Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt NovelR50481 Sitam E Ishq (Episode - 19)
Rate this Novel
Sitam E Ishq (Episode - 19)
Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt
ولیمہ دھوم دھام سے ہو گیا تھا۔ آج تو شازین کی نظریں رابعہ پر سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔ لائٹ پنک کلر کے جوڑے میں آسمان سے اتری ہوئی کوئی پری لگ رہی تھی۔
گہری رات چھا گئی تھی اور رابعہ کافی تھک بھی گئی تھی۔ وہ کمرے میں آئی تھی۔ جیولری وغیرہ اتارنے کے بعد میک اپ صاف کیا اور پھر چینج بھی کیا۔
شازین اس وقت کمرے میں داخل ہوا تھا۔ جب وہ مکمل طور پر ریلکس ہوگئی تھی۔ شازین اسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔ اس پر تو جیسے ہر جوڑا ہی بہت خوبصورت لگتا تھا۔
نائٹ ڈریس پہن کر بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔ اور کچھ دیر بعد سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔ جبکہ وہ دوسری طرف بیٹھا تھا۔ رابعہ چپ چاپ لیٹی رہی تھی۔
کچھ لمحات بعد رابعہ کو اپنی چہرے پر کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا تھا۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ ہاتھ شازین کا ہے۔۔ وہ پھر بھی بت بنی سونے کا ناٹک کرتی رہی۔۔۔
” ناٹک بالکل بھی اچھا نہیں کرتی ہو تم۔۔۔۔۔!!“
شازین نے کہا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی وہ اس کی ہر حرکت سے واقف تھا۔ اس نے ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔
” آج کافی خوبصورت لگ رہی تھی۔ مجھے امید نہیں تھی کہ اتنی بھی اچھی لگو گی تم۔۔۔۔۔ !!“
شرارت سے کہتے ہوئے وہ اس کے گالوں پر اپنی محبت کی مہر لگا گیا تھا۔
” کیا مطلب ہے آپ کا میں ویسے ہی بہت خوبصورت ہوں۔۔۔۔ !!“
اس کی حرکت پر کچھ دیر تک تو وہ ساکت رہی لیکن پھر اس کی بات سن کر اسے غصہ چڑھا تھا۔
” مجھے معلوم ہے کہ میری بیوی بہت خوبصورت ہے۔۔۔۔!!“
ایک ہی سے اس نے رابعہ کو اپنے قریب کیا اور اس پر جھک گیا۔۔۔ یہ عمل اتنا بے یقینی تھا کہ رابعہ کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ کیا ہوا۔۔۔۔؟
اگلے ہی لمحے شازین اس کے لبوں پر جھک گیا تھا۔ اور اس کے لبوں کو اپنی قید میں لے گیا تھا۔ رابعہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی۔ کچھ لمحات بعد جب شازین کو محسوس ہوا کہ رابعہ کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے تو وہ آہستگی سے پیچھے ہوا تھا۔
” آج میں تمھارے ساتھ اپنی زندگی کا ایک نیا سفر شروع کرنے جارہا ہوں۔۔۔۔ جس میں ہر لمحے تمھیں میرے ساتھ رہنا ہوگا۔۔۔۔“
اس کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کرتے ہوئے وہ اس کے کانوں کی لو کا کاٹ گیا تھا۔
رابعہ کچھ بولنے لگی تھی کہ وہ اس کی مسکراہٹ کو اپنے لبوں میں چن گیا تھا۔ رات کا ہر لمحہ سرکتا جارہا تھا۔ اور وہ ایک دوسرے کو پاکر بالآخر مکمل ہوئے تھے۔
صبح کے آٹھ بج رہے تھے جب عائشہ کی آنکھ کھلی وہ فوراً اٹھی اور تیار ہوکر نیچے گئی تھی۔ ارباز پہلے ہی اٹھ گیا تھا۔ لیکن اس نے عائشہ کو نہیں اٹھایا تھا۔کیونکہ وہ اسے ڈسٹرب کرنا نہیں چاہتا تھا۔
عائشہ نیچے آئے سب سے سلام کیا۔۔۔۔! ناشتہ کر کے یونیورسٹی کے لیے ارباز کے ساتھ گھر سے نکل گئی۔ شائستہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ دیکھ کر بہت خوش تھی۔
ارباز اسے یونیورسٹی اتار کر وہاں سے چلا گیا تھا۔ جیسے ہی وہ گیا عائشہ گیٹ کی طرف بڑھی تھی اور اسی وقت اسے اپنے چہرے پر کسی کے ساتھ سمیت کچھ محسوس ہوا تھا۔
وہ سانس نہیں لے پارہی تھی۔ کچھ ہی لمحات کے بعد وہ بے ہوش ہوچکی تھی۔ وہ تین لڑکے تھے۔ انھوں نے اسے اٹھایا اور گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے۔۔۔ اور ایک پرانی فیکٹری میں لائے تھے۔
عائشہ نے آنکھیں کھولیں تو خود ایک بند فیکٹری میں پایا تھا۔ اس کے منھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اور ہاتھ بھی کرسی کے پیچھے باندھے گئے تھے۔
وہ چیخنا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن منھ پر پٹی ہونے کی وجہ سے کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ اس کو بری طرح سے رسیوں سے جھکڑا گیا تھا۔ وہ ہل بھی بہت مشکل سے پا رہی تھی۔
جب ہی اسے کسی کے بھاری قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی تھی۔ وہ ہلنا بند ہوئی۔۔۔۔ اور اس آہٹ کو محسوس کرنے لگی تھی۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ اس کے سامنے آیا تھا۔
عائشہ نے جیسے ہی اس کی آنکھیں کھولیں تھی۔۔۔۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ یہ شخص اس کے ساتھ یوں کرے گا۔
” کیا ہوا مجھے دیکھ کر حیران رہ گئی ہو۔۔۔۔ یقین کر لو۔۔۔۔۔“
اس نے شیطانی مسکراہٹ لیے ہوئے کہا تھا۔ اور اسی لمحے عائشہ کے منھ سے ٹیپ اتاری تھی۔ اس نے لمبے لمبے سانس بھرے تھے۔
” ا۔۔۔۔۔ انوار چچ۔۔ چا “
سانس بحال کرنے کے بعد اس نے لڑکھڑاتے ہوئے الفاظ ادا کیے تھے۔ جبکہ وہ مسکرایا تھا۔
” بالکل میں۔۔۔۔۔ کیسا لگا سرپرائز۔۔۔۔۔!! میں زیادہ گھماؤ پھراؤ گا نہیں تمھیں۔۔۔۔۔۔ بات یہ ہے کہ میں یہاں تمھیں ایک خاص مقصد کے لیے لایا ہوں۔۔۔ فہیم۔۔۔۔۔۔ “
انوار اس سے بات کررہا تھا۔ اور اسے بتا رہا تھا کہ وہ اسے یہاں کس مقصد کے لیے لایا ہے۔۔۔۔؟ اور آخر میں اس نے ان تین بندوں میں ایک کو یعنی فہیم کو آواز لگائی تھی۔
” یہ لو یہ پیپیرز ہیں۔۔۔۔۔ ان پر سائن کرو جلدی کرو شاباش۔۔۔۔۔۔ وقت نہیں ہے میرے پاس۔۔۔۔“
فہیم جائیداد کے کاغذات لے کر انوار کے پاس آیا۔ اسے ایک پن تھمایا اور پھر کمرے سے نکل گیا۔ انوار نے اس سے کہا تھا۔
” یہ کس چیز کے پیپیرز ہیں۔۔۔۔۔ میں اس پر سائن نہیں کرو گی۔۔۔۔۔“
عائشہ نے غصے کی نگاہ سے انوار کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ انوار کا پارا ہائی ہوا تھا۔
” بکواس بند کرو اپنی۔۔۔۔۔ چپ چاپ سائن کرو پڑاپڑتی کے پیپیرز ہیں۔۔۔۔!!“
اس کے یوں کہنے سے عائشہ اچھے طریقے سے سمجھ گئی تھی وہ کیا چاہتا ہے۔۔۔۔
” میں ان پر کبھی بھی سائن نہیں کرو گی۔۔۔۔۔ سمجھے آپ۔۔۔۔“
عائشہ چلائی تھی۔ انوار نے ایک تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا تھا۔ اسے ایک مرتبہ پھر سے غصہ چڑھا تھا۔
” سائن نہیں کرے گی نہ تو تو مر۔۔۔۔۔۔!!“
وہاں سے ایک ڈنڈا اٹھاتے ہوئے انوار نے اس کی طرف بڑھایا تھا۔ جب ہی کسی نے اسے روک دیا۔۔۔ اس شخص کو دیکھ کر جہاں عائشہ مسکرائی تھی۔ وہی انوار کے ہوش اڑ گئے تھے۔
” ا۔۔ ر۔۔با۔۔۔ ض“
انوار کا لہجہ کپکپانے لگا تھا ارباز کا یہاں یوں آنا اسے حیران کر گیا تھا۔ وہ اسے دھکا دے کر باہر کی طرف بھاگ گیا تھا۔ ارباز اس کے پیچھے گیا لیکن یہ کوشش ناکام رہی۔۔۔ انوار نے دروازے کو باہر سے لاک کردیا تھا۔
ارباز عائشہ کی طرف بڑھا تھا اور اس کی ساری رسیاں کھولتے ہوئے خود میں بھینج لیا تھا۔
” ارباز۔۔۔۔۔!! آپ یہاں کیسے۔۔۔۔۔؟“
عائشہ نے اس کے سینے سے جدا ہو کر اس سے سوال کیا تھا۔ تو اسے معلوم ہوا کہ عائشہ کس فون گاڑی میں ہی رہ گیا تھا۔۔۔۔ جب وہ دینے ارباز یونیورسٹی گیا۔۔ تو اسے وہاں پر معلوم ہوا کہ عائشہ وہاں نہیں ہے۔۔۔ اس نے یونیورسٹی کے سی سی ٹی وی کیمرے چیک کیے تو اسے معلوم ہوا کہ تم کڈ نیپ ہوئی ہو۔۔۔ ارباز گاڑی کا نمبر نوٹ کیا اور اس کی لوکیشن نکال لی۔۔۔
اس نے ایک اور اچھا کام یہ بھی کیا تھا۔۔۔۔ جب وہ یہاں آیا تو سامنے انوار کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔ پھر پروف کے طور پر اس نے ویڈیو بنائی اور اپنے انسپکٹر دوست کو سینڈ کردی تھی۔۔۔۔۔ اب انوار کا بچنا نا ممکن ہے۔۔۔۔
” ارباز آپ کو پتہ ہے میں ایک پل کے لیے بہت زیادہ ڈر گئی تھی۔۔۔۔۔“
عائشہ نے اس کے سینے سے لگتے ہوئے کہا تھا۔ ارباز نے بھی اسے خود میں سمینٹ لیا تھا۔
” ڈرنے والی کیا بات ہے۔۔۔۔۔!! میں ہوں نہ تمھارے ساتھ ہمیشہ۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی تم کونسا چوروں سے ڈرتی ہوں۔۔۔۔ تو ان سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔ تم تو ایک اسٹڑونگ گرل ہو۔۔۔۔۔۔“
ارباز نے اس کی حوصلہ افزائی کی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ عائشہ نے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ارباز اس سے دور ہوا تھا۔۔۔۔ اور دروازے کی طرف بڑھا تھا۔ اس نے چیک کیا تو دروازہ لکڑی کا تھا۔ اس نے دروازہ توڑ ڈالا اور عائشہ سمیت وہاں سے نکلا تھا۔۔۔۔
جیسے ہی وہ لوگ گیٹ کے پاس پہنچے تھے۔۔۔۔۔۔ سامنے ہی وہ تین لوگ کھڑے تھے۔۔۔۔ انھوں نے انھیں جاتا دیکھ کر فوراً عائشہ کو پکڑا۔۔۔۔
” اے لڑکے۔۔۔۔ اپنے قدم یہی روک دے۔۔۔۔۔ ورنہ اس لڑکی کی گارنٹی میں نہیں دے سکتا کہ زندہ بچے گی یا مردہ۔۔۔۔۔ “
اس کی یہ بات سنتے ہی ارباز کا پارا چڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔
” دیکھ اسے چھوڑ دے۔۔۔۔۔ ورنہ تیرے لیے اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔“
ارباز نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ عائشہ کی نظر سامنے پڑے ہوئے ڈنڈے پر گئی تھی۔۔۔۔ عائشہ نے اس کے پر اپنے دانت کاٹ گاڑ دیے تھے۔۔۔۔ جس سے وہ لڑکا تڑپ اٹھا تھا۔۔۔۔
اسی وقت دوسرا غصے سے عائشہ کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔ جب ہی ارباز نے اس کے منھ پر ایک زبردست سا مکا برسایا تھا۔۔۔۔ جس سے وہ نیچے گر گیا تھا۔۔۔۔ اس کے ہونٹ کا کنارا پھٹ گیا تھا۔۔۔۔ وہی تیسرا شخص ارباز کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔
پہلے والا شخص درد سے کراہ رہا تھا۔۔۔۔۔ جب ہی عائشہ نے اس کی اچھی خاصی دھلائی اس ڈنڈے سے کردی تھی۔۔۔۔ عائشہ نے مار مار کر اس کی درگت ہی بنا دی تھی۔۔۔۔۔
ارباز جب اس تیسرے شخص سے فارغ ہوا تو سامنے نظر عائشہ پر گئی تھی۔۔۔۔ اسے دیکھ کر وہ کھلکھلا کر مسکرایا تھا۔۔۔۔ آج تو جیسے اس کے اندر کی شیرنی باہر آگئی تھی۔۔۔۔۔
وہ شخص جب نڈھال ہو کر گر گیا تو عائشہ کی نظر سامنے کھڑے ارباز پر گئی تھی۔۔۔۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرا گئی تھی۔۔۔۔ ارباز عائشہ کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔
” بس بہت ہوگیا اب تو تو گئی۔۔۔۔۔!!“
ان تینوں میں سے ایک شخص اٹھا تھا اور گولی عائشہ پر تان دی تھی۔۔۔ اور فائر بھی کردیا تھا۔۔۔۔ جب ہی عائشہ نے آنکھیں زور سے بند کی تھی۔۔۔۔
گولی چل گئی تھی۔۔۔۔۔ لیکن اسے کہیں بھی نہیں لگی تھی۔۔۔۔۔ اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو اس کو اپنے سامنے پایا تھا۔۔۔۔ جو اس کی گولی اپنے سینے پر کھا گیا تھا۔۔۔۔۔ اس لڑکے نے دوسری گولی بھی چلا دی تھی۔۔۔۔ جو ایک مرتبہ پھر سے ارباز کے سینے میں پیوست ہوگئی تھی۔۔۔۔
” ارباض۔۔۔۔۔۔۔!! “
عائشہ زور سے چلائی تھی۔۔۔۔ اس کی آواز پوری فیکٹری میں گونجی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ وہ تینوں لڑکے بھاگ چکے تھے۔۔۔۔ کیونکہ پولیس ارد گرد ہی تھی۔۔۔۔ ارباز زمیں بوس ہوگیا تھا۔۔۔۔ جبکہ عائشہ اس کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔۔ اس کا خون سے ت پر وجود دیکھ کر عائشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔۔۔
