Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 28) Part - 2

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

شازین آفس میں ابھی پہنچا ہی کہ اسے ہوسپٹل سے فون آیا۔۔۔ اس نے دیکھا تو ان ناؤن نمبر تھا۔۔۔۔ اس نے فون اٹھایا۔۔۔۔

” اسلام علیکم کون۔۔۔۔۔!“

شازین نے سلام میں پیدا کرتے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔۔

” وعلیکم اسلام۔۔۔۔۔۔۔! ہم ہاسپٹل سے بات کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ سر آج صبح ہی آپ کی والدہ اور ان کے ساتھ جو ڈرائیور تھا ان کا ایکسیڈینٹ ہو گیا۔۔۔۔ جس کے باعث گاڑی میں آگ لگ گئی۔۔۔۔۔ دو لاشیں ہیں پلیز آپ ہوسپٹل آجائیں۔۔۔۔۔!“

یہ سنتے ہی شازین کی تو جیسے جان ہی نکل گئی۔۔۔۔۔۔!

” کیا۔۔۔۔۔؟؟“

اسے اپنے کانوں سے ہی سنی ہوئی بات پر یقین نہ آیا۔۔۔۔ وہ رونے کے در پر تھا۔۔۔۔۔ اسے تو معلوم بھی نہ تھا کہ آج کے دن ان کی زندگی میں کتنا بڑا طوفان آ جائے گا۔۔۔۔۔

اس کے ہاتھ سے کان سے لگا ہوا فون زمین کی طرف کھسک گیا۔۔۔۔ وہ ایک ہی جگہ منجمد ہو گیا۔۔۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کرے کہاں جائے۔۔۔۔۔!

وہ فوراً باہر کی طرف بھاگا اور گاڑی ہوسپٹل کی راہ پر ڈال دی۔۔۔۔۔! جبکہ اس کا فون وہی رہ گیا۔۔۔۔۔

ہوسپٹل پہنچا۔۔۔۔۔ اور اکاؤٹینٹ سے معلوم کرتے ہوئے وہ ڈاکٹر کے پاس آیا۔۔۔۔ وہ اسے ایک مردہ خانے میں لے گیا۔۔۔۔۔

جہاں دو لاشیں تھی۔۔۔۔۔ دونوں پر سفید رنگ کی چادر اوڑھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر نے اسے چیک کرنے کا کہا تا کہ پتہ چل سکے کہ کیا وہ دونوں وہی ہیں۔۔۔۔۔؟ جن کا وہ سوچ رہے ہیں۔۔۔۔

شازین نے ہمت کرتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔ اس کا دل ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ یہ اس ماں ہے۔۔۔۔۔!

اس نے بہت ہی زیادہ ہمت کرتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا لیکن پیچھے کر لیا۔۔۔۔

ایک مرتبہ پھر سے اس نے ہاتھ بڑھایا اور ہمت کر کے اس کے چہرے پر سے چادر ہٹائی۔۔۔۔ اس کو دیکھ کر صاف طور پر پتہ لگ گیا کہ وہ ایک مرد ہے۔۔۔۔۔!

وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔۔۔ کہ یہ اس کی ماں نہیں ہے۔۔۔۔۔ اس کی ماں بالکل ٹھیک ہو گی۔۔۔۔ لیکن ساتھ ہی اس ڈرائیور کی فیملی کے لیے بہت دکھ بھی ہوا۔۔۔۔۔ وہ دروازے کی طرف مڑا۔۔۔۔

” ایک منٹ سر۔۔۔۔۔! یہ بھی ہیں۔۔۔۔۔ انھیں بھی چیک کرنا ہے۔۔۔۔۔!“

شازین ابھی مڑا ہی تھا کہ ڈاکٹر کی آواز پر رک گیا۔۔۔۔

وہ ہمت نہ ہارا۔۔۔۔ اسے یقین تھا کہ اس کی ماں کو کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔

وہ اس کی طرف بڑھا اور اس کے قریب آیا۔۔۔۔۔۔! شازین نے ہمت کرتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے چہرے سے وہ چادر ہٹائی۔۔۔۔

مگر سامنے اسے دیکھتے ہوئے اس کے اندر جتنی بھی ہمت تھی وہ سب ختم ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔!!

سلمی کو دوپٹہ جو تھوڑا سا جلا نہیں تھا۔۔۔۔۔ اور اس کے انگھوٹی کو دیکھتے ہوئے یہ پتہ چل گیا ان کی ماں انھیں چھوڑ کر جا چکی ہیں۔۔۔۔۔ وہ اب اس دنیا میں رہی۔۔۔۔۔

سلمی۔۔۔۔۔۔!! وہ مر گئی۔۔۔۔۔ اس کے ارادوں کا کیا وہ برے ارادے سے شائستہ کے گھر جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔!! اور اس کے ارادے سب دھرے دھرے رہ گئے۔۔۔۔ سب ختم ہو گیا۔۔۔۔۔

وہ اسے دیکھتے ہوئے وہی زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔ شازین کی آنکھوں سے آنسو زور و قطار سے بہنے لگے۔۔۔۔۔۔!

وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کبھی بھی اس کی زندگی میں کوئی ایسا موڑ بھی آئے گا۔۔۔۔۔!

کہ اس کی ماں اسے چھوڑ کر چلی جائے گی۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نے اسے سہارا دیا۔۔۔۔ ماں کا غم کوئی عام غم نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ یہ وہ غم ہے جو بڑے سے بڑا بھی برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔۔!

کوئی شخص کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو پر اس پیسے سے اپنی ماں کو اس کے پیار کو واپس تو نہیں لا سکتا۔۔۔۔۔! تو وہ کیسے برداشت کرتا۔۔۔۔۔؟

سلمی کی میت کو گھر لایا گیا۔۔۔۔۔ جبکہ ان کے ڈرائیور کی میت کو ان کے گھر جایا گیا۔۔۔۔۔۔ دونوں گھروں میں ماتم بچھ گیا۔۔۔۔۔ شائستہ تک بھی یہ بات کچھ دیر پہلے ہی پہنچی۔۔۔۔۔

عائشہ اور علی ابھی کچھ دیر پہلے ہی اٹھے تھے۔۔۔۔۔ جب اسے شائستہ نے اسے فون کر کے یہ ساری حقیقت بتائی کہ سلمی اب اس دنیا میں نہیں رہی۔۔۔۔

یہ سنتے ہی عائشہ ساکت سی کھڑی رہ گئی۔۔۔۔۔ اس نے ہمیشہ سے ہی سلمی جو اپنی ماں کے روپ میں دیکھا تھا۔۔۔۔۔

کیونکہ سلمی ہی اس کی پرورش کرنے والی تھی۔۔۔۔۔۔!!! علی یہ سن چکا تھا۔۔۔۔ اس نے عائشہ کو تسلی دی۔۔۔۔۔

اور پھر اس کے ساتھ وہ ان کے گھر کے لیے روانہ ہوئے۔۔۔۔۔۔۔! علی کی فیملی بھی ان کے ساتھ جارہی تھی۔۔۔۔۔

سلمان کو بھی یہ اب آفس کے زریعے معلوم ہوا وہ بھی گھر آرہا تھا۔۔۔۔۔ان کی زندگیوں ایک بہت بڑا طوفان آگیا تھا۔۔۔۔۔۔

شیزا اور اس کی والدہ بھی پہنچ گئے۔۔۔۔۔ ربعیہ بہت روئی تھی کیونکہ اس نے تو اپنی ماں کے ساتھ بہت وقت گزارا نہیں۔۔۔۔۔۔

سلمی نے ہی اسے اور عائشہ کو ماں بن کر پالا تھا۔۔۔۔ آج اس کی وہ ماں بھی چلی گئی۔۔۔۔ عائشہ اس کے ساتھ ہی تھی۔۔۔۔

عائشہ کی آنکھوں سے بھی آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔ شائستہ نے ان دو دونوں کا دلاسا دیا۔۔۔۔۔۔! اور گلے لگا لیا۔۔۔۔

سلمان اور شازین دونوں بھائی اکیلے رہ گئے۔۔۔۔۔ ان کا باپ اپنی ہی غلطیوں کی وجہ سے جیل میں تھا۔۔۔۔ اور رہی بات ان کی ماں کی تو وہ بھی آج انھیں چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔۔۔

جنازے کا وقت ہو گیا۔۔۔۔۔ ہمت باندھتے ہوئے ان دونوں بھائیوں نے اپنی والدہ کی میت اٹھائی اور قبرستان کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔۔۔!!

عائشہ ربعیہ کو اس کے کمرے میں لے گئی۔۔۔۔۔ کیونکہ ربعیہ کی یہ حالت نہ تھی کہ وہ زیادہ دیر یوں رہے۔۔۔۔۔

رو رو کر اس نے اپنا برا حال کر لیا۔۔۔۔۔! عائشہ اسے چپ کرواتے ہوئے کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ ربعیہ کے پاس شائستہ موجود تھی۔۔۔۔۔!

عائشہ جیسے ہی کمرے سے باہر نکلی سامنے ہی علی کو پایا۔۔۔۔۔! وہ فوراً جا کر اس کے گلے لگ گئی۔۔۔۔ اور رو دی۔۔۔۔

علی نے اس کے بالوں کا سہلایا۔۔۔۔۔ اور اسے خود میں سمینٹ لیا۔۔۔۔ وہ اس کی کیفیت کو سمجھتا تھا کہ وہ کس قدر دکھی ہے۔۔۔۔۔۔!

چاہے سلمی نے اس کے ساتھ جو کچھ بھی کیا لیکن اس کے چلے جانے پر وہ بہت دکھی اداس تھی۔۔۔۔۔!

” عائشہ۔۔۔۔۔! پلیز رونا بند کرو۔۔۔۔!! دیکھو اگر تم چپ نہیں کرو گی۔۔۔۔۔ تو ربعیہ کو کون سنبھالے گا۔۔۔۔۔!“

علی نے اس سے کہا جس پر وہ خاموش ہوئی۔۔۔۔ لیکن وہ جیسے ہی پیچھے کوئی اس کا سر چکرا سا گیا۔۔۔۔

” عائشہ کیا ہوا۔۔۔۔۔۔؟ تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔۔!“

علی نے اسے سنبھالتے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔۔۔۔ وہ سمجھ گیا کہ اسے چکر کیوں آرہے ہیں۔۔۔۔۔؟

اس نے صبح سے ناشتہ تک نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔ اور شام ہونے جو تھی۔۔۔۔ علی نے وہاں کرسی پر بیٹھایا اور اس کے لیے کھانا لینے گیا۔۔۔۔

وہ لوگ سلمی کو دفنا آئے تھے۔۔۔۔۔! دل پر پتھر رکھتے ہوئے وہ ماں کو قبر میں اتار آئے۔۔۔۔۔

” امی۔۔۔۔۔! آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں چلی گئی۔۔۔۔۔ آپ ہی تو تھی بس ہمارے پاس اب ہمارا خیال کون رکھے گا۔۔۔۔۔ ہماری ہر خواہش کون پوری کرے گا۔۔۔۔۔!!! ابو بھی نہیں ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔۔!“

سلمان نے کمرے میں آتے ہی دروازے کو بند کیا اور اس کے ساتھ پشت لگاتے ہوئے سوچ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔۔۔۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *