Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt NovelR50481 Sitam E Ishq (Episode - 16)
Rate this Novel
Sitam E Ishq (Episode - 16)
Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt
عائشہ اور ارباز پہلے عائشہ کا یونیورسٹی میں ایڈمیشن کروانے گئے تھے۔ عائشہ کا لاسٹ سمیسٹر تھا۔ لیکن وہ اپنی پچھلی یونیورسٹی میں نہیں جانا چاہتی تھی۔ جو ہوا تھا وہ بولی نہیں تھی۔ وہ بیچاری تو یہ بھی نہیں جانتی کہ اس کی پھولوں جیسی بہن کی شادی بھی کردی گئی تھی۔ یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہو گیا تھا۔ بھئی ہماری عائشہ کوئی نالائق تھوڑی ہے۔ اس کے بعد وہ اور ارباز کافی دیر تک شاپنگ کرتے رہے۔ عائشہ نے تو دو جوڑے کے کر ہی کہا تھا کہ گھر چلتے ہیں وہ کافی تھک گئی ہے۔ لیکن ارباز کونسا اس کی بات سننی تھی۔ کافی دیر تک شاپنگ کروانے کے بعد وہ ایک اچھے سے ریسٹورنٹ میں گئے تھے۔ وہاں ڈنڑ کرنے کے بعد وہ گھر پہنچے تھے۔ عائشہ تو تھکن کے مارے راستے میں ہی سو گئی تھی۔ ارباز پورے راستے کبھی اسے دیکھتا تو کبھی راستے پر نظر ڈالتا۔ آج عائشہ کو اپنا آپ مکمل سا محسوس ہوا تھا۔ وہ نامکمل سے مکمل ہو گئی تھی۔ کیونکہ آج اسے اپنے شوہر کا ساتھ مل گیا تھا۔ وہ ساتھ جو عورت کے لیے بہت ہی اہم ہوتا ہے۔ دنیا کا سب سے خوبصورت ساتھ۔ راستہ ختم ہو چکا تھا۔ اور وہ گھر پہنچ گئے تھے۔ عائشہ نے شائستہ کے لیے بھی کچھ چیزیں اور کپڑے لیے تھے۔ گاڑی روک کر وہ کافی دیر کر اس کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا تھا۔ جس پر معصومیت کا راج تھا۔ کچھ لمحات بعد اس نے عائشہ کا جگایا تو وہ آنکھیں ملتی ہوئی اٹھی۔ وہ دونوں گاڑی سے اترے تھے۔ اور اندر کی طرف بڑھ گئے تھے۔ شائستہ کو ارباز نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ آج کھانا باہر کھائے گے۔ وہ کھانا کھا کر کمرے میں آگئی تھی۔ جبکہ کھڑکی سے اندر آتے ہوئے انھیں دیکھ کر وہ مسکرا گئی تھی۔ وہ دونوں ساتھ کتنے اچھے لگ رہے تھے۔ وہ مسکرائی تھی۔ وہ یوں ہی عائشہ کو خوش دیکھنا چاہتی تھی۔ ”میں کافی تھک گئی ہو۔۔۔۔۔!!“ عائشہ کمرے میں پہنچی تھی اور کمرے میں پہنچتے ہوئے کہا تھا جبکہ وہ مسکرا رہا تھا۔ “ میرا دل تھا کہ ہم موی بھی دیکھ کر آتے پر تم تو اتنے میں تھک گئی تھی۔ “ ارباز نے منھ بنا کر کہا تھا۔ ” پھر آپ کو مجھے اٹھا کر ہی گھر لانا پڑتا۔۔۔۔!!“ عائشہ نے اس کی بات سن کر فوراً جواب دیا تھا۔ ” ہاں تو میں تمھیں اٹھا کر لانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔!!“ اس کا جواب سن کر عائشہ کو سمجھ آیا کہ وہ جلد بازی میں کیا کہہ گئی تھی۔ ” م۔ میں چینج کرنے جا رہی ہوں۔۔۔۔!!“ عائشہ مسکرا کر کہتے ہوئے واش روم میں گھس گئی تھی۔ جبکہ ارباز کھلکھلا کر مسکرایا تھا۔
ولیمہ تین دن کے لیے پوسٹ پون کردیا گیا تھا۔ کیونکہ رابعہ کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ کافی بیمار ہوگئی تھی۔ شازین کافی پریشان تھا۔ اس وقت مہمان جا چکے تھے۔ شازین کے ذہن میں سحر کی باتیں ہی گھوم رہی تھی۔ جبکہ سلمان کو بھی سلمی پر بہت غصہ تھا۔ اس وقت گھر پر صرف وہی پانچوں تھے۔ رابعہ کمرے میں تھی۔ جبکہ سلمی اور انوار باہر لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جبکہ سلمان ابھی ابھی گھر پہنچا تھا۔ شازین سلمی اور انوار کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔ ”امی۔۔۔۔۔!! آپ نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔۔؟؟“ ان کے قریب پہنچتے ہوئے شازین نے سلمی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ سلمی نے اس کا یہ لہجہ دیکھا تو ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔ ” یہ کس طرح بات کر رہے ہو تم مجھ سے۔۔۔ کیا تمیز بھول گئے ہو تم۔۔۔۔۔؟؟“ سلمی اور انوار کرسیوں سے کھڑے ہوئے تھے۔ جبکہ انوار چپ رہا تھا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کچھ بات ہے تو ہی شازین اس لہجے میں اس سے بات کررہا ہے۔ ورنہ وہ اس سے یوں کبھی بھی بات نہیں کرتا۔ ”امی۔۔۔۔ یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔۔۔۔۔!!!“ شازین کا لہجہ مرم ضرور پڑا تھا۔ لیکن اس میں بھی سختی موجود تھی۔ ” کیا کیا ہے میں نے جو تم مجھے سے یوں بات کررہے ہو؟“ سلمی نے غصے کی شدت سے کہا تھا جبکہ وہاں پر سلمان بھی پہنچ چکا تھا اور وہ جانتا تھا کہ یہاں کس موضوع پر بات چل رہی تھی۔ ” عائشہ کے ساتھ جو آپ نے کیا میں اس کے بارے میں بات کررہا ہوں۔۔۔۔۔۔!!“ شازین نے کہا تو اس کے ہوش ہی اڑ گئے تھے۔ اس کی تو جیسے کسی نے جان ہی نکال لی تھی۔ ” ک۔۔ کیا ہے م۔۔ میں نے اس ک۔۔ ے ساتھ۔۔۔۔۔۔؟؟“ سلمی کے تو جیسے الفاظ ہی لڑکھڑا گئے تھے۔ ” آپ سب جانتی تھی۔۔۔ کہ عائشہ بے قصور تھی۔۔۔ اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ پاک دامن تھی۔ پاکیزہ تھی۔ اور پھر بھی آپ نے اس کے ساتھ یہ ظلم ہونے دیا۔۔۔۔!!!“ شازین نے ناگواری سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ انوار کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔ ” یہ کیا کہہ رہے ہو تم شازین۔۔۔۔۔!!“ ان کے لہجے میں بھی سختی تھی۔ ” بابا۔۔۔۔!! میں سچ کہہ رہا ہوں۔ مما کو اس رات ہی سب معلوم ہوگیا تھا۔ عائشہ بے قصور ہے۔ سلمان بھائی کو غلط فہمی ہوئی تھی۔ پھر بھی انھوں نے عائشہ کی شادی ارباز سے ہونے دی۔۔۔؟ “ وہ سوالیہ تاثرات لیے وہاں پر کھڑا تھا۔ جبکہ سلمی کا چہرہ شرم سے لال پڑ گیا تھا۔ ” نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے میرا بیٹا۔۔۔۔!! مجھے پتہ ہے کہ یہ سب تمھیں کسی نے کہا ہے۔۔۔۔۔؟ کسی نے تمھارے کان بھرے ہیں۔۔۔!! اور وہ اس منحوس رابعہ نے ہی کیا ہوگا۔۔۔۔۔!!!!“ انھوں نے شازین کے پیچھے کھڑی رابعہ کی طرف کرتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ شازین نے جیسے ہی رابعہ کا نام سنا وہ فوراً پیچھے کی طرف مڑا تھا۔ پیچھے دیکھا تو اسے پیچھے پایا تھا۔ وہ جس کی طبعیت پہلے ہی ٹھیک نہ تھی۔ اس نے جب یہ سنا کہ اس کی بہن کا کوئی قصور نہ تھا۔ اور اس کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ اس کی زبردستی شادی کروائی گئی ہے۔ اس کا سر گھوم گیا تھا۔ ” اس منحوس نے ہی۔۔۔۔۔!!“ سلمی بیگم بوکھلا سی گئی تھی۔ جب ہی اس کی طرف بڑھی تھی۔ اور اس کے پاس جاتے ہوئے اسے دکھا دیا تھا۔ رابعہ زمین پر گرتی اس سے پہلے ہی شازین نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا تھا۔ ” سلمی۔۔۔۔۔۔!!!“ انوار کی آواز کی دھاڑ سے وہ ہوش میں واپس آئی تھی۔ اور دیکھا تو رابعہ بے ہوش ہوچکی تھی۔۔۔۔۔!!” ”رابعہ میری جان۔۔۔۔۔!! میری جان۔۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔۔۔!! “ شازین نے آہستگی سے اس کی گالوں کو تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ وہ ہوش کھو چکی تھی۔ شازین نے اسے اپنی باہوں میں بھرا اور کمرے میں لے گیا تھا۔ ” یہ کیا حرکت ہے وہ اس گھر کی بہو ہے۔۔۔۔۔!!!“ انوار نے سلمی سے غصے میں کہا تھا۔ ” آپ نہیں جانتے کہ شازین نے اس کے کان بھرے ہیں۔۔۔۔۔!! تبھی تو وہ یوں کر رہا ہے۔۔۔۔۔!!“ سلمی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ ”امی پلیز بس کریں۔۔۔۔ اسے رابعہ نے کچھ بھی نہیں کہا۔۔۔۔ سحر نے سب کو ساری حقیقت سے واقف کروایا ہے۔۔۔۔ اور یہ اب ہے نہ کہ آپ عائشہ اور رابعہ کو پسند نہیں کرتی اسی وجہ سے تو آپ نے اس بیچاری کے ساتھ یہ کیا۔۔۔۔ مجھے بھی آپ بچپن سے اس کے خلاف بھارتی رہی۔۔۔۔ اور مجھے اس کا مجرم بنا دیا۔۔۔۔۔!!!!!“ سلمان بھی کہہ کر جا چکا تھا۔ جبکہ سلمی اب جان گئی تھی کہ اس کی حقیقت کسی سے بھی نہیں چھپنے والی۔۔۔۔۔!!
وہ کافی پریشانی ہے عالم میں اسے کمرے میں لے کر آیا تھا۔ اسے آہستگی سے بیڈ پر لیٹا کر ڈاکٹر کو فون کرنے لگا تھا۔ وہ کافی گھبرا گیا تھا۔ رابعہ کی طبعیت پہلے ہی بہت خراب ہوگئی تھی۔ کیونکہ اتنی ٹھنڈ تھی اور اس کے لیے ہائجینک فوڈ ویسے ہی اچھا نہیں ہے۔ اسی لیے ولیمہ پوسٹ پون کیا گیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ رابعہ نے اس بات کا کافی اسٹریس لیا تھا۔ وہ پریشانی کے عالم میں ہی اس کے پاس آکر بیٹھا تھا اور اس کے ہاتھوں کو ملنے لگا تھا۔ ہاں سے یہ حقیقت تھی کہ اس چھوٹے سے عرصے میں وہ اس کی جان بن گئی تھی۔۔ اس کی کمزوری بن گئی تھی وہ۔۔۔۔۔۔!!
