Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt NovelR50481 Sitam E Ishq (Episode - 2)
Rate this Novel
Sitam E Ishq (Episode - 2)
Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt
وہ تیز رفتار میں گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔۔ جبکہ ساتھ ہی اس کی بیوی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔ عمر کا چھوٹا بھائی انوار تھا۔۔۔۔ جس کا ایک بڑا بیٹا اور ایک چھوٹا بیٹا تھا۔۔۔ اس کی شادی عمر سے پہلے ہوئی تھی۔۔۔۔ عمر اور سلمی کی دو بیٹیاں تھی۔۔۔ ”عائشہ اور رابعہ “
جس طرح عمر کا ایک بھائی تھا۔۔۔ اور اسی طرح عائشہ کا بھی ایک بھائی تھا۔۔۔
”بچیاں آج کافی اداس تھی۔۔۔۔!!“
سلمیٰ نے چہرے پر اداسی سجائے ہوئے اس سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔ جبکہ عمر نے اس کا چہرہ دیکھا تو انھوں نے سلمی کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔
”کوئی بات نہیں شاہینہ ہے ان کے پاس ویسے بھی جلدی چلے جائیں گے۔۔۔۔۔!!“
یہ کہتے ہوئے ان دونوں نے سامنے دیکھا تو ان کی نظریں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی۔۔۔۔ سامنے سے ہی ایک تیز رفتار گاڑی آرہی تھی۔۔۔ اگر وہ سٹیرنگ نہ گھماتے تو اس سے ٹکڑا جاتے لیکن ان کی قسمت کہ جیسے ہی سٹیرنگ گھمایا تو گاڑی آؤٹ آف کنٹرول ہوگئی اور سامنے درخت سے کر ٹکڑا گئی۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی میں آگ لگ گئی تھی۔۔۔۔ وہ دونوں اس دنیا سے جاچکے تھے۔۔۔۔ سن کی زندگی یہی لکھی تھی۔۔۔۔ انھوں نے ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی تھی وہ قسمیں آج شائید سچ ہوگئی تھی۔۔۔۔
اپنی بچیوں کو اس دنیا میں اکیلے چھوڑ وہ چلے گئے تھے۔۔۔ ماں باپ کے نہ رہنے کے بعد یہ دنیا بہت ظالم بن جاتی ہے۔۔۔۔!! کیا بتاؤ کہ ان بچیوں پر کیا کیا ستم نہ کئے گئے تھے۔۔۔۔۔۔ اس دن کے بعد ان بچیوں کو اس کے ماموں لے گئے تھے۔۔۔۔ ان سے کام کروانے کے لیے۔۔۔ ان سے ان کا سکول چھڑوا دیا گیا تھا۔۔۔۔ وہ گھر بیٹھ کر کام کرتی تھی۔۔۔۔ جبکہ چھوٹی سی رابعہ جو بولتی بھی نہ تھی۔۔۔۔ وہ بھی اس کی مامی کے ظلم کانشانہ بنتی۔۔۔۔
ایک دن جب ان کی پیاری سی پھپھو جان ان سے ملنے گئی تھی۔۔۔۔ تو یہ سب وہ دیکھ کر رہ نہ سکی تھی۔۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ ان بچیوں کو اپنے ساتھ حویلی لے آئی تھی۔۔۔۔۔ اس کے چچا بھی یہی چاہتے تھے۔۔۔۔ کیونکہ اس حویلی کا آدھا حصہ عمر درانی کے نام تھا۔۔۔۔ جو انھوں نے عائشہ اور رابعہ کے نام کیا تھا۔۔۔۔ جو وہ اپنے نام کروانا چاہتے تھے صرف اسی وجہ سے۔۔۔۔
جو ظاہر ہو جائے وہ درد کیسا۔۔۔۔!!
جو سمجھ نہ سکے وہ ہمدرد کیسا۔۔۔۔!!!
(![]()
)
ان کی پھپھو نے بچپن میں عائشہ کا رشتہ اپنے بڑے بیٹے ارمان سے طہ کردیا تھا۔۔۔۔ جبکہ اس بات کا علم ارمان کو تھا لیکن عائشہ کو نہیں لیکن عائشہ کو یہ بالکل بھی معلوم نہ تھا ، جبکہ ارمان یہی سمجھتا تھا کہ عائشہ اس رشتے کی ساری حقیقت کو جانتی ہے۔۔۔۔!! اور وہ اس کی امانت ہے۔۔۔۔!!!
عائشہ اور رابعہ کا وہاں جا کر سکول دوبارہ داخلہ کروایا گیا تھا۔۔۔۔اس کی چچی اور بڑا بیٹا انھیں کچھ خاص پسند نہیں کرتے تھے۔۔۔۔ لیکن ان کے لیے اپنے چچا اور پھپھو کا ہی پیار کافی تھا۔۔۔۔ اور ان کے پیارے سے دوست ”شازین“
(______حال_______)
زندگی میں انھیں لوگوں کی پہچان بہت جلد ہوگئی تھی۔۔۔ کیونکہ اب انھیں بچانے والے ، ان کو سہارا دینے والے ، ان سے پیار کرنے والے ، ان کے ماں باپ اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔۔۔۔ عائشہ اور رابعہ کے ماموں نے ان سے معافی مانگنے کی کوشش کی تھی لیکن عائشہ کو رابعہ سے ملنے سے بھی منع کیا تھا ، اور خود بھی انکار کردیا تھا ملنے سے۔۔۔
وہ دکھی ہوکر لوٹ گئے تھے،،،،
اس وقت وہ یونیورسٹی میں موجود تھی۔۔۔۔ جبکہ رابعہ ابھی کالج جاتی تھی،،،، وہ کالج میں تھی۔۔۔
عائشہ کینٹین میں بیٹھی ہوئی تھی اپنی دوست کے ساتھ ، جب ہی وہاں وہ کالے رنگ کی پینٹ اور نیلے رنگ کی شرٹ میں ملبوس پہنچا تھا۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ نظریں جھکا نہ سکا ، یا نظروں سے جھکنے سے انکار کردیا ، یا دل نے نظروں کو جھکنے ہی نہیں دیا،،،
ہاں یہ وہی تھی ، جس کو اس نے بڑی ہی شدت سے چاہا تھا ، لیکن یہ محبت ، یہ عشق پوری یونی میں کسی کو بھی اس بارے میں معلوم نہ تھا۔۔۔۔ حتی کہ اس بارےمیں خود عائشہ بھی نہیں جانتی تھی،،
آخر کیوں۔۔۔ ؟؟ کیوں اس نے اپنے جذبات کو چھپا کر رکھا تھا۔۔۔ ؟ کیوں۔۔۔ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ اس سے کوئی افئیر نہیں چلانا چاہتا ہے،، وہ اسے باقاعدہ طور پر رشتہ بھیج اپنی شریک حیات بنانا چاہتا ہے۔۔ کیونکہ وہ دوسروں کی ماؤں بہنوں کی عزت کرنا جانتا ہے،،، کیونکہ وہ جانتا ہے اگر وہ کسی کی بہن یا بیٹی پر گندی نکاح ڈالے گا تو یہ دنیا مکافات عمل ہے۔۔۔ جو کاٹو گے وہی بو گے،،،،
لیکن ”عشق“ یہ ایک ایسے احساس کا نام ہے جس کے لیے انسان کافر بننے کو بھی تیار ہو جاتا ہے،،، وہ کہتے ہیں نہ پیار اور جنگ میں سب جائز ہے،،،
لیکن پھر بھی کبھی اس کی نظر عائشہ پر پڑ بھی جائے تو نظریں جھکانے سے قاصر ہو جاتا ہے۔۔۔۔ پر وہسکی وقت کے انتظار میں ہے،، کیونکہ اس کے والدین لندن میں رہتے ہیں،، جب وہ آئیں گے تو ہی وہ رشتہ بھی بھیجے گا،،، اور اگر وہ یہاں ہوتے تو وہ کب کا اسے اپنی شریک حیات بنانا ہوتا،،
وہ جو اس کے خیالات میں ڈوبا ہوا تھا،،،، ایک دم سے ہوش میں آیا تو دیکھا جو سامنے بیٹھی تھی وہ تو کب کی جاچکی تھی۔۔۔۔
لیکن اس پر کسی نے اتنا غور نہیں کیا تھا،،،، وہ ”علی درانی“ تھا۔۔۔۔ جس نے کبھی اپنی سوتیلی ماں کے سامنے سر نہیں جھکایا تھا،، وہ اس کے سامنے جھکنے کے لیے بھی تیار تھا،،،، وہ جس نے کبھی کسی سر کی بات تک نہ مانی تھی،،، وہ اس کے عشق میں پاغل ہو رہا تھا،،، لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی یہ محبت تو یک طرفہ ہے،، کیونکہ وہ تو کسی اور کے نصیب میں لکھی جا چکی تھی۔۔۔
یونی کا جب ٹائم ختم ہوا تو اسے شازین لینے آیا تھا،، آج اس کی چھٹی لیٹ تھی،، تو رابعہ پہلے ہی چلی گئی تھی،، وہ گھر آئی تو گاڑی سے اتری تھی۔۔۔۔ اور سامنے کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اس کا سر ایک چوڑے سینے والے شخص سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔ جس سے عائشہ کے سر میں شدید درد ہوا تھا۔۔۔
“آہ۔۔۔ دیکھ کر نہیں چل سکتے اندھ۔۔۔!!“
وہ جو پٹڑ پٹڑ بولے جارہی تھی سامنے سے اس شخص کو دیکھ کر اس کی قینچی کی طرح چلتی زبان ایک دم تک سی گئی تھی۔۔۔۔ جبکہ سامنے کھڑا شخص اسے سرد مہری سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس نے فوراً نظریں جھکا لی تھی۔۔۔
”س۔۔ سور۔۔سوری۔۔۔۔!!“
اس کے خوف کے باعث اس کے الفاظ لڑکھڑا گئے تھے۔۔۔۔۔
”کیا سوری۔۔۔؟ اور میں نے تم سے کتنی بار کہا کہ میرے سامنے مت آیا کرو۔۔۔ مجھے بالکل بھی تم پسند نہیں ہو۔۔۔“
اس نے ہے سرد مہری سے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ شازین جو گاڑی پارک کرنے گیا ہوا تھا،،، وہ وہاں پہنچا تو اس سے پہلے ہی عائشہ وہاں سے اپنے کمرے کی طرف گئی تھی۔۔۔۔ شازین نے اسے ایک گھوری سے نوازہ تھا۔۔۔۔۔ لیکن وہ اسے جھٹکتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا تھا،،، جبکہ شازین اپنے کمرے کی طرف۔۔۔۔۔۔
عائشہ کمرے میں داخل ہوئی تو رابعہ اس کے ہی انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی،،، یہ تو روز کا معمول تھا۔۔۔۔ ایسا کوئی دن نہیں ہے جس دن اس نے عائشہ سے تلخ مزاجی نہ کی ہو،،،
”کیا کہہ رہا تھا وہ ڈریگن۔۔۔۔!!“
رابعہ نے عائشہ سے سوال پوچھا تھا۔۔۔ اس کا نام ان دونوں نے اس کی
پرسنیلٹی کے مطابق دیا تھا۔۔ ”ڈریگن“ ، کیونکہ وہ ہر وقت منھ سے آگ جو نکالتا ہے،،،
”جو ڈریگن روز کہتا۔۔۔ شکل مت دکھایا کرو،،،“
عائشہ نے بھی منھ چڑھاتے ہوئے اسے جواب دیا تھا۔۔۔ جبکہ رابعہ مسکرا گئی تھی۔۔۔۔
اس کا اصل نام ”سلمان“ تھا۔۔۔ لیکن ڈریگن والا نام صرف اور صرف عائشہ اور رابعہ کو ہی پتہ تھا،،،،
الماری سے کپڑے نکالنے ہوئے عائشہ واش روم میں چلی گئی تھی،، فریش ہونے کے لیے۔۔۔۔۔۔
”دیکھیں آپ انوار صاحب سے رابعہ کے رشتے کی بات سعد کے لیے۔۔۔۔!! کیونکہ عائشہ تو سعد سے بڑھی ہے۔۔۔۔!! لیکن رابعہ چھوٹی ہے۔۔۔ آپ سلمی کے بھائی ہیں۔۔۔ اتنا حق تو آپ کا بنتا ہے۔۔۔ ویسے بھی کروڑوں کی جائیداد نام ہے صرف رابعہ کے،،،“
آمنہ نے اپنے شوہر امجد سے کہا تھا جو کہ عائشہ اور رابعہ کے ماموں تھے،،
”تمھیں کیا لگتا ہے کہ وہ لوگ ہمیں رشتہ دے دیں گے،،، رابعہ کا۔۔۔۔!!“
امجد نے آمنہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
”جی ضرور دے دیں گے۔۔۔ کیوں نہیں۔۔۔!!“
آمنہ نے اسے جیت کی طرف بڑھتی ہوئی راہ کی منزل کی ایک امید کی کرن دکھائی تھی۔۔۔
لیکن قسمت میں تو کچھ اور ہی تھا،،،
