Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt NovelR50481 Sitam E Ishq (Episode - 13)
Rate this Novel
Sitam E Ishq (Episode - 13)
Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt
وقت گزرتا جا رہا تھا۔ رابعہ اور شازین کی شادی کافی قریب آ چکی تھی۔ رابعہ نے خود کو اس شادی کے لیے مکمل طور پر تیار کر چکی تھی۔ یعنی اس کی رضا مندی شامل تھی اس شادی میں۔ جبکہ شازین تو پہلے ہی خود کو اس شادی کے لیے تیار کرچکا تھا۔ کیونکہ اسے انوار نے کافی پہلے ہی بتا دیا تھا۔ جبکہ اسے خاموش رہنے کی بھی تاکید کی تھی۔ آج تیئس جنوری کی تاریخ تھی۔ رابعہ اور شازین کی مہندی کی رات تھی۔ سب تیاریاں مکمل ہو گئی تھی۔ جبکہ ان کی شادی میں عائشہ اور ارباز کے گھر میں سے کوئی بھی شرکت نہیں کررہا تھا۔ جبکہ ارباز اور عائشہ کے درمیان بھی کافی انڈرسٹینڈنگ ہوگئی تھی۔ رات ڈھل گئی تھی۔ مہمانوں کا آنا شروع ہوچکا تھا۔ گھر کے گاڑڈن میں ہی مہندی کی رسومات ادا کی گئی تھی۔ اس دن جس لڑکی ایکسیڈینٹ ہوا تھا سلمان کی گاڑی سے۔ وہ بچ گئی تھی اور مکمل طور پر صحت یاب بھی ہوگئی تھی۔ سلمان کو اپنی غلطی پر شدید ندامت تھی۔ اور اسی وجہ سے اس نے ان کے گھر والوں کی کافی مدد بھی کی تھی۔ جبکہ اب وہ صحت یاب ہوگئی تھی۔ مہندی کے لیے رابعہ کو تیار کرنے کے لیے پارلر سے ہی اسٹاف آیا تھا۔ رابعہ کی کچھ سہلیاں بھی آئی تھی۔ جن کو شازین بہت اچھے سے جانتا تھا۔ وہ سب اس کے کالج کی فرینڈز تھی۔ کافی بھیڑ مچ گئی تھی۔ اس کی ایک دوست شیزا تھی۔ جو اس کے بچپن کی دوست تھی۔ وہ کسی کام کی وجہ سے رابعہ کے روم سے باہر آئی تھی۔ جبکہ واپسی پر اسے اپنی راہ پر ایک لڑکا ملا جو بدنیتی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ انوار کے کسی خاص دوست کا بیٹا تھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں تھا۔ کہ وہ کسی سے بد تمیزی کرے۔ شیزا نے اسے اپنی راہ پر پاتے ہی دوسرے راستے سے گزرنے لگی۔ لیکن وہ اس کی راہ میں حائل ہوا تھا۔ ”کہاں چلی ہوں حسینہ جانم۔۔۔۔۔!!“ اس نے کہا تو شیزا نے اسے گھورا تھا۔ ”ہٹو میرے راستے سے۔۔۔۔!!“ شیزا غصے کی نگاہ سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ وہاں پر کئی لوگ موجود تھے۔ لیکن سب جیسے خود میں ہی مگن تھے۔ ان پر کسی کا بھی دھیان نہ تھا۔ اس کی بات سنتے ہوئے اس لڑکی نے شیزا کا ڈوپٹہ کھینچنے کی کوشش کی تھی۔ جبکہ شیزا نے اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر تھپڑ مارا تھا۔ جبکہ وہ لڑکا اپنے چہرے پر اس کے ہاتھ کی پڑی چھاپ کو محسوس کرتے ہوئے وہ غصے کی نگاہ سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ”تیری اتنی ہمت لڑکی کہ رونے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔۔!!“ اس نے غصے کی نگاہ سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ تھپڑ کی پھنکار سن کر سب لوگ پہلے ہی ان کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ جبکہ اس لڑکے نے شیزا کو تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ ہوا میں لہرایا تھا۔جب ہی شازین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر نیچے کی طرف جھٹک دیا تھا۔ جبکہ اس لڑکے نے جیسے ہی شازین کو دیکھا تو وہ ڈر سا گیا تھا۔ جبکہ شازین اس کی ساری حرکتیں دیکھ چکا تھا۔ ”ب۔۔ بھائی اس نے م۔ میرے ساتھ بد تمیزی کی ہے۔۔۔۔!!“ شیزا نے شازین کو دیکھتے ہی کہا تو شازین نے ایک زوردار مکا اس کے منھ پر مارا تھا۔ جبکہ انوار سلمی اور اس کا باپ سب وہاں پہنچ گئے تھے۔ ”شازین یہ کیا حرکت ہے۔۔۔۔؟“ انوار غصے سے چلایا تھا۔ ”بابا۔۔۔۔۔!! آپ جانتے ہیں کہ اس نے حرکت کیا کی ہے۔۔۔۔؟ اس نے شیزا کے ساتھ بد تمیزی کی اس کا ڈوپٹہ۔کھینچنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔۔!!“ شازین نے کہا تو انوار نے اس لڑکے کی طرف گھور کر دیکھا۔۔۔ ”نا لائق۔۔۔ بے شرم بے حیا۔۔۔۔ تجھے شرم نہ آئی میری عزت کو رولتے ہوئے۔ آج تو نے میرا سر شرم سے جھکا دیا۔۔۔ کاش کہ میری کوئی بیٹی ہوتی۔۔۔۔!!!“ وہ غصے سے کہی جارہے تھے۔ جبکہ وہ سر جھکائے ہوئے کھڑا تھا۔ ”بابا۔۔۔۔!! میں نے تو صرف مزاق کیا تھا۔ “ آنکھیں جھکائے سر کو اوپر اٹھائے ہوئے اس نے کہا تھا۔ جبکہ سلمان وہاں پہنچا تھا اور وہ یہ سارا معاملہ جان گیا تھا۔ اس نے شیزا رابعہ کے پاس جانے کا کہا۔۔ ”مزاق۔۔۔۔۔!! شرم ہے تجھے کہ۔نہیں۔۔۔۔ لڑکیاں کوئی مزاق کرنے کی چیز ہوتی ہیں۔۔۔۔“ سلمان تو جیسے اس پر برس پڑا گھا۔ جب کہ اس کے باپ کا سر شرم سے جھک گیا تھا۔ ”میں معافی چاہتا ہوں آپ سب سے۔۔۔۔۔!!!“ اس کے باپ نے ہاتھ جوڑ کر سب سے معافی مانگی تھی۔ جبکہ انوار نے اس کے ہاتھوں کو نیچے جھکایا تھا۔ اور وہ دونوں وہاں سے چلے گئے تھے۔ شیزا۔۔۔۔!! رابعہ کی دوست اور سلمان کی خالہ کی بیٹی۔۔۔۔۔!! جن کا نکاح بچپن میں ہی کروا دیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے تو رابعہ کی شادی سلمان سے نا ہوئی کیونکہ وہ شادی شدہ تھا اور وہ شیزا سے بہت محبت کرتا تھا۔ لیکن چونکہ شیزا دوسرے شہر ہوتی ہے اسی وجہ سے اس سے ملاقات نہیں ہو پاتی۔۔۔۔۔!!! کچھ وقت گزرنے کے بعد مہندی کی رسومات کو شروع کرایا گیا تھا۔ رابعہ نے پہلے رنگ کا لہنگا اور سبز رنگ کی کرتی کے ساتھ میک اپ کیا تھا۔ جبکہ شازین بھی کافی ہینڈسم لگ رہا تھا۔ رابعہ کی آنکھوں کو دیکھ کر اسے صاف طور پر پتہ لگ رہا تھا کہ وہ کافی روئی ہے۔ جس کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کی بہن کی یاد تھی۔ جو اسے آج اس موقع پر بہت آرہی تھی۔ لیکن وہ کیا کرتی کس سے کہتی نا تو کسی نے اس کی بات سننی تھی اور نہ ہی ماننی۔۔۔۔!! وہ اسٹیج پر چڑھتے ہوئے شازین کے ساتھ جا کر بیٹھ گئی تھی۔ جبکہ کچھ ہی لمحات بعد مہندی کی رسم شروع کی گئی تھی۔ سب سے پہلے انوار اور سلمی بیگم نے رسم کی اس کے بعد سلمان اور شیزا نے رسم ادا کی تھی۔ اور پھر باقی سب نے۔۔۔۔!! ہوں ہی رات گزرتی گئی اور سب لطف اندوز ہوتے رہے۔ جبکہ صبح کا سورج ان کے لیے ایک بہت ہی بڑا سچ لے کر اگنے والا تھا۔
مہندی کا فنکشن رات لیٹ تک جاری رہا تھا۔ جس کی وجہ سے سب مہمان دیر سے گئے تھے۔ جبکہ صبح دس بجے سحر شازین سے ملنے کے لیے اس کے گھر آئی تھی۔ وہ پہلے بھی آتی تھی اس گھر میں لیکن اس سے پہلے ہمیشہ وہ عائشہ سے ملنے کے لیے آتی تھی۔ ایک نوکر نے جا کر شازین کو اطلاع دی تھی۔ جبکہ شازین اس کے پاس آیا تھا۔ وہ اسے اپنی بہن مانتا تھا۔ جبکہ سحر اسے دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔ ”اسلام علیکم بھائی۔۔۔۔!! کیسے ہیں آپ۔۔۔۔!!“ اس کو آتا دیکھ کر سحر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ شازین مسکرایا تھا۔ ”وعلیکم اسلام۔۔۔!! سحر بچے کیسی ہو آپ۔۔۔۔۔؟“ شازین نے مسکرا کر اس سے سوال کیا تھا۔ ”میں بالکل ٹھیک ہوں بھائی۔۔“ یہ کہہ کر سحر خاموش ہوگئی تھی۔ ”سحر بچے خیریت آج آپ یہاں۔۔۔۔۔!!!“ شازین نے اس سے سوال کیا تھا۔ ”جی بھائی۔۔۔۔!! میں آج آپ سے بہت اہم بات کرنے آئی ہوں عائشہ کے متعلق۔۔۔۔۔!!“ سحر نے کہا۔ ”عائشہ کے متعلق۔۔۔۔!!“ شازین نے اس کے الفاظ دہرائے تھے۔ ”جی بھائی۔۔۔!! میں یہ بات آپ سے بہت پہلے کر لینا چاہتی تھی لیکن مجھے وقت ہی نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔ “ سحر نے اسے پہلے نا آنے کی وجوہات بتائی۔ ”سحر بچے آپ بتاؤ کہ بات کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟ “ شازین نے اس سے کہا تھا۔ ”بھائی۔۔۔۔ اس دن یونی میں جو بھی ہوا اس سب میں عائشہ کا کوئی قصور نہیں تھا۔ “ سحر کی یہ بات اس پر بجلی کی طرح گری تھی۔ ”کیا۔۔۔۔؟ کیا مطلب ہے اس بات کا سحر۔۔۔۔!!“ شازین نے اس سے سوال کیا۔ ” جی بھائی۔۔۔۔!! سلمان بھائی جب اس دن عائشہ کو یونی نے لینے کے لیے آئے اور انھوں نے جو بھی کچھ دیکھا وہ سب کچھ جھوٹ تھا۔ بھائی عائشہ کا علی سے کوئی سے تعلق نہیں تھا۔ اور ہی کسی اور لڑکے سے بلکہ اس نے تو کبھی کسی لڑکے سے بات تک نہ کی تھی۔ وہ پاک دامن تھی بھائی۔ اس کا کردار بالکل پاکیزہ تھا۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ علی اسے پسند کرتا تھا لیکن یہ نہیں تھا کہ اس نے کوئی حد پار کی تھی۔ بھائی عائشہ کو کوئی قصور نہ تھا۔۔۔۔۔!!“ وہ کہتی جا رہی جا رہی کہتی جا رہی تھی۔ جبکہ یہ باتیں شازین پر بجلی کی طرح گرتی جا رہی تھی۔ ”اور بھائی ایک اور بات۔۔۔۔ یہ بات میں سلمی آنٹی کو اسی رات بتا دی تھی۔ لیکن جب ہی مجھے لگا کہ آپ کو معلوم میں یہاں چلی آئی۔۔۔۔!!“ سحر کی باتیں نہ صرف شازین پر بجلی کی طرح گر رہی تھی۔ بلکہ پیچھے کھڑے ارباز پر بھی کسی بجلی سے کم نہ تھی۔ وہ سب کچھ سن چکا تھا۔ وہ یہاں پر سلمی بیگم سے ملنے آیا تھا۔ ان سے پوچھنے کے لیے آیا تھا کہ وہ عائشہ کے متعلق اس سے ایسی باتیں کیوں کرتی ہیں۔۔ کیوں وہ اسے اس سے بدگماں کرتی ہیں۔ آخر کیا ہے عائشہ کا ماضی۔۔۔!! لیکن یہاں آتے ہی اس پر سارے راز کھل گئے تھے۔۔۔۔!! سب کچھ عیاں ہوگیا تھا۔ جو اس پر ظاہر ہونا چاہئیے تھا۔ جبکہ وہ مزید وہاں نہیں رک سکتا تھا۔ وہ چپ چاپ وہاں سے چلا گیا تھا۔ ناجانے کیا کیا نہیں کیا تھا اس نے عائشہ کے ساتھ۔۔۔ اس نے پڑھنے کا کہا تو پڑھنے سے روکا۔ اس نے میک اپ کیا تو اس۔ سے اتنا برا رویہ اختیار کیا۔۔۔ انجانے میں وہ بہت بڑا ظلم کر بیٹھا تھا اس کے ساتھ۔۔۔۔۔!! اسے کافی گلٹی محسوس ہوئی تھی۔
