Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt NovelR50481 Sitam E Ishq (Episode - 5)
Rate this Novel
Sitam E Ishq (Episode - 5)
Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt
وہ ہلکے ہلکے قدم لیے قدم لیے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جبکہ عائشہ یہ سب کچھ ابھی تک سمجھ نہیں پائی تھی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔
وہ دونوں کمرے میں ہی بیٹھی ہوئی تھی۔ جب ہی کمرے کا دروازا کھٹکھٹایا تھا۔ رابعہ نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے ہی ان کی پھپھو سائشتہ تھی۔
”اسلام علیکم پھوپھو۔ “
انھیں دیکھتے ہوئے وہ دونوں کھڑی ہوئی تھی۔ اور یک جان ہو کر انھوں نے کہا تھا۔
”وعلیکم اسلام۔۔ کیسی ہیں میری بیٹیاں۔۔۔!”
انھوں نے مسکرا ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ جس پر عائشہ مسکرا گئی تھی۔
”جی پھوپھو اللہ کا شکر ہے میں ٹھیک ہوں اور آپ کیسی ہیں۔۔ “
رابعہ نے ان سے گلے ملتے ہوئے سوال کیا تھا۔ جب کہ عائشہ بھی جا کر ان سے ملی تھی۔
”اللہ کا شکر ہے۔ میں ٹھیک ہوں۔ اچھا رابعہ بیٹا زرا مجھے عائشہ سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔ “
شائستہ نے مسکرا کر ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے رابعہ کو مخاطب کیا تھا۔
”جی پھوپھو۔۔ “
یہ کہتے ہوئے رابعہ کمرے سے نکل گئی تھی۔ جبکہ شائستہ عائشہ کو لیے صوفے کی طرف بڑھی تھی۔ اور اسے اپنے پاس بیٹھایا تھا۔
”عائشہ بیٹا۔۔۔!! میں آج تم سے ایک اہم بات کرنی آئی ہوں۔ “
شائستہ نے ابھی بات شروع کی تھی کہ عائشہ سمجھ گئی تھی کہ وہ اس سے ارمان کے رشتے کی ہی بات کرے گی۔
”میں نے تمھارا رشتہ ارمان سے بچپن میں ہی طہ کردیا تھا۔ لیکن اب شائید صحیح وقت آگیا ہے کہ میں تمھیں اپنی بیٹی بنا کر لے جاؤں۔ “
بچپن میں یہ سنتے ہی عائشہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی۔ کہ اس شخص سے اس کا نام بچپن میں ہی جوڑ دیا گیا تھا۔
”عائشہ بیٹا۔۔۔!! تمھیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے تمھیں اس رشتے پر۔۔۔!!“
اسے سوچ میں پڑے ہوئے دیکھ کر شائستہ نے اس سے سوال کیا تھا۔ جبکہ عائشہ اس کی بات سن کر ہوش میں واپس آئی تھی۔
”ن۔ نہیں پھوپھو۔۔۔!!“
اپنی پھوپھو کی کہی ہوئی بات کو کیسے وہ ٹال سکتی تھی۔ ؟ اس نے آج تک ان کی کوئی بات نہ ٹالی تھی۔
”میں جانتی تھی۔ اور مجھے یہ معلوم ہے کہ تم اس رشتے کے بارے میں پہلے سے نہیں جانتی تھی۔ تا کہ تم پر کوئی اسٹریس نہ ہو۔ تم آزادی سے اپنی زندگی جی سکو۔ آج تو میں یہاں تمھارے رشتے کے لیے تاریخ پکی کرنے آئے تھی۔اور انشاللہ میں تمھیں اگلے ہی ماں یہاں سے لے جاؤ گی۔ “
اپنی بات مکمل کرتے ہوئے وہ ایک اور بم اس کے سر پر پھوڑ گئی تھی۔ جبکہ عائشہ سے حیرانگی کے مارے کچھ بولا ہی نہیں گیا تھا۔
”چلو میری جان میں اب چلتی ہوں۔ تم اپنا خیال رکھنا۔ “
شائستہ اس کے ماتھے پر پیار سے بوسہ دیتے ہوئے کہہ کر جا چکی تھی۔ جبکہ با مشکل ہی مسکرا پائی تھی۔
شائستہ اپنی بھتیجی کے پیار میں اس کی ساتھ کتنا غلط کرنے جارہی تھی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
”بھائی پلیز عائشہ کو آج یونی سے لے آنا مجھے ایک بہت ہی اہم میٹینگ پر جانا ہے۔۔“
سلمان کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس کے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے شازین نے اس سے کہا تھا۔ جبکہ سلمان نے اسے گھورا تھا۔
”اچھا ٹھیک ہے لے آؤ گا۔ “
اگر شازین کی میٹینگ کہ ہوتی تو وہ کبھی بھی اسے نہ لاتا۔۔۔!!! کیونکہ اسے عائشہ کچھ خاص پسند نہ تھی۔
”تھینک یو سو مچ یار۔۔۔!!“
شازین مسکرا کر کہتے ہوئے اٹھا تھا اور آفس کے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ جبکہ سلمان بھی ہلکا سا مسکرا گیا تھا۔ شازین کو امید نہ تھی کہ وہ اس کی بات مانے لیکن وہ مان گیا تھا۔ رابعہ نے کالج سے چھٹی کہ تھی۔ جبکہ عائشہ یونی گئی تھی۔
عائشہ کے آخری دو لیکچرز فری تھے۔ وہ اس وقت کینٹین کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔ یونی کے گیٹ سے پوری کینٹین نظر آرہی تھی۔ جب ہی علی کینٹین پر آیا تھا۔
اس کی نظر عائشہ پر پڑی تھی۔ اس وقت کینٹین پر بہت کم ہی بچے موجود تھے۔ وہ اس کی طرف بڑھا تھا اور اس کے سامنے والی کرسی پر جا کر بیٹھ گیا تھا۔ جبکہ عائشہ اس کی یہ حرکت دیکھ کر ہی رہ گئی تھی۔
”کیا میں کچھ دیر تک آپ سے بات کرسکتا ہوں۔ “
عائشہ کے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے ٹیبل پر ہاتھ رکھ کر اس نے اس سے سوال پوچھا تھا۔
”ج۔ جی۔۔۔!!“
عائشہ تو اس کی یہ حرکت دیکھ کر ہی بہت بڑا شاک لگا تھا کہ کیسے وہ یہ سب دھڑلے سے کر رہا تھا۔ جبکہ عائشہ نے اسے بات کرنے کی اجازت بھی دی تھی۔وہ کیسے اسے منع کرتی۔
”میں جانتا ہوں کہ سحر نے آپ سے میرے متعلق بات کی تھی۔ معافی سے پر میں نے اس دن آپ دونوں کی ساری باتیں سن لی تھی۔ “
علی نے اس سے کوئی گھما پھرا کر بات نہیں کرنا چاہی تھی۔ تو وہ سیدھا مدعے پر آیا تھا۔
”ک۔ کون س۔ سی ب۔ ب۔بات۔ !! “
اس کی بات سن کر بھی وہ انجان بننے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔۔ جبکہ اس کے الفاظ بھی لڑکھڑا سے گئے تھے۔
”یہی کہ میں آپ کو پسند کرتا ہوں۔۔ اور ہاں یہ حقیقت ہے کہ میں آپ کو پسند کرتا ہوں۔۔۔!!“
علی نے جیسے ہی اس سے کہا تھا۔ عائشہ کا چہرہ مکمل طور پر سرخ پڑ گیا تھا۔
”ک۔۔ کیا۔۔۔؟؟“
اس نے ایسی بات پہلے کبھی بھی نا سنی تھی۔ اس نے ایک مرتبہ پھر سے لڑکھڑاتے الفاظ ادا کیے تھے۔
جبکہ وہ نہیں جانتی تھی کہ سلمان اسے لینے کے لیے پہنچ چکا ہے۔ سلمان نے گیٹ کے سامنے گاڑی روکی تھی۔ اس نے ایک نظر شیشے سے ہی سامنے دیکھا تو عائشہ کو سامنے کسی لڑکے کے ساتھ پایا۔ اس نے آنکھوں پر لگا ہوا چشمہ ایک دم سے اتارا اور گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے گاڑی سے نیچے اترا۔ اور گارڈ کے روکنے پر بھی اندر کی طرف بڑھا تھا۔
”جی یہی سچ ہے کہ میں آپ کو پسند کرتا ہوں۔۔۔ “
علی نے عائشہ کے سوال کا جواب دیا تھا۔ جبکہ یہ سب کچھ سلمان سن چکا تھا۔ وہ عائشہ کے بالکل پیچھے کھڑا تھا۔ عائشہ اس کی موجودگی کو بھانپ نہیں پائی تھی۔
”میں آپ کے گھر اپنا رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں۔۔۔“
اگلے ہی لمحے علی نے عائشہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ جبکہ وہ چاہ کر بھی ہاتھ پیچھے نہ کر پائی تھی۔ ہوش تو اس کے اس وقت آڑے تھے جب سلمان نے اس کے ہاتھ اوپر سے علی کا ہاتھ ہٹایا تھا۔
”س۔۔ سلمان ب۔ بھائی۔۔۔ !!“
عائشہ کی تو جیسے جان ہی نکل گئی تھی۔ وہ فوراً کھڑی ہوئی تھی۔ جبکہ علی کے اس کی طرف دیکھا غصے سے دیکھا تھا۔
“مسٹر ہو آر یو۔۔۔۔!!“
علی اپنی ہی ٹون میں غصے سے بولا تھا۔ جبکہ سلمان اس کی بات سن کر مسکرا گیا تھا۔
”مسٹر تم مجھ سے سوال کرنے سے بہتر ہے کہ تمھیں بخش رہا ہوں۔
آئیندہ میری بہن کے قریب بھی مت آنا سمجھے۔ !!“
سلمان نے آنکھوں میں لہو نگ لیے ہوئے کہا تھا۔
”چلو۔۔۔۔!!“
سلمان نے اس عائشہ کا ہاتھ زور سے تھاما تھا۔ اور اسے وہاں سے لے کر گاڑی میں بیٹھا کر گاڑی تیز رفتار پر چلائی تھی۔ جبکہ عائشہ اس کی لال انگارہ آنکھیں دیکھ کر ہی کافی سہم سی گئی تھی۔ اب ناجانے اس کی زندگی کیا موڑ لینے والی تھا۔۔۔
