Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 3)

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

عائشہ معمول کے مطابق تیار ہو کر ناشتہ کرکے شازین کے ساتھ یونیورسٹی پہنچی تھی۔ اور جیسے ہی وہ کلاس میں پہنچی تو اس نے دیکھا کہ اس کی دوست سحر اس کا انتظار کررہی ہے۔

وہ کلاس میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گئی اور سحر سے اس کا حال احوال وغیرہ پوچھا۔ جس کا جواب دینے کے بعد سحر نے اس سے کچھ بات کرنا چاہی۔

”عائشہ تم جانتی ہو کہ ہماری کلاس میں ایک لڑکا پڑتا ہے۔ علی۔۔ یار علی درانی۔“

سحر اپنی بات کررہی تھی۔ لیکن عائشہ کا علی کا معلوم نہیں تھا۔ تو اس نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔ جس پر سحر نے علی کا پورانام اسے بتایا تھا۔

”کون علی۔ مجھے نہیں معلوم۔“

عائشہ کو واقع معلوم نہ تھا کہ علی کون ہے۔ لیکن سحر کو حیرانگی اخبار پر تھی۔ وہ دونوں ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے۔ لیکن پھر بھی اسے معلوم نہ تھا کہ علی کون ہے۔

”وہ دیکھ وہ آرہا ہے۔“

عائشہ نے جیسے ہی بات مکمل کی تھی۔ اسی وقت علی کلاس روم میں داخل ہوا تھا۔ سحر نے اسے دیکھتی ہی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عائشہ کو دکھایا تھا۔ وہ بہت ہی ہینڈسم لگ رہا تھا۔ عائشہ نے مڑ کر ایک نظر اسے دیکھا اور رخ اپنی طرف کر لیا تھا۔ جبکہ سحر تو اسے دیکھتی ہی جارہی تھی۔

”ہاں تو میں اس کا کیا کرو۔“

عائشہ نے اس کے سامنے چٹکی بجائی تو سحر اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔

”یار تو نے میری پوری بات سنی نہیں مجھے لگتا ہے کہ وہ تجھے پسند کرتا ہے۔“

سحر کی بات سن کر عائشہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی۔ اس نے تو کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔

”سحر۔۔۔! کیا بکواس ہے یہ۔“

عائشہ نے نیچی آواز میں کہا تھا۔ لیکن اس کی آواز میں کافی شدت تھی۔

”یار میں خود سے کچھ بھی نہیں کہہ رہی ہوں۔ میں نے جو بھی کچھ محسوس کیا ہے بس تمھیں وہی بتا رہی ہوں۔“

سحر نے اس بات کو محض اپنے خیالات قرار دیا تھا۔ جبکہ یہ بات تو حقیقت تھی۔ جس سے عائشہ انجان تھی۔

”اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے وہ مجھے پسند کرتا ہے۔“

عائشہ نے آنکھیں آچکا کر اسے دیکھا اور منھ بسورتے ہوئے کہا تھا۔

”میری جان۔ وہ جس طرح تمھیں چھپ چھپ کر دیکھتا ہے۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ تمھیں چاہتا ہے۔“

سحر کی باتیں سن کر عائشہ کا منھ مکمل طور پر سرخ ہوگیا تھا۔ اس نے ایسی بات کبھی بھی نہ سنی تھی۔ جس ماحول میں وہ پلی بڑھی تھی۔ وہاں ایسی بات کو سوچنے کی بھی اجازت نہ تھی۔

”سحر تم اپنا منھ بند رکھو۔ اور مجھے کام ہے میں آتی ہوں۔“

وہ اسے سختی سے کہتی ہوئی اٹھی تھی اور جیسے ہی عائشہ دو قدم چل کر آگے بڑھی تھی۔ ویسے ہی وہ ایک چوڑے جسم والے شخص سے ٹکرائی تھی۔ عائشہ نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ علی تھا۔

”سو۔ سوری۔۔۔۔“

علی نے جیسے ہی عائشہ کو دیکھا تو فوراً ہی اس نے اس سے معافی مانگی تھی۔ جب کہ وہ سر ہاں میں ہلاتے ہوئے کلاس سے باہر نکلی تھی۔

”دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔“

عائشہ کو جاتا ہوا دیکھ کر سحر نے مسکرا کر کہا تھا۔ جبکہ علی ان کی باتیں سن چکا تھا۔ اسے عائشہ کی نگاہوں میں کچھ عجیب ہی دکھائی دیا تھا۔

کمرے کی ہر چیز کا رنگ کالا تھا۔ دروازہ ، شیشا ، الماری ، بیڈ پر پڑے ہوئے بستر ، ٹائیلز ، یہاں تک اس نے خود بھی کالے رنگ کا ہی جوڑا پہنا ہوا تھا۔

وہ پرفیوم کی بوتل خود پر انڈیل رہا تھا۔ جب ہی کمرے کا دروازہ چڑا کی آواز سے کھلا تھا۔ اس نے مڑ دیکھا تو اس کی ماں کمرے میں داخل ہوئی تھی۔

”ارمان بیٹا۔۔! کہیں جا رہے ہوں۔۔!“

اس کی ماں نے اس سے سوال کیا تھا۔ جبکہ وہ ان کی طرف مڑا تھا۔

”جی ایک اہم میٹینگ ہے۔ جو مجھے لازمی اٹینڈ کرنی ہے وہی جارہا ہوں۔“

ارمان نے اپنی ماں شائستہ کو بتایا تھا کہ وہ ایک میٹینگ میں جارہا ہے۔

”اچھا ٹھیک ہے مجھے تم سے ایک اہم بات کرنی ہے۔ “

شائستہ نے اس سے کہا تو اس نے آنکھیں آچکا کر اسے دیکھا۔۔

”جی کہیں۔ میں سن رہا ہوں۔۔”

کنگی سے بالوں کی حالت کو درست کرتے ہوئے اس نے شائستہ سے کہا تو اس نے اپنی بات شروع کی تھی۔

” میں کچھ دن تک انوار کے گھر جاؤں گی۔ عائشہ اور تمھاری شادی کی تاریخ پکی کرنی کے لیے۔“

شائستہ کی بات سنتے ہی اس نے ایک سرد نگاہ اپنی ماں پر ڈالی تھی۔

”امی لیکن مجھے شادی نہیں۔“

وہ بات کر ہی رہا تھا جب ہی شائستہ نے اس کی بات کو کاٹا تھا۔ اور اپنی بات کو شروع کیا تھا۔

”بس۔ کب تک میں تمھاری بات کو سنو لولو۔ کتنی ہی دیر تک میں تمھیں بات مانو۔ تمھاری شادی عائشہ سے ہی ہو گی۔ایک دفعہ تم نے اپنی من مانی کر لی ہے نہ بس۔ وہ تو شکر ہے ابھی یہ بات پورے خاندان میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں تھی۔ ورنہ تم نے تو مجھے رسوا کر کے چھوڑنا تھا۔ وہ تو تمھیں عقل آگئی۔ اور ویسے بھی یہ تم اچھے سے جانتے ہو کہ عائشہ اور تمھارا رشتہ بچپن سے ہی طہ تھا۔اب میں کچھ بھی نہیں سنو گی۔“

وہ اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے کمرے سے نکل گئی تھی جب کہ وہ تو اسے دیکھتا کہ رہ گیا تھا۔

ارمان عائشہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ کسی لڑکی کو پسند کرنے لگا تھا۔ اس نے اپنی ماں سے بات کی تو اس نے صاف طور پر انکار کردیا تھا۔ کیونکہ وہ سوہان (اس کے کالج کا پیار) سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ چونکہ وہ دونوں ملک سے باہر تھے تو ان دونوں نے شادی کر لی تھی۔ سوہان کے گھر والے جانتے تھے یہ سب لیکن سائشتہ کو اس وقت معلوم ہوا جب سوہان پریگنینٹ ہوگئی تھی۔ لیکن سوہان یہ بچہ نہیں چاہتی1 تھی۔ وہ کسی اور لڑکے کو پسند کرنے لگی تھی۔ اسی وجہ سے وہ ارمان سے جان چھڑانا چاہتی تھی۔ اور اس بچے سے بھی۔ ڈیلیوری کے بعد ارمان کو یہ سب معلوم ہوگیا تھا۔ اسی وجہ سے اس نے سوہان سے وہ بچہ لے لیا اور اسے طلاق دے دی۔ شائستہ بیگم اس پر برہم ہوئی کہ شادی کی بھی جلدی تھی اور طلاق بھی دے دی۔ شائستہ نے اس بچے کو گھر لانے سے صاف انکار کردیا تھا۔ وہ بچہ ابھی اس کے دوست کے گھر تھا لیکن ارمان اس سے روز ملنے جاتا تھا۔ اب پتہ نہیں عائشہ کہ زندگی میں کیا لکھا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *