Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 7)

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

”اب میں کیا کرو۔ میں عائشہ کو یہاں نہیں چھوڑ سکتی ارمان کو تو میں بعد میں دیکھو لیکن اب عائشہ کا نکاح ارباض سے ہوگا۔ “

شائستہ نے خود سے ہی کہا اور فون پر نمبر ڈائل کرنے لگی۔ وہ نمبر ارباز کا تھا۔

ارباز۔۔۔۔!! شائستہ کا چھوٹا بیٹا۔۔۔!! ارمان کو چھوٹا بھائی۔۔۔۔!! جو ایک ماہ پہلے ہی آسٹریلیا سے ہی آیا تھا۔۔!!

اس وقت وہ آفس میں ہی تھا۔ کہ اسے شائستہ کا فون آیا تھا۔ اس نے فون اٹھایا۔

”اسلام علیکم۔۔۔! مما کیسی ہیں۔۔۔!!“

ارباز نے فون اٹھاتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا تھا۔

”وعلیکم اسلام۔۔۔!! میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ تم اس وقت کہاں ہوں۔۔؟“

شائستہ نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے اس سے کہا تھا۔

”میں اس وقت آفس میں ہوں۔ کیوں خیریت ہے نہ۔۔۔۔!!!“

ارباز نے اس سے سوال کیا تھا۔

”ٹھیک فوراً ابھی ماموں کے گھر پہنچو۔ میں انتظار کررہی ہوں۔۔۔۔!!“

شائستہ نے کہا تو وہ سمجھ نہیں پایا کہ اتنی۔ایرجینٹلی کیوں۔۔۔۔؟؟

”مما۔۔ حیرت تو ہے نا۔۔۔!!“

ارباض نے پریشانی کے عالم میں اس سے سوال کیا تھا۔ جبکہ شائستہ نے اسے وہاں آنے کا کہا تھا۔ جبکہ خود ہال کی طرف بڑھ گئی تھی۔

سلمی بیگم نے جیسے ہی یہ بات سنی کہ ارمان یہ شادی نہیں کرنا چاہتا انھوں نے ہال میں بیٹھے ہوئے انوار ، حسن ، سلمان کو یہ بات بتا دی تھی۔ شائستہ بیگم جیسے ہی ہال میں پہنچی تھی۔ ویسے ہی انوار صاحب نے انھیں گھور کر دیکھا تھا۔

”انکار کرنے آئی ہو۔۔۔!!“

انوار صاحب کی آواز پورے ہال میں گونجی تھی۔ جبکہ اس کی بات سن کر شائستہ مسکرا گئی تھی۔

”کس نے کہا یہ تم سے۔۔۔؟؟“

شائستہ بیگم نے اس سے سوالیہ انداز میں پوچھا تھا۔

”میرے سننے میں یہی آیا ہے کہ ارمان عائشہ سے نکاح نہیں کرنا چاہتا ہے۔۔۔! تو انکار ہی ہوا نا۔۔! “

انوار صاحب نے سلمی بیگم کو ظاہر نہ کیا تھا۔

”یقینا تمھاری بیوی نے کی کہا ہوگا یہ تم سے۔۔۔!!“

شائستہ بیگم نے اسے حقیقت سے آشنا کروایا تھا۔ کیونکہ انھوں نے سلمی بیگم کو ان کی باتیں چھپ کر سنتا ہوا دیکھ لیا تھا۔

”لیکن انکار کس بات کے لیے۔۔۔!!“

شائستہ نے اپنی آنکھ کو آچکا کر کہا تھا۔ جبکہ سلمی بیگم ان کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔

”عائشہ کے ارمان کے ساتھ نکاح کے لیے۔۔۔۔!!“

سلمی بیگم نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لیے ہوئے کہا تھا۔

”انکار بھی اور اقرار بھی۔۔۔۔!!“

شائستہ بیگم کا یہ کہنا انھیں سوچ میں ڈال گیا تھا کہ اس کی اس بات کا کیا مطلب ہے۔۔۔!!“

”کیا مطلب۔۔۔!؟“ سلمی بیگم نے شائستہ سے سوال کیا تھا۔

”مطلب یہ ہے کہ عائشہ کا نکاح ارمان سے نہیں بلکہ ارباز سے ہوگا۔۔!!!“

شائستہ کا یہ کہنا انھیں حیران کر گیا تھا۔

”کیا۔۔۔؟؟“

انوار صاحب نے حیرانگی سے انھیں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

”جی بالکل۔۔۔ اگر ارمان یہ شادی نہیں کرسکتا تو عائشہ کی شادی ارباز سے ہو گی۔ ویسے بھی آپ لوگ یہی چاہتے تھے نہ کہ عائشہ کی شادی ہو جائے اور وہ یہاں سے چلا جائے۔۔۔ تو جس سے مرضی ہو آپ کو کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔!! کسی کوئی اعتراض ہے۔۔۔!!“

شائستہ بیگم کی یہ بات شازین کو بہت بری لگی تھی۔ اب ایسا بھی نہ تھا کہ وہ عائشہ کی شادی کسی بھی ایرے غیرے سے ہی کردیں۔۔۔!!“

”نہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔۔!!“

سلمان کی آواز پورے ہال میں گونجی تھی۔ جبکہ شازین نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔۔

”تو ٹھیک ہے۔ مولوی صاحب کا انتظام کریں۔۔۔!!“

مسکرا کر کہتے ہوئے شائستہ نے کہا تھا اور باہر کی طرف بڑھی تھی۔ کیونکہ نوکرانی اسے آ کر بتا چکی تھی کہ ارباض آگیا ہے۔۔

ارباض نے گاڑی روکی اور باہر نکلا تو سامنے ہی اس کی والدہ شائستہ کھڑی ہوئی تھی۔ وہ اس کی طرف بڑھا تھا۔

”جی مما کیا بات ہے۔۔!! آپ نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے۔۔۔!!“

ارباض نے جا کر اپنی ماں سے پوچھا تھا ل۔ جبکہ اس کی اگلی بات اس کو بے حد حیران کر گئی تھی۔

”تمھیں یہاں میں نے کسی خاص مقصد سے بلایا ہے۔ تمھیں عائشہ سے نکاح کرنا ہوگا۔ “

شائستہ کی یہ بات اس کے سر پر بن پھوڑنے سے کم نہ تھی۔۔۔۔

”کیا۔۔۔۔؟؟ نکاح وہ بھی عائشہ سے پر ان کی شادی تو بھائی سے ہونی تھی نہ۔ مما آپ مزاق کر رہی ہیں نہ۔۔۔۔!!!“

ارباز کو شائستہ کی بات مزاق لگی تھی۔

”نو ارباز مجھے نکاح کے معاملے میں آپ سے مزاق کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔!!”

سنجیدگی سے کہا گیا تھا۔

”پر مما۔۔ کیوں اور میں کیوں اور بھائی کہاں ہیں۔۔۔!!“

ارباز نے اپنا سر ہاتھوں میں دے دیا تھا۔ اور اس کے ارمان کے متعلق سوال کیا تھا۔

”یہی تو مسئلہ ہے کہ نکاح ارمان کا ہے اور وہ غائب ہے۔۔۔!! پر تمھیں آج یہ نکاح کرنا ہوگا۔ ورنہ عائشہ کی زندگی برباد ہو جائے گی۔۔۔۔!!“

انھوں نے ارباز کو اس بات سے آگاہ کیا تھا۔ پر حقیقت میں ہوا واقع انھیں نہیں بتایا تھا۔

”پر مما۔۔۔۔!!“

اس نے ایک آخری بار اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ یہ نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا۔

”دیکھو ارباز تمھیں یہ نکاح کرنا ہوگا۔۔۔۔۔!!!“

شائستہ نے سنجیدگی سے کہا تھا۔ جبکہ وہ ایک گہری سوچ میں پڑ گیا تھا۔

”ٹھیک ہے مما۔ میں یہ نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔!!“

ارباز نے کچھ سوچ کر کہا تھا۔ جبکہ اس کی یہ بات شائستہ کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی تھی۔

”مجھے امید تھی کہ تم مجھے مایوس نہیں کرو گے۔۔۔!!“

ہلکی سے مسکان لیے شائستہ نے کہا تھا۔ جبکہ وہ مسکرایا نہ تھا۔ شائستہ اندر کی طرف بڑھی تھی۔ جبکہ وہ بھی اس کے پیچھے بڑھ

گیا تھا۔

مولوی صاحب پہنچ چکے تھے۔ سلمی بیگم حیران تھی کہ ارباز مان کیسے گیا۔۔۔؟؟ عائشہ کمرے میں تھی جبکہ ارباز کو باہر بیٹھایا گیا تھا۔ عائشہ کے کو ایک لال رنگ کی چنری پہنائی گئی تھی۔ جبکہ وہ کسی زندہ لاش سے کم نہ تھی۔ رابعہ کو بہت شرمندگی تھی کہ وہ اپنی بہن کے لیے کچھ بھی نہیں کرپارہی تھی۔

”مولوی صاحب نکاح شروع کروائیں۔۔۔۔!!“

سلمان کی اجازت پر مولوی صاحب نے نکاح شروع کروایا تھا۔۔ پہلے مولوی صاحب ارباز سے مخاطب ہو لئے تھے۔

”ارباز بنت احمد آپ کا نکاح عائشہ بنت عمر سے بعوض حق مہر شرعی کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔!!“

”ق۔۔ قبول ہے۔۔۔!!“

”کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔!!“

”قبول ہے۔۔۔!!“

”کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔!!“

قبول ہے۔۔۔۔!!

مولوی صاحب کے سوالات کو جواب دیتے ہوئے نکاح نامے پے دستخط کرتے ہوئے وہ اسے اپنی شریک حیات چن چکا تھا۔

اس کے بعد مولوی صاحب کو عائشہ کے پاس لے جایا گیا تھا اور پھر نکاح شروع کروایا گیا تھا۔

”عائشہ بنت عمر آپ کا نکاح ارباض بنت احمد سے بعوض حق مہر شرعی کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔!!“

”ارباز۔۔!!“ یہ نام سنتے ہی رابعہ کو سمجھ نہیں آیا کہ یہ نام تو نہیں تھا اس کے پھپھو کے بڑے بیٹے کا۔۔!!

”ق۔۔ قبول ہے۔۔۔!!“

اس سے پہلے کہ رابعہ کچھ بولتی عائشہ اس نکاح کو قبول کر چکی تھی۔۔ بوجھ کی طرح ہی اتارا جا رہا تھا تو پھر جس سے بھی نکاح کیا جائے اسے کیا فرق پڑتا تھا۔ چاہے وہ ایک فقیر ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔!!

”کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔!!“

”قبول ہے۔۔۔!!“

”کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔!!“

قبول ہے۔۔۔۔!!

آخر میں دستخط کرکے مولوی صاحب نے دعا منگوائی تھی۔ عائشہ نے ایک لفظ بھی نہ کہا تھا۔ جبکہ رابعہ اس کو گلے سے لگا کر ایک دفعہ روئی تھی۔ جبکہ عائشہ کی آنکھ سے ایک آنسو بھی نہ نکلا تھا۔ یوں مانو تو وہ پتھر کی بن چکی تھی۔

لیکن اس کی چچی کو کہا سکون تھا۔ ناجانے اب ان دونوں کی زندگی کیا موڑ لینے والی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *