Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 33)

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

چھ مہینے بعد۔۔۔۔۔!!!

آج وہ دن آ ہی گیا جب انھوں نے ایک ہونا تھا۔۔۔۔! شیزا اور سلمان کی آج مہندی تھی۔۔۔۔ اس دن کے دو دن بعد ہی ان کی شادی کے لیے چھ ماہ بعد کی تاریخ طہ ہوئی تھی۔۔۔۔۔!

سارے گھر کو پھولوں اور لائیٹس سے سجایا گیا۔۔۔۔۔! شیزا کو تیار کرنے کے لیے پارلر سے بیوٹیشن آئی تھی۔۔۔۔!

سلمان بھی ٹیڈی ہونے کے لیے ابھی کمرے میں گیا تھا۔۔۔۔ ربعیہ اور شازین بھی اپنے کمرے میں تھے۔۔۔۔” آج پھر کئی مہینوں بعد ان کی زندگی میں خوشیاں واپس آئی تھی۔۔۔۔۔”

وہ جیسے ہی چینج کر کے نکلی تو کمرے میں پھیلی ہوئی اس ننھی سی جان کی رونے کی آواز سنائی دی۔۔۔۔۔! وہ فوراً اس کی طرف بڑھی۔۔۔۔!

” آلے مما کا پارا بچا۔۔۔۔۔! کیوں رو رہا ہے۔۔۔۔۔” (ارے مما کا پیارا بچا کیوں و رہا ہے۔۔۔۔)

بچوں کے ساتھ رہ رہ کر ان کی جیسی ہی آواز میں بولنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔! وہ بچہ کوئی اور نہیں بلکہ شازین اور ربعیہ کا لاڈلا تھا۔۔۔۔۔ جو ابھی بس ایک ماہ کا ہی ہوا تھا۔۔۔۔!

” لاؤ اسے مجھے دو میں اسے دودھ پلا دو۔۔۔۔۔۔”

شازین نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ہاتھ پھیلاتے ہوئے ربعیہ سے شہرام کو مانگا تا کہ اسے دودھ پلا سکے۔۔۔۔۔”

” یہ لے آپ پلا دین میں تب تک تیار ہو جاتی ہوں۔۔۔۔۔۔”

ربعیہ نے شہرام کو اس کے ہاتھوں میں دیتے ہو کہا۔۔۔۔ جس پر شازین نے اسے گھورا اور وقت کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔”

” سات بج چکے اور ابھی تمھیں تیار ہونا ہے۔۔۔۔۔!”

اس نے فیڈرل کی نپل شازین کے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے اس سے کہا تو ربعیہ کا دھیان وقت کی طرف گیا۔۔۔۔۔”

” بس پانچ منٹ لگے مجھے۔۔۔۔۔!”

یہ کہتے ہوئے وہ سامنے شیشے کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔! جس پر شازین طنزیہ مسکرایا۔۔۔۔!

” ہاں ہاں بالکل تم لڑکیوں کے پانچ منٹ کبھی پانچ منٹ ہو ہی نہ جائے۔۔۔۔۔”

اس نے طنزیہ کہا جس پر ربعیہ نے اسے ایک گھوری سے نوازہ۔۔۔۔۔!

” اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔!”

” چلو پھر دیکھ لیتے ہیں۔۔۔۔۔!”

یہ کہتے ہوئے شازین شہرام کو دودھ پلانے میں مصروف ہو گیا جبکہ وہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی اور شہرام صاحب تو باپ کی گود میں جاتے ہی نیند کی گہری وادیوں میں چلے گئے تھے۔۔۔۔۔!

حجاج سیٹ کرکے پن لگاتے ہوئے عائشہ نے اپنی تیاری مکمل کی۔۔۔۔۔! لائیٹس میک پیلے رنگ کے لہنگے کے ساتھ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔

علی کب کا تیار ہو چکا تھا۔۔۔۔۔!! اور تقریباً آدھے گھنٹے سے وہ کمرے میں بیٹھا عائشہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔! عائشہ کی تیاری مکمل ہوتے ہی وہ اس کے طرف بڑھا اور پیچھے سے اسے اپنے خسار میں لیا۔۔۔۔۔۔۔”

” کب سے آپ مجھے ہی دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔! آپ کی نظریں نہیں تھکتی ہیں کیا۔۔۔۔۔؟”

عائشہ نے خود کو اس کے حصار میں پاتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔ جس پر وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔ ان کے درمیان کوئی بھی جھجک باقی نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔!

” نہیں۔۔۔۔۔! اگر تم مجھے کہو گی نہ کہ چوبیس گھنٹے تمھیں ہی دیکھوں تب بھی میری آنکھیں نہیں تھکے گی۔۔۔۔۔”

اس کی بات سنتے ہوئے علی نے ایک ہلکی سی سرگوشی اس کے کان میں کی۔۔۔۔ اور اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔۔

” ہمم ویسے بری نہیں لگ رہی ہو۔۔۔۔۔”

علی نے شرارت سے کہا جس پر عائشہ کے چہرے پر جتنی بھی مسکراہٹ تھی سب اڑ گئی۔۔۔۔۔۔!

” کیا مطلب ہے آپ کاکیا میں واقع میں پیاری نہیں لگ رہی ہوں۔۔۔۔۔”

عائشہ نے فکرمندی سے مڑتے ہوئے شیشے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جس پر اس نے کھلکھلا کر قہقہ لگایا۔۔۔۔۔ جس پر عائشہ نے اسے گھورا۔۔۔۔!

” علی۔۔۔۔۔!”

اسے مسکراتا ہوا دیکھ کر عائشہ کو بہت غصہ چڑھا اور اسے ایک مکا مارا۔۔۔۔۔! جس پر وہ مسکرایا۔۔۔۔۔!

” غصے میں بھی کافی پیاری لگتی ہو تم۔۔۔۔۔!”

اس کے گالوں پر اپنے لب رکھتے ہوئے علی نے عقیدت سے کہا جس پر وہ ہلکا سا مسکرائی اور وہ اس کی مسکراہٹ اپنے لبوں میں چن گیا۔۔۔۔۔”

سب مہمان آنا شروع ہوگئے۔۔۔۔۔! اور رونق لگنا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔! عائشہ علی اور سن کی فیملی اور شائستہ بھی پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔

شادی کے سارے انتظامات زیادہ تر شازین کو ہی دیکھنے تھے۔۔۔۔۔ عائشہ اپنے پارے سے بھانجے شہرام کو سنبھال رہی تھی۔۔۔۔۔۔!

جبکہ ربعیہ اور شائستہ مہمانوں سے ملنے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔ علی شازین کے ساتھ تھا۔۔۔۔۔!

سلمان ریڈیو ہو کر باہر آیا اور کچھ کام کرنے کی کوشش کی جس پر شازین نے صاف انکار کردیا اور اسے بس اسٹیج پر بیٹھنے کا کہا۔۔۔۔

رونق لگنا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔! مہندی بھرپور طریقے سے منائی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔! کچھ لمحات بعد شیزا کو کچھ لڑکیوں کے زیرِ نگرانی لایا گیا۔۔۔۔۔

سلمان شیزا کو دیکھتے ہوئے مسکرایا جس کی نظریں جھکی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ اس نے قریب پہنچ کر پلکوں کو اوپر اٹھاتے ہوئے اس شخص کو دیکھا جو اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے کھڑا پہلے ہی ہو گیا تھا۔۔۔۔

اور جیسے ہی وہ قریب پہنچی اس نے ہاتھ تھامنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔۔! جس پر شیزا نے آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔۔

جس پر سب مسکرائے۔۔۔۔۔۔! پھر مہندی کی رسمیں شروع کی گئی۔۔۔۔۔ اور ایک ایک کر کے سب نے مہندی کی رسمیں شروع کی۔۔۔۔۔۔!

سلمان پوری مہندی کی رسم میں اسے کی دیکھتا رہا۔۔۔۔۔! اس کی نظروں کی تپش شیزا خود پر محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔ لیکن ایک دفعہ دیکھنے کے بعد نماز نے نظریں جھکائے رکھی۔۔۔۔۔!

ساری رات رونق لگی رہی تھی۔۔۔۔۔! اور سب اس سے لطف اندوز ہوتے رہے۔۔۔۔۔! اور یوں ہی مہندی کی یہ رات کٹ گئی۔۔۔۔۔!

جیسے ہی عائشہ کمرے میں پہنچی سامنے علی کو پایا۔۔۔۔ کڑے چینج وہ پہلے ہی کر چکی تھی۔۔۔۔۔! اس لیے پیڈ کی دوسری سائیڈ پر جا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔!

” بیگم میں دیکھ رہا ہوں کہ تم مجھے بہت اگنور کر رہی ہوں۔۔۔۔۔! “

علی ہلکا سا اس کی طرف سرکا تھا اور منھ بناتے ہوئے کہا جس پر عائشہ نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔۔!

” ایک منٹ ایک منٹ کیا کہا آپ نے۔۔۔۔۔۔؟”

عائشہ نے چڑھتے ہوئے کہا کہ پورے دن میں اگر تین گھنٹے اس کے ساتھ نہیں بھی تھی تو کیا ہوا۔۔۔۔۔؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *