Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 22)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul 

گھر آتے آتے سبحان کو رات کے گیارہ بج چکے تھے۔۔۔جلدی جلدی کے چکر میں بھی وہ کافی لیٹ گھر پہنچا تھا۔۔اُسنے جیسے ہی گھر میں قدم رکھا تو ہر طرف گہری خوفناک خاموش کا راج تھا۔۔۔وہ ایک نظر ڈالے سر جھٹکتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔فضا اور دیا کے آرام کے خیال سے وہ آرام سے دروازا کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔اور دروازا بند کرکے جیسے ہی مڑا تبھی اُسکی نظر بیڈ پر بیٹھی فضا پر گئی جو ٹانگیں اوپر کیے اُن کے گرد بازوں پھیلاۓ بیٹھی ہوئی تھی جب کہ اُسکے پہلو میں دیا سُو رہی تھی۔۔اُسکی حالت دیکھ سبحان کو کچھ گڑبڑا سی محسوس ہوئی۔۔۔اُسنے اپنے قدم اُسکی جانب بڑھاۓ قدموں کی آواز پر اُسنے سر اُٹھا کر دیکھا۔۔۔لیکن سبحان تو اُسکی سبز آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ہی تڑپ اُٹھا۔۔فف۔فضا۔۔میری جان۔۔کیا ہوا۔۔تم۔رہ۔۔کیوں۔رہی۔۔ہوں۔۔سبحان آگے بڑھ کے محبت سے اُسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے فکرمندی سے بول رہا تھا۔۔۔فضا بغیر کچھ بولے بس یک ٹک اُسے ہی دیکھی جا رہی تھی۔۔فضا۔۔مجھے۔۔بتاؤ۔۔کیا۔۔ہوا۔۔ہے۔۔کیسی۔نے۔کچھ۔کہاں۔۔پلیز مجھے بتاؤ میرا دل بیٹھا جارہا ہے۔۔اُسے کچھ نہ بولتا دیکھ وہ اُسے کندھوں سے تھامے جھجھوڑتے ہوئے غصے سے بولے۔۔۔

اپنے لیے یو کسی کو اِتنا فکرمند ہوتا دیکھ فضا کا ضبظ جواب دیے گیا اور وہ بنا کچھ کہے۔۔اُسکے سینے سے لگی دھاڑے مار مار کر رونے لگی۔۔فضا کو یو بلک بلک کر روتا دیکھ سبحان کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔

کتنی ہی دیر وہ اُسکے سینے سے لگی روتی رہی۔۔سبحان نے بھی اُسے رونے دیا کہ وہ رو کر اپنا دل ہلکا کرلے۔۔

جب وہ کچھ دیر بعد سنبھلی تو سبحان اُسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر بولا ۔۔۔اب بتاؤ۔۔کیا ہوا تھا کیوں رہ رہی تھی۔۔سبحان اُس کے چہرے پر نظریں جمائے اُسکی پیٹھ سہلاتے ہوئے بولا۔۔۔۔

فضا کو جب اپنی پوزیشن کا خیال آیا تو شرم سے وہ سرخ ہوگئی۔۔اُسنے پیچھے ہونا چاہا لیکن سبحان کی سخت پکڑ نے اُسکی یہ کوشش ناکام بنا دی۔۔۔جب۔۔تک تم بتاؤ گی نہیں ایسے ہی ساری رات میری باہوں میں گزراو گی۔۔مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا البتہ تمہیں ضرور ہوگا۔۔وہ اُسکے کان میں سرگوشی کرتا ہوا اُسکی کان کی لو کو چوم گا۔۔اُسکی حرکت پر فضا کا جسم لرز اُٹھا۔۔۔اور آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔۔۔میری جان رونا۔۔میں۔۔کچھ۔۔نہیں۔کررہا۔ریلکس۔سبحان اُسکو رونے کی تیاری کرتا دیکھ جلدی سے بولا۔۔۔

اچھااا اب بتاؤ کیوں رو رہی تھی۔۔سبحان اُسے دیکھ نرمی سے بولا۔۔سس۔سبحان۔۔مم۔۔میں۔ابھھ۔ابھی۔۔مرنا۔۔نہیں۔۔چاہتی۔۔۔مجھے۔۔ابھی۔۔جینا۔۔ہے۔۔فضا اُسکو پیچھے ہٹتا نہ دیکھ کر بات کو گول مول گھماتے ہوئے نم آواز میں بولی۔۔اُسکی بات پر وہ تڑپ ہی اُٹھا۔۔اُسے لگا جیسے اُسکا دل کسی نے مٹھی میں لے کر کچل دیا ہے۔۔فضا۔۔۔کیسی باتیں کررہی ہو۔۔میری۔۔جان۔۔میں۔۔تمہیں۔کبھی۔بھی۔کچھ۔۔نہیں۔ہونے۔دوگا۔۔تمہیں ابھی جینا ہے میرے لیے دیا کے۔لیے۔۔دوبارہ میں تمہارے منہ سے ایسی باتیں نہ سنو وہ سختی سے بولا۔۔نہیں تو پھر وہ والی سزا ملے گی۔۔اور مجھے تو کوئی مثلا نہیں تمہیں سزا دینے میں سبحان آخری بات شرارت سے کہتا ہوا بولا۔۔اُسے گہری نظروں سے خود کو تکتا پاکر وہ سٹپٹا کر جلدی سے اُسکے پاس سے اُٹھی۔۔

آپ فریش ہوجاۓ میں کھانا لاتی ہوں۔۔کہتے ہی وہ سو کی سپیڈ سے کمرے سے نکل گئی۔۔اُسکی سپیڈ دیکھ سبحان کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا۔۔وہ دیا کو پیار کرتا الماری سے اپنے کپڑے لے کر واشروم میں گھس گیا۔۔۔

_________________

اگلے دن وہ اپنے آفس میں بیٹھا چہرے پر حد درجہ سنجیدگی سجائے کسی ضروری فائل پر جھکا ہوا تھا۔۔جب انٹر کال بج اُٹھی۔۔۔یس۔۔۔۔

سر کوئی لڑکی آپ سے ملنے آئی ہیں۔۔اچھاااا۔۔اُسے جیسے پتہ ہے کہ آنے والا کون ہے۔۔۔کیا نام بتا رہی ہے اپنا۔۔وہ سنجیدگی سے بولا لیکن آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی۔۔سر کوئی مس رمشا ہے۔۔دوسری طرف سے کہاں گیا۔۔ہممم۔۔بھیجو۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ مغرور چال چلتی ہوئی اپنی ٹک ٹک کرتی ہیل کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔۔۔وہ ستائش اور چمکتی آنکھوں کے ساتھ سامنے بیٹھے خوبرو شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔جس نے اسکا دل چین سب چرا لیا تھا۔۔۔ اپنی اوپر نظروں کی تپش محسوس کرکے سبحان نے مٹھیاں پھینجی۔۔اُسے اِس طرح دیکھنے کا حق تو صرف اُسکی ڈول کا تھا۔۔جو اُسے نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتی تھی اور سامنے کھڑی لڑکی کیسے بےباکی سے اُسے دیکھ کم گھور زیادہ رہی تھی۔۔آپ کی تعریف مس۔۔وہ اپنے آپ کو کمپرومائز کرتا ہوا سنجیدگی سے بولا۔۔اُسکی آواز سن کر وہ ہوش میں آئی۔۔اور قدم قدم چلتی بغیر اُسکی اجازت کے اُسکے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔

رمشا ملک ہے میرا نام۔۔۔رمشا انڈرسٹرز کی اونر۔۔۔وہ انتہائی مغرور نہ لہجے میں بولی۔۔اُسکا لباس دیکھ کر سبحان نے مٹھیاں بھینچ کر نظروں کا رویہ بدلہ۔۔ہممم۔۔رمشا انڈرسٹرز جو آج کل کافی لوس میں جاری ہے۔۔وہ ٹانگ پر ٹانگ جماۓ ہلکی سی مسکان کے ساتھ بولا۔۔اُسکی مسکان دیکھ کر رمشا کو اپنا دل پاگل ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔ہممم۔۔یہی۔۔سمجھ لے۔۔میں آپ کی کمپنی کے ساتھ پاٹنر شپ کرنا چاہتی ہوں۔۔جو بھی پروفٹ ہوگا۔۔وہ ہم آدھا آدھا کرلے گے۔۔۔اسکی باتوں سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ سب کچھ سوچ کر یہاں آئی تھی۔۔۔ہمممم۔۔تو اِس میں مجھے کیا فائدہ۔۔۔وہ اُسے دیکھ کر سوچ انداز میں گویا ہوا۔۔۔مجھ۔۔سے شادی کرلو۔۔وہ بغیر کسی لگی لپٹی کے بولی۔۔سبحان کو بالکل تواقع نہ تھی کہ سامنے بیٹھی لڑکی اِتنی جلدی مان جاۓ گی اور وہ اِتنی جلدی کامیاب ہوجاۓ گے۔۔۔مجھ سے شادی کرلے۔۔پھر میرا سب کچھ آپ کا ہی تو ہوگا۔۔۔۔وہ چمکتی آنکھوں سے اُسے دیکھتے ہوئی ایک ادا سے مسکرا کر بولی۔۔۔کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ گویا ہوا۔۔۔۔ہممم۔ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔۔وہ اُسکی طرف ہلکی سی مسکان اُچھالتا ہوا بولا۔۔۔لیکننن۔۔۔لیکن کیا رمشا اُسکی طرف دیکھ کر بولی۔۔میری ایک بیوی اور بچی بھی ہے۔۔سبحان نے اُسکے سر پر دھماکا کیا۔۔رمشا کو اُسکی بات سن کر شدید جھٹکا لگا۔۔۔

لیکن اُسکے پاس زیادہ دن نہیں ہے۔۔اُسے کینسر ہے۔۔۔وہ آنکھیں میچے ہوۓ بولا۔۔۔یہ بات اُسنے کیسے کہی تھی یہ اس وقت صرف وہی جانتا تھا۔۔۔اُسکی بات پر رمشا کا اٹکا سانس بحال ہوا۔۔۔مجھے کوئی مثلا نہیں میں تیار ہوں۔۔وہ شان بے نیازی سے بولی۔۔۔ٹھیک۔ہے۔تو۔پھر۔۔تم۔میرے ساتھ میرے گھر چلو۔۔۔میرا ایک ضروری پروجیکٹ ہے اُسکے ختم ہونے کے فوراً بعد ہم شادی کرلے گے۔۔۔وہ اُسکی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔تو وہ خوشی سے جھومتی ہوئی وہاں سے جاچکی تھی۔۔۔اُسکے جاتے ہی سبحان فضا کے ریکشن کا سوچ کر اپنا سر ہاتھوں میں گرا گیا۔۔۔

ایس کے تم نے یہ بالکل بھی ٹھیک نہیں کیا۔۔۔یہ ہمارے پلین میں نہیں تھا ۔۔کاشان کی خفا سی آواز ائیر سپیکرز میں گونجی۔۔تم ٹیشن مت لو میں سب سنبھال لو گا سبحان اُسے دلاسہ دیتے ہوئے بولا لیکن بول وہ خود کو رہا تھا کہ وہ سب سنبھال لے گا۔۔۔۔

________________

فضا آج بہت زیادہ خوش تھی کہ سبحان کا رویہ اُسکے ساتھ ٹھیک ہوچکا ہے۔۔آج اُسنے اپنے ہاتھوں سے شام کا کھانا بنایا تھا۔۔۔اُسنے حجاب لینا شروع کردیا تھا کہ کسی کو بھی اُسکی حالت کا پتہ نہ چلاۓ۔۔۔یہاں تک کہ اُسنے سبحان کو بھی خبر تک نہیں ہونے دی تھی۔۔۔وہ بوا کے ساتھ ملکر ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی جب علی دیا کو لے کر وہاں آیا۔۔بھابھی بھائی کب تک آۓ گے۔۔بابا کی لاڈلی بابا۔۔کا نعرا لگا لگا کر میرا سر کھاۓ جارہی ہے۔۔علی اُسکی ناک دباتا ہوا شرارت سے بولا۔۔تو وہ منہ بسورتی ہوئی بابا بابا کا نعرہ لگایے اپنا سپیکر سٹاٹ کرچکی تھی۔۔۔اُسکو روتا دیکھ علی بوکھلا سا گیا

علی کے بچے اب تم ہی بابا کی لاڈلی کو چپ کرواؤ گے۔۔فضا صاف انکار کرتی دوبارہ سے کام میں مصروف ہوچکی تھی۔۔۔

تبھی داخلی دروازے سے سبحان اندر داخل ہوا۔۔دیا کو روتا دیکھ وہ جلدی سے اُسکی جانب بڑھا۔۔۔اور علی کے گود سے دیا کو لیا۔۔بابا۔۔کی جان۔کیوں۔رہ۔رہی۔۔ہیں۔۔سبحان اُسکا بوسہ لیتے ہوئے محبت سے بولا۔۔دیا اپنے سامنے سبحان کو دیکھ رونا بھول چکی تھی اور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اُسکا چہرہ تھامے پیار کررہی تھی۔۔۔اُسکی حرکت دیکھ وہ تینوں ہی مسکرا دیے۔۔۔تبھی فضا کی نظر سبحان کے پیچھے کھڑی رمشا ہر پڑی اُسے دیکھ فضا کی مسکراہٹ سمٹی۔۔۔یہ لڑکی کون ہے اور یہ سبحان کے ساتھ کیا کررہی ہیں وہ دل میں بولی۔۔لیکن نظریں ہنور اُسی پر تھی۔۔تبھی اُسکی نظر اُسکے لباس پر گئی جو نہ ہونے کے برابر تھا۔۔شرم سے وہ نظریں جھکا گئی۔۔۔سبحان پل پل فضا کے بدلتے تاثرات نوٹ کررہا تھا۔۔بھائی یہ لڑکی کون ہے۔۔علی اپنے بھائی کے ساتھ کسی لڑکی کو دیکھ جلدی سے بولا۔۔۔یی۔یہ۔۔رمشا۔ملک۔ہے۔۔میری۔۔نیو۔بزنس۔پاٹنر۔۔کچھ۔۔دن یہی۔۔رہے۔۔گی۔۔سبحان۔۔نظریں چراتے ہوئے بولا۔۔ہاۓ ایوری۔ون۔۔۔رمشا مسکراتی ہوئی ہاتھ ہلا کر بولی۔۔جس پر سب نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔۔فضا کو یہ لڑکی بالکل بھی پسند نہیں آئی تھی۔۔۔ناجانے کیوں۔اُسے مسلسل اِس لڑکی سے خطرے کی بو آرہی تھی۔۔فضا رمشا کو گیسٹ روم دیکھا دو وہ فریش ہوجاۓ تب تک میں فریش ہوکر آتا ہوں۔پھر سب ملکر کھانا کھاتے ہیں۔سبحان کہتے ہی دیا کو لیے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

فضا اُسے اپنے ساتھ لیے گیسٹ روم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

کچھ ہی دیر میں سب فریش ہوکر ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے۔۔سب نے کافی خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا۔۔لیکن فضا چند نوالے کے بعد چاہ کر بھی کھانا کھا ہی نہ سکی۔۔۔وہ مسلسل رمشا کی حرکتیں نوٹ کررہی تھی۔۔جو سبحان کے دائیں جانب کی پہلی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔کبھی سبحان کو کھانا سرو کرتی کبھی کسی بات پر ہنستے ہوئے اُسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتی کبھی کچھ تو کبھی کچھ۔۔۔جو فضا بےمشکل برداشت کررہی تھی۔۔۔وہ کہاں برداشت کرسکتی تھی سبحان کو کسی اور کے ساتھ۔۔۔ایک ان دیکھا لاوا اُسکے اندر پل رہا تھا جو کہ کسی بھی وقت اب پھٹ سکتا تھا۔۔سبحان کو وہاں سے اُٹھتا دیکھ فضا نے لاکھ بار خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔اور پھر سب کے کھانا کھانے کے بعد خود ملازمہ کے ساتھ برتن سمیٹنے لگی۔۔۔کھانا کے بعد فضا نے سب کے لیے چاۓ بنائی۔۔۔سب نے گپ شپ کے ساتھ لون میں بیٹھ کر چاۓ بھی ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *