Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 1)

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

صبح کی روشنی میں وہ حسین لڑکی چلتی ہوئی باہر کی طرف قدم بڑھا رہی تھی۔۔۔۔ جبکہ اس دھوپ کی پڑتی ہوئی کرنوں میں اس کا چہرہ چمک رہا تھا۔۔۔۔!!

جبکہ سامنے سے آتا شخص اس کے چہرے کی مسکان بن گیا تھا۔۔۔۔۔ کیونکہ ایک وہی تو تھا جو اس کی مسکان کی وجہ بنتا تھا۔۔۔۔ باقی تو سب ہی اس کے دکھ کا باعث بنتے تھے۔۔۔۔ ایک شازین اور ایک رابیہ ہی تھی جو اس کی مسکراہٹ کی وجہ بنتے تھے۔۔۔۔۔!!

”عائشہ۔۔۔۔!! تم تیار ہو۔۔۔۔!!“

شازین نے اس سے سوال پوچھا تھا۔۔۔۔۔ جس پر اس نے سر ہاں میں ہلایا تھا۔۔۔۔۔

”جی بھائی میں تیار ہوں۔۔۔!! “

عائشہ نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ سامنے سے ہی رابعہ آئی تھی۔۔۔۔اس کی چھوٹی بہن۔۔۔۔

”میڈم آپ بھی جلدی تیار ہو جایا کریں۔۔۔ پلیز۔۔۔”

شازین نے آخری لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جس پر وہ دونوں مسکرا گئی تھی۔۔۔۔

اور پھر وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے گاڑی یونیورسٹی کی راہ پر ڈال گیا تھا۔۔۔۔۔۔

”میں سوچ رہی ہوں کہ اب عائشہ کی شادی کردیں۔۔۔۔۔!!“

سلمیٰ بیگم نے انوار صاحب سے بات کی تھی۔۔۔۔ جبکہ وہ یہ سن کر خاموش ہوگئے تھے۔۔۔۔۔

”ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو بیس سال کی ہوگئی ہے اب شادی کردینی چاہئیے ہمیں۔۔۔۔ خاندان میں ہی کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کر اس کی شادی کر دیتے ہیں۔۔۔۔”

انوار صاحب نے بھی سلمیٰ بیگم کی بات سے ایگری کیا تھا۔۔۔۔

”کیوں نہ آپا کے بڑے بیٹے ارمان کا رشتہ کے لیں عائشہ کے لیے۔۔۔۔!! اور چھوٹے کا رابعہ کے لیے طہ کردیتے ہیں۔۔۔۔“

کچھ دیر سوچنے کے بعد سلمیٰ بیگم نے انوار سے کہا تھا۔۔۔۔ کہ کیوں نہ ان کے پھپھو کے بیٹوں سے ہی ان کی شادی ہوجائے۔۔۔۔!!

”ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو تم آپا خود بھی عائشہ کا رشتہ چاہتی ہیں ارمان کے لیے۔۔۔۔۔ تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔۔۔۔!!“

انوار نے اس کی بات ایگری کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ سلمیٰ بیگم نے بھی سر ہاں میں ہلایا تھا۔۔۔

عائشہ اور رابعہ۔۔۔۔!!

دونوں ایک دوسرے کی بہنیں ہیں۔۔۔۔!! ان والدین کی وفات ان کے بچپن میں ہی ہو گئی۔۔۔۔۔

تو وہ اپنے چچا کے پاس ہی رہی تھی۔۔۔۔!! انھوں نے ہی اس کی پرورش کی تھی۔۔۔۔۔ لیکن ان کی چچی انھیں کچھ خاص پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔۔

اور یہی ناپسندیدگی شائید اس کے بڑے بیٹے میں بھی جا کی تھی۔۔۔۔ لیکن چھوٹے بیٹے نے ان کو اپنی بہنیں مانا تھا۔۔۔۔

وہ ان کا بہت خیال رکھتا تھا۔۔۔۔۔ ہر خواہش پوری کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

ان کے چچا بھی ان کا خیال رکھتے تھے۔۔۔۔ لیکن سرد مزاجی ان کا ایک اہم حصہ بن چکا تھا۔۔۔۔لیکن کیا کہیں ماں باپ کے بعد یہی زندگی گزرتی ہے۔۔۔۔!!

کالے رنگ کی پینٹ پر نیلے رنگ کی شرٹ پہنے ہوئے پرفیوم کی بوتل پکڑتے ہوئے خود پر سپرے کرکے دوبارہ اسے اس کی جگہ پر رکھتے ہوئے پچھے مڑ کر اس نے اپنا بیگ اٹھایا تھا۔۔۔

کچھ قدم بڑھ کر کالے رنگ کی عینک پہنتے ہوئے وہ کمرے سے نکلتے ہوئے سیدھا گارڈن میں آیا تھا۔۔۔۔

اور مسکرا کر سامنے کھڑی ہوئی اپنی بہن کو دیکھا تھا۔۔۔ جو شائید کب سے انتظار کررہی تھی۔۔۔۔۔

”بھائی اتنا ٹائم تو تیار ہونے میں شائید ہی لڑکیاں بھی لگاتی ہوں جتنا ٹائم آپ لگاتے ہیں۔۔۔۔!!“

اس کو دیکھ کر اس کی بہن نے افسردگی سے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ مسکرایا تھا۔۔۔۔

”اتنا ٹائم تیار ہونے میں نہیں اٹھنے میں لگ جاتا ہے۔۔۔۔ “

اس کے افسردہ چہرے کو دیکھتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔

”اچھا علی بھائی اب چلیں اتنی باتیں مت کریں ورنہ ہم دونوں یونی لیٹ پہنچے گے۔۔۔۔۔!!“

حنا نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے علی سے کہا تھا۔۔۔۔

جبکہ وہ مسکراتے ہوئے بیٹھ گیا تھا کہ آج تک وہ کسی سے بھی نہیں ڈرا تھا اور وہ اس کی بہن ہوتے ہوئے بھی اس چیز سے ڈر رہی تھی کہ کہیں یونی سے لیٹ نہ ہو جائے۔۔۔۔!!

عائشہ اور رابعہ تو ہر کسی کے برے رویے کے عادی ہوچکے تھے۔۔۔۔ جو بچے بن ماں باپ رہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔ وہ رل جاتے ہیں۔۔۔۔ یہی ان کے ساتھ بھی ہوا تھا۔۔۔

(ماضی)

وہ دونوں نرم وملائم صوفے پر بیٹھ کر گیم کھیل رہی تھی۔۔۔۔ جب ہی اس کی ماں دودھ کے گلاس لیے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔!

”عائشہ۔۔۔ رابعہ۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔ یہ لو دودھ پی لو۔۔۔!!“

انھوں نے کہا تو ان دونوں نے ہی منھ بنا لیا۔۔۔۔ لیکن وہ مسکرا گئی تھی۔۔۔۔

”بیٹا۔۔۔ یہ پی لو۔۔ پھر میں نے آفس بھی جانا ہے۔۔۔۔۔!!“

انھوں نے کہا تو وہ بھاگ کر ان کے پاس آئی تھی۔۔۔۔ اور جلدی سے دونوں نے ہی دودھ پیا تھا۔۔۔۔۔۔

”مما تلیز۔۔ آد نہ جاؤ آتس۔۔۔۔“ (”مما پلیز آج نہ جاؤ آفس۔۔۔“)

اس ننھی سی کلی نے اپنی ماں کے ہاتھ کو تھامتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ وہ ننھی کلی کیا جانتی تھی کہ آج اپنی ماں سے آخری مرتبہ بات کررہی تھی۔۔۔۔ اس کے بعد اسے اس کی اور اس کے بابا کی شکل دیکھنے کو بھی نہ ملے گی۔۔۔۔۔

”بیٹا۔۔۔ بہت ضروری میٹینگ ہے لیکن میں بہت ہی جلد آجاؤ گی۔۔۔!!“

اس کی ماں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔ لیکن وہ منھ بنا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔

”عائشہ بیٹا ہم جلد آجائیں گے۔۔۔۔ آپ فکر نہیں کرو۔۔۔۔!!“

اس کے بابا نے اسے گود میں اٹھاتے ہوئے اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ رابعہ جو اس کی مما نے اٹھایا تھا۔۔۔۔ رابعہ ابھی چھوٹی تھی وہ بولنا نہیں جانتی تھی۔۔۔۔ جبکہ عائشہ اس سے تین سال بڑھی تھی۔۔۔

”ٹھیک ہے۔۔۔۔ آپ پرومچھ ترو۔۔۔۔!!“ (ٹھیک ہے۔۔۔ آپ پرومس کرو۔۔۔!!“

اس ننھی کلی نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو آگے بڑھاتے ہوئے اس سے وعدہ لیا تھا۔۔۔۔

”پرومس۔۔۔۔!!“

اس کے باپ اپنے کلی کیلے ننھے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے اس سے وعدہ کیا تھا۔۔۔۔۔ لیکن وہ کیا جانتے تھے کہ یہ وعدہ نہ ہی اس کی ماں اور نہ ہی اس کا باپ پورا کر پائے گا۔۔۔۔

”چلو بھائی چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔!!“

ان دونوں نے انھیں اپنی اپنی گود سے اتارا تھا اور پھر انھیں باری باری پیار کرتے ہوئے وہ وہاں سے نکلے تھے جبکہ وہ دونوں معصوم سی بچی گیم میں مصروف ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *