Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 8)

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

رات کے سائے ڈھل چکے تھے۔ گہری رات چھا گئی تھی۔ یوں ہی گہرے بادل عائشہ کی زندگی پر چھا گئے تھے۔

نکاح ہے بعد وہ کمرے میں ہی بیٹھی ہوئی تھی۔ جبکہ رابعہ اس کا کچھ سامان پیک کر رہی تھی۔ لیکن عائشہ نے اسے صاف منع کردیا تھا۔

”رہنے دو رابعہ مجھے اس گھر سے کوئی بھی چیز نہیں چاہئیے۔۔۔۔!!“

عائشہ نے اسے صاف انکار کردیا تھا۔ وہ اس گھر کی کوئی چیز نہیں چاہتی تھی۔ آخر کیوں رکھتی ان کی چیزیں رکھتی جنھوں نے اس کا یقین نہ کیا اس پر بھروسہ نہ کیا۔ بس اپنی ہی مارے گئے چاہے وہ صحیح تھا کہ غلط یہ جانے بغیر۔۔

بس اس کابوجھ اتارنے کی کوشش کی تھی۔ کچھ ہی لمحات بعد شائستہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ وہ عائشہ کے پاس گئی تھی۔

”چلو عائشہ بیٹا۔۔۔!! گھر چلیں۔۔۔!!“

شائستہ نے کہا تو عائشہ ساکت سی ہی کھڑی ہوگئی تھی۔ چہرہ مکمل طور پر اترا ہوا تھا۔ لیکن جیسے ہی وہ دو قدم آگے بڑھی تھی۔ رابعہ اس کی طرف لپکی تھی اور فوراً جا کر اس کو گلے لگا لیا تھا۔ اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔

”اپنا خیال رکھنے۔۔۔میں تمھیں بہت یاد کرو گی۔۔۔!!“

اسے روتا ہوا دیکھ کر عائشہ کی آنکھ سے بھی ایک آنسو اس کے گال پر اترا تھا۔ لیکن اسنے فوراً اسے صاف کیا تھا۔ کیونکہ اسے خود کو مظبوط رکھنا تھا۔

”تم بھی اپنا خیال رکھنا۔۔“

عائشہ نے بھی آہستگی سے کہا اور اسے خود سے الگ کرتے ہوئے وہ قدم باہر کی طرف بڑھانے لگی تھی۔جبکہ شائستہ بھی اس کے ساتھ چل دی تھی۔

”جی مامی۔۔۔۔!! آپنے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے۔۔۔!؟“

ارباض کو سلمی بیگم نے گارڈن میں بلوایا تھا۔ اس وقت وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ سلمی بیگم جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیسے نہ کرتی۔۔۔۔؟؟

”بیٹا۔۔۔ آپکو معلوم ہے کہ یہ نکاح کیوں کروایا گیا ہے۔۔۔۔!!“

سلمی بیگم نے اس سے سوال پوچھا تو ارباض کے چہرے پر سوالیہ تاثرات پھیلے تھے۔

”کیا مطلب کیوں کروایا گیا ہے بھائی کی وجہ سے۔۔۔۔!!“

اس نے ناسمجھی کے عالم میں سلمی کا جواب دیا تھا جبکہ وہ اپنے چہرہ پر افسردہ تاثرات لائی تھی۔

”تو بیٹا جی۔۔ آپ تو بہت بڑے سچ سے نا واقف ہیں۔۔۔۔!! ویسے تو یہ سچ آپ کو آپ کی ماں کو بتانا چاہئیے تھا۔ لیکن چلے اب یہ سچ یہ حقیقت میں ہی آپ کو بتا دیتی ہوں۔۔۔۔!!“

سلمی نے افسردہ چہرہ بناتے ہوئے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا تھا۔

”کیا مطلب۔۔۔؟؟ کونسا سچ کونسی حقیقت کا بارے میں بات کر رہی ہیں آپ۔۔۔۔!!“

ارباض نے ایک مرتبہ پھر سے نا سمجھی کے عالم میں سلمی سے سوال کیا تھا۔۔

”یہی سچ کہ یہ شادی خاندان کی عزت کو بچانے کے لیے کرائی گئی ہے۔ ورنہ اس عائشہ نے تو کوئی کثر نہ چھوڑی تھی۔ ہماری عزت برباد کرنے میں۔۔۔!!!!“

سلمی بولتے ہوئے چپ ہوئی تھی۔ جبکہ ارباض اب بھی کچھ سمجھ نہیں پایا تھا۔

”کیس مطلب ہے آپ کا۔۔۔؟؟ کیا کہنا چاہتی ہیں آپ۔۔۔۔!!“

ارباض نے کہا تو سلمی نے سر ہاتھوں میں دیا۔۔

”بیٹا جی۔۔۔ ایک تو بہت بھولے ہیں آپ۔۔ آپ کو نہیں پتہ کہ آج صبح ہی سلمان نے عائشہ کو ایک لڑکے کے ساتھ رنگ ہاتھوں پکڑا تھا۔ اور تو۔۔۔۔!!”

وہ بول ہی رہی تھی جب ارباض نے اس کی بات کاٹی تھی۔۔

” کیا۔۔۔؟؟“

اس نے ناسمجھی کے عالم میں کہا تھا۔ جبکہ سلمی بیگم نے سر ہاں میں ہلایا تھا۔

” جی بالکل۔۔۔۔!! اسی وجہ سے یوں اچانک نکاح ہوا ہے۔۔۔ تمھارا بہت بڑا ظرف ہے کہ اس بدکردار لڑکی کو اپنایا ہے تم نے۔۔۔۔۔!!!“

سلمی بیگم چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لیے وہاں سے جا چکی تھی۔ جبکہ ارباض وہاں پر کھڑا تھا۔ اور اپنی کن پٹیاں سلگانے لگا تھا۔ کہ اس کی ماں ایک ایسی لڑکی کو کیسے اس کی ہمسفر چن سکتی ہے۔۔۔۔؟

سلمی بیگم عائشہ کو خوش نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اسی وجہ سے تو یہ کام سر انجام دیا تھا۔

عائشہ شائستہ کے ساتھ ہال میں پہنچی تھی۔ رابعہ تو کمرے سے باہر بھی نہیں نکلی تھی۔ کیونکہ وہ اپنی بہن کو جاتا ہوا کیسے دیکھ سکتی تھی۔

ہال میں عائشہ نے ایک نگاہ سب پر ڈالی تھی۔ جبکہ شازین کے علاؤہ کوئی بھی اسے جاتا نہیں دیکھ رہا تھا۔ شازین آگے بڑھا تھا۔ اور ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھنے لگا تھا۔

جب ہی عائشہ پیچھے ہوگئی تھی۔ یہ دیکھ شازین کا دل ٹوٹ سا گیا تھا۔ جبکہ ارباز نے اسے گھورا تھا۔

”آج سے میں آپ لوگوں کے لیے اور میرے لیے آپ لوگ مر چکے ہیں۔۔۔۔!!! “

یہ جملہ اس نے بڑی ہی ہمت کر کے کہا تھا۔ اتنا آسان نہیں تھا اس کے لیے یوں ان رشتوں کو ختم کرنے کا۔ جبکہ شازین کا دل ٹوٹ سا گیا تھا۔

”شائید ہی اب ہماری کبھی ملاقات ہو۔۔۔۔!!“

شائستہ بھی کہتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی تھی اور ارباز کو بھی اشارہ کیا تھا۔ جبکہ عائشہ تو پہلے ہی جا چکی تھی۔

گھر پہنچی تو ارباز ان دونوں کو ڈراپ کرتے ہوئے کہیں باہر ہی نکل گیا تھا۔ جبکہ شائستہ عائشہ کو کمرے میں ڈراپ کر گئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ارباز کے لیے یہ اتنا آسان نہیں تھا۔ اسی وجہ سے اسے جانا دیا تھا۔

عائشہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ اس کی پہلی نظر ہی سامنے لگی ہوئی کھڑکی پر گئی تھی۔ دسمبر کے آخری دن چل رہے تھے۔ جبکہ کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔ کھڑکی کے سامنے لگے پردے ہوا میں جھول رہے تھے۔

باہر چلتی ہوئی ٹھنڈی ہوا کھڑکی کے ذریعے کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ لیکن عائشہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ وہ جا کر کھڑکی میں بیٹھ گئی تھی۔

اور کچھ آنسو اس کی آنکھ سے نکلتے ہوئے گالوں پر بہہ گئے تھے۔ کیسے لوگ بدلتے ہیں۔۔۔؟ کیسے ان کا خون سفید ہوتا ہے۔۔ ؟ وہ تو پہلے بس ان کے بارے میں پڑھا کرتی تھی۔ پر آج تو یہ اس کے ساتھ ہوگیا تھا۔

لیکن وہ کیوں ان کے لیے پریشان ہورہی تھی۔ کیوں۔۔۔۔!! وہ تو ان سے سارے رستے ناتے سب کچھ توڑ چکی تھی۔ تو پھر یہ آنسو کیوں بہہ رہے تھے۔

جیسے ہی۔یہ خیال عائشہ کے ذہن میں آیا تھا۔ اس نے فوراً اپنی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کو صاف کر لیا تھا۔۔

وہ یوں ہی کافی وقت تک وہی بیٹھی رہی تھی۔ جیسے اس کی زندگی۔ویران ، تاریک ہو گئی تھی۔ ویسے ہی کمرہ بھی تاریک میں ڈوبا ہوا تھا۔ چاند کی روشنی اس کے صاف شفاف پر پڑتے ہوئے اس کے چہرے کو مزید خوبصورت دکھا رہی تھی۔ جبکہ کب اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ وہ خود بھی نہیں جان پائی تھی۔۔

اس انسان سڑک پر وہ تیز رفتار میں گاڑی چلا رہا تھا۔ گاڑی کی سپیڈ فل تھی۔ اس کا سر سلمی بیگم کی باتیں سوچ سوچ کر ہی پھٹا جارہا تھا۔

”بیٹا جی۔۔۔ ایک تو بہت بھولے ہیں آپ۔۔ آپ کو نہیں پتہ کہ آج صبح ہی سلمان نے عائشہ کو ایک لڑکے کے ساتھ رنگ ہاتھوں پکڑا تھا۔ اور تو۔۔۔۔!!”

سلمی بیگم کی یہ باتیں اس کے سر میں ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی۔

جب ہی ارباز نے اس تیز رفتار گاڑی کو ایک جھٹکے سے روکا تھا۔

”آخر حقیقت کیا ہے۔۔۔۔!!! کیوں میرا سر پھٹ رہا ہے۔ کیا واقع اس لڑکی عائشہ نے یہ گھٹیا حرکت کی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا رشتہ بھائی کے ساتھ طہ ہے۔ پھر بھی۔ آخر حقیقت ہے کیا۔۔۔۔!!! “

ارباز کو حقیقت معلوم نہ تھی کہ اس کے بڑے بھائی نے بھی عائشہ کو دوکھا دیا ہے۔ اس نے شادی کر لی تھی۔ اور تو اور ایک بچہ بھی ہے۔۔۔۔!!“

شائستہ نے اسے معلوم نہ ہونے دیا تھا۔۔۔!! لیکن کیا ارباز حقیقت تک پہنچ سکے گا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *