Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt NovelR50481 Sitam E Ishq (Episode - 22)
Rate this Novel
Sitam E Ishq (Episode - 22)
Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt
ئشہ تیار ہوئی اور ناشتے کے لیے نیچے چلی گئی۔۔۔۔۔ نیچے جا کر شائستہ کو سلام کرتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔۔۔ ارمان کسی کام کی وجہ سے باہر گیا تھا۔۔۔۔ اس کا بیٹا سکول کے لیے روانہ ہوگیا۔۔۔۔
” عائشہ بیٹا۔۔۔۔۔ آج ایک بہت ہی اہم میٹینگ ہے۔۔۔۔۔ اور میں یہ چاہتی ہوں کہ وہ میٹینگ تم اٹینڈ کرو۔۔۔۔۔۔“
شائستہ نے ناشتہ کرتے ہوئے عائشہ کو تاکید کی وہ میٹینگ اٹینڈ کرلے جس پر عائشہ نے اسے دیکھا۔۔۔۔ وہ مسکرائی نہیں۔۔۔۔ شائید ان دو سالوں میں وہ مسکرانا ہی بھول گئی۔۔۔۔
” جی ٹھیک ہے پھپھو۔۔۔۔۔ میں کر لو گی۔۔۔۔ آپ فکر مت کریں۔۔۔۔“
نارمل سے ہی لہجے میں اس نے ناشتہ کرتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔ اور ناشتہ کر کے آفس کے لیے نکل گئی۔۔۔۔
آفس پہنچی تو اس کی سیکریٹری نے اسے آج کا سارا شیڈیول بتایا۔۔۔۔ اس نے بتایا کہ آج اس کی میٹینگ ” علی گروپ آف انڈسٹریز“ سے ہے۔۔۔۔۔
” علی۔۔۔۔۔“
عائشہ کے ذہن میں دو سال پہلے ہونے والا وہ واقعہ گھوما۔۔۔۔۔ اس کے ذہن میں سب سے پہلا خیال علی کا آیا۔۔۔۔
جس کے ان چند الفاظ کی وجہ سے اس کی زندگی میں ناجانے کیا کیا کیا ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ وہ خاموش سی چلتی جارہی تھی۔۔۔۔
” یس میم۔۔۔۔ علی گروپ آف انڈسٹریز کے ساتھ آپ کی مٹینگ ہے۔۔۔۔!!“
علیشہ نے ایک مرتبہ پھر سے کہا جس پر وہ اپنا سر اثبات میں ہلا گئی تھی۔۔۔۔۔
” ٹھیک ہے۔۔۔۔۔!! “
عائشہ نے اتنا ہی کہا تھا۔۔۔۔ اس کے ذہن میں یہی خیال ڈورا تھا کہ نا جانے وہ علی کونسا ہے۔۔۔۔۔! کوئی اور بھی تو ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ سحر نے جس کے متعلق اسے بتایا تھا۔۔۔۔ لازماً تو نہیں وہی علی ہو۔۔۔۔ نا تو اس دنیا میں بس وہی ایک علی ہے۔۔۔۔۔”
” میم آپ کے لیے چائے بنوا لو یا کافی۔۔۔۔۔”
عائشہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔۔۔۔ جب علیشہ نے اس سے یہ سوال پوچھا۔۔۔۔ اور وہ حال میں واپس آئی۔۔۔۔۔
” نہیں۔۔۔۔۔!!“
عائشہ کہتے ہوئے اپنے آفس روم میں چلی گئی۔۔۔۔ جبکہ علیشہ اپنے کاموں میں مصروف ہو گئی تھی۔۔۔۔
کچھ لمحات بعد عائشہ کچھ فائلز لیے کمرے سے نکلی۔۔۔۔۔۔ اس کا دھیان موبائل کی طرف تھا۔۔۔۔۔ اس کے سامنے جو شخص آرہا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ بھی موبائل پر کسی سے بات کررہا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں ہی اپنے اپنے دھیان میں چلتے جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔ جب ہی وہ دونوں ایک دوسرے سے ٹکڑا گئے ۔۔۔۔۔ عائشہ کے ہاتھ سے فائلز نیچے گر گئی۔۔۔ اور سارے کاغزات بکھر گئے۔۔۔۔
جب ہی اس شخص نے مڑ کر دیکھا تو وہ دونوں جیسے ایک دوسرے میں کھو سے گئے۔۔۔۔ سامنے والے کی نظریں دو سال سے جس کی تلاش میں تھی۔۔۔ جس کے لیے وہ دربدر بھٹکتی رہی۔۔۔۔ جس کے لیے وہ بے چین رہی۔۔۔۔
آج انھیں وہ مل گیا۔۔۔۔ ان آنکھوں کو چین آگیا۔۔۔۔ جب علی کی آنکھیں عائشہ پر پڑی تھی۔۔۔۔ سامنے اس شخص کو کھڑا دیکھ کر عائشہ کے ذہن میں علیشہ کی بات گھومی تھی۔۔۔۔ ” علی گروپ آف انڈسٹریز “
” آپ۔۔۔۔۔ یہاں “
علی نے اسے دیکھتے ہوئے جو آفس میں تھی۔۔۔۔ اسے دیکھ کر اس سے سوالیہ انداز میں کہا۔۔۔
” آپ علی گروپ آف انڈسٹریز کے ہیڈ ہیں؟“
عائشہ نے اس کے سوال کے بدلے ایک اور سوال پوچھ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” یس۔۔۔۔۔ اور آپ اس کمپنی کی سی ای او۔۔۔۔۔!! ایم آئی ڑائٹ۔۔۔۔“
