Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt NovelR50481 Sitam E Ishq (Episode - 18)
Rate this Novel
Sitam E Ishq (Episode - 18)
Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt
”بی بی جی۔۔۔۔! آپ سے کوئی ملنے آیا ہے۔۔۔۔“
کنیز نے عائشہ کے کمرے میں آتے ہوئے اسے کہا تھا۔ عائشہ اس وقت پڑھ رہی تھی۔ وہ کچھ دیر پہلے ہی یعنی سے واپس آئی تھی۔
” مجھ سے ملنے۔۔۔۔۔۔!!“
عائشہ نے حیرانگی سے اس سے سوال کیا تھا۔ کہ اس سے کون ملنے آسکتا ہے۔۔۔۔!!
” جی بی بی جی۔۔۔۔! وہ لوگ ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں آپ مل لیں ان سے۔۔۔۔ میں چائے بنا دیتی ہوں۔۔۔!!“
کنیز نے اس سے کہا تھا۔ عائشہ سر اثبات میں ہلایا اور اٹھ کر ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔ جبکہ کنیز کچن کی طرف بڑھ گئی تھی۔
عائشہ ڈرائنگ روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو منجمد رہ گئی تھی۔۔ اسے بالکل بھی یقین نہ تھا کہ وہ لوگ اس سے ملنے آئے گے۔ اس نے تو ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔ اس کے بالکل سامنے ہی شازین ، رابعہ اور سلمان تھے۔
لیکن ان کی طرف بڑھنے سے بہتر اس نے وہی کھڑے رہنا سمجھا۔ وہ خود کو ان کے سامنے کمزور ثابت نہیں کر سکتی۔ جو اس کے ساتھ ہوا تھا اس کے بعد وہ انھیں کیسے بلاتی۔۔۔۔۔؟ یہ وہی لوگ تھے۔ جنھوں نے اس کے ساتھ اتنا غلط کیا تھا۔ یہ وہی تھے۔ جنھوں نے اس پر یقین کیا تھا۔
” آپ لوگ یہاں۔۔۔۔۔؟؟“
سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے اس نے نہایت ہی سرد مہری میں کہا تھا۔ اس کی یہ سرد مہری ان میں سے کسی سے بھی برداشت نہ ہوئی تھی۔ لیکن اب یہ برداشت کرنا ان کی مجبوری تھی۔
رابعہ سامنے بہن کو دیکھ کر رہ نہ سکی تھی اور جا کر اس کے گلے سے لگ گئی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ گئے تھے۔ عائشہ نے بھی اسے خود میں بھینج لیا تھا۔ اس میں اس کی بہن کا تو کوئی قصور نہ تھا نہ وہ اس سے کیوں دوریاں اختیار کرتی۔۔۔۔۔؟
” کیسی ہو رابعہ۔۔۔۔۔!!“
عائشہ نے اس کو سہلاتے ہوئے اس سے سوال کیا تھا۔ جبکہ شازین اور ارمان خاموشی سے کھڑے تھے۔
”میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ اور تم سناؤ کیسی ہوں۔۔۔۔۔!!“
رابعہ اس سے دور ہوتے ہوئے اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہے۔۔۔۔! عائشہ مسکرا گئی تھی۔
” میں بھی بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔!!“
عائشہ نے مسکرا کر جواب دیا۔ شازین دو قدم چل کر آگے کی طرف بڑھا تھا۔ جب ہی عائشہ نے اس کے قدم روک دیے تھے۔۔
” وہی رک جائیں۔۔۔۔ آپ کو جو بات کرنی ہے وہی کھڑے رہ کر کریں۔۔۔۔۔!!”
عائشہ کی بات سن کر وہ سختی سے مٹھیاں بھینج گیا تھا۔
” ع۔۔ عائشہ پلیز ہمیں معاف کر دو۔۔۔!!“
شازین کے اندر تو اس سے معافی بھی مانگنے کی ہمت بھی نہ ہوئی تھی۔ وہ نظریں جھکائے کھڑا تھا۔ جبکہ ارمان کو تو جیسے چپ ہی لگ گئی تھی۔
” معافی۔۔۔۔۔۔!! واؤ میں نے کہیں کچھ غلط تو نہیں سن لیا۔۔۔۔! “
وہ طنزیہ مسکراتے ہوئے کہتی ہے۔ شازین اور سلمان بس اس کے بدلے رویے کو دیکھ رہے تھے کہ ان کی وجہ وہ کیسی ہوگئی تھی۔
” عائشہ پلیز معاف کر دو۔۔۔۔ ہم سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے۔۔۔۔۔!!“
سلمان نے ہمت کرتے ہوئے کہا تھا۔
” کتنا آسان ہے نہ آپ لوگوں کے لیے سوری کہنا۔۔۔۔۔! نہیں نہیں نہیں۔۔۔۔ آپ لوگوں نے تو معافی بھی بہت ہی ہمت کر کے مانگی ہے۔ وہ کیا ہے نہ معافی مانگنے سے تو آپ کی توحین ہو جائے گی نا۔۔۔ اپنی توحین مت کریں۔۔۔ اس کا کوئی فایدہ نہیں ہے اب۔۔۔۔!!“
اس نے طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ اپنی زندگی کے ان بدترین دنوں کو یاد کرکے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
” عائشہ۔۔۔۔۔۔! ہم مانتے ہیں کہ ہم سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے۔۔۔۔! ہمیں ایسا بالکل بھی نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ ہمیں تم پر یقین کرنا چاہئیے تھا۔ لیکن ہم سے سب سے بڑی غلطی یہی ہوئی تھی۔ خدا کے لیے ہم پر یہ ظلم نہ کرو خدا کا واسطہ ہے کہ ہمیں معاف کر دو۔۔۔“
سلمان نے گڑگڑا کر اس سے معافی مانگی تھی۔ رابعہ کی آنکھیں بھی نم ہوگئی تھی۔
” معافی۔۔۔۔۔! کیوں دو میں معافی۔۔۔۔۔! جس وجہ سے۔۔۔ مانا کہ آپ کو مجھ پر بالکل بھی یقین نا تھا۔ لیکن ایک مرتبہ میری بات تو سنی ہوتی۔ ایک مرتبہ جھوٹے منھ ہی سہی مجھ سے کچھ پوچھا تو ہوتا تو میں سچ بتاتی۔۔۔۔ پر نہیں جو آپ نے کہہ دیا وہ تو پتھر پر لکھی ہوئی تحریر ہوگئی جو کبھی غلط نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔!!“
وہ نرمی سے بولے جارہی تھی۔ وہ چپ چاپ سن رہے تھے۔
” میں آپ کو کبھی بھی معاف نہیں کرو گی۔۔۔۔۔!! “
عائشہ نے رخ پھیر کر کہا تھا۔ شازین اس کی طرف بڑھا تھا۔
” عائشہ پلیز صرف ایک مرتبہ ہمیں معاف کر دو۔۔۔۔۔ دیکھو اگر تم معاف کر دو گی نہ تو ہمیں خدا بھی معاف کردے گا۔ تم اپنے بھائیوں کے اس گناہ کو معاف کر دو پلیز۔۔۔۔۔!!“
شازین نے یہ کہتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ باندھ لیے تھے۔ وہ یہ کیسے دیکھ سکتی تھی۔ وہ جیسا تھا۔ وہ آج بھی اسے اپنا بھائی مانتی تھی۔ عائشہ کا دل برا کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔۔۔؟
” میں نے کہا نہ کہ میں آپ کو کبھی بھی معاف نہیں کرو گی۔۔۔ !“
وہ چیخ پڑی تھی۔ جبکہ شازین نے ابھی بھی ہاتھ باندھے تھے اگلے ہی لمحے وہ اس کے پیروں میں بیٹھ گیا تھا۔ عائشہ کا دہل گیا تھا۔ وہ یہ کیسے دیکھتی؟
” میں نے آپ کو معاف کیا۔۔۔۔ “
اس کے یہی چند الفاظ سننے کے لیے وہ لوگ وہاں آئے تھے۔ شازین ہلکا سا مسکرایا اور کھڑا ہوا تھا۔
” عائشہ جو غلطیاں میں نے کی اس کے لیے آئم سو سوری۔۔۔۔۔!!پلیز مجھے معاف کر دو۔۔۔۔“
سلمان نے بھی آگے بڑھتے ہوئے اس سے معافی مانگی تھی۔ عائشہ اس کی طرف مڑی تھی۔
”سلمان بھائی میں آپ کو بھی معاف کرتی ہوں۔۔۔۔۔! “
عائشہ نے کہا وہ ہلکا سا مسکرا گیا۔۔۔۔ جبکہ عائشہ رابعہ کے پاس گئی تھی۔
” عائشہ جو غلطیاں ہم نے کی ہیں۔۔۔۔۔ ہم اس کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔!!“ سلمان اس کی طرف بڑھتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔۔!!
” ہاں عائشہ۔۔۔۔ تم ہمارے ساتھ چلو۔۔۔۔۔ ہم تمھیں یہاں نہیں رہنے دے گے۔۔۔۔!! تم ہمارے ساتھ چلو۔۔۔“ شازین نے سلمان کی ادھوری بات کو مکمل کیا تھا۔
” نہیں میں آپ کے ساتھ وہاں بالکل بھی نہیں جاؤ گی۔ میرا اس گھر سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔۔۔۔ اور ویسے بھی میں ایسے پیار کرنے والے گھر کو چھوڑ کر کیوں جاؤ۔۔۔۔۔! اور کچھ دن بعد میں رابعہ کو بھی یہی بلوا کو گی۔۔۔۔“
عائشہ نے سنجیدگی سے اپنی بات مکمل کی تھی۔ شازین کے ماتھے پر بل پڑے۔۔
” میری بیوی یہاں کیوں رہے گی۔۔۔۔؟ “
شازین نے کہا تو عائشہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا۔ کیا وہ واقع رابعہ کے متعلق بات کررہا تھا۔
” ہاں تم نے سہی سمجھا میری اور رابعہ کی شادی ہوگئی ہے۔۔۔۔!!“
شازین نے رابعہ کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ رابعہ کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا یہ سن کر جبکہ عائشہ چہرے پر ہلکی مسکراہٹ لیے اسے گلے لگا لیا تھا۔وہ ان کے رشتے کے متعلق جانتی تھی۔ کیونکہ وہ اس کی بڑی بہن تھی تو اسے معلوم ہونا ضروری تھا۔
” وہ لوگ واپس آگئے ہیں۔۔۔۔! اور سب سے بڑی بات کہ عائشہ وہاں خوش ہے۔۔۔۔۔! اس نے صاف طور پر انھیں کہہ دیا ہے کہ اس کا اس گھر سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔۔۔۔ وہ یہاں کبھی نہیں آئے گی۔۔۔۔۔!!“
کمرے کی کھڑکی میں کھڑا تھا وہ۔۔۔ سلمی صوفے پر بیٹھے ہوئی اسے سب کچھ بتا رہی تھی۔ وہ ہاتھ پشت سے لگائے اس کی باتوں کو سمجھ رہا تھا۔
” ہمممم۔۔۔۔! ایک کو تو ہم نے یہی رکھ لیا ہے سلمی۔۔۔۔!! اب اس عائشہ کا کچھ کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس گھر کا آدھا حصہ عمر نے مرنے سے پہلے عائشہ اور رابعہ کے نام کیا تھا۔ اور جب تک رابعہ پچیس سال کی نہیں ہوتی۔ اس وقت وہ حصہ بھی عائشہ کے نام ہے۔ “
اس نے وہی کھڑے ہوئے کہا تھا۔ سلمی ایک گہری سوچ میں پڑ گئی تھی۔
” مطلب بس عائشہ سے سائن کروانے ہیں۔۔ کیونکہ رابعہ تو پہلے ہی یہی پر موجود ہے۔۔۔!!“
سلمی نے کہا تو اس شخص کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
” نہیں۔۔۔۔ اب چار سال کا انتظار تو نہیں کرسکتا ہوں میں۔۔۔۔۔!! مجھے جلد از جلد عائشہ سے سائن کروانے ہوں گے۔۔۔۔!!“
اس نے مرتے ہوئے کہا تھا۔
” تو اب آپ کیا کرنے والے ہیں۔۔۔۔۔!!”
سلمی نے اس سے ارادوں کے متعلق طلب کیا تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔۔۔۔؟ اس کے ارادے کیا ہیں۔۔۔۔
” یہ تمھیں جلد معلوم ہو جائے گا۔۔۔ سلمی۔۔۔۔۔بس یہ ولیمہ ہو جائے۔۔۔۔“
اس نے سلمی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بس ایک مرتبہ شازین اور رابعہ کا ایک مرتبہ ولیمہ ہو جائے اسے سب خود بخود پتہ لگ جائے گا۔
” مگر انوار۔۔۔۔۔!!!“
اس سے پہلے کہ سلمی اپنی بات مکمل کرتی وہ کمرے سے نکل گیا تھا۔ ہاں وہ انوار ہی تھا۔ وہ ماسٹر مائنڈ وہی تھا۔ جس کے کہنے پر سلمی بیگم یہ سب کچھ کر رہی تھی۔ وہی تھا وہ عائشہ اور رابعہ کا سب سے بڑا دشمن۔۔۔۔۔!!!
