Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 12)

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

”تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔!!!“

اسے اپنی نظروں کے سامنے دیکھتے ہوئے وہ تپ اٹھا تھا اور اس پر چلایا تھا۔

”پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔ ارمان ایک مرتبہ میری بات سن لو۔۔۔۔۔۔!!“

ارمان جو کئی دنوں سے ہوٹل میں اپنے بیٹے کے ساتھ رہ رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہوئے وہ غصے سے بولا تھا۔ جبکہ سامنے کھڑی سوہان نے گڑگڑا کر کہا تھا۔

”کیا پلیز۔۔۔۔۔ اور مجھے تمھاری کوئی بھی بات نہیں سنی ہے۔۔۔۔۔!! دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔!!!“

ارمان نے بھی غصے کی شدت پکڑتے ہوئے کہا تھا۔

”پلیز ارمان میری ایک مرتبہ بات سن لو میں تم سے معافی مانگنے آئی ہوں۔۔۔ مجھے بس ایک مرتبہ میرے بیٹے سے ملنے دو۔۔۔۔!!!“

اس کی بات سن کر ارمان تپ اٹھا تھا۔

”معافی۔۔۔۔۔۔!! وہ تو تمھیں کسی بھی صورت نہیں ملے گی۔۔۔ اور کیا کہا تم نے کہ تمھارا بیٹا۔۔۔۔ نو مس سوہان وہ صرف میرا بیٹا ہے۔ بس میرا بیٹا۔ اور خبردار جو اس سے کبھی ملنے کے بارے میں سوچا تھا۔ “

ارمان نے اسے وارننگ دینے والے انداز میں کہا تھا۔

”لیکن۔۔۔۔۔!!“

وہ بول ہی رہی تھی جب ارمان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے گھر سے باہر نکال دیا تھا۔ جبکہ اس دوران سوہان نے کئی آنسو بہائے کئی منتیں سماجتیں کی لیکن اس پر کوئی اثر تک نہ ہوا۔

سلمان گاڑی تیز رفتار میں چلا رہا تھا۔ وہ اس وقت کمپنی سے گھر واپس جارہا تھا۔ لیکن کچھ لمحات بعد جب گاڑی اسی رفتار میں رہی تو اچانک ہی سامنے ایک لڑکی آگئی۔ جس کا سر گاڑی ٹکڑا گیا تھا۔ اور گاڑی سے ٹکر ہونے کی وجہ سے روڈ پر گر گئی تھی۔

جبکہ سلمان نے گاڑی اچانک ہی روکی تھی۔ اور فوراً سیٹ بیلٹ اتارتے ہوئے گاڑی سے نیچے اترا تھا۔ جبکہ سڑک پر کوئی بھی موجود نہ تھا اس وقت۔۔۔!! وہ اس کی طرف بڑھا تو دیکھا کہ اس کے سر کافی خوں بہہ گیا تھا۔ جبکہ اس کے کپڑے بھی خون سے لت پت ہورہے تھے۔

اس نے اس لڑکی کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا اور پھر گاڑی کو ہوسپٹل کی راہ پر چلا دیا۔ جبکہ وہ کافی پریشاں ہوگیا تھا کہ کہیں اس لڑکی کو کچھ ہو نہ جائے۔ اور اسی وجہ سے اس نے گاڑی کو فل سپیڈ پر دوڑایا تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے گاڑی کو ہوسپٹل کے سامنے روکا تھا۔

اور اس لڑکی کو اپنی باہوں میں لیے ہوئے ہوسپٹل داخل ہوا اور وہاں سے کچھ نرسز اسے آپریشن تھیٹر میں لے گئی تھی۔ جبکہ اس کا خون اس کے کپڑوں پر بھی لگ گیا تھا۔ سلمان سر ہاتھوں میں دے گیا تھا۔

کہ یہ اس سے کیا ہوگیا تھا۔ وہ وہی کھڑا رہا جبکہ اس لڑکی کا آپریشن شروع ہوگیا تھا۔

”جی بابا۔۔۔۔۔۔!! آپ نے مجھے بلایا۔۔۔۔۔۔!!“

شازین جسے انوار نے بلایا تھا۔ وہ اس کے پاس آیا اور اسے مسکرا کر کہا۔ جبکہ۔سلمی۔بیگم بھی وہاں پر آئی تھی۔

”بیٹا۔۔۔۔۔۔!! شادی میں دو ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے جاؤ ایک کام کرو رابعہ کو ساتھ لے جاؤ اور اسے شاپنگ کرواؤ اور خود بھی جو لینا ہے وہ لو۔۔۔۔۔۔!!“

شازین اس کی بات سن کر سر ہاں میں ہلا گیا تھا۔ جبکہ سلمی یہ کیسے برداشت کرسکتی تھی کہ شازین اور رابعہ ایک ساتھ جائے ان کی انڈر اسٹینڈنگ ہو۔۔۔۔

”ارے آپ اسے کیوں کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔!! اسے ناجانے کتنے کام ہو گے۔ اب وہ اسے لے کر گھومتا پھرے۔۔۔۔۔ اس ے جانے دیں میں ایک دو دن تک خود رابعہ کو لے جاؤ گی۔۔۔۔۔!!“

سلمی بیگم نے انوار کی بات سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ انوار نے اسے ایک گھوری سے نوازہ تھا۔ جس سے وہ نظریں جھکا گئی تھی۔

” کیوں۔۔۔۔۔؟؟ اگر وہ لے کے جائے گا تو کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔؟ اور رہی بات کام کی تو وہ سلمان دیکھ لے گا۔۔۔۔۔۔!! تم فکر مت کرو۔۔۔۔ رابعہ اس کی ہونی والی بیوی ہے۔۔۔ تمھاری نہیں۔۔۔۔۔ اگر جانا ہو تو خود ایک دو دن تک چلی جانا۔۔۔۔۔ تم جاؤ شازین۔۔۔۔۔!!“

انوار نے سلمی کو گھوریوں سے نوازتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ آخر میں شازین کا جانے کا کہا اور وہ سر ہاں میں ہلا گیا تھا۔ اور رابعہ کے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔

”چلو۔۔۔۔۔!!!“

شازین نے رابعہ کے کمرے کے دروازے کو کھٹکٹا کر اسے اپنی طرف متوجہ کرک کہا تھا۔ جبکہ اس کے چہرے پر سوالیہ تاثرات عیاں ہوئے تھے۔۔

”کہاں۔۔۔۔۔!!“

اس نے کہا تو شازین نے نظریں گھمائی تھی۔

”شاپنگ پر۔۔۔۔۔۔۔!!“

اس نے کہا تو رابعہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا کہ اسے اب شاپنگ کا کیا پڑ گیا تھا۔

”کیوں۔۔۔۔۔۔؟؟“

رابعہ نے فوراً اس کی بات کا جواب دیا تھا۔ جبکہ اس کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔

”رابعہ۔۔۔۔ شادی ہونے والی ہے۔۔۔۔ اس کی شاپنگ۔۔۔۔۔!!“

رابعہ کو تو جیسے یاد ہی نہ ہو کہ اس کی شادی ہے۔۔۔۔ لیکن پھر اس کی بات اس نے منھ بسورا۔۔۔۔۔

”آپ کے ساتھ۔۔۔۔۔۔!!!!“

رابعہ اس کے ساتھ بالکل بھی نہیں جانا چاہتی تھی۔ جب ہی بار بار سوال کررہی تھی۔ جبکہ اب شازین کو غصہ چڑھا۔

”چپ کر کے چلو۔۔۔۔۔۔!! خبردار جو ایک بھی سوال کیا ورنہ مجھ سے کوئی برا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔!!! “

رابعہ کا بازو پکڑ کر اسے کمرے سے باہر لاتا گاڑی میں بیٹھاتے ہوئے بولا تھا۔ جبکہ وہ تو اس کے تیور دیکھ کر رہی رہ گئی تھی۔ اگلے ہی لمحے اس نے گاڑی چلائی تھی۔

ارباز کچھ کام کی وجہ سے مال آیا تھا۔ سلمی بیگم بھی اسی مال میں شاپنگ کے لیے آئی تھی۔ جبکہ رابعہ اور شازین کسی اور مال میں گئے تھے شاپنگ کے لیے۔

وہ گزر ہی رہا تھا۔ جب سلمی بیگم سے ٹکڑا گیا۔۔

”اسلام علیکم۔۔ مامی کیسی ہیں آپ۔۔۔۔۔!!!“

ارباز نے جیسے ہی سلمی بیگم کو دیکھا تو فوراً سلام کیا۔ جبکہ انھوں نے مسکرا کر جواب دیا۔

”وعلیکم اسلام۔۔۔۔۔۔!!!!! کیسے اور آج یہاں۔۔۔۔۔!!“

سلمی بیگم نے اس کا جواب دیتے ہوئے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔۔

” میں بالکل ٹھیک ہوں اور آپ سنائے کہ آپ کیسی ہیں۔۔۔۔۔؟؟ “

اس نے بھی ان سے سوال کیا تھا۔

“میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔!!! اور بتاؤ امی کہاں ہیں۔۔۔۔۔؟“

سلمی نے شائستہ کے متعلق دریافت کیا تھا۔۔

”وہ کسی کام سے آفس گئی ہوئی ہیں۔۔۔۔!“

ارباز نے کہا تو انھوں نے اسے آئیبرہ آچکا کر دیکھا تھا۔

”تو کیا عائشہ گھر پر اکیلی ہے۔۔۔۔۔ “

انھوں نے کہا تو ارباز حیران ہوا کہ انھوں نے یہ سوال کیوں کیا۔۔ جبکہ سر اثبات میں ہلا گیا تھا۔۔۔

”بیٹا جی۔۔۔۔۔!! دھیان سے کہیں آپ کی عزت پربھی مٹی نہ مل دے۔۔۔۔۔!!!“

سلمی بیگم ایک مرتبہ پھر سے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کر رہی تھی۔

”کیا مطلب ہے آپ اس بات کا۔۔۔۔۔!!“

”مطلب یہ کہ کہیں گھر میں اکیلے ہونے کا فایدہ نہ اٹھا لے۔۔ اور اگر کسی لڑکی کو بلا لیا تو۔۔۔۔۔!!!“

”اس کی فکر آپ مت کریں۔۔ وہ اب میری زمہ داری ہے۔ میری بیوی ہے۔۔۔۔!!!“

سلمی بیگم بول ہی رہی تھی۔ جب ارباز انھیں یہ کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا۔ جبکہ سلمی بیگم نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *