Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 17)

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

 یکم فروری کا دن تھا۔ عائشہ کی سالگرہ تھی۔ ارباز کو یاد تھی۔ جب کسی سے محبت کی جائے۔ کسی سے پیار ہو تو اس کی ہر چیز کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ارباز کو سب کچھ یاد تھا کہ اس کی سالگرہ ہے۔ اس نے اس کی لیے ایک سرپرائز بھی پلین کیا تھا۔ رات کے بارہ بجنے والے تھے۔ ارباز بہت آکسائیڈڈ تھا عائشہ کا رایکشن دیکھنے کے لیے. وہ بیڈ کی دوسری سائیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ ” عائشہ میں آج تمھیں سب کچھ سچ بتا دو گا کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں۔۔۔۔ اتنے سے دنوں میں تم میرے لیے بہت اہم بن گئی ہوں۔۔۔ “ دوسری سائیڈ پر لیٹے ہوئے اس نے دل میں ہی سوچا تھا اور پرجوش نظروں سے عائشہ کو دیکھا تھا۔ ”عائشہ عائشہ۔۔۔۔۔۔!! اٹھو “ اس نے ہلکی ہلکی آواز میں اٹھایا تھا۔ جس پر وہ فوراً اٹھ گئی تھی۔ ” جی ارباز کیا ہوا۔۔۔۔۔؟؟“ عائشہ نے آنکھیں ملتے ہوئے اس نے بھی آہستگی سے کہا تھا۔ ” مجھے لگتا ہے کہ لان میں کوئی ہے۔۔۔۔؟؟ “ اس نے آہستگی سے ایک اور سرگوشی کی تھی۔ جب ہی عائشہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔ ”کیا۔۔۔؟ کوں ہے۔۔۔۔!!“ عائشہ نے اٹھ کے بیٹھ کر ایک مرتبہ پھر سے آہستگی سے سوال کیا تھا۔ ” مجھے لگتا ہے کہ کوئی چور ہے۔۔۔۔! “ ارباض نے کہا تو عائشہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی۔ ” کیا چور۔۔۔۔!! “ عائشہ کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات صاف دکھائی دے رہے تھے۔ ارباز نے اپنی ہنسی کو با مشکل ہی روکا تھا۔ ” ایک کام کرتے ہیں چل کر دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔!!!“ ارباز نے اسے ساتھ چلنے کا کہا۔ ” کیا۔۔۔۔۔؟“ یہ سنتے ہی اس کے ہوش اڑ گئے تھے۔ وہ تو کمرے سے نہیں نکلتی رات کو اور اس کے ساتھ چور کو جائے۔۔۔۔ توبہ توبہ وہ نرمی سے بھی چلائی ہی تھی۔ ” میں نہیں جاؤنگی مجھے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔!!“ اس نے کہا تو ارباز نے ایک دفعہ کھلکھلا کر قہقہ لگایا تھا۔ ”ویسے تو تم شیرنی بنتی ہوں اب کیوں ڈر رہی ہو۔۔۔۔۔!!“ اس نے کہا تو عائشہ نے اسے گھورا تھا۔ ” جی نہیں۔۔۔۔!! میں نہیں ڈرتی ہوں۔۔۔۔۔ اگر تمھیں نہیں یقین تو چلو میرے ساتھ۔۔۔۔!!“ عائشہ نے بیڈ سے اترتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ وہ مسکرایا تھا۔ کیونکہ وہ ایسے تو باہر جاتی نہ بس ایسے ہی جانا تھا۔ تو وہ چل دی۔۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے اٹھا اور اس کے پیچھے بڑھ گیا تھا۔

وہ دونوں لان میں پہنچے تھے۔ سارا لان اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔عائشہ نے لان میں دو سے تین مرتبہ نظر دوڑائی۔ لیکن اسے کہیں بھی کوئی بھی نظر نا آیا۔ ”ارباز یہاں پر تو کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔۔!!“ عائشہ نے سارے لان کو دیکھ کر کہا تھا۔ جب ہی اس کی نظروں نے ایک عجیب سا منظر دیکھا تھا۔ ارباز نے لان کی لائیٹس آن کردی تھی۔ سارا لان لائیٹس کی زد میں تھا۔ جگہ جگہ ہیپی بڑھتڈے کے غبارے پڑے ہوئے تھے۔ سامنے ہی ایک بڑا سا پوسٹر لگا ہوا تھا۔ ”ہیپی پڑھتڈے ڈئیر وائف۔۔۔۔“ یہ دیکھ کر وہ مسکرا گئی تھی۔ وہ تو بھول ہی گئی تھی کہ آج اس کی سالگرہ ہے۔۔ لیکن ارباز کو یاد تھا۔ وہ خوش تھی اور شاکڈ بھی کیونکہ وہ یہ بالکل بھی ایکسیپٹ نہیں کر پا رہی تھی۔ ارباز پر جوش نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اور اس کی طرف بڑھا تھا۔ ” کیسا لگا میرا سرپرائز۔۔۔۔۔!!“ اس کے پاس آکر اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے مسکرا کر ارباز نے اس سے سوال کیا تھا۔ ” بہت اچھا۔۔۔۔۔۔“ عائشہ تو جسے چہک اٹھی تھی۔ ارباز مسکرایا تھا۔ ” مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔!!“ ارباز نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ جس پر وہ اس کی طرف مڑی تھی۔ ” جی کہیں۔۔۔۔!!” عائشہ نے مسکرا کر اس کی بات کا جواب دیا تھا۔ جب ہی وہ جیب سے ایک چھوٹی سا باکس نکالتے ہوئے گھٹنوں پر بیٹھ گیا جبکہ عائشہ نے اسے حیرانگی سے دیکھا تھا کہ یہ کر کیا رہا ہے؟ ” آئی لو یو۔۔۔۔!!“ اس کی یہ بات سنتے ہی عائشہ کے چہرے کے سارے رنگ ہوا میں ہی اڑ گئے تھے۔ ” آئی لو یو۔۔۔۔!! مجھے نہیں پتہ یہ کب کیسے کیوں ہوا؟ لیکن یہ حقیقت ہے کہ میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا ہوں۔۔۔۔!!!“ ارباز نے مسکرا کر کہا تھا اور اگلے ہی لمحے اس نے عائشہ کا ہاتھ تھامنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔ عائشہ نے اپنا کپکپاتا ہوئے ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا تھا۔ جسے تھام کر ارباز نے ایک خوبصورت سی رنگ اس کی انگلی میں پہنائی تھی۔ عائشہ سمجھ ہی نہیں ہا رہی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔۔ ؟ اب ارباض کھڑا ہوا تھا۔ اور اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما تھا۔ ” میں تم سے بہت پیار کرنے لگا ہوں اور تمھارے بغیر جینے کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا ہوں۔۔۔۔۔!!! میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو میری بن کر۔۔۔۔!! “ اس کے ہاتھوں کو تھامے ہوئے وہ بولے جا رہا تھا۔ عائشہ دل زور سے دھڑکا رہا تھا۔ یوں مانو تو تین سو ساتھ کی سپیڈ پر تھا۔ اس نے ایسا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اگلے ہی لمحے ارباز نے اپنی محبت کی مہر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ کر لگائی۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس کے لبوں پر جھکتا عائشہ نے اسے پیچھے کیا۔ اس کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے ارباز بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا کہ وہ اس سب کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہے۔۔! عائشہ تھوڑا سا پیچھے ہوئی تھی۔ ” تمھیں جتنا وقت چاہئیے لے لو۔۔۔۔ جتنا سوچنا ہو سوچ لو۔۔۔۔ چاہے اس کے لیے تمھیں پوری عمر ہی کیوں نہ لگ جائے۔۔۔ سوچتے ہوئے۔۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔ میں مرتے دم تک تمھارا انتظار کرو گا۔۔۔۔!! اور میں چاہتا ہوں کہ یہ رنگ تم۔کبھی بھی نہ اتارو اسے تم جب بھی دیکھو تمھیں یہی لگے کہ میں تمھارے بہے قریب ہوں۔۔۔!!“ اس کے گالوں کو سہلاتے ہوئے اس نے پیار سے کہا تھا۔ جبکہ عائشہ نظریں جھکائے کھڑی تھی۔ ” چلو کیک کٹ کرتے ہیں۔۔۔۔۔!!“ اس نے مسکرا کر کہا تو عائشہ اور ارباز ٹیبل کی طرف بڑھ گئے تھے۔ کیک کٹنگ کے بعد عائشہ نے ارباز کا اس خوبصورت تحفے کا شکریہ ادا کیا تھا۔ ان کو وقت کا علم ہی نہیں ہوا تھا۔ صبح کے تین بج گئے تھے۔ وہ دونوں کمرے کی طرف بڑھے تھے۔ ” ویسے تمھیں چوروں سے ڈر لگتا ہے نہ۔۔۔۔۔!!“ چلتے ہوئے ارباز نے عائشہ کے کان میں ایک سرگوشی کی تھی۔ ” نہیں۔۔۔۔۔!!“ وہ نرمی سے ہی سہی لیکن اس پر چیخی ضرور تھی۔ ارباز مسکرا گیا تھا۔ سب مکمل ہوگیا تھا۔ عائشہ کو جو پیار چاہئیے تھا اسے وہ آج مل گیا تھا۔ لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی زندگی میں کتنا بڑا طوفان آنے والا ہے۔۔۔!!!

عائشہ کی زندگی تو مکمل ہو گئی تھی۔ اسے اس کا ہمسفر مل گیا تھا۔ لیکن علی اس کا کیا۔۔۔۔؟ جس کی نہ ہی زندگی مکمل ہوئی تھی۔ اور اسے اس کا من پسند ہمسفر ملا تھا۔ اس نے اپنی حالت ایک ناکام عاشق کی طرح کر لی تھی۔ کیونکہ اس نے جسے چاہا جس سے محبت کی اس کی محبت کی وجہ سے وہ کسی اور کے نام کردی گئی تھی۔ علی کی ماں کی دیکھ اس کے بچپن میں ہی اس کی بہن کی پیدائش پر ہو گئی تھی۔ لیکن ان کی پرورش کے لیے اس کے بابا نے دوسری شادی کر لی تھی۔ جیسی سوتیلی ماؤں کی کہانیاں ہوتی ہیں وہ ویسی بالکل بھی نہیں تھی۔ انھوں نے ان دونوں کا بہت خیال رکھا تھا۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ لیکن ان کی بہن کی وفات ہو جانے کی وجہ سے انھوں نے اپنی بھانجہ کو بھی خود ہی پالا تھا۔ ان سے علی کی یہ حالت دیکھی نہ گئی تھی۔ انھوں نے اس سے شادی کی بات بھی کی تھی۔ لیکن اس نے صاف انکار کردیا تھا۔ شائید اسے ابھی بھی کوئی امید تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *