Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 4)

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

”بھائی۔۔!!“

میشا علی کر کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ جبکہ اسے کمرے میں دیکھ کر اسے غصہ آیا تھا۔

لیکن اسی پل وہ واش روم سے باہر نکلا تھا۔ تو میشا کا سارا غصہ ہوا ہوا تھا۔

”بولو۔۔ میشا کیا بات ہے۔۔؟؟“

واش روم سے نکلتے ہوئے اس نے میشا سے سوال پوچھا اور شیشے کے سامنے کھڑے ہوا تھا۔

”بھائی۔۔ میں آپسے ناراض ہوں۔۔ “

میشا کی بات سنتے ہوئے اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے اور اس کی طرف مڑا تھا۔

”کیوں۔ کیوں بات نہیں کرنی ہے تم نے مجھ سے۔۔“

علی میشا کے پاس بیٹھتے ہوئے اس سے سوال پوچھتا ہے تو میشا منھ بسورتے ہوئے اسے اپنی بات بتانا شروع کرتی ہے۔

”بھائی۔ آپ عائشہ کو پسند کرتے ہیں۔ اور مجھے آپ نے بتایا بھی نہیں۔“

علی نے اس کی بات سنی تو وہ حیران رہ گیا کہ اس کی بہن کو اس کے بارے میں سب پتہ رکھتی تھی۔ آج یہ بھی جان چکی تھی۔

”ت۔ تمھیں کس نے کہا۔۔“

میشا کی بات سن کر تو وہ ہل کر رہ گیا تھا۔ اس کے الفاظ تو جیسے لڑکھڑا ہی گئے تھے۔

”بھائی میں بھی میشا ہوں آپ کی سب باتیں جانتی ہوں میں۔ “

اس نے آنکھ ونگ کرتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ علی اس کو گھور رہا تھا۔

”ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔”

سنجیدگی سے کہتے ہوئے علی اٹھ گیا تھا۔ جبکہ وہ بھی اس کی بہن ہی تھی۔

”ایسا ہی ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ اس بارے میں عائشہ کو معلوم نہیں ہے۔“

میشا نے منھ بسور کر کہا تھا۔ جبکہ آج تو علی اس کی باتیں سنتے ہی رہ گیا تھا۔

”بھائی پلیز لے آئے نہ اسے بھابھی بنا کر وہ مجھے بھی بہت پسند ہے۔“

میشا نے کہا تو وہ مسکرا گیا۔

”نہیں ابھی وہ پڑھ رہی ہے۔ “

علی نے سر نفی میں ہلا کر کہا تھا۔۔ جبکہ اس کا جواب سن کر میشا نے ایک بار پھر سے منھ پھلایا تھا۔

”اچھا ایک کام کرو جاؤ مجھے بھی جانا ہے کہیں۔۔!!“

علی کمرے کے دروازے پر کھڑا ہوتے ہوئے میشا سے کہتا ہے تو وہ کمرے سے چلی جاتی ہے۔

میشا اور عائشہ بہت اچھی دوستیں تھی۔ یہ الگ بات تھی کہ میشا اس کی جونئیر تھی۔ علی کی ملاقات عائشہ سے میشا کے تھرو ہی ہوئی تھی۔ اور کب وہ اسے پسند کرنے لگا تھا۔ یہ اسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔۔

عائشہ گھر واپس آئی تو سب کے ساتھ کھانا کھایا اور پھر کمرے میں آگئی تھی۔ اس کے ذہن میں صبح سے ہی سحر کی باتیں گھوم رہی تھی۔۔وہ تو اسے جانتی بھی نہیں تھی۔ جانتا تو اسے وہ بھی نہیں تھا۔ تو پھر سحر نے یہ باتیں کیوں کہی تھی۔

”سحر نے یہ کیوں کہا کہ وہ لڑکا۔ کیا نام تھا اس کا ہاں علی وہ لڑکا ہمیں پسند کرتا ہے۔ لیکن ایسا کیوں کہا سحر نے۔۔“

عائشہ سوچتے ہوئے بول رہی تھی۔ جبکہ وہ نہیں جانتی تھی اس کی یہ باتیں رابعہ سن چکی ہے۔

”عائشہ۔۔ کیا یہ واقع سچ ہے۔۔۔!! کہ وہ لڑکا۔ “

رابعہ اس کے پاس اونچی آواز سے کہتے ہوئے آئی تھی۔ جبکہ عائشہ اس کو دیکھ کر ڈر گئی تھی۔ اور اس کے منھ پر ہاتھ رکھا تھا۔ جس سے وہ چپ کر گئی تھی۔

”ششش۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ منھ بند رکھو تم اپنا۔ “

عائشہ اس پر شدید برہم ہوئی تھی۔ جبکہ وہ اس کی بات سن کر مکمل طور پر خاموش ہوگئی تھی۔

”جھوٹ مت بولو۔ میں نے سنا تم نے ابھی یہی کہا تھا۔ “

رابعہ نے مکمل دھیمے لہجے میں کہا تھا۔ جبکہ عائشہ اس کی بات سن کر شاکڈ تھی کہ وہ اس کی سب باتیں سن چکی ہے۔

”ایسا کچھ بھی نہیں ہے تم نے کچھ غلط سنا ہے۔ “

عائشہ نے مکمل طور پر اس کی بات کو رد کردیا تھا۔ جبکہ رابعہ نے جو آگے کہا وہ عائشہ کو ایک بار پھر سے شاکڈ کردیا گیا تھا۔

”ایسا کچھ ہونا بھی نہیں چاہئیے۔ کیونکہ نیچے پھوپھو آئی ہیں اور تمھارے اور ارمان کے رشتے کے متعلق بات چل رہی ہے۔ “

یہ بات سنتے ہی وہ کافی گھبرا گئی تھی۔ کہ یوں اچانک رشتہ اور وہ بھی ارمان سے جس سے وہ زیادہ سے زیادہ پانچ مرتبہ بھی نہ ملی تھی۔

”کیا۔۔!! یہ کیا کہہ رہی ہو تم ایسے کیسے ہوسکتا ہے۔ ؟“

عائشہ کا سانس پھولنے سا لگا تھا۔ جبکہ وہ ایک طرح سے بوکھلا ہی گئی تھی۔

”جی بالکل۔۔ ایسی ہی بات میں نے خود سنا ہے۔۔۔!!“

رابعہ نے اسے بتایا کہ وہ یہ سب کچھ خود سن کر آئی ہے اور یہ اب کچھ حقیقت ہے۔

”انوار آج میں تم سے عائشہ کو مانگنے آئی ہوں۔۔ “

چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے شائستہ نے اپنے بھائی انوار سے کہا تھا۔ جس پر وہ مسکرا گئے تھے۔

”مجھے معلوم ہے۔۔ اور ویسے بھی اب جب ارمان آگیا تو اس نیک کام میں دیر ہی کیسی۔۔!!“

انوار صاحب کا جواب سن کر شائستہ مسکرا گئی تھی۔

شازین خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ وہ یہ شادی کبھی بھی نہ ہونے دیتا اگر اس کے بابا نے اس سے وعدہ نہ کیا ہوتا کہ شادی کے بعد عائشہ کی پڑھائی میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔

”تو بس ٹھیک ہے۔ اگلے ماہ کی کوئی تاریخ رکھتے ہیں ہم۔۔ “

شائستہ نے مسکرا کر کہا تھا جب کہ اس بات پر تو سلمی بیگم اور سلمان بھی بہت خوش تھے کہ اچھا ہی ہے جتنی جلدی اس سے جان چھوٹ جائے گی۔

”جی تو ٹھیک ہے آپا۔ اگلے ماں کی کوئی تاریخ رکھ لیتے ہیں۔ ویسے بھی اب عائشہ کی شادی کی عمر ہوگئی ہے۔۔”

انوار نے کہا تو شائستہ سمیت سب مسکرا گئے تھے۔

”اچھا انوار تم لوگ بیٹھو۔۔ میں اپنی بیٹی سے زرا مل کر آتی ہوں۔۔“

شائستہ اٹھتے ہوئے عائشہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *