Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt NovelR50481 Sitam E Ishq (Episode - 9)
Rate this Novel
Sitam E Ishq (Episode - 9)
Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt
وہ گھر پہنچا تھا۔ وقت دیکھا تو رات کے تین بج رہے تھے۔ وہ کمرے میں نہیں جانا چاہتا تھا۔ اس کا جسم اس وقت تپ رہا تھا۔ جب ہی باہر لان میں آگیا تھا۔
اور ٹھنڈی ہوا کی آغوش میں لان میں ہی چکر کاتنے لگا تھا۔ اس نے یہ خود سے ہی طہ کرلیا تھا۔ کہ قصور وار عائشہ ہے۔ وہی دھوکے باز ہے جس کی وجہ سے ارمان نے اس سے شادی نہیں کی تھی۔ بلکہ اس کی جگہ اسے شادی کرنی پڑی تھی۔
جب کہ وہ آدھی رات تک یوں ہی چکر لگاتا رہا تھا۔ جبکہ کچھ ہی گھنٹوں بعد صبح ہوگئی تھی۔ اور اسے پتہ بھی نہ چلا تھا۔ جبکہ وہ کپڑے چینج کرنے کے لیے کمرے میں گیا تھا۔
کمرے میں پہنچا تو سامنے ہی نظر عائشہ پر گئی جو کل رات کھڑکی میں ہی سو گئی۔ ایک لمحے کے لیے تو اسے وہ بہت خوبصورت لگی تھی۔ لیکن اگلے ہی لمحے اسے سلمی کی ساری باتیں یاد آگئی تھی۔
”بیٹا جی۔۔۔ ایک تو بہت بھولے ہیں آپ۔۔ آپ کو نہیں پتہ کہ آج صبح ہی سلمان نے عائشہ کو ایک لڑکے کے ساتھ رنگ ہاتھوں پکڑا تھا۔ اور تو۔۔۔۔!!”
یہ سوچتے ہوئے وہ اپنی مٹھیاں سختی سے بھینج گیا تھا۔ اور کپڑے لیتے ہوئے واش روم میں بند ہوگیا تھا۔
کچھ دیر بعد کپڑے پہن کر واش روم سے باہر نکلا تھا۔ جب نکل کر دیکھا تو وہ اسی پوزیشن میں ہی پڑی ہوئی تھی۔ وہ ایک سرسری سی نظر عائشہ پر ڈالتے ہوئے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ جبکہ دروازہ اس نے بہت زور سے بند کیا تھا۔ جس کی آواز پورے کمرے میں گونجی تھی۔ عائشہ کی بھی اچانک آنکھ کھلی تھی۔
وہ سیدھی ہوکر بیٹھی تھی۔ اس کی کمر میں شدید درد کی لہریں اٹھ رہی تھی۔۔ وہ ہمت کرتے ہوئے اٹھی تھی اور سامنے پڑے ہوئے بیگ کی طرف بڑھ گئی تھی۔ اپنے کپڑے نکال کر واش روم میں بند ہوئی تھی۔ اس کے بعد جب وہ کمرے میں واپس آئی تو اس وقت ارباز کمرے میں موجود تھا۔
ارباز نے جو ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو ایک پل کے لیے ہی اس میں کھو سا گیا تھا۔ معصومیت سے بھری تھی وہ۔ حسن سے پامال تھی وہ۔ بلیک کلر کے ڈریس میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ کیا وہ واقع معصوم تھی۔ یا یہ ایک ناٹک تھا۔ اس کے ذہن میں سوال نے کھلبلی مچائی۔
وہ چپ چاپ شیشے کی طرف بڑھی تھی اور اپنے بکھرے بالوں کو سنوارنے لگی تھی۔ جب ہی وہ جو بیڈ پر بیٹھا وہ کھڑا ہوا تھا۔
”تیار ہو کر نیچے آجانا ناشتے پر مما ویٹ کر رہی ہو گی۔۔۔!!“
یہ کہتے ہوئے وہ کمرے کے دروازے کی طرف بڑھا تھا جبکہ عائشہ نے سر ہاں میں ہلایا تھا۔ لیکن اگلے ہی لمحے میں وہ مڑا تھا۔
”اور ہاں سنو۔۔۔۔!! میک اپ کرنے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔ مجھے میک اپ سے سخت نفرت ہے۔۔۔۔!!“
ارباز کا لہجہ وارننگ دینے والا تھا۔
”ج۔۔۔ جی۔۔۔۔۔!!“
نظریں جھکائے ہوئے اس کے گلے سے یہ الفاظ بھی بڑی ہی مشکل سے نکلے تھے۔ جب کہ وہ کمرے سے نکلا تھا۔
لیکن اگلے ہی لمحے کمرے کا دروازا کھلا تھا۔ عائشہ نے مڑ کر دیکھا تو شائستہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ اور اس کی طرف بڑھی تھی۔
”اسلام علیکم پھوپھو۔۔۔۔!!“
انھیں آتا ہوا دیکھ کر عائشہ نے ان سے سوال کیا تھا۔ جبکہ شائستہ نے اسے گلے لگایا تھا۔
”وعلیکم اسلام۔۔۔۔!! کیسی ہو۔۔۔!!! “
شائستہ نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے اس سے سوال کیا تھا۔
”ٹھیک ہوں اور آپ۔۔۔۔!!“
شائستہ سے الگ ہوتے ہوئے عائشہ نے اس سے سوال کیا تھا۔
”میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔!! اور ایک کام کرو تیار ہو جاؤ پھر نیچے مل بیٹھ کر ناشتہ کرتے ہیں۔۔۔۔!!“
شائستہ نے مسکرا کر کہا تھا۔
”ٹھیک ہے میں تیار ہوں چلیں۔۔۔۔!!“
عائشہ نے کہا تو شائستہ بیگم کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کہاں سے تیار ہے؟ نہ ہی اس نے کوئی میک اپ کیا ہے۔۔ اور نہ ہی کوئی زیور وغیرہ۔۔
”بیٹا کہاں تیار ہو۔۔ چلو شاباش تھوڑا سا میک اپ تو کرو۔۔۔۔۔!!“
شائستہ نے اس کے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ جب ہی عائشہ کو ارباز کی بات یاد آئی تھی۔
”اور ہاں سنو۔۔۔۔!! میک اپ کرنے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔ مجھے میک اپ سے سخت نفرت ہے۔۔۔۔!!“
”ن۔نہیں پھوپھو ارباز نے میک اپ کرنے سے منع کیا ہے۔۔۔۔!!“
عائشہ نے کہا تو شائستہ ہلکا سا مسکرا گئی تھی۔۔
”کیوں منع کیا ہے۔۔ نئی نویلی دلہن کرے گی نہ میک اپ۔۔۔ تم کرو اس کی تو ایسی کی تیسی۔۔۔۔۔!!“
شائستہ بیگم نے اسے سمجھایا تھا۔ جبکہ عائشہ نے پھر ایک مرتبہ اسے منع کیا تھا۔ لیکن شائستہ کے کہنے پر وہ میک اپ کرنے بیٹھ گئی تھی۔
کچھ لمحات بعد وہ ہلکا سا میک اپ کر کی تھی۔ جبکہ شائستہ کسی کام کی وجہ سے کمرے سے باہر گئی تھی۔ ارباز کسی کام کی وجہ سے کمرے میں داخل ہوا تھا۔ لیکن سامنے عائشہ کو میک اپ کرتا دیکھ کر اس کا میٹر شارٹ ہوگیا تھا۔ کہ اس کے منع کرنے کے باوجود وہ میک اپ کر رہی ہے۔
”تم نے یہ میک اپ کیوں کیا ہے۔۔۔۔؟؟”
وہ جو شیشے کے سامنے بیٹھی ہوئی اپنے ہی کام میں مگن تھی۔۔۔ اس کی آواز کی دھاڑ سے اس کے ہاتھ سے لپک اسٹک گری تھی۔۔۔۔۔۔ جبکہ وہ مکمل طور پر سہم گئی تھی اس سے بولا تک نہ جارہا تھا۔۔۔
”میں نے کچھ بکواس کی جواب دو۔۔۔۔؟؟“
وہ شدید غصے سے چلایا تھا۔۔۔۔۔ جس پر وہ سہم گئی تھی۔۔۔۔۔
”و۔۔۔ وہ۔۔۔ پھ۔۔ پھپھو ن۔۔ نے ک۔۔ کہا ت۔۔ تھا۔۔۔۔“
یہ سنتے ہی ارباز نے عائشہ کے بال زور سے کھینچے تھے۔۔۔۔ جس پر وہ بلبلا اٹھی تھی۔۔۔۔۔
”اور جو میں نے بکواس کی تھی اس کا کیا۔۔۔۔؟ جب میں نے کہا تھا کہ میک اپ نہیں کرو گی تم۔۔ تو نہیں کرو گی تم۔۔۔۔ تو تمھاری جرات کیسے ہوئی میک اپ کرنے کی۔۔۔۔۔“
عائشہ کے بالوں کو اس نے زور سے کھینچا تھا۔۔۔۔ جبکہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہے تھے۔
”یہ رونا مت میرے سامنے ورنہ مجھ سے برا کوئی بھی نہ ہوگا۔۔۔۔!!“
وہ ایک بار پھر سے اس پر چلایا تھا۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی ارباز نے اسے شیر کی طرف دھکیلا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو زور و قطار گر رہے تھے۔۔۔۔
” جاؤ یہاں سے اور صرف پانچ منٹ ہیں یہ حلیہ درست کرو اور میک اپ کی ایک بھی شکن نظر نہ آئے مجھے۔۔۔ سمجھی صرف پانچ منٹ ہیں۔۔۔۔ تمھارے پاس۔۔۔۔ !!“
یہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ خود کو سنبھالتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔
پورا دن گزرنے کو تھا۔ لیکن عائشہ یونی نہیں آئی تھی۔ علی صبح سے اس کی راہ تک رہی تھی۔ کل جو واقع ہوا تھا۔ علی اس کی وجہ سے شرمندہ تھا۔ لیکن وہ نہ آئی تھی۔
آج علی نے ایک بھی لیکچر نہ لیا تھا۔ لیکن عائشہ نہ آئی تھی۔ اسی وقت اسے وہاں پر سے گزرتی ہوئی سحر نظر آئی تھی۔ وہ اس کی طرف بڑھا تھا۔
”سحر۔۔۔۔!! “
اسے آواز دے کر علی نے اسے روکا تھا۔ جبکہ وہ رکتی ہوئی اس کی طرف مڑ گئی تھی۔
”بولو کیا بات ہے علی۔۔۔۔!!“
اس کی طرف مڑ کر سحر نے اس سے سوال کیا تھا۔
”سحر عائشہ کیوں نہیں آئی آج۔۔۔۔!!“
علی نے اس سے سوال کیا تھا۔ جبکہ سحر کی اگلی اس کے لیے زندگی ختم ہونے کے برابر تھی۔۔
”علی عائشہ کا نکاح ہوگیا ہے۔ تم اسے بھول جاؤ پلیز۔۔۔۔۔!!“
سحر نے یہ کہا تو علی کو تو جیسے اپنے کانوں سے ہی سنی ہوئی بات پر یقین نہ آیا تھا۔ یہ سنتے ہی اس کا دل رکنے سا لگا تھا۔ دل ٹوٹ سا گیا تھا۔
