Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt NovelR50481 Sitam E Ishq (Episode - 28) Part - 1
Rate this Novel
Sitam E Ishq (Episode - 28) Part - 1
Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt
اگلے دن دونوں گھروں میں اچھی خاصی رونق لگی ہوئی تھی۔۔۔۔ دونوں گھروں میں بارات کی تیاریاں عروج پر تھی۔۔۔۔۔
عائشہ کو آج تیار کرنے کے لیے پارلر سے کچھ لڑکیاں آئی تھی۔۔۔۔ بارات کا فنکشن نائٹ کا تھا۔۔۔۔۔ اور میرج ہال میں ہونا تھا۔۔۔۔۔
رات کے نو بج گئے۔۔۔۔۔ مہمانوں نے آنا شروع کردیا۔۔۔۔ عائشہ بھی مکمل طور پر تیار ہو گئی۔۔۔۔۔ اسے میرج ہال لایا گیا۔۔۔۔ اور برائیڈل روم میں بیٹھایا گیا۔۔۔۔
مہمان آ چکے تھے۔۔۔۔ اور سب بس ابھی بارات کی راہ ہی تک رہے تھے۔۔۔۔ کچھ ہی لمحات میں بارات بھی آ گئی تھی۔۔۔۔
” بارات آگئی۔۔۔۔۔!“ کچھ لڑکیاں مسکراتے ہوئے برائیڈل روم داخل ہوئی۔۔۔۔ جہاں عائشہ دلہن بنی ہوئی بیٹھی تھی۔۔۔۔
علی اور اس کے گھر والوں کا پر زور استقبال کیا گیا۔۔۔۔۔ گلاب کے پھولوں کی پتیاں پہنائی گئی۔۔۔۔ پھولوں کے ہار بھی پہنائے گئے۔۔۔۔
شازین عائشہ کے پاس برائیڈل روم میں آیا اور اس کے ساتھ سلمان تھا۔۔۔۔ ربعیہ بھی برائیڈل روم میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
شازین اور سلمان نے اس سے کچھ باتیں کی اور اسے پیار دیا۔۔۔۔ آخر کار وقت آگیا کہ جب عائشہ کو رخصت ہونا تھا۔۔۔۔
عائشہ اپنے ہمراہ اسٹیج کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔ علی اسے دلہن کے جوڑے میں دیکھتا ہوا کھڑا ہوا اور مسکرایا۔۔۔۔
آج پھر سے وہ اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے کھڑا ہوا۔۔۔۔۔ لیکن آج جو اس نے اس کا ہاتھ تھامنا تھا۔۔۔۔پھر کبھی اسے چھوڑنا نہیں تھا۔۔۔۔
وہ جیسے ہی قریب پہنچی تو علی نے اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔۔۔! عائشہ نے بلا جھجک اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔۔۔
عائشہ کو دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پر گہری مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔۔۔ عائشہ بھی اسے دیکھتے ہوئی مسکرائی۔۔۔۔
پھر اس کا ہاتھ تھامے ہوئے اسٹیج پر چڑھتے ہوئے اس کے ساتھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔ اور کچھ دیر بعد بیٹھ گئی۔۔۔۔
مہمان وغیرہ سب نے انھیں شادی کا تحفہ دیا۔۔۔۔ اس کے بعد رخصتی کا وقت آیا۔۔۔۔ اور اسے گاڑی تک لے جایا گیا۔۔۔۔
عائشہ کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔۔۔۔ جبکہ ربعیہ اور شائستہ کی آنکھیں بھی نم تھی۔۔۔۔ سلمی بیگم تو اس کے قریب تک نہ آئی۔۔۔۔
باری باری سب سے ملتے ہوئے عائشہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔ اور گاڑی کو علی کے گھر کی طرف روانہ ہوئی۔۔۔۔۔
آہستہ آہستہ مہمانوں نے بھی جانا شروع کردیا۔۔۔۔۔ اور سب اپنے اپنے گھر پہنچے۔۔۔۔۔!
گھر میں ان کا زورو شور سے استقبال کیا گیا۔۔۔۔ وہ دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے گھر میں داخل ہوئے۔۔۔۔ ایک خوبصورت سی اینٹڑینس کے بعد کچھ رسمیں کی گئی۔۔۔۔
” یہ لو علی پہلے تم عائشہ کو کھیر کھلاؤ پھر عائشہ تمھیں کھیر کھلائے گی۔۔۔۔!!“
کومل نے ان کے سامنے ایک کھیر کی پیالی رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
” جی۔۔۔۔۔!“
علی نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر اس پیالی کو اٹھاتے ہوئے اس میں سے ایک چمچ عائشہ کو کھلائی۔۔۔۔۔
پھر کومل کے ہدایت کے مطابق عائشہ نے علی کو کھیر کھلائی۔۔۔۔ اور کچھ اور رسمیں بھی ادا کی گئی۔۔۔۔ اس کے بعد عائشہ کو اس کے کمرے میں لے جایا گیا۔۔۔۔
وہ کمرے میں پڑے ہوئے اس بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ آج وہ کافی خوش تھی۔۔۔۔ خوشیاں ایک مرتبہ پھر سے اس کی زندگی میں آگئی تھی۔۔۔۔
وہ بیٹھی تھی جب ہی دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور علی سامنے سے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔ اور دروازے کو بند کرتے ہوئے اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔۔۔۔
” آج بھی تم ہمیشہ کی طرح خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔۔۔!!!“
اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے اس نے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
” آپ بھی بہت اچھے لگ رہے ہیں۔۔۔۔۔!!“
نظریں جھکائے ہوئے عائشہ نے بھی اس کی تعریف کی جس پر وہ مسکرایا اور اپنی جیب سے ایک ڈبہ نکالا۔۔۔۔
اس میں ایک بہت ہی خوبصورت لاکٹ موجود تھا۔۔۔۔۔ جسے دیکھ عائشہ مسکرائی۔۔۔۔
” یہ تمھارا منھ دکھائی کا گفٹ۔۔۔۔۔!“
یہ کہتے ہوئے علی نے خود جھکتے ہوئے اس کی گلے میں لاکٹ پہنایا اور پیچھے ہوئے اس کے گالوں پر لب رکھ گیا۔۔۔۔۔
” میں نے اس پل کا اس وقت کا بہت ہی زیادہ انتظار کیا ہے۔۔۔۔ عائشہ میں نے اپنے اس سفر کے دوران بہت ہی زیادہ ستم سہے ہیں۔۔۔۔
تم سے دوری برداشت کی ہے۔۔۔۔ پر اب مزید یہ اب کچھ نہیں۔۔۔۔ یہ سب اب ختم ہو گیا۔۔۔۔ اب تم صرف میری ہو۔۔۔۔ صرف میری۔۔۔۔ میں تم سے بہت بہت بہت محبت کرتا ہوں۔۔۔۔۔!“
علی نے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہوئے اسے بتایا۔۔۔۔ جس پر وہ مسکرا گئی۔۔۔۔
” میں بھی۔۔۔۔۔۔!“
عائشہ کی یہ بات اس کو حیران کر گئی۔۔۔۔۔ وہ بے ساختہ مسکرا گیا۔۔۔۔
” کیا کہا۔۔۔۔۔!! ایک مرتبہ پھر سے کہنا۔۔۔۔۔!“
علی کو تو جیسے اپنے ہی کانوں سے سنی ہوئی بات پر ہی یقین نہ ہوا۔۔۔۔ عائشہ جوابا مسکرا گئی۔۔۔۔ جبکہ وہ اس کی مسکراہٹ اپنے لبوں میں چن گیا۔۔۔۔
” ماں آپ کہاں جا رہی ہیں۔۔۔۔۔!“
شازین صبح کمرے سے باہر نکلا تو سلمی کو کہیں جاتا ہوا پایا۔۔۔۔۔ تو اس نے اس سے سوال کیا۔۔۔۔
” کہیں نہیں۔۔۔۔۔ بیٹا تمھاری پھپھو کی طرف جارہی ہو۔۔۔۔ ویسے ہی کہ اسے کوئی مدد نہ چاہئیے ہو۔۔۔۔۔“
سلمی نے ہمدردی والے لہجے میں کہا۔۔۔۔ جس پر شازین مسکرایا اور سر اثبات میں ہلا گیا۔۔۔۔
سلمی گھر سے باہر نکلتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔ اور ڈرائیور سے گاڑی کو فل سپیڈ میں چلانے کو کہا۔۔۔۔ وہ نوکر تھے کیسے بات نہ مانتے۔۔۔۔۔! سلمی کے ارادے نیک نہ تھے۔۔۔۔۔
گاڑی فل سپیڈ پر چل رہی تھی۔۔۔۔ سلمی موبائل میں مصروف تھی۔۔۔۔۔ سامنے سے ٹرک آرہا تھا۔۔۔۔۔ ڈرائیور بار بار بریک پر پاؤں رکھتا رہا۔۔۔ لیکن اس کا کوئی بھی فایدہ نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
” دھیان سے چلاؤ گاڑی۔۔۔۔۔! سامنے ٹرک ہے۔۔۔۔۔!“
سلمی اس پر برہم ہوئی۔۔۔۔
” میڈم مجھے لگتا ہے گاڑی کے بریک فیل ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔!“
” کیا۔۔۔۔۔!“
یہ سنتے ہی سلمی کے تو جیسے ہوش ہی اڑ گئے تھے۔۔۔۔۔ وہ کافی گھبرا گئی۔۔۔۔
سامنے سے ٹرک بہت نزدیک پہنچ گیا۔۔۔۔ اگر وقت پر بریک نہ لگائی تو گاڑی اور ٹرک دونوں نے آپس میں ٹکڑا جانا تھا۔۔۔۔
گاڑی کو گھما کر ڈرائیور نے اسے ٹرک کے سامنے سے پیچھے کیا۔۔۔۔۔۔ جب ہی گاڑی جا کر سامنے درخت سے ٹکڑا گئی۔۔۔۔
اور پل بہ پل گاڑی میں آگ لگتی گئی۔۔۔۔۔!!
