Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt NovelR50481 Sitam E Ishq (Episode - 6)
Rate this Novel
Sitam E Ishq (Episode - 6)
Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt
سلمان گاڑی فل سپیڈ پر چلا رہا تھا۔ اس کے ذہن سے وہ خیال ہی نہیں جارہا تھا کہ اس لڑکی نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔ اس کے چہرے پر غصے کے تاثرات صاف دکھائی دے رہی تھے۔ جبکہ عائشہ اس وقت ی ڈری سہمی ہوئی گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھی۔ ناجانے اس کی زندگی میں اب کیا لکھا گیا تھا۔
”تمھیں شرم آنی چاہئیے عائشہ کہ تم نے ایسی گھٹیا حرکت کی۔ مجھے تم سے یہ امید بالکل بھی نہ تھی۔ “
وہ اس پر غرایا تھا۔ جبکہ کئی لمحات بعد عائشہ نے اس کی بات کا جواب دینے کی کوشش کی تھی۔
”ب۔ بھائ۔ م۔ میں نے ۔۔ ک !!“
وہ کپکپاتے لہجے میں اتنے ہی الفاظ ادا کیے تھے۔ جب ہی اس نے اس کے الفاظ پر تالا لگا دیا تھا۔
”شٹ اپ۔۔۔!! خبردار جو ایک لفظ بھی منھ سے نکالا تو اب مجھے کوئی جھوٹی سچی کہانیاں نہیں سنی ہیں۔ اب جو بات ہوہ گھر جا کرہی ہوگی۔۔۔!!”
سلمان ایک بار سے تیز رفتار گاڑی چلاتے ہوئے اس پر غرایا تھا۔ جبکہ کافی ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ دونوں گھر پہنچے تھے۔
سلمان نے اس کا ہاتھ زور سے تھاما تھا اور اسے ہال میں لے جا کر نیچے پھیکنے والے انداز میں دکھیلا تھا۔ جب کہ وہاں موجود رابعہ نے اسے سنبھالا تھا۔
”سلمان یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔!!“
ہال میں سب موجود تھے۔ شازین کو بھی سلمان نے فون کر کے گھر ہی بلوا لیا تھا۔ جبکہ یہ دیکھتے ہوئے سلمی بیگم اس پر چلائی تھی۔ ان کی آواز پورے ہال میں گونجی تھی۔ وہ چاہے جتنا بھی عائشہ کو نا پسند کرتی تھی۔ لیکن ہے تو وہ بھی ایک عورت زات ہی نہ۔ تو کیسے خاموش رہتی وہ۔۔۔۔!!!
”اماں یہ بد تمیزی ہے۔ یا بدتمیز یہ ہے جس پوری یونیورسٹی میں ہماری عزت کو بدنام کیا ہے۔۔!!“
سلمان نے اپنی ماں کا غصہ دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ جب کہ یہ سن کر شازین کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
”سلمان۔۔۔! ہوش میں تو ہے کہ تو بول یہ کیا بکواس کررہا ہے تو عائشہ کے متعلق۔۔۔!!“
شازین نے بھی اسے اس کی ٹون میں ہی کہا تھا۔
”شازین۔۔!! میں ہوش میں ہوں بلکہ اس کو خود میں نے اس لڑکے ساتھ رنگے ہاتھوں پہ پکڑا ہے جس کے ساتھ یہ کینٹین میں ہاتھوں میں ہاتھ دیے ہوئے بیٹھی تھی۔۔۔۔!!“
سلمان کہتا جارہا تھا۔ جبکہ عائشہ مسلسل روئے جارہی تھی۔ جبکہ رابعہ اسے چپ کروانے میں مصروف تھی۔
”کیا یہ کیا کہا تم نے۔۔۔!!“
انوار نے آنکھیں اچکاتے ہوئے ماتھے پر بل لیے ہوئے کہا تو سلمان نے ادب سے اس کی بات کا جواب دیا تھا۔
”بابا جان میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔۔!! آپ خود اس سے ہی پوچھ لیں۔۔ کہ یہ اس لڑکے کے ساتھ تھی کہ نہیں۔۔۔۔!!“
سلمان نے حقارت سے عائشہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔
“بولو عائشہ کیا جو سلمان کہہ رہا ہے یہ سچ ہے کہ نہیں۔۔۔!!“
انوار نے عائشہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔۔ جبکہ اس کی حالت یوں ہوگئی تھی کہ وہ کچھ بھی بول نہ سکے۔ وہ اس قدر سہم گئی تھی کہ اپنے حق میں بھی نہ بول سکی۔ جبکہ شازین نے بھی اس پر ایک مصنوعی سی نظر ڈالی تھی۔ لیکن جواب ندارد۔۔۔ اس کی خاموشی انھیں کسی اور بات کا ہی رخ دکھا رہی تھی۔۔
”بس میں سمجھ گیا کہ جو سلمان کہہ رہا ہے وہ سچ ہے۔۔ تمھاری خاموشی نے صاف ظاہر کردیا ہے سب کچھ۔۔۔ “
انھوں نے غصے سے کہا تھا۔
”میں تو پہلے ہی جانتی تھی یہ سب کچھ۔ مجھے معلوم تھا کہ اس لڑکی پر اس کی ماں کا اثر تو ضرور جائے گا۔ اور وہ یہ رہا ماں کے نقش قدم پر ہی چل رہی ہے۔“
سلمی بیگم نے اپنا حصہ ڈالنا لازمی سمجھا تھا۔ دراصل عائشہ اور رابعہ کے ماما اور بابا نے لو میرج کی تھی۔ اسی وجہ سے سلمی بیگم۔اسے یہ طعنے دے رہی تھی۔
”عائشہ مجھے تم سے یہ امید بالکل بھی نہ تھی۔۔“
شازین بے یقینی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا جبکہ عائشہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا کہ کیا اسے بھی یقین نہیں تھا اس پر۔۔۔؟
”میں شائستہ کو فون کرتا ہوں کہ آئے اور تمھیں یہاں سے لے کر جائے۔۔۔!!“
انوار صاحب نے غصے سے کہا تھا جبکہ عائشہ یہ بالکل بھی نہ چاہتی تھی۔
”نہیں۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ چچا جان۔۔۔۔!! پ۔۔ پ۔ پلیز ا۔۔ ایس۔۔ ایسا مت کریں۔۔۔۔!!“
وہ ہچکونے لیتے ہوئے رو رہی تھی۔۔۔۔ ایسے میں الفاظ ادا کرنا بہت مشکل تھا۔۔۔۔ اس نے غلطی کی تھی۔۔۔۔ لیکن اس کا گناہ نہیں تھا۔۔۔۔۔ جو اس کا اتنی بڑی سزا دی جاتی۔۔۔۔۔
”بکواس مت کر بے شرم لڑکی۔۔۔۔!! یہ تجھے گھر کی عزت برباد کرنے سے پہلے سوچنا چاہئیے تھا۔۔۔۔۔!! اب میں نے تمھاری شادی ارمان سے تہہ کردی ہے۔۔۔۔ تمھیں اس سے شادی کرنی ہوگی۔۔۔۔!!“
اپنے چچا کی یہ بات سن کر وہ ساکت سی رہ گئی تھی۔۔۔۔۔ ساری پریشانیاں اور سارے دکھ تو وہ بچپن سے ہی جھیلتی آرہی ہے۔۔۔۔ اب ایک اور ”ظلم“
”بھائی۔۔۔۔ بھائی۔۔۔۔ پلیز ا۔۔۔ آپ سمجھ۔۔۔ سمجھائے نا چچا جان کو م۔۔۔ مجھ۔۔ مجھے اتن۔۔ اتنی بڑی۔۔ سز۔۔ سزا ن۔۔ نہ دیں۔۔۔۔ پلیز۔۔۔!!“
اب وہ اس رحم دل بھائی شازین کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔ جس نے ہمیشہ اس کی بات مانی تھی۔۔۔۔ لیکن آج شائید وہ بھی اس کا ساتھ نہیں دینے والا تھا۔۔۔۔ خون تو اس کے چچا کا ہی تھا نہ۔۔۔۔
پورے گھر میں صرف عائشہ کی سسکیاں گونج رہی تھی۔۔۔۔ لیکن سب کا خون سفید ہو چکا تھا۔۔۔۔
”عائشہ۔۔۔۔!! تم یہ شادی کر لو۔۔۔۔!!“
اسے تھوڑا سا پیچھے کرتے ہوئے اس نے بدگمانی سے کہا تھا۔۔۔۔!!
”نہیں کروں گی میں یہ شادی۔۔۔۔ سنا سب نے۔۔۔۔!!“
وہ چیخی تھی پر اگلے ہی لمحے اس کی آواز وہی تھم سی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
”چٹاخ۔۔۔۔!!“
سلمان نے ایک زور دار تھپڑ مارا تھا اس کے چہرے پر۔۔۔ جبکہ وہ حیرانگی سے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
”یہ تمھیں اس لڑکے کے ساتھ کینٹین میں بیٹھنے سے پہلے سوچنا چاہئیے تھا۔۔۔۔۔!! کچھ ہی دیر میں پھپھو اور ان کا بڑا بیٹا ارمان آجائے گا۔۔۔۔ اور آج ہی تمھارا نکاح ہو گا اور تم اس گھر سے دفع ہوگی۔۔۔۔۔!!“
عائشہ نے اس کی بات بڑی حیرانگی سے سنی تھی۔۔۔۔ جبکہ رابیہ بھی سہم گئی تھی۔۔۔۔ کیونکہ اس لڑکے سے بات کرنے پر کنوینس کرنے والی عائشہ کو وہی تھی۔۔۔۔ کل رات اس نے ہی اسے اس لڑکے سے ملنے کا کہا تھا کہ اسے بتا دے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن در حقیقت تو عائشہ سے ملنے کے لیے علی اس کے پاس آیا تھا۔
اور جب یہ بات سب کو پتہ چلے گی تو کیا ہوگا۔۔۔۔؟؟
”بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے سلمان۔۔۔۔ تمھارا یہاں نا رہنا ہی سب کے لیے بہتر ہے۔۔۔۔!!!اس لیے نکاح کر اور دفع ہو اپنے گھر۔۔۔۔“
سلمیٰ بیگم نے بھی اپنے بڑے بیٹے کا ساتھ دیا تھا۔۔۔۔!! جبکہ عائشہ کا دل رونے کو کر رہا تھا۔۔۔۔
پر اگر وہ رو بھی لیتی تو کونسا کسی نے اس کی بات سننی تھی۔۔۔۔ اسی وجہ سے بس وہ حیرانگی سے سب کے بدلتے رویوں کو دیکھتی رہی۔۔۔ سب سے زیادہ دکھ تو شازین پر ہوا تھا۔۔۔
کیا کیا ستم کیے تو نے اے عشق
نہ کہہ سکے نہ سہہ سکے ![]()
![]()
فون کی گھنٹہ بجتی ہی جارہی تھی۔ شائستہ کمرے میں پہنچی تو فون کو بجتا ہوا پایا تھا۔ وہ اس کے پاس گئی اور جا کر فون اٹھایا۔
”ہیلو اسلام علیکم۔۔۔!!“
شائستہ نے فون اٹھاتے ہوئے بڑے ہی زیادہ ادب سے کہا تھا۔
”وعلیکم اسلام۔۔۔!! شائستہ میں انوار بات کررہا ہوں۔ میں گھما پھرا کر بات نہیں کرو گا۔ کچھ ہی دیر یہاں پہنچو اور ہاں ارمان کو ساتھ ضرور لے کر آنا آج ہی عائشہ اور ارمان کا نکاح ہوگا۔۔“
انوار نے کہا تو شائستہ اس کی بات کچھ سمجھ نہ پائی۔۔۔!!
“انوار یوں نکاح اچانک لیکن کیوں۔۔۔ ؟؟“
انھوں نے انوار سے سوال کیا تھا۔۔
”شائستہ جب تم یہاں آؤ گی تو میں تمھیں سب کچھ بتا دو گا۔ لیکن فوراً پہنچو۔۔۔!!“
یہ کہتے ہوئے وہ فون کاٹ چکے تھے۔۔۔ جبکہ شائستہ کا دل گھبرا رہا تھا کہ ایسا کیا ہوا جو یوں نکاح وہ بھی اچانک۔۔۔!!
وہ انوار کے گھر کی طرف روانہ ہوئی تھی۔۔ اور پہنچی تو انوار نے ان کو ساری حقیقت سے آگاہ کیا تھا۔ ان کا دل اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہ تھا۔ کہ عائشہ ایسی کوئی حرکت کرے گی۔ وہ اس کے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔
وہ اس کے کمرے میں آہستگی سے داخل ہوئی تھی۔ جہاں وہ رونے کا شغل فرما رہی تھی۔ جبکہ رابعہ اسے خاموش کروانے میں مصروف تھی۔ شائستہ اس کے پاس جا کر بیٹھی تھی۔ جبکہ وہ اس کے گلے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
جبکہ وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خاموش کروانے لگی تھی۔
”پ۔۔ پھ۔ ھو م۔ مں نے ک۔ کچھ ب۔ بھی ای۔۔ ایسا ن نہیں کیا۔۔!!“
وہ روتے ہوئے ہچکونے کے رہی تھی۔ جب ہی یہ لڑکھڑاتے الفاظ ادا کیے تھے۔
”میں جانتی ہوں میری بچی بس بہت سہہ لیا تم نے یہ ظلم اب میں تمھیں یہاں سے لے جاؤگی۔ !!“
انھیں عائشہ اور اس کے کردار پر پورا یقین تھا۔ کچھ دیر وہ یوں ہی اسے دلاسا دیتی رہی تھی۔ لیکن پھر کمرے سے باہر نکلی اور ارمان کو فون کیا۔
”ارمان۔ فوراً یہاں پہنچو تمھیں آج ہی عائشہ سے نکاح کرنا ہوگا۔۔ “
وہ جو آفس کے کمرے میں بیٹھے ہوئے سیگریٹ سلگا رہا تھا۔ شائستہ کی بات پر اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
”امی میں نے پہلے ہی آپ کو بتا دیا تھا کہ میں عائشہ سے شادی نہیں کرو گا۔ اور یوں اچانک بالکل بھی نہیں۔۔ مجھے اس سے شادی نہیں کرنی۔۔۔!!“
غصے سے کہتا ہوا وہ فون بند کرگیا تھا۔ جبکہ شائستہ نے اسے دوبارہ فون کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نمبر بند کرچکا تھا۔ لیکن شائستہ نہیں جانتی تھی کہ یہ سب کچھ سلمی بیگم سن چکی تھی۔ اور وہاں سے جا چکی تھی۔
”اب میں کیا کرو۔ میں عائشہ کو یہاں نہیں چھوڑ سکتی ارمان کو تو میں بعد میں دیکھو لیکن اب عائشہ کا نکاح ارباض سے ہوگا۔ “
شائستہ نے خود سے ہی کہا اور فون پر نمبر ڈائل کرنے لگی۔