علی نے اس سے کہا۔۔۔۔
” یس۔۔۔۔۔“
عائشہ نے بنا مسکرائے ہوئے اس سے کہا تو وہ سمجھ گیا کہ اس کی زندگی کافی طوفان آئے ہیں۔۔۔۔۔ اس کی اداسی ، اس کی پریشانی ، سب سمجھ گیا تھا وہ پر وہ یہ نہیں جان پایا کہ وہ زندگی میں بہت کچھ کھو بھی چکی ہے۔۔۔۔۔
” کیسی ہیں آپ۔۔۔۔۔”
علی نے اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے سوال کیا تھا۔۔۔۔
” ٹھیک ہو۔۔۔۔۔۔۔“
اوا زاری سے سوال کا جواب دیا گیا۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ علی کچھ کہتا وہ فوراً نیچے بیٹھ گئی اور کارڈ سمیٹنے لگی۔۔۔۔علی بھی اس کی مدد کرنے لگا۔۔۔۔۔
” آیم سوری۔۔۔۔ “
اپنی غلطی کا جیسے ہی اسے احساس ہوا اس نے اس سے معافی مانگی۔۔۔۔ جبکہ عائشہ سمجھ ہی نہیں پائی کہ یہ سوری کس لیے ہے؟ ان الفاظوں کے لیے۔۔۔۔ یا پھر اس کے لیے ؟؟
” اٹس اوکے۔۔۔۔۔”
وہ کاغز سمیٹتے ہوئی کھڑی اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔ جبکہ شائستہ یہ سب کچھ دیکھ چکی تھی۔۔۔۔
شازین کو اپنی غلطی کا بڑی ہی شدت سے احساس اس وقت ہوا۔۔۔۔ جب اس نے ربیعہ کے فون زمین سے اٹھایا اور اس میں وہ تصویریں دیکھی۔۔۔۔
ربیعہ کمرے سے چلی گئی۔۔۔۔ شازین نے اس کے پیچھے جانا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔ کیونکہ رات کافی ہوگئی تھی اور ایسے میں وہ کوئی تماشہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ کام اس ہی گھٹیا لڑکی کا ہے اس نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا ہے۔۔۔۔۔ پر ربعیہ کو تو اس پر یقین ہونا چاہئیے۔۔۔۔۔۔
وہ تو اس سے محبت کرتی تھی۔۔۔۔۔ اور وہ محبت ہی کیسی جس میں یقین اور بھروسہ ہی نہ ہو۔۔۔۔؟ یوں ہی رات کٹ گئی۔۔۔۔۔ لیکن ربعیہ کمرے میں واپس نہیں آئی۔۔۔۔
اس نے ساری رات گیسٹ روم میں گزاری۔۔۔۔! شازین صبح ہوتے ہی گیسٹ روم میں گیا جہاں پر ربعیہ صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔
” چلو یہاں سے۔۔۔۔۔!“
” میں نہیں جاؤ گی۔۔۔۔“
جیسے ہی شازین نے اس سے سوال کیا اس نے وہی پر ہی بیٹھے ہوئی اس کے سوال کا جواب بھی دے دیا۔۔۔۔۔
” کیوں نہیں جاؤ گی۔۔۔۔۔ تمھیں چلنا ہوگا۔۔۔۔“
غصے سے کہتا ہوا وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے کھڑا کر کے لے کر جانے ہی لگا جب ربعیہ نے اپنا ہاتھ شازین کے ہاتھوں سے چھڑوایا تھا۔۔۔۔
” میں نے کہا نا کہ میں نہیں جاؤ گی آپ کے ساتھ۔۔۔۔۔“
اس کی آواز بہت دھیمی تھی۔۔۔۔ اس کے لہجے سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ اس کی طبعیت خراب ہے۔۔۔۔۔
” ربعیہ تم ٹھیک ہو۔۔۔۔”
شازین نے ہر چیز کو ایک طرف کرتے ہوئے اس سے سوال کیا جبکہ اگلے ہی لمحے وہ اس کی باہوں میں جھول گئی ۔۔۔۔
” ربعیہ اٹھو۔۔۔۔“
شازین نے اس کے گالوں کا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اور اسے مکمل طور پر باہوں میں اٹھاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا کر گاڑی کو ہوسپٹل کی طرف روانہ کیا۔۔۔۔
ڈاکٹر نے ربعیہ کا چیک اپ کیا تھا۔۔۔۔۔ اور وہ چہرے پر مسکراہٹ لیے باہر آئی اور شازین جو اپنے روم میں بلوایا۔۔۔۔
” مبارک ہو سر۔۔۔۔ ماشاءاللہ سے آپ کی وائف ایسپیکٹ کر رہی ہیں۔۔۔۔ پر۔۔۔۔ “
شازین اس کی بات سن کر مسکرایا۔۔۔۔۔۔ لیکن ڈاکٹر جیسے کی چپ ہوئی اس کی مسکراہٹ ختم ہو گئی۔۔۔۔
” پر ایک ماہ سے بے بی کی گروتھ نہیں ہوئی۔۔۔۔۔ اگر ایسا ہی رہا تو ان کا مس کیرج ہوجائے گا۔۔۔۔ آپ کائیںڈلی خود ان کی خوراک وغیرہ کا دھیان رکھے باقی میڈیسن میں نے لکھ دی ہیں وہ آپ انھیں باقاعدگی سے کھلائیں۔۔۔۔۔“
ڈاکٹر نے اسے تاکید کی تھی۔۔۔۔ جس پر وہ سر اثبات میں ہلا گیا۔۔۔
