Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt NovelR50481 Sitam E Ishq (Episode - 27)
Rate this Novel
Sitam E Ishq (Episode - 27)
Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt
وہ ایک ہفتہ کیسے گزرے گیا عائشہ کو خود بھی معلوم نہیں ہوا۔۔۔۔۔ لیکن اب وقت آگیا کہ وہ دونوں ایک ہو جائے۔۔۔۔ عائشہ کی زندگی میں خوشی کی لہر ڈور جائے۔۔۔۔
آج عائشہ اور علی کا مہندی کا فنکشن تھا۔۔۔۔۔ جو عائشہ کے گھر ہی ہونا تھا۔۔۔۔۔ عائشہ بھی آہستہ آہستہ علی کو اپنی زندگی میں شامل کرتی جا رہی تھی۔۔۔۔
کب کیسے کیوں۔۔۔۔۔؟ علی اسے اچھا لگنے لگا۔۔۔۔۔ نکاح کا رشتہ ہوتا ہی اتنا پاک ہے۔۔۔۔۔ جو دو لوگوں کے مختلف دلوں کو بھی جوڑ دیتا ہے۔۔۔۔۔ علی تو پہلے ہی اس سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔۔۔۔
مگر اب عائشہ بھی اسے پسند کرنے لگی تھی۔۔۔۔ وہ اسے اپنا ہمسفر قبول کر گئی۔۔۔۔۔۔! لیکن اسے خوف بھی آرہا تھا۔۔۔۔ اسے سلمی کی باتیں ستا رہی تھی۔۔۔۔
سلمی نے اس دن جب شائستہ سے یہ کہا کہ عائشہ ہے ہی منحوس جو اپنے ماں باپ کو کھا گئی۔۔۔۔۔ اور پھر ارباز کی جیسے ہی اس سے شادی وہ بھی اس دنیا سے چلا گیا۔۔۔۔۔ اب ناجانے علی کا کیا ہوگا۔۔۔۔۔!”
کل اس کا ابٹن تھا جو ہو گیا۔۔۔۔۔۔ اور آج اس کی مہندی کا فنکشن۔۔۔۔ عائشہ نے کسی بھی پارلر یا بیوٹیشن سے تیار ہونے سے صاف انکار کر دیا۔۔۔ وہ خود بھی کافی اچھا تیار ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔
ربعیہ شیشے کا سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔۔ اس کی بہن کی مہندی تھی۔۔۔۔ وہ بھی کسی سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔ شازین کمرے میں داخل ہوا تو نظریں اس سے ہٹا ہی نہ سکا۔۔۔۔۔
وہ دودھ کا گلاس لیے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔ مگر سامنے کھڑی اس حسن پری کو دیکھ اس کی نظریں اس سے کٹی ہی نہیں۔۔۔۔ ربعیہ اس کی نظریں اپنے اوپر محسوس کر گئی۔۔۔۔
” ایسے کیا دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔!“
ربعیہ نے دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ وہ منگیا رنگ کے جوڑے میں ملبوس بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔ میک بھی اس کے چہرے پر برائے نام تھا۔۔۔۔ لیکن اس کا چہرہ چاندی کی طرح چمک رہا تھا۔۔۔۔ اور اس نے حجاب بھی کر رکھا تھا۔۔۔۔۔
” کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔ میں تو اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ کتنی خوبصورت لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!“
شازین نے ربعیہ کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکرا گئی۔۔۔۔
” یہ لو دودھ پیو۔۔۔۔۔ آج نہیں پیا۔۔۔۔۔“
شازین نے اس کی طرف دودھ کا گلاس بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جس پر ربعیہ منھ بسور گئی۔۔۔۔
” نہیں۔۔۔۔۔!! آج میرا دل نہیں۔۔۔۔۔۔“
ربعیہ نے کہا تو شازین نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔۔
” کیا۔۔۔۔۔ کیا کہا۔۔۔۔۔۔ خبردار منع کیا تو چلو شاباش پیو۔۔۔۔ صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے۔۔۔۔۔“
شازین نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جبکہ وہ دودھ کو گھور رہی تھی۔۔۔۔۔ اس نے تو آج تک دودھ جو ہاتھ نہیں لگایا۔۔۔۔۔ اور اب تو اسے روز پینا پڑتا تھا۔۔۔۔
” پلیز آج نہیں کل پکا پی لو گی۔۔۔۔۔!“
ربعیہ نے روندھی شکل بناتے ہوئے کہا لیکن شازین نے اسے گھورا تو وہ لب بھیجتی ایک ہی گھونٹ میں سارا دودھ پی گئی۔۔۔۔۔ پھر کچھ لمحات بعد وہ دونوں عائشہ کے گھر کے لیے روانہ ہوئے۔۔۔۔
سارے مہمان آگئے تھے۔۔۔۔ ہلا گلا شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ سحر بھی پہنچ گئی تھی۔۔۔۔۔ عائشہ اس سے ناراض تھی کہ وہ اس کی دوست ہے تو اسے صبح ہی آجانا چاہئیے تھا لیکن وہ تو سب سے اینڈ پر آرہی تھی ۔۔۔۔
لیکن ان دونوں میں کوئی ناراضگی زیادہ دیر تو نہیں ٹک سکتی تو یہ کیسے ٹکتی۔۔۔۔۔! تمام لڑکیوں نے کافی رونق لگا رکھی تھی گھر میں۔۔۔۔
کومل اور میشا بھی ان کا ساتھ دے رہی تھی۔۔۔۔ علی بھی اپنے دوستوں کے ساتھ مصروف تھا۔۔۔۔ کچھ دیر تک جب سب نے کھانا وغیرہ کھا لیا تو مہندی کی رسومات شروع کی گئی۔۔۔۔۔
عائشہ کچھ لڑکیوں کی زیر نگرانی کمرے سے لے کر گارڈن تک آئی۔۔۔۔ جیسے ہی اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو سامنے اس حسن پرست کو پایا۔۔۔۔ وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔۔
علی نے بھی جیسے ہی نظریں اٹھائی وہ بھی عائشہ کی طرح نظریں جھکا نہیں سکا۔۔۔۔۔ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔
مسکراتا ہوا اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے کھڑا ہوا۔۔۔۔ جیسے ہی وہ قریب پہنچی علی نے اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔
جس پر عائشہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں میں دے دیا۔۔۔۔ سب مسکرائے جبکہ سلمی بیگم نے انھیں تیکھی نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔۔
اسٹیج پر چڑھتے ہوئے عائشہ علی کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔۔۔ جبکہ رونق تو ابھی بھی لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ پھر ان کی مہندی کی رسومات شروع کی گئی۔۔۔۔
” بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔۔۔۔!“
علی نے اس کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کی جس پر عائشہ مسکرا گئی۔۔۔۔
سب نے باری باری آ کر عائشہ اور علی کی مہندی کی رسم ادا کی گئی۔۔۔۔۔ ٹھنڈ کافی تھی۔۔۔۔۔ اسی لیے جلدی جلدی رسمیں ادا کی گئی۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد لڑکیوں نے کچھ ہلا گلا کیا۔۔۔۔
یوں ہی رات کے دو بج گئے۔۔۔۔۔ عائشہ بیٹھ بیٹھ کر بہت تھک گئی۔۔۔۔ کافی مہمان بھی جا چکے تھے۔۔۔۔ عائشہ بھی اپنے کمرے میں آگئی۔۔۔۔ عائشہ کمرے میں آکر ابھی شیشے کے سامنے بیٹھی ہی تھی۔۔۔۔ جب اسے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔۔۔۔۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک شخص گلاب کے پھولوں کا گل دستہ لیے ہوئے اپنا منھ اس کے اچھے چھپائے کھڑا تھا۔۔۔۔۔ عائشہ سمجھ گئی کہ وہ کون ہے۔۔۔۔۔؟
” ارے آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔کوئی دیکھ لے گا۔۔۔۔۔ ؟“
عائشہ اس کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔ اور باہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جہاں کوئی بھی نہ تھا۔۔۔۔۔
” جانم۔۔۔۔۔ ایک تو تمھیں ہر وقت ہر شخص کی فکر پڑی رہتی ہے۔۔۔۔ کہ کوئی دیکھ نہ لے۔۔۔۔ یار اگر کوئی دیکھ بھی لے تو کیا ہو گا۔۔۔۔۔ تم میری بیوی ہو۔۔۔۔ پورا حق ہے میرا تم پر۔۔۔۔
میں جب چاہے تم سے ملنے آ سکتا ہوں۔۔۔۔ کوئی بھی مجھے روک نہیں سکتا۔۔۔۔۔!“
علی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ وہ دوسروں کو لے کر پریشان نہ ہوا کرے۔۔۔۔ جس پر عائشہ نے اسے گھورا۔۔۔۔۔ اور دروازہ بند کیا تا کہ اسے کوئی دیکھ نہ لے۔۔۔۔۔
” کیا کوئی کام تھا۔۔۔۔۔ آپ کو جو آپ یہاں تک چل کر آئے۔۔۔۔۔!!“
عائشہ نے دروازے کو بند کر کے اس کی طرف مڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جس پر وہ مسکرا گیا۔۔۔۔
” ہاں نہ یہ دینا تھا۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی میں تو ہواؤں میں اڑتے ہوئے آیا ہوں۔۔۔۔۔۔!!“
علی نے اس کی طرف گلاب کے پھولوں کا گل دستہ بڑھاتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔۔۔ جس پر عائشہ نے مسکراتے ہوئے وہ گلدستہ پکڑ لیا۔۔۔۔۔
” یہی کام تھا آپ کو مجھے گلدستہ دینا۔۔۔۔۔ دے دیا۔۔۔۔ چلیں اب جائیں۔۔۔۔“
عائشہ نے اسے جانے کا کہا۔۔۔۔
علی نے اپنے قدم عائشہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جس پر عائشہ نے اپنے قدم پیچھے کی طرف بڑھائے۔۔۔۔ اور دیوار سے جا لگی۔۔۔۔ علی اس کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے کھڑا ہوا۔۔۔۔
” بس یہ کام نہیں تھا میں نے تمھیں جی بھر کر دیکھنا بھی تو ہے نہ جانم۔۔۔۔ وہ کیا ہے نہ پورے فنکشن میں بس کچھ مرتبہ ہی دیکھا تھا۔۔۔۔ لیکن میرا دل کہتا ہے کہ ابھی تمھیں اور دیکھو۔۔۔۔۔“
اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے اس نے کہا تو عائشہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔۔
” اپنے دل کو قابو میں رکھیں۔۔۔۔۔۔!“
عائشہ نے اسے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جبکہ اگلے ہی لمحے علی نے پھر سے اسے اسی جگہ پر کھڑا کیا۔۔۔۔
” یہی تو بات ہے کہ جب بھی تم میرے سامنے آتی ہو نہ تو میرا دل بہلنے لگتا ہے۔۔۔۔ بے ایمانی کرنے پر کرتا ہے۔۔۔۔۔۔!!“
عائشہ اس کی بات سن کر بہت حیران ہوئی۔۔۔۔ اگلے ہی لمحے عائشہ نے مسکراتے ہوئے پیچھے کی طرف دھکیلا۔۔۔۔
” جو بھی ہے ابھی آپ جائیں۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ کوئی آ جائے۔۔۔۔۔“
عائشہ نے رخ موڑتے ہوئے کہا اس کا چہرہ پورے کا پورا لال پڑ چکا تھا۔۔۔۔
” اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔!!“ علی نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھولوں کے گلدستے سے ایک گلاب کا پھول دیتے ہوئے اس کے بالوں میں لگایا۔۔۔۔ اور اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
جبکہ عائشہ کو سمجھ ہی نہ آیا کہ ہوا کیا ہے۔۔۔۔؟ گلاب کے پھول پر ہاتھ رکھتے ہوئے مسکرائی تھی اور چینجگ روم میں کپڑے تبدیل کرنے کے لیے چلی گئی۔۔۔۔
