Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 34) Last Episode

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

سلمان اور شیزا کی شادی کے بعد وہ دونوں ہنی مون کے لیے سویٹزرلینڈ چلے گئے تھے۔۔۔۔” جبکہ عائشہ اور علی بھی گھومنے کے لیے مانچسٹر چلے گئے۔۔۔۔۔!

شہرام نے ربعیہ اور شازین کو بہت تنگ کر کے رکھا تھا۔۔۔۔۔” جب شازین سامنے ہوتا تو ماں کے پاس جانے کا نام نہ لیتا۔۔۔۔۔ جبکہ جب وہ نہ ہوتا تو ربعیہ کی جان سختی میں آجاتی۔۔۔۔”

بہت نکھریلا تھا بالکل اپنے باپ پر گیا۔۔۔۔ لیکن سارے نین نقش ماں پر گئے تھے۔۔۔۔۔! جبکہ علی اور عائشہ بھی جلد ہی والدین کے رتبے پر فائز ہونے والے تھے۔۔۔۔!

کچھ سال بعد۔۔۔۔!!

” علیشہ۔۔۔۔۔! بیٹا جلدی آؤ ناشتہ کرو اس کے بعد سکول بھی تو جانا ہے آج میری بیٹی نے۔۔۔۔۔!”

علی نے اپنی بیٹی کو بلاتے ہوئے کہا جبکہ عائشہ اس کے لیے ناشتہ لائی تھی۔۔۔۔” اپنے باپ کی بات کو سنتے وہ فوراً بھاگتے ہوئے آئی اور اپنے بابا کو ہے کیا۔۔۔۔!

” اف۔۔۔۔! بابا میں اب چھوٹی بچی نہیں ہوں بڑی ہو گئی ہو مجھے پتا ہے کہ سکول جانا ہے۔۔۔۔۔!”

علیشہ نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا کہ وہ جانتی ہے کہ آج اسے سکول جانا ہے۔۔۔۔! جس پر وہ دونوں کھلکھلا کر مسکرا گئے۔۔۔۔۔!

” جی جی میری بیٹی کو سب پتہ ہے۔۔۔۔! چلو اب جلدی کرو ناشتہ کرو۔۔۔۔! “

وہ جو اپنے باپ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔! اپنی ماں کی بات سنتے ہوئے اس نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔!

” میں سادان کو دیکھ لو زرا۔۔۔۔۔”

عائشہ اٹھتے ہوئے وہاں سے جاتے ہوئے کہہ گئی جس پر علی نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔! اور اپنی ننھی پری کو ناشتہ کروانے لگا۔۔۔۔!

” بابا آپ کو پتا ہے بھیا سویا ہوا ہے۔۔۔۔۔”

علیشہ نے اپنے والدین کو بتایا کہ اس کا بھائی سو رہا ہے۔۔۔۔ جس پر وہ سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔۔ اور مسکرایا۔۔۔۔”

سادان عائشہ اور علی کا دوسرا بیٹا تھا جو ابھی بس چھ ماہ کا ہی تھا۔۔۔۔! جبکہ علیشہ پانچ سال کی ہو چکی تھی۔۔۔۔۔!

وہ آفس سے تھکا ہارا ہوا گھر واپس لوٹا اور کمرے میں داخل ہوگیا۔۔۔۔! جہاں عائشہ سادان کے پاس کھڑی تھی جو ابھی ابھی سویا تھا۔۔۔۔۔”

اسے دیکھتے ہی علی کی ساری تھکن دور ہو جاتی۔۔۔۔۔” وہ چلتا ہوا اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔” جبکہ عائشہ کو اب تک معلوم نہ تھا کہ وہ کمرے میں داخل ہو چکا ہے۔۔۔۔۔!

وہ چلتا ہوا اس کے بہت ہی زیادہ قریب پہنچ گیا اور پیچھے سے ہی اسے اپنے حصار میں لیا۔۔۔۔” ایک لمحے کے لیے تو عائشہ کی جان نکل گئی۔۔۔”

لیکن پھر اس مردانی مہک کو محسوس کرتے ہوئے وہ سمجھ گئی کہ وہ علی ہی ہے۔۔۔۔! جس پر وہ مسکرائی۔۔۔۔!

” خیر ہے آپ آج جلدی آگئے۔۔۔۔!”

عائشہ نے اس کی طرف مڑتے ہوئے سوال کیا جس پر علی ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔!

” وہ کیا ہے نہ کہ مجھے اپنے بیوی کے ساتھ وقت گزارنا ہے اور میں تھک بھی گیا تھا۔۔۔۔! لیکن تم تو میری ساری تھکاوٹیں دور کر سکتی ہو۔۔۔۔!”

اسے بتاتے ہوئے اس نے کہا اور دل کے مزید قریب کرتے ہوئے وہ اس کے لبوں پر جھکا۔۔۔۔! اور اپنا پیار اس پر نچھاور کرنے لگا۔۔۔۔! جبکہ اس کی پناہوں میں وہ خود کو محفوظ معلوم کرتی تھی۔۔۔۔۔!

کئی سال گزر گئے تھے کہ لیکن اس کی محبت میں کوئی بھی کمی نہ آئی تھی۔۔۔! شائید اسے ہی اصل محبت کہتے ہیں۔۔۔۔!

” بیٹا۔۔۔۔۔! ٹیچر کو بالکل بھی تنگ نہیں کرنا ہے میری جان۔۔۔۔! کل بھی آپ کی ٹیچر بتا رہی تھی کہ آپ نے شرارت کی تھی۔۔۔۔”

وہ اس کی ٹائی کو سیٹ کرتے ہوئے اسے سمجھانے میں مصروف تھی۔۔۔۔!جبکہ شہرام نے معصوم منھ بناتے ہوئے ربعیہ کو دیکھا۔۔۔۔!

” مما میں نے کچھ نہیں کیا تھا بس میں نے تو ایک سپائڈر سے دوستی کی اور اسے میم کو دکھایا اور ان کے ٹیبل پر رکھا وہ خود ڈری۔۔۔۔!”

وہ معصوم منھ بناتے ہوئے اسے بتا رہا تھا کہ اس نے کچھ نہیں کیا جس پر شازین کمرے میں داخل ہوتے ہوئے مسکرایا۔۔۔۔۔!

” ہاں بھئی دیکھو میرے بیٹے نے کچھ بھی نہیں کیا تم بے کار میں ہی کل سے پریشان ہو رہی تھی۔۔۔۔ “

شازین نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر شہرام جا کر اپنے باپ کے گلے لگا اور کمرے سے بھاگ گیا۔۔۔۔”

” اتنی مت شے دیا کریں اسے آپ۔۔۔۔!”

اس کے قدموں کو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ وہ بولی۔۔۔۔! جس پر اس نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔۔!

” میں دیکھ رہا ہوں کہ مجھ سے زیادہ ٹائم تم میرے بیٹے کو دے رہی ہو۔۔۔۔۔! اور ایسے میں اس سے جیلسی فیل کرنے لگا ہوں۔۔۔۔۔!”

اسے اپنی باہوں کے حصار میں لیتے ہوئے وہ بولا۔۔۔۔! جس پر مسکرائی۔۔۔۔۔!

” اپنے بیٹے سے جیلس ہو رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔!”

اس کی نظروں اور چہرے پر سوال تھا جبکہ شازین مسکراتے ہوئے اسی وقت اس کے بالوں میں اپنا منھ چھپا گیا تھا۔۔۔۔! اور اس کی دلفریب مہک کو محسوس کرنے لگا۔۔۔۔۔ جبکہ وہ مسکرائی۔۔۔۔!

کچھ لمحات بعد پیچھے ہوتے ہوئے اس کے بالوں کو گردن سے ہٹاتے ہوئے وہ اس کی گردن پر اپنا لمس چھوڑ گیا۔۔۔۔” اور اگلے ہی لمحے ہی اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لے گیا۔۔۔۔!

کچھ لمحات بعد پیچھے ہوا جبکہ ربعیہ ابھی بھی اس کی حصار میں ہی تھی۔۔۔۔!

“چلیں۔۔۔۔!”

اس کو مسکراتا ہوا دیکھ کر ربعیہ نے اس سے سوال کیا جس پر وہ سر ہاں میں ہلا گیا اور وہ مسکرائی۔۔۔۔! اب ان کے درمیان کوئی جھجک باقی نہیں رہی تھی۔۔۔۔!

اب اسے شازین کے چھونے سے ڈر نہ لگتا۔۔۔۔۔” بلکہ وہ اسے قریب پا کر پر سکون محسوس کرتی تھی۔۔۔۔”

اپنی بیٹی کے لیے دودھ بناتا ہوا وہ کمرے میں داخل ہوا جہاں شیزا اسے چپ کروا رہی تھی۔۔۔۔” سلمان مسکرایا اور اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔!

شیزا نے اس کے ہاتھ سے دودھ پکڑتے ہوئے نورین کو پلانا شروع کیا۔۔۔۔! جس پر اس کے رونے کی گونج ختم ہوئی اور کمرے میں خاموشی چھا گئی۔۔۔۔”

” کتنی یاری لگ رہی نا۔۔۔۔!”

سلمان نے محبت سے کہتے ہوئے اپنی ننھی سی پری کا ماتھا چوما۔۔۔۔!!

” بالکل مجھ پر جو گئی ہے۔۔۔۔۔!”

شیزا نے گردن کو اکڑاتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکرایا۔۔۔۔!

“اس میں کوئی شق کہ یہ تم پر نہیں گئی ہے۔۔۔۔!”

یہ کہتے ہوئے اس کے ماتھے پر اپنی محبت کا لمس چھوڑ گیا۔۔۔۔! اس کا لمس محسوس کرتے ہوئے شیزا ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔!

وہ تینوں فیملیز سنڈے کا دن ایک ساتھ گزارتے تھے۔۔۔۔! سب بھی بچے بھی ایک دوسرے کے ساتھ کافی گھل مل گئے تھے۔۔۔۔!.

اور جس گھر میں پھر بچے ہوں وہاں کیسے یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ شور نہ ہو۔۔۔۔؟ نورین بھی ان میں کافی خوش ہو جاتی چاہے وہ چھوٹی تھی لیکن پھر بھی سب کو پہچانتی تھی۔۔۔۔۔”

وہ سب اکٹھے بیٹھے ہوئے باتوں میں مصروف تھے۔۔۔۔۔” جب ہی عائشہ کی نظر علی ہر گئی تھی۔۔۔۔!! جو مسکرا رہا تھا۔۔۔۔!

وہ خدا کی طرف سے اس کے لیے ایک تحفہ تھا۔۔۔۔! ایک بہت ہی انمول تحفہ۔۔۔۔! اس نے زندگی کے بہت نشیب و فراز دیکھے۔۔۔۔۔۔۔۔! بہت آ

زیادہ آزمائشیں جھیلی۔۔۔۔

اس نے سب پر صبر کیا اور ہر حقیقت کو قبول بھی کیا۔۔۔۔۔! جس کے نتیجے میں ہی اسے علی جیسا ایک حسین تحفہ ملا۔۔۔۔!

جس نے اس کی زندگی میں قدم رکھتے ہی اس کے سارے غموں کو ختم کردیا تھا۔۔۔۔۔!

ربعیہ نے بھی بہت زیادہ نشیب و فراز دیکھے لیکن اس کی قسمت میں شازین لکھا گیا۔۔۔۔” جسے اس نے بڑوں کا فیصلہ سمجھ کر قبول کیا اور آج وہ اس کے حق میں بہت بہتر ثابت ہوا۔۔۔۔”

سلمان نے بھی کبھی شادی سے پہلے شیزا سے کوئی غلط بات نہیں کی اس کے قریب جانے کی کوشش تک نہ کی۔۔۔۔ چاہے وہ اس کی بیوی تھی۔۔۔۔! لیکن اس نے اپنی محبت دکھائی تو شادی کے بعد۔۔۔۔!

آج ان کسب کا عشق مکمل ہوا تھا۔۔۔۔! سب کہ زندگیوں میں خوشی آئی تھی۔۔۔۔” جو برے تھے سزا کاٹ رہے تھے۔۔۔۔ شاہینہ جیل میں تھی اس وقت۔۔۔”

لیکن یہ بھی زندگی کی تلخ حقیقت ہے کہ زندگی خوشیوں کی سیج نہیں ہوتی۔۔۔۔” اس میں دکھ درد خوشی سب کچھ ہوتے ہیں۔۔۔۔! تو ان کی زندگیوں میں بھی یہ سب موجود تھا۔۔۔۔”

اور تھوڑی بہت نوک جھوک ہو گھر میں ہو ہی جاتی ہے۔۔۔۔۔” یہی سوچتے ہوئے عائشہ نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور علیشہ سے متوجہ ہوئی جو اسے بار بار بلا رہی تھی۔۔۔۔۔!!!

ختم شد۔۔۔۔❣️❣️❣️❣️

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *