Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 29)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul 

پانچ ماہ بعد:

فضا اپنے دھیان سڑھیاں اُتر رہی تھی۔۔ ۔کہ آخری سیڑھی پر آکر اچانک اُسکا پاؤں مڑا۔۔۔اِس سے پہلے وہ زمین پر گرتی اور اپنا سب سے بڑا نقصان کرواتی سبحان نے اُسے اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھام لیا۔۔۔فضا میری جان ٹھیک ہو کہی لگی تو نہیں وہ اُسے دیکھ فکرمندی سے بولا۔۔اُسنے ڈر کے مارے کانپتے ہوئے اپنا سر نفی میں سر ہلایا۔۔فضا میری جان میں نے تمہیں کتنی بار بولا ہے اِتنی لاپروائی مت کیا کرو اپنی حالت تو دیکھو تم اب اکیلی نہیں ہو تمہارے ساتھ ایک ننھی سی جان جڑی ہوئی ہے ۔۔وہ اُسے دیکھ مصنوعی خفگی سے بولا۔۔سوری مجھے پتہ ہی نہیں چلا کیسے پاؤں مڑ گیا وہ سر جھکاۓ نم آواز میں بولی۔۔اُسے دیکھ سبحان نے ایک لمبا سانس لیا اور اُسے اپنے ساتھ لگاۓ صوفے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

پانچ ماہ پہلے سبحان کو جیسے ہی یہ خوشخبری ملی کے وہ ایک بار پھر سے باپ بننے والا ہے اُسکی خوشی کی کوئی اِنتہا نہ رہی۔۔۔اِن گزرے پانچ ماہ میں سبحان نے اُسے اپنے ہاتھ کا چھلا بنایا ہوا تھا فضا کے ساتھ ساتھ وہ دیا کا ہر چھوٹا بڑا کام وہ اپنے ہاتھوں سے کرنا فرض سمجھتا تھا۔۔فضا سبحان کی اِتنی محبت دیکھ کر خدا کا لاکھ شکر ادا کرتی تھی۔۔۔سبحان دیا کہاں ہے فضا دیا کو گھر کہی نہ پاکر فکرمندی سے بولی۔۔۔میری جان ٹیشن کیوں لے رہی ہو میری پرنسس اپنے چاچو کے ساتھ باہر گھومنے گئی ہے۔۔ اُسکی بات وہ ہاں میں سر ہلا گئی۔۔۔ویسے جانم کبھی مجھ ناچیز پر بھی دھیان دے لیا کرو اِتنا ہینڈسم اور گڈ لوکنگ شوہر ملا ہے اور یہاں میڈم کو قدر ہی نہیں وہ اُسے دیکھے مصنوعی افسوس کے ساتھ بولا۔۔۔اُسکی بات پر فضا نے اپنی آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورا کے واقعی۔۔۔اِس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی کہ تبھی اُسکی نظر داخلی دروازے کی جانب اُٹھی اور وہی ساکت ہوگئی۔۔۔وہ ہونق سی بس داخلی دروازے کی سمت ہی دیکھے جارہی تھی۔۔اُسے مسلسل ایک طرف دیکھتا پاکر سبحان نے نظریں گھما کر اُس سمت دیکھا۔۔۔جہاں فائق اور لائبہ کھڑے ہوۓ تھے۔۔۔وہ بنا کچھ بولے قدم قدم چلتے ہوئے اندر داخل ہوۓ۔۔۔تبھی فضا کا سکتا ٹوٹا۔۔۔آپ آپ کی ہمت کیسے ہوئی ہے یہاں آنے کی۔۔۔چلے جاۓ یہاں سے وہ اپنی جگہ سے اُٹھتے ہوۓ سپاٹ لہجے میں بولی۔۔

اُسکی حالت کے پیشے نظر سبحان نے اُسے ریلکس رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔فضا گڑیا پلیز بس ایک دفعہ میری بات سن پھر میں چلا جاؤ گا وہ منت کرتے ہوئے دکھی لہجے میں بولا۔۔۔مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سننی مہربانی کرکے یہاں سے جاۓ وہ غصے سے دوبدو بولی۔۔۔فضا میری جان کیا ہوگیا ہے یار ۔۔۔وہ بس بات کرنا چاہتے ہیں ایک بار سن لو۔۔۔وہ آنکھوں ہی آنکھوں اُسے تسلی دیتے ہوئے بولا۔۔۔سبحان نے اُسے بولنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔

فضا مجھے نہیں پتہ میں تم سے کیا بات کرو اور تم سے اپنے کس کس گناہ کی معافی مانگو۔۔۔۔دیکھو آج ہم دونوں خالی ہاتھ تمہارے در پر کھڑے ہے۔۔مجھے تمہاری بددعا لگ گئی۔۔۔میں نے اپنی معصوم بیٹی کو ٹھکرایا تو دیکھو خدا نے مجھے دوبارہ اولاد جیسی نعمت دے کر مجھ سے چھین لی۔۔۔وہ کہتے ہی ضبط کے باوجود پھوٹ پھوٹ کر رہ دیا۔۔۔اُسکے الزام اور بات پر وہ تڑپ ہی تو اُٹھی۔۔ممم۔۔میرا۔۔خخ۔خدا۔۔جانتا۔۔ہے۔میں۔۔نے۔آپ۔کو۔۔کوئی بددعا نہیں دی۔۔

وہ اپنے آنسو پیتی ہوئی بےمشکل بولی ۔۔۔۔تم تو شاید کوئی بددعا نہیں دی لیکن اُس رب نے ہمیں یہ سزا دی ہے فضا میرے ہاتھ کچھ نہیں آیا میں خالی ہاتھ رہ گئی مجھ سے میری اولاد چھین لی گئی ۔فف۔فضا۔۔ممم۔میرا۔بچہ مرا ہوا پیدا ہوا۔۔۔اا۔۔اور۔۔ڈاکٹر کا۔۔کہنا ہے کہ میں دوبارہ شاہد کبھی ماں نہیں بن سکتی۔۔۔کہتے ہی وہ دھاڑیں مار کر رو دی۔۔۔وہ ساکت سی کھڑی اپنے منہ پر ہاتھ رکھے اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹنے کی ناکام سی کوشش رہی تھی اُسنے تو کبھی ایسا نہیں چاہا تھا۔۔۔لیکن کہتا ہے نہ غرور کا انجام ہمیشہ بتر سے برا ہوتا ہے۔۔ہماری سوچ سے بھی کہی زیادہ برا ۔۔آج فائق اور لائبہ کا غرور خاک ہوا تھا۔۔

________________

بابا۔۔۔تبھی دیا کی آواز اُن سب کی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔۔سب نے بیک وقت داخلی دروازے کی جانب دیکھا۔۔۔اپنی ننھی سی بیٹی عائشہ اور اپنی محبت کی آخری نشانی کو اپنے سامنے دیکھ فائق کی آنکھیں ایک بار پھر جھلک پڑی۔۔۔آج اُسے خود پر بےتحاشہ افسوس اور نفرت ہورہی تھی کہ اُس نے اپنی اِتنی پیاری رحمت کو منحوس کہ کر ٹھکرا دیا تھا۔۔۔بابا۔۔۔وہ ایک بار پھر بابا کا نارا لگاتی ہوئی بھاگی۔۔۔سبحان دیا کو اپنی طرف آتا دیکھ اُسے اپنی گود میں اُٹھا گیا۔۔تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔جی۔۔بابا کی جان بابا کا پارا بچہ وہ اُسکے پھولے پھولے روئی جیسے گالوں پر بوسہ دیتے ہوئے محبت سے بولا۔۔۔یہ خوبصورت منظر دیکھ فائق کے دل میں ایک ہوک سی اُٹھی۔۔

بابا۔۔ماما۔تہو۔۔رہ۔لہہی۔۔ہی۔۔(ماما کیوں رہ رہی ہے)وہ اپنے لب باہر نکالے ہوئے بولی۔۔ماما رو نہیں رہی پرنسس ماما کی آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا۔۔سبحان کے اشارے پر فضا جلدی سے اپنے آنسو صاف کرکے مسکرائی۔۔۔میری گڑیا کہاں گئی تھی اپنے بابا کو اکیلا چھوڑ کر وہ مصنوعی دکھ سے بولا۔۔۔شوری بابا میں تاتو کے شات باہر گئی تھی۔۔تاتو نے مجھے توکلیٹ لے تر دی۔(سوری بابا میں چاچو کے ساتھ باہر گئی تھی چاچو نے مجھے چوکلیٹ بھی لے کر دی۔)وہ اپنی توتلی زبان میں اُسے تفصیل سے بتانے لگی۔۔۔سبحان نے محبت سے اُسکے گالوں پر بوسہ دیا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔بوا آپ دیا کو لے کر کمرے میں جاۓ وہ دیا کو بوا کے حوالے کرتا ہوا بولا۔۔۔فضا مجھے پتہ ہے میں یہ کہنے کا حق بہت پہلے کھو چکا ہو میں اب بالکل یہ حق نہیں رکھتا لیکن تمہارے سامنے میں ہاتھ جوڑتا ہوں پلیز دیا مجھے واپس دے دو فائق اُسکے سامنے التجا کرتا اپنے ہاتھ جوڑ گیا۔۔۔اُسکی بات پر علی سمیت اُن دونوں نے تڑپ کر اُسے دیکھا دیا میں جان بستی تھی اُن تینوں کی تو کیسے وہ دے دیتے۔۔۔اُسکی بات پر فضا نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔ننن۔نہیں کبھی نہیں دیا میری بیٹی وہ میرے پاس ہی رہے گئی۔۔نہیں کبھی نہیں وہ جنونی انداز میں چلائی۔۔۔فضا پلیز ہم دونوں پر رحم کھاؤ مجھے میری بیٹی واپس دے دو میں بہت محبت سے رکھو گا کبھی بھی کوئی بھی تکلیف نہیں ہونے دو گا۔۔۔اب تو تم لوگوں کا اپنا بچہ بھی اِس دنیا میں آنے والا ہے۔۔تو پھر دیا تو تم لوگوں کی کچھ لگتی بھی نہیں ہے۔۔ وہ میرا خون ہے اور اُسے اپنے گھر میرے پاس ہونا چاہیے وہ آخر پر سنجیدگی سے بولا۔۔۔

غلط۔۔سبحان کی سنجیدہ آواز اُن کی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔غلط مسٹر فائق شاہ ۔۔۔آپ کو کس نے کہاں وہ ہماری کچھ لگتی نہیں ہے۔۔آپ سے زیادہ ہمارا حق ہے اُس پر اور آپ شاید بھول رہے ہیں کہ دیا کی کسٹڈی میرے پاس ہے۔۔ اور دیا میری پہلی اور لاڈلی اولاد ہے۔۔کوئی بھی اُسے مجھ سے چھین نہیں سکتا کبھی بھی نہیں۔۔ اور دوسری بات دیا آپ کا خون نہیں بلکے اب خانزادوں کا خون ہے۔۔دیا کو چوٹ لگی تھی تو اُسکا کافی خون ضائع ہوچکا تھا اور اُسے خون کی اشد ضرورت تھی تب میں نے اُسے اپنا خون دیا تھا جس حساب سے۔80٪ پرسنٹ میرا خون اُسکی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔۔اور دس پرسنٹ بدقسمتی سے آپ کا۔۔۔وہ اُسے دیکھ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا۔۔۔۔دیا کا خو سے دور جانے کا سوچ ہی اس کا تڑپ اُٹھا۔۔۔اور تب یہ محبت یہ اپنائیت یہ خون کہاں گیا تھا جب اُسے ماں کے بعد سب سے زیادہ ضرورت آپ کی تھی تب کہاں گیا تھا یہ رشتہ کہ وہ آپ کی بیٹی ہے ۔۔۔اب آپ کو یہ سب ایک دم سے یاد آ رہا ہے وہ آخری بات سنجیدگی سے بولا اُسکی بات پر اُن دونوں نے سر جھکا دیا۔۔۔

بھائی مجھے معاف کیجئے گا لیکن جو آپ بول رہے ہیں وہ میں مر کے بھی نہیں کرسکتی۔۔۔دیا میں میری ہم سب کی جان بستی ہے ہمارے گھر کی رونق ہے میں کیسے اپنی جان آپ کے حوالے کردو۔۔۔نہیں کبھی نہیں ۔۔۔مجھے معاف کیجئے گا ۔۔لیکن میں دعا کرو گی اللّٰہ پاک آپ کی آزمائش جلد ختم کرۓ اور آپ دونوں کو نیک اولاد دے۔۔ بےشک اُسکے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں کہتے ہی وہ ایک دکھ بھری نظر اُن دونوں پر ڈالے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

پیچھے وہ دونوں ایک بار پھر سے خالی ہاتھ رہ گئے۔۔۔

مزید چار ماہ بعد ۔۔۔

فضا یار جلدی کرو۔۔سب کیا سوچے گے کہ دلہے کے بھائی بھابھی کی غائب ہے۔۔وہ دیا کو گود میں لیے باہر کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔۔۔بابا ماما سو لیزی۔۔۔دیا سبحان کو دیکھ ناک چڑا کر بولی۔۔اُسکی حرکت پر سبحان کو اُس پر ٹوٹ کر پیار آیا۔۔نہیں میری جان ماما لیزی نہیں ہے ہم نے ماما کو تنگ کیا ہوا تھا اِس لئے وہ لیٹ ہوگئی۔۔وہ اسکے سر پر بوسہ دیتا ہوا محبت پاش سا بولا ۔

تم دونوں باپ بیٹی کر لو برائیاں میری ایک بار میرے بےبی کو آنے دو پھر بتاؤ گئی۔۔تم دونوں کو میسنے۔۔۔وہ اپنے بھرے بھرے وجود پر شال ٹھیک کرتی اُن کے پیچھے آتی ہوئی خفگی سے بولی۔۔۔اسکی بات پر دونوں باپ بیٹی نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔۔جب بھی وہ دونوں اسے تنگ کرتے تھے وہ ایسے ہی ان کو دھمکاتی تھی۔۔سبحان نے دھیان سے پہلے فضا کو گاڑی میں بیٹھایا پھر دیا کو۔۔اور خود ڈائیونگ سیٹ پر بیٹھا زن سے بھاگا لے گیا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *