کر گیا۔۔ہاہاہاہاہاہا۔۔ہادیہ اُسے دیکھ منہ پھاڑ کر ہنسنے لگی۔۔اب تم کیوں بدروحوں کی طرح منہ پھاڑ کر ہنس رہی ہو۔۔علی خفگی سے بولا۔۔۔کیوں کہ آپ کے بڑے بھائی نے آپ کو ہی اپنے نکاح میں شامل نہیں کیا۔۔سو سیڈ۔۔ہادیہ آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔۔واٹ۔۔۔بب۔بھائی۔۔نے شادی ۔کرلی۔۔اور۔۔مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔۔وہ صدماتی کیفیت میں چلایا۔۔۔یہ ہے تمہاری پیاری بھابھی۔۔ فضا سبحان خانزادہ۔۔۔ہادیہ اُسے دیکھ مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے بولی۔۔علی کا تو صدمہ ہی اِتنا بڑا تھا وہ بچارا اور کیا سوچتا کہ کون ہے اُسکی بھابھی۔۔۔۔لیکن تبھی دیا کی رونے کی وجہ سے اُسکی سانس پھولنے لگی۔۔دد۔دیا۔۔مم۔میری جان کیا ہوا۔۔ماما۔۔کی طرف دیکھو۔۔فضا اُسکو سانس نہ لیتا دیکھ فکرمندی سے بولی۔۔سب پریشانی سے اُسکی جانب متوجہ ہوئے جسے سانس لینے میں مشکل ہورہی تھی۔۔۔فضا۔۔ممم۔مجھے۔۔لگتا۔۔ہے۔۔یہ۔۔سبحان بھائی کو۔۔مس۔۔کررہی ہے ۔ہمیں۔۔بھائی کو بلانا چاہیے۔۔ہادیہ اُسکی بگڑتی حالت دیکھ فکرمندی سے بولی۔۔

ہاں۔۔ہاں سبحان۔۔پلیز۔۔سبحان کو کال کرکے جلدی سے بلاۓ۔فصا نم آنکھوں سے علی کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔ججج۔جی۔۔میں ابھی کرتا ہوں۔۔علی نے جلدی سے سبحان کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔ایک دو بل کے بعد کال اُٹھا لی گئی۔۔علی نے اُسے دیا کی بگڑتی حالت کا بتا کر جلدی گھر آنے کا بولا۔۔

سبحان پندرہ منٹ کے اندر گھر پر موجود تھا۔۔وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا۔۔دیا کی غیر ہوتی حالت دیکھ وہ تڑپ کر اُسکی جانب بڑھا اور فضا کی گود سے دیا کو پکڑا۔۔۔دیا۔۔بابا۔۔کی۔۔جان۔۔دیکھو۔۔بابا۔۔آگئے۔۔ہیں۔۔سبحان دیا کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے فکرمندی سے بولا۔۔جو اُسکے سینے پر سر رکھے اب لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ نارمل ہوچکی تھی۔۔اُسے نارمل ہوتا دیکھ سب نے خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔

فضا ریلکس یار دیا اب ٹھیک ہے ٹیشن مت لے۔۔ ہادیہ پہلی بار ہمارے گھر آئی ہے۔۔کھانے وغیرہ کا انتظام کرۓ۔۔سبحان دیا کے ساتھ کھیلتے ہوئے اُسکی طرف دیکھ کر بولا۔۔جو پریشانی کے ساتھ نم آنکھوں سے دیا کو دیکھ رہی تھی۔اور پھر لمبی سانس لیے سر ہلاتی ہوئی کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔ہادیہ بھی اُسکے پچھے چل دی۔۔اب وہ دونوں بھائی ڈائننگ ایریا میں اکیلے رہ چکے تھے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *