Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 21)

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

دو سال بعد۔۔۔۔۔!!!

اس واقعے کے بعد عائشہ کی زندگی ایک نئی راہ پر چل پڑی تھی۔۔۔۔۔۔ ارباز کی موت نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔۔۔۔ ارمان کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کے بھائی کا قتل ہوگیا تو وہ گھر واپس آگیا۔۔۔۔

اس نے شائستہ نے بہت معافیاں مانگی بہت منتیں بھی کی تھی۔۔۔۔ لیکن شائستہ نے پہلے پہل تو اسے معاف نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔ لیکن وہ ایک ماں تھی۔۔۔۔ ایک اولاد کو وہ کھو چکی تھی۔۔۔

اب دوسری کو بھی خود سے دور کیسے جانے دیتی۔۔۔۔۔۔۔؟ ارمان نے عائشہ سے بھی معافی مانگی۔۔۔۔ وہ اسے کس چیز کی سزا دیتی۔۔۔۔۔؟ جس کے متعلق اسے خود معلوم نہیں تھا۔۔۔۔

ارمان اور اس کا بیٹا گھر پر رہنے لگے۔۔۔۔ عائشہ کو اس کا بیٹا کافی پسند تھا کیوٹ ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔ اور زیادہ تر عائشہ ہی اس کا دھیان رکھتی۔۔۔۔ اور وہ بھی اس سے کافی اٹیچ ہوگیا۔۔۔۔۔

عدالت نے ارباز کے قتل کے کیس میں انوار کو پچیس سال کی قید سنا دی گئی تھی۔۔۔۔ ارباز کو انصاف مل گیا۔۔۔۔۔

عائشہ نے بھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنا مناسب نہ سمجھا۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنی سٹڈیز مکمل کی۔۔۔۔ اور اب وہ ارباز کی کمپنی کی سی ای او تھی۔۔۔۔ رابعہ اور شازین کے درمیان بھی کافی انڈر اسٹینڈنگ پیدا ہو گئی تھی۔۔۔

سلمان اور شازین نے عائشہ کو گھر واپس آنے کا کہا لیکن اس نے صاف انکار کردیا۔۔۔۔۔ اور پھر سلمی بیگم بھی راضی نہیں تھی اس فیصلے پر۔۔۔۔

اب وہ ایک نئی زندگی گزار رہی تھی۔۔۔۔۔ ارباز کے بغیر۔۔۔۔۔“

” بولو کیا بات ہے اور کیوں بلایا ہے مجھے یہاں پر۔۔۔۔۔!! میں نے تم سے کتنی ہی مرتبہ کہا کہ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔ سمجھی لیکن تمھیں سمجھ کیوں نہیں آتی۔۔۔۔“

ایک کیفے پر اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے وہ بولنا شروع ہوا تو بولتا ہی گیا۔۔۔۔ جس پر سامنے بیٹھی ہوئی لڑکی طنزیہ مسکرا گئی۔۔۔۔

” آوو ڈارلنگ۔۔۔۔۔۔!! تمھیں میں نے یہاں پر نہیں بلایا۔۔۔۔۔ تم مجھ سے خود ملنے آئے ہو۔۔۔۔۔!!! میں نے تو بس یہ کہا تھا۔۔۔“

” کہ اگر میں تم سے ملنے نہیں آیا تو تم مجبوراً خود کشی کر لو گی۔۔۔۔۔“

اس کی بات کو کاٹتے ہوئے اس نے کہا تو وہ پھر مسکرائی اور اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیے تھے۔۔۔۔۔ سامنے ٹیبل پر بیٹھے شخص نے یہ لمحہ اپنے موبائل میں سیو کر لیا تھا۔۔۔

” یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔۔۔۔!! خبردار جو مجھے تم نے ہاتھ بھی لگایا تو۔۔۔۔۔! اور کیوں بلایا ہے مجھے یہاں جلدی بولو میرے پاس اتنا فضول وقت نہیں ہے۔۔۔۔!!“

اسے حیرانگی سے دیکھتے ہوئے اس نے ہمت بھی کیسے کی اس کے ہاتھ پر ہاتھ پر ہاتھ رکھنے کی۔۔۔ اس نے غصے سے کہا۔۔۔۔

” اووو شازین۔۔۔۔۔۔!! میں نے تمھیں کتنی ہی مرتبہ کہا ہے کہ میں تم سے بہت محبت کرتی۔۔۔۔۔”

” بکواس بند کرو اپنی سمجھی تم۔۔۔۔ خبردار جو یہ الفاظ اپنے منھ سے بھی نکالے تو۔۔۔۔ ورنہ جان نکال دو گا تمھاری۔۔۔۔۔! نہ ہی ہمارے درمیان کبھی بھی ایسا پیار کا کوئی تعلق تھا۔۔۔ نہ ہے۔۔۔۔ اور نہ ہی کبھی ایسا ہوگا۔۔۔۔۔!! میں صرف اپنی بیوی سے پیار کرتا ہوں۔۔۔۔ اور اب اگر تم مر بھی گئی نہ تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔ اور آئیندہ مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔۔۔۔“

ایک مرتبہ پھر سے اس کی بات کو ٹوکتے ہوئے شازین نے غصے سے کہا اور ٹیبل سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔۔ جبکہ وہ مسکرائی تھی۔۔۔۔

” پھنس تو تم گئے ہو شازین صاحب۔۔۔۔۔! اب تم مانو یا نا مانو یہ تم ہر ڈیپیںڈ کرتا ہے۔۔۔۔!“

چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لیے اس نے لاپرواہی والے لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔ اور اٹھ کر سامنے والے ٹیبل پر گئی تھی۔۔۔۔

” بن گئی ہے تصویر۔۔۔۔۔!“

اس نے سامنے بیٹھے شخص سے سوال کیا تھا۔۔۔۔۔ جس کی مسکراہٹ اس کے سارے جوابات دے گئے تھے۔۔۔ وہ بھی مسکرائی۔۔۔۔

” چلو بھئی شازین۔۔۔۔۔ اب دیکھتے ہیں کہ تمھاری یہ محبت تمھاری بیوی کے لیے کتنی دیر تک قائم رہتی ہے۔۔۔۔ کیونکہ جب وہ خود اس سے کہے گی کہ تم دھوکے باز ہو۔۔۔۔ تو دیکھے گے کیا ہوگا۔۔۔۔“

اس نے ایک شیطانی قہقہہ لگایا اور پھر مسکراہٹ لیے ہوئے اس نے کہا تو سامنے والا بھی مسکرا گیا تھا۔۔۔۔۔

ربیعہ نہا کر باہر نکلی۔۔۔۔۔ اور بال سیٹ کرنے کے لیے شیشے کے سامنے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔ اس کے موبائل پر کچھ مسیجز آئے تو فون وائیبڑیٹ ہوا ۔۔۔۔

اس نے بال سیٹ کر کے فون اٹھایا اور دیکھا تو ایک ان ناؤن نمبر کے ذریعے مسیجز آئے اور کچھ تصویریں بھی۔۔۔۔ اس نے دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔۔۔

وہ وہی تصویریں تھی۔۔۔۔ جس میں شازین نے اس لڑکی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔۔۔۔ اس نے غور کیا تو یوں ہی لگ رہا تھا کہ شازین اور وہ مسکرا رہے ہیں۔۔۔۔ کچھ میسیجز بھی آئے۔۔۔۔

( یہ ہے تمھارا شوہر جو میرے ساتھ عشق لڑا رہا ہے۔۔۔۔۔۔ یقیناً اوپر والی تصویر کو دیکھ کر تم جان ہی گئی ہو گی۔۔۔۔ میں نے سوچا تمھیں بھی بتا دو۔۔۔۔)

مسیج پڑھتے ہی ربیعہ کے ہاتھوں سے فون نیچے زمین پر گر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ایک آواز پورے کمرے میں گونجی۔۔۔۔ اس کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔۔۔ کہ وہ جس شخص سے اس قدر محبت کرتی تھی۔۔۔۔

وہ اسے دھوکا دے رہا تھا۔۔۔۔ اسے وقت نہ دینا۔۔۔۔ رات کو دیر تک گھر نہ آنا۔۔۔۔ بات بات پر غصہ ہونا۔۔۔۔ اور وہ پاغل سمجھ ہی نہ سکی۔۔۔ وہ اس سے محبت کرتی رہی۔۔۔ اور وہ اسے دھوکا دیتا رہا۔۔۔۔

جبکہ یہ حقیقت نہیں کام کی زیادتی کی وجہ سے وہ گھر لیٹ تک آتا۔۔۔ وہ اسے دھوکا نہیں دے رہا۔۔۔۔۔

وہ آنکھیں نم کیے ہوئے پورے کمرے کا خشت نشر بگاڑ چکی تھی۔۔۔۔ وہ گھر پہنچا۔۔۔۔ گاڑی کھڑے کرتے ہوئے وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔

کمرے کا حشر اس کا حیران کرگیا تھا۔۔۔۔ اس نے ربعیہ کی طرف دیکھا۔۔۔۔ جو لہو انگارہ آنکھیں لیے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اور اسے دیکھ کر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔

” کہاں تھے آپ۔۔۔۔۔!!“

لہو انگارہ آنکھیں ، آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی۔۔۔۔ اور لہجہ سرد لیے اس نے شازین سے سوال کیا۔۔۔ وہ اس کی حالت دیکھ کر ہی رہ گیا۔۔۔۔

” ربعیہ تم رو کیوں۔۔۔۔؟“

وہ کہتے ہوئے دو قدم آگے بڑھا۔۔۔۔۔۔۔ جب ربعیہ دو قدم پیچھے بڑھی اور ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا۔۔۔۔

” یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔۔۔۔!“

دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے اس نے آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے اس سے کہا تو شازین اس کے انداز پر حیران رہ گیا۔۔۔۔

” میں آفس میں تھا۔۔۔۔“

اس کے اٹل لہجے کو دیکھتے ہوئے شازین نے اس کے سوال کا جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔!!

” جھوٹ بول رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔ جھوٹ۔۔۔۔۔“

اس کی بات کو سن کر شازین ایک مرتبہ پھر سے حیران رہ گیا۔۔۔۔۔

” اچھا تو پھر تم ہی بتاؤ کہ میں کہاں تھا۔۔۔۔۔ “

شازین نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔۔۔

” آپ اس لڑکی کے ساتھ تھے۔۔۔۔۔ اس کیفے میں۔۔۔۔۔“

وہ تو جیسے اس پر چیخ ہی پڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔ شازین کے چہرے کے سارے تاثرات اڑ گئے تھے۔۔۔۔۔

” ربیعہ “

” کیا ربعیہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ آپ رات دیر تک اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔۔۔۔ اس سے محبت کرتے ہیں۔۔۔۔

وہ تو پاغل تھی میں کہ میں نے آپ پر یقین کرلیا تھا۔۔۔۔۔ آپ بھروسے کے لائق ہی نہیں تھے۔۔۔۔۔

بلکہ میں کیا کہہ رہی ہو آپ سے۔۔۔۔؟ آپ سارے مرد ہی ایک طرح کے ہوتے ہیں۔۔۔۔ بے شرم بے حیا۔۔۔۔ بد کردار۔۔۔۔۔ جہاں لڑکی دیکھی نہیں وہی بے شرمی پر اتر آئے۔۔۔۔۔“

چٹاخ۔۔۔۔۔

اسے چپ کرا کے وہ بول رہی تھی۔۔۔۔ جب اس کا ہاتھ اٹھ گیا۔۔۔۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *