Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 15)

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

 آج شازین اور رابعہ کا نکاح تھا۔ رابعہ کی رخصتی بھی آج ہی کے دن تھی۔ لیکن اس نے رخصت ہو کر جانا تھا بھی تو کہاں ایک کمرے سے دوسرے کمرے۔ سلمان پر شیزا کی باتوں پر کافی گہرا اثر ہوا تھا۔ اس نے اس بارے میں پوری رات سوچا تھا اور اسے معلوم ہوا کہ اس کی وجہ سے عائشہ پر کتنا بڑا ظلم ہوگیا تھا۔ اس کی زندگی کو برباد کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ اس کا ہی تھا۔ لیکن یہ دنیا تو مکافات عمل ہے۔ اگر کل اس کی بیٹی کے ساتھ کچھ ایسا ہوتا ہے تو کیا وہ اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کرے گا کیا ؟ کافی سوچنے پر اسے یقین ہوگیا کہ سلمی ہی تھی وہ جو اسے عائشہ کے خلاف بھڑکاتی رہی تھی۔ اس کی ہی بدولت وہ اس پر یقین کرنا چھوڑ گیا تھا۔ ورنہ اگر سلمی نے اسے بھڑکایا نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی یوں اس کے ساتھ نہ کرتا۔ بلکہ اس پر یقین کرتا۔ پر سلمی بیگم نے اسے اس کے خلاف اتنا برا بھلا کہا کہ وہ سمجھنے لگا کہ عائشہ بد کردار ہے۔ جبکہ ایسا بالکل بھی نا تھا۔ وہ تو پاکیزہ تھی۔ بالکل پاکیزہ تھی۔ بارات کے لیے میرج ہال بک کروایا گیا تھا۔ بارات پہنچ گئی تھی۔ رابعہ دلہن کے جوڑے میں ملبوس تھی۔ اسے برائیڈل روم میں بیٹھایا گیا تھا۔ جبکہ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد مولوی صاحب نے نکاح شروع کروایا تھا۔ پہلے شازین سے اور پھر رابعہ سے سوال کیا گیا تھا۔ اور ان دونوں نے ایک دوسرے کو اپنی زندگی کا ہمسفر چن لیا تھا۔ وہ دونوں ایک ہوگئے تھے۔ سائن کروانے کے بعد دعا پڑھائی گئی تھی۔ اور پھر کچھ دیر بعد رخصتی کا وقت آیا تھا۔ اس موقع پر وہ کیا کرتی روتی ؟ کس کے گلے لگ کر ؟ اس کی بہن جس کو ان سب نے اس کی زندگی سے دور کردیا تھا۔ لیکن وہ کیا جانتی تھی کہ اس کی بہن کو یہ تک معلوم نہ تھا۔ کہ اس کی شادی ہورہی تھی۔ وہ تو اس بات سے بے خبر تھی۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے گاڑی کو گھر کی راہ پر ڈال دیا گیا تھا۔

رات کافی ہوچکی تھی۔ رابعہ اس وقت روم میں بیٹھی ہوئی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ جس کے نام وہ کر دی گئی تھی۔ کیا وہ اس سے محبت کرتا تھا ؟ یا گھر والوں کے دباؤ میں آکر اس سے شادی کی تھی۔ کیا تھی اصل حقیقت۔۔۔!! یہ تو صرف ایک ہی بتا سکتا تھا اور وہ تھا ”شازین“ وہ سوچوں میں ہی گم تھی۔ جب ہی وہ کمرے میں داخل ہوا تھا۔رابعہ نے فوراً نظریں جھکا لی تھی۔ لیکن وہ دروازے کو لاک کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ لیکن جیسے جیسے شازین اس کی طرف بڑھ رہا تھا ویسے ہی اس کی ہارٹ بیٹ بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ آخر کار وہ اس کے سامنے آکر بیٹھا تھا۔ رابعہ گھونگھٹ کر کے بیٹھی ہوئی تھی۔ جبکہ وہ مسکرایا تھا۔ اور اس کا گھونگھٹ اٹھانے ہی لگا تھا۔ جب رابعہ اس کا ہاتھ پکڑ اس کا ہاتھ روک دیا تھا۔ جبکہ شازین کے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات چھا گئے تھے۔ ” ویسے تو آپ کو فزکس کے نومیریکلز کو سولو کرنے سارے سٹیپس اور رولز کا پتہ ہے لیکن یہ نہیں پتا کہ نئی نویلی دلہن کو اٹھانے کے رولز کیا ہیں “ رابعہ دانت کچکا کر کہا تھا۔ جبکہ اس کا ہاتھ پکڑ وہ کیسے بول رہی تھی۔ وہ ہی جانتی تھی کیونکہ آج تک اس نے شازین کو کبھی چھوا بھی نہیں تھا۔ ” کیا۔۔۔؟ “ شازین نے حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ ” نئی نویلی دلہن کا گھونگھٹ اٹھانے سے پہلے اسے منھ دکھائی دینی پڑتی ہے۔۔۔۔!!“ رابعہ اس کا ہاتھ چھوڑ چکی تھی۔ لیکن شرارت سے کہا تھا۔ ” منھ دکھائی۔۔۔۔!! سو سوری وہ تو میں نے لی ہی نہیں مجھے یاد نہیں رہا۔۔۔۔“ شازین نے شرارت سے کہا تھا۔ جبکہ رابعہ کو غصہ چڑھا تھا۔ ”ہاں تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ پھر میں گھونگھٹ بھی نہیں اٹھاؤ گی۔۔۔۔!!“ رخ دوسری طرف کرتے ہوئے اس نے منھ بنا کر کہا تھا جبکہ وہ مسکرایا تھا۔۔” ہاں تو نہ اٹھاؤ میں کونسا مرا جا رہا ہوں اس چہرے کو دیکھنے کے لیے جس کو لاکھ سے بھی زائد بار دیکھا ہے۔۔۔۔!!“ شازین کا لہجہ اسے تنگ کرنے والا تھا۔ جبکہ رابعہ رخ موڑ کر بیٹھی رہی تھی۔ اور نہ ہی اسے بلایا۔ شازین نے اسے دو سے تین مرتبہ بلانے کی کوشش کی تھی لیکن جواب ندارد۔۔۔۔۔!! پھر کچھ لمحات بعد اس نے جیب سے ایک خوبصورت سی رنگ نکالی تھی اور رابعہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے پہنا دی تھی۔ جبکہ اپنے ہاتھ پر اس کے ہاتھ کا لمس محسوس کرتے ہوئے اس کا دل زور سے دھڑکا اٹھا تھا۔ پھر اس کی نظر انگھوٹی پر گئی تھی۔ جو کافی خوبصورت تھی۔ اور چمک بھی رہی تھی۔ اسے دیکھ کر وہ مسکرائی تھی۔ ” سو بیوٹیفل۔۔۔!!“ مسکرا کر اس نے کہا تھا۔ ” کیا اب مجھے میری بیوی کا چہرہ دیکھنے کی اجازت نہیں ملے گی۔۔۔۔!!!“ شازین نے معصوم منھ بناتے ہوئے کہا تھا۔ ” نہیں آپ کو ایسے چہرے کی کیا ضرورت جو آپ نے ایک لاکھ مرتبہ سے بھی عائد دفعہ دیکھا ہو۔۔۔۔!!“ رابعہ نے دانٹ کچکچا کر کہا تھا۔ ” کیوں نہیں ؟ اب دیکھو یہ جو تم اتنا تیار ہوئی ہو اور اتنا منھ پر میک اپ تھوپا ہے۔ اگر میں ہی نہیں دیکھو گا تو کیا فائدہ۔۔۔۔؟؟“ شازین نے اس کا گھونگھٹ اٹھاتے ہوئے ایک مرتبہ پھر سے شرارت سے کہا تھا۔ جبکہ وہ اسے گھور کر رہ گئی تھی۔ ” اتنا میک تھوپ کر اچھی لگ رہی ہو “ ہنسی کا با مشکل دبائے ہوئے اس نے کہا تھا۔ ” جی نہیں بس تھوڑا سا میک اپ کیا ہے میں نے۔۔۔ “ اس نے غصے سے کہا تھا۔ ” مجھے پتہ ہے اچھی لگ رہی ہو۔۔۔۔!!“ لہجے میں تھوڑی سی سنجیدگی لاتے ہوئے اس نے کہا تھا۔ ” آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔۔۔۔۔!!“ رابعہ کا سوال اس کے چہرے کے سارے تاثرات اڑا گیا تھا۔ جبکہ وہ اس کے جواب کی منتظر تھی۔ ” نہیں۔۔۔۔!! “ لہجہ کافی سرد تھا۔ ” ت۔۔ تو مجھ س۔ے ش۔ ا۔۔دی کی۔ وں کی ؟“ دوبدو سوال کیا گیا تھا۔ ” بابا کے کہنے پر۔۔۔۔!! “ دوبدو جواب دیا گیا تھا۔ جبکہ رابعہ کی آنکھ سے ایک آنسو بہہ گیا تھا یہ بات سن کر۔۔۔۔ جبکہ شازین نے ایک زوردار قہقہہ لگایا تھا۔ رابعہ نے اسے ہنستا ہوا دیکھ کر رابعہ نے اسے ایک گھوری سے نوازہ تھا۔ ” پاغل اگر مجھے تم سے محبت نہ ہوتی تو کیا تم سے کبھی شادی کرتا ؟ “ شازین کے سوال پر وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ اس سے مزاق کررہا تھا۔ جبکہ اس کی آنکھوں سے آنسو زاروقطار سے بہنے لگے تھے۔ ” اچھا۔۔۔۔ نا اب چپ کرجاؤ میں تو مزاق کررہا تھا۔۔۔۔۔“ شازین نے اسے اپنے سینے میں بھینج لیا تھا۔ اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ وہ اس کے سینے پر کافی مکے برسا چکی تھی۔ جبکہ وہ صرف مسکرا رہا تھا۔ ”اچھا چلو میں تمھیں ایک بات بتاتا ہوں۔۔۔ مجھے یہ آج سے دو سال پہلے ہی معلوم ہوگیا تھا کہ تم میرے لیے بنی ہوں میری ہو۔۔۔۔!! مجھے بابا نے اس رشتے سے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا۔ جب تم انیس کی اور میں پچیس کا تھا۔ شروع میں تو مجھے اس بات سے اختلاف تھا لیکن پھر تم میرے دل میں گھر کر گئی۔۔۔ لیکن یہ بات میں نے آج تک تم سے نہیں کی کیونکہ میں اس دن کا انتظار تھا۔ جب تم میری دسترس میں آجاؤ گی۔ جو آج تم میرے پاس میرے قریب آگئی ہو۔۔۔۔!!“ شازین کہی جارہا تھا۔ جبکہ وہ خاموشی سے اس کی باتیں سنتی جارہی تھی۔۔ کچھ لمحات بعد اس کو تھوڑا سا اوپر کرتے ہوئے وہ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھنے ہی لگا تھا کہ اس نے اسے روکا اور بیڈ اتری۔۔۔ ”مجھے چینج کرنا ہے۔۔۔۔!!“ یہ کہتے ہوئے واش روم میں بھاگ گئی تھی۔ جبکہ شازین کھل کر اس کی اس حرکت پر مسکرا گیا تھا۔

صبح کا سورج عائشہ کے لیے خوشیاں لے کے نکلا تھا۔ وہ صبح اٹھی تھی۔۔ اور جا کر ناشتہ بنایا۔۔ ارباز بھی اس وقت تک تیار ہوگیا تھا۔ اور ناشتے کے لیے نیچے آیا۔ ناشتہ کرکے عائشہ کمرے میں آگئی تھی۔ جبکہ ارباز بھی اس کے پیچھے گیا تھا۔ کمرے میں پہنچا تو وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ” ارے تم تیار نہیں ہوئی۔۔۔۔!!“ ارباز نے کمرے میں آتے ہوئے پوچھا تھا۔۔ ”تیار کیوں۔۔۔۔؟؟ “ عائشہ نے ارباز سے سوال کیا تھا۔ ” میں نے کہا تھا نہ کہ ایڈمیشن کروانے جانا ہے آج۔۔۔۔؟؟؟“ ارباز نے کہا تو عائشہ نے اسے خاصا گھورا۔ ” اور آپ نے کب کہا تھا کہ آج ہی ہم نے جانا ہے ؟ “ عائشہ نے اس سے سوال کیا تھا۔ ” ابھی“ مسکرا کر اس کی بات کا جواب دیا گیا تھا۔ ” پر آج کیسے۔۔۔۔؟؟“ عائشہ نے اس سے سوال کیا تھا۔ ” کیسے کیا مطلب اٹھو تیار ہو۔۔۔ پہلے ہم ایڈمیشن کے لیے جائیں گے اس کے بعد شاپنگ پر اس کے بعد گھومے گے اور پھر رات کا کھانا کھا کر واپس آئیں گے۔۔۔۔!!“ ارباز نے مسکرا کر اس کی بات کا جواب دیا تو عائشہ بیڈ سے اٹھی۔ ” پر اگر پورا دن آپ میرے ساتھ رہیں گے تو آفس کب جائیں گے۔۔۔۔؟“ عائشہ نے کہا تھا۔ ” آج میں آفس نہیں جاؤں گا۔۔۔ اور اگر ایک دن آفس نہیں بھی جاؤں گا تو کوئی لاس نہیں ہوگا تم جاؤ جا کر تیار ہو۔۔۔!!“ عائشہ کی بات کا جواب دے کر اسے حکم دینے والے انداز میں کہا تھا۔ جبکہ وہ تیار ہونے کے لیے ڈریسنگ میں گھس گئی اور جب نکلی تو ارباز کی نظریں اس سے ہی نہ سکی۔ وہ لائٹ پنک کلر کی فراک گھٹنوں سے نیچے آتی ہوئی وائٹ کلر کی ٹائٹس اور پنک کلر کے دوپٹے میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ ارباز کی نظریں اس سے ہٹ ہی نہ رہی تھی۔ اس نے دوستی سے شروعات کی تھی۔ لیکن اس کے دل میں تو عائشہ کے متعلق بہت کچھ تھا۔ جس کا اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *