Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum (Episode 01)

Tu Ne Chaha Mujhy Har Dum by Pari Gul

دسمبر کے سرد ترین دن شروع ہوچکے تھے ۔۔۔۔اس وقت سردیوں کا موسم تھا۔۔۔آسمان میں ہلکے بادلوں کے ساتھ دھند نے بھی ڈھیرے جماۓ ہوۓ تھے۔۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی یک بستہ ہوا چل رہی تھی۔۔۔ جو اتنی سردی میں کسی بھی انسان کو جما کر رکھ دے۔۔۔لیکن اِتنی سردی میں صبح کے وقت لون میں موجود اُس زوی روح پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔وہ نماز کے بعد گھر کے لون میں سبز گھاس پر بغیر جوتوں کے چہل قدمی کررہی تھی۔۔۔گھاس پر موجود نمی اُسے اپنے اندر ایک انوکھا سکون پہنچا رہی تھی۔۔۔۔گہری سبز سہر زدہ آنکھیں جن کو دیکھ کر کوئی بھی ایک پل کے لیے پاگل ہوسکتا تھا۔۔چھوٹی سی ناک جو ٹھنڈ کی وجہ سے اس وقت گلابی ہورہی تھی۔۔۔گلابی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ۔۔۔سفید دودھیا رنگت۔۔کمر سے نیچے آتے لمبے کال بال۔۔۔حسن تو واللّٰہ بےمثال پایا تھا۔۔۔۔جو بھی ایک بار دیکھ لیتا کہی کہی دن چا کر بھی نہیں بھول پاتا تھا۔۔جو اس وقت ہلکے گلابی رنگ کی سادھا سی فراق پہنے،دوبٹہ نماز کے سٹائل سے لیے،سردی سے بچنے کے لیے بلیک شال اپنے اردگرد اُوڑھے۔۔۔کافی وقت سے آنکھیں بند کیے گھاس پر موجود نمی محسوس کررہی تھی۔۔۔ پھر کافی دیر چہل قدمی کرنے کے بعد وہ ایک لمبی سانس ہوا کے سپرد کیے اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔ایک نئے دن کے ساتھ نئی جنگ کے لیے۔۔جو بالکل تیار تھی۔۔۔وہ جیسے ہی ڈرائنگ روم میں آئی تو سامنے ہی سدرہ چاچی اُسے ہی غصے سے گھور رہی تھی ۔۔۔جیسے ابھی ہی کچا چبا جاۓ گی۔۔۔وو۔۔چچ۔۔چاچی۔۔مم۔میں۔۔بس۔۔ابھی وہ بول ہی رہی تھی جب وہ درمیان میں اُسکی بات کاٹ کر بولی۔۔۔۔تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے۔۔۔اس منحوس کو اِتنا سر نہ چڑھاؤ۔۔۔پہلے اپنی ماں کو کھا گئی۔۔۔اب ہمارا جینا حرام کیا ہے۔۔ کلمہوئی نے سدرہ چاچی اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے غصے سے بولی۔۔۔فضا نم آنکھوں سے اپنی چاچی کو دیکھ رہی تھی جو اُس معصوم کے لیے کیسے تکلیف دہ الفاظ استعمال کررہی تھی۔۔۔۔اب کھڑی کیا ہو۔۔۔جاؤ جاکر اُسے چپ کرواؤ۔۔۔صبح صبح اُسکا نہ بند ہونے والا سپیکر سٹاٹ ہو جاتا ہے۔۔۔منحوس نہ ہو تو سدرہ چاچی کہتے ہی کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔اور وہ ایک شکوہ بھری نظر اُن کی پشت پر ڈالے۔۔ہاتھ سے اپنے آنسو صاف کیے۔۔۔اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

جیسے ہی دروازہ کھول کر وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے ہی ہادیہ کو دیکھ کر اُسے کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔جو دیا کو سینے سے لگائے مسلسل چپ کروانے میں لگی ہوئی تھی۔۔۔فضا یار تمہیں پتہ ہے نہ وہ تمہیں محسوس کرسکتی ہے۔۔۔جب تم اُسکے پاس نہیں ہوتی ہو تو وہ رونے لگ جاتی ہے۔۔۔پھر بھی تم اُسے اکیلا چھوڑے باہر چلی گئی۔۔۔ہادیہ اُسے آتا دیکھ خفگی سے اُسے دیکھتی ہوئی ایک ہی سانس میں بولی۔۔۔اُسکی بات کو نظر انداز کر کے اُسنے آگے بڑھ کر جلدی سے دیا کو اپنی گود میں لیا۔۔۔۔اسکے پاس آتے ہی وہ رونا چپ ہوگئی۔۔۔اور ٹکر ٹکر اپنی موٹی سبز نشیلی آنکھوں سے اپنی ماما کو دیکھنے لگی۔۔۔۔میری جان کیوں اپنی ان پیاری پیاری آنکھوں پر اتنا ظلم کرتی ہو۔۔۔فضا اُسکی آنکھوں کو چھو کر اُسے دیکھتے ہوئے محبت سے بولی۔۔۔اپنی ماں کی باتوں پر وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔اُسکو یو ہنستا دیکھ۔۔۔وہ دونوں بھی ہنس دی۔۔فضا نے محبت سے اُسکے سر پر اور پھولے ہوئے گلابی گالوں پر بوسہ دیا۔۔۔یار کیوں کرتی ہو اس ننھی سی جان کے ساتھ ایسا۔۔۔ہادیہ پھر سے اپنی بات دوہرانے لگی ۔۔۔یار کیا کرو میں نہیں کرنا چاہتی یہ سب۔۔۔میں سمجھی تھی دیا کے ساتھ گھر والوں کا رویہ وقتی ہے وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔۔۔لیکن نہیں میں غلط تھی۔۔۔اس گھر میں تو اُسے کوئی اپنانے کیا دیکھنے کو بھی تیار نہیں۔۔۔یہاں تک کے اُسکا سگا باپ بھی۔۔۔اُس سے منھ موڑے ہوئے ہے۔۔ تو میں اور کسی سے کیا اُمیدی رکھ سکتی ہوں۔۔۔اس لیے ابھی سے اِسے بغیر سہارے کے جینا سکھا رہی ہوں۔۔۔کہ آگے جاکر اِس کے لیے کوئی مشکل نہ ہو۔۔۔لیکن یہ ہے کہ میرے لیے سب کچھ مشکل کررہی ہے۔۔۔آخری بات وہ اُسے دیکھ ناراضگی سے بولی۔۔۔اپنی ماں کو خود سے باتیں کرتا دیکھ وہ ایک بار پھر سے کھلکھلا کر ہنس دی اُسکے ساتھ وہ دونوں بھی ہنس دی۔۔۔فضا نے محبت سے جھک کر اسکے گلابی روئی جیسے گالوں پر بوسہ دیا ۔۔۔

__________________

اِس وقت صبح کے ناشتے کے لیے سب ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے۔۔۔سوائے ایک انسان کے۔۔۔فضا کہاں ہے۔۔۔فضا کو ڈائننگ ٹیبل پر موجود نہ پاکر حسن شاہ نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔

وہ۔۔تایا ابو۔۔وہ۔۔۔دیا۔۔کے ساتھ۔۔ہے روم میں۔۔ہادیہ نے نظریں جھکائے نرمی سے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔۔۔لیکن اُسکے جواب پھر وہاں موجود ہر انسان کے چہرے پر ناگواری ابھری ہر کسی چہرے پر نرمی کی جگہ سختی آگئی تھی۔۔۔جسے دیکھ ہادیہ نے ایک بےبس اور افسوس بھری نظر اُن سب پر ڈالی۔۔۔۔حسن شاہ اس سے پہلے کچھ کہتے۔۔تبھی فضا دیا کو گود میں لیے ڈائننگ ٹیبل پر داخل ہوئی۔۔۔اسلام علیکم۔۔۔اُسنے ایک نظر سب کو دیکھ مسکرا کر نرمی سے سلام کیا۔۔۔سب نے سر ہلاکر سلام کا جواب دیا۔۔

تبھی حسن شاہ کی نظر اُسکی گود میں موجود دیا پر پڑی ۔۔۔جو اسکے کندھے سے لگی اونگ رہی تھی ۔ فضا تمہیں کتنی دفعہ بولنا پڑے گا۔۔۔اِس منحوس کو اپنے کمرے میں ہی رکھا کرو ہمارے پاس مت لایا کرو۔۔۔تمہیں ایک بار کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔۔۔فائق اس کی گود میں دیا کو دیکھ کر ایک دم غصے سے بولا۔۔۔بھائی۔۔کیسی باتیں کررہے ہیں آپ۔۔۔ یہ آپ کی بھی بیٹی ہے کم سے کم آپ تو۔۔۔نن۔نن۔نہیں یہ میری کچھ نہیں لگتی اور نہ ہی یہ میرے بب۔۔بیٹی ہے سمجھی تم۔۔اس منحوس کے اِس دنیا میں آتے ہی میں نے اپنی محبت اپنی عائشہ کھو دی۔۔فائق کرب سے بولا۔۔۔۔ی۔یہ ہے ہی منحوس اس سے اچھا ہوتا یہ پیدا ہوتے ہی مر جاتی۔۔فائق اسے دیکھ کر جزبات سے عاری نفرت سے بولا۔۔۔اور ناشتہ چھوڑ کر ایک نفرت بھری نظر اُس معصوم پر ڈالے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔فضا نے بمشکل اپنے آنسؤں پر بندھ باندھا ہوا تھا۔۔۔۔

فضا کیوں تم اس منحوس کو لاکر اپنے بھائی کو دکھ دیتی ہوں جبکہ تمہیں پتہ ہے وہ اس لڑکی سے نفرت کرتا ہے پھر بھی ۔۔حسن صاحب اُسکی طرف دیکھ کر حد درجہ سنجیدگی سے بولے۔۔۔

بدلے میں فضا چپ ہی رہی۔۔۔ اور بغیر ناشتہ کیے دیا کو لیے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔پتہ نہیں کب عقل آئے گی اس لڑکی کو حسن شاہ تاسف سے سر ہلاتے ہوئے بولے۔۔۔

فضا نے کمرے میں آکر آرام سے دیا کو بیڈ پر لٹایا اور اسکا سر پر محبت سے چومتی پیچھے ہٹ گئی۔۔۔دیا جو اُسکے کندھے سے لگی کب کی سو چکی تھی۔۔۔اور خود وہ بیڈ کے ساتھ نیچے بیٹھتی چلی گئی۔۔۔اور سر گھٹنوں میں دیے ضبط ہارتی پھوٹ پھوٹ کر رہ دی۔۔۔۔عائشہ یار کیوں تم چلی گئی ہو اپنی دوست کو اکیلا چھوڑ کر۔۔۔ مجھے اتنی بڑی زمہداری سونپ کر میں تھک رہی ہوں یار نہیں نبھا پارہی وہ اپنی بہن جیسی دوست اور بھابھی کو یاد کر کے دکھ اور تکلیف سے بول رہی تھی۔۔۔کتنی چاہ سے وہ عائشہ کو اِس گھر میں بیاہ کر لائی تھی۔۔۔۔وہ ماضی یاد کرتی ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔

________________

یہ منظر ہے شاہ ہاؤس کا۔۔۔اعظم شاہ کی تین اولادیں ہوئیں۔ بڑا بیٹا حسن شاہ اُس سے چھوٹی بیٹی رضیہ بیگم اور ان سے چھوٹا اظہر شاہ۔۔۔ حسن شاہ اِنتہائی غصے اور روعب دار شخصیت کے مالک تھے۔۔۔۔جو ایک بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ ساستدان بھی تھے۔اُن کی بات ماننا ہر شخص پر جیسے لاگو تھا۔۔۔وہ جو فیصلہ کرلیتے پتھر کی لکیر بن جاتا۔۔۔حسن شاہ کی شادی جویریہ بیگم سے ہوئیں۔۔جو اِنتہائی خوبصورت اور نیک دل خاتون ثابت ہوئی۔۔۔انھوں نے ہمیشہ اپنے گھر کو ایک ساتھ جوڑے رکھا تھا۔۔۔اُن سے چھوٹی رضیہ بیگم ۔۔۔اُن کی شادی ان کے خالہ زاد بھائی عادل شاہ سے ہوئی۔۔۔جو اپنے بھائیوں کی محبت میں کچھ بھی کر سکتی تھیں۔۔۔اُن سے چھوٹا اظہر شاہ ان کی شادی سدرہ بیگم سے ہوئی جو تھوڑی نہیں کچھ زیادہ سخت طبیعت کے مالک تھی۔۔۔اپنے لفظوں کے تیر بھگو بھگو کر سامنے والے کی بولتی بند کر دیتی تھی ۔۔۔

حسن شاہ کے تین بچے تھے۔۔بڑا بیٹا فائق شاہ جس کی شادی اُسکی پھوپھو کی بیٹی عائشہ سے پسند کی ہوئیں تھی۔۔۔وہ ایک ساتھ کافی خوشگوار زندگی گزار رہے تھے ۔۔۔لیکن ایک خوفناک حادثے نے پل میں اُن کی ہنستی بستی زندگی بدل کے رکھ دی تھی ۔۔۔اُس سے چھوٹا کاشان شاہ جس نے ایجوکیشن کے بعد آرمی جوائن کر لی۔۔۔اور اپنے کام کی وجہ سے اب زیادہ تر وہ اسلام آباد میں پایا جاتا تھا۔۔۔اور اُن سب سے چھوٹی بھائیوں کی جان فضا شاہ۔۔۔ اِنتہائی خوبصورت اور حسین ایک دم کانچ کی گڑیا جیسی وسفید دودھیا رنگت ۔۔اگر ہاتھ لگا دیا تو میلی ہوجاۓ گی۔۔۔کالے لمبے سلکی بال ۔۔۔۔گہری سبز موٹی آنکھیں ۔۔۔جن سے وہ کسی کو بھی اپنے سہر میں جکڑ سکتی تھی۔۔۔۔جو بچپن سے ہی کسی کے نام سے منسوب تھی۔۔۔جسکی یادیں ہر پل ہر وقت اُسکے ذہن میں موجود رہتی تھی۔۔۔جسے عشق تھا اپنی دیا سے۔۔

رضیہ بیگم کی دو اولادیں ہوئیں۔۔۔بڑا بیٹا موسیٰ شاہ۔۔انتہائی مطلبی خود غرض انسان۔۔زندگی کو عیاشیوں کی نظر کرنے والا۔۔جن سے گھر کا ہر فرد بےخبر تھا ۔۔اور باپ کے کہی بار کہنے کے باوجود۔۔۔ ایجوکیشن کے بعد اب اپنے باپ کے ساتھ مل کر بزنس سنبھال رہا تھا۔۔۔جو بچین سے ہی فضا کے نام منسوب تھا۔۔۔اُسے فضا کچھ خاص پسند نہیں تھی۔۔۔لیکن اُس سے الگ اُسکی بڑتی خوبصورتی کا وہ دیوانہ تھا جو موسیٰ شاہ کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔۔۔موسیٰ شاہ ایک آزاد اور کھلی طبیعیت کا مالک تھا۔۔۔ہر وقت کوئی نہ کوئی لڑکی اُسکے ساتھ پائی جاتی تھی۔۔۔جس سے فضا سمیت گھر کا ہر فرد فلحال بےخبر تھا۔۔۔۔

اُس سے چھوٹی عائشہ شاہ انتہائی سلجھی ہوئی۔۔۔اپنے بھائی کی جان۔۔۔ وہ دوسری لڑکیوں سے بہت مختلف نرم دل تھی۔۔۔سب کے ساتھ وہ محبت اور عزت سے پیش آتی تھی۔۔۔فضا اور عائشہ دونوں کزن ہونے کے باوجود بہنیں لگتی۔۔۔ہر جگہ ہر وقت ساتھ پائی جاتی ۔۔سکول کالج یونیورسٹی ہر جگہ۔دونوں کی دوستی مثالی تھی۔۔۔ایک دوسرے کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار تھی۔۔۔۔۔۔لیکن زندگی کے کچھ حادثوں نے اُن سب کی ہنستی کھیلتی زندگی پر کافی گہرا اثر ڈالا تھا۔۔۔۔

اظہر شاہ کی دو اولادیں ہوئیں۔۔اللّٰہ نے انہیں دونوں بار اپنی رحمتوں سے نوازا تھا۔۔۔جنہیں دیکھ کر وہ جیتے تھے۔۔بڑی بیٹی لائبہ شاہ۔۔انتہائی مغرور جسے اپنے حسن کے علاؤہ کچھ دکھتا ہی نہ ہو ۔۔ایف،ایس،سی۔۔کے بعد اسنے یہ کہ کر پڑھائی کو خیر آباد کہہ دیا کہ اسے آگے پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔۔ماں کی لاڈلی۔۔۔بقول اسکے جسے فائق شاہ سے عشق تھا۔۔۔جس کے لیے وہ کچھ بھی کر گزر سکتی تھی۔۔۔اُس سے دو سال چھوٹی ہادیہ شاہ۔۔۔اپنی بہن سے حد درجہ مختلف دونوں کے نیچر میں زمین آسمان کا فرق تھا کہی سے بھی وہ دونوں بہنیں نہیں لگتی تھی۔۔۔ہادیہ کو فضا کے روپ میں اپنی یہ معصوم سی سبز آنکھوں والی کزن بہت پسند تھی۔۔۔جس کے وہ اپنی جان دینے سے گریز نہیں کرتی۔۔۔دونوں اس وقت یونی کی ہونہار طلبہ تھی۔۔۔ہادیہ یونی اور فضا دیا کی وجہ سے گھر سے ہی تیاری کررہی تھی ۔۔۔دونوں ہی ایک دوسرے کے بنا ادھوری تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *