Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 10 & 11)

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

”کیا۔۔۔۔؟؟“

علی نے حیرانگی و پریشانی سے اس سے کہا تھا۔

”ہاں علی۔۔۔ یہی سچ ہے کل جو باتیں تم نے عائشہ سے کی تھی۔ وہ سب اس کے کزن نے سن لی تھی۔ اور اس کے گھر والوں کو یہی لگا کہ وہ بھی تمھیں پسند کرتی ہے۔ اور۔۔۔“

سحر اسے سب کچھ بتائے جارہی تھی۔ جب ہی وہ بات کرتے کرتے ہوئے رکی تھی۔

”اور کیا سحر۔۔۔؟؟ “

علی نے آہستگی سے کہا تھا۔ کیونکہ عائشہ کے نکاح کے بارے میں سنتے ہی اس میں تو جیسے ہی بولنے کی ہمت نہ رہی تھی۔

”اور اس کے گھر والوں نے اس کا نکاح کردیا اور کل رات اس کی رخصتی بھی ہوگئی تھی۔ تم اسے بھول جاؤ اب وہ کسی اور کی ہے۔۔۔۔ !!“

سحر اپنی بات مکمل کرتے ہوئے وہاں سے مڑ گئی تھی۔ جبکہ علی بھی بھی مڑ گیا تھا۔ جبکہ علی کو دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ جیسے اس کے اندر سے کسی نے جان ہی نکال دی ہو۔۔

سحر نے کل رات عائشہ کے نمبر پر فون کیا تھا۔ جو کہ رابعہ نے اٹھایا تھا۔ سحر نے اس سے عائشہ کے متعلق پوچھا تھا۔ جس پر اسے سب کچھ معلوم ہوگیا تھا۔ جبکہ اسے خود بھی عائشہ کے لیے شدید برا لگا تھا۔

عائشہ تیار ہو کر نیچے آئی تھی۔ اور شائستہ کے کہنے پر وہ ارباز کے ساتھ بیٹھی تھی۔ جبکہ اس کو سجا سنورا نہ دیکھ کر وہ سمجھ گئی کہ ارباز نے ہی منع کیا ہے۔

پہلے تو عائشہ سے کچھ بھی کھایا نہیں جارہا تھا۔ لیکن شائستہ کے کہنے پر وہ با مشکل ہی ایک بریڈ کھا پائی تھی۔ جبکہ ناشتہ کرنے بعد شائستہ نے ارباز کو اپنے کمرے میں بلایا تھا۔

وہ کھانے کی میز سے اٹھتا ہوا شائستہ کے کمرے میں گیا تھا۔

”تم نے عائشہ کو میک اپ کرنے سے کیوں منع کیا ہے۔۔۔۔!!“

جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا شائستہ جو کمرے میں کھڑی ہوکر باہر کا نظارہ دیکھ رہی تھی وہ بولی۔

”کیونکہ مجھے میک اپ پسند نہیں۔۔۔۔!! ”

ارباز نے دو ٹوک انداز میں اس کی بات کا جواب دیا تھا۔

”تو کیا وہ میک اپ کرنا چھوڑ دے۔۔۔۔۔!!“

شائستہ نے بھی اسے دوبدو جواب دیا تھا۔ جبکہ ارباز نے کندھے آچکا کر دیکھا تھا۔

”چھوڑ دے۔۔۔ مجھے کیا ہے۔۔۔۔!!“

کندھے اچکاتے ہوئے اس نے کہا تو شائستہ نے اسے گھر کردیکھا تھا۔

”لیکن ارباز۔۔۔۔۔!!“

”مما پلیز یہ ہمارا آپسی معاملہ ہے اس میں آپ نہ بولیں۔۔۔۔ اور جب میں نے چپ چاپ نکاح کرلیا جبکہ بھائی نے اس بدکردار لڑکی سے نک۔۔۔۔!!!“

چٹاخ۔۔۔۔!!

پہلے شائستہ بول ہی رہی تھی۔ جب ارباز نے اس کی بات کو کاٹا تھا۔ جبکہ جب ارباز نے بدتمیزی کی ہر حد کو پار کیا تو شائستہ اپنا ہاتھ روک اور شائستہ کا ہاتھ ارباز کے چہرے پر اپنی چھاپ چھوڑ گیا۔

جبکہ ارباز اپنے چہرے پر پر ہاتھ رکھے ہوئے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا۔

”کیا بکواس کر رہے ہو۔۔ معلوم بھی ہے کہ سچائی کیا ہے۔ ؟ ارے بدکردار عائشہ نہیں ارمان ہے۔ وہ تھا جسے یہ معلوم کہ عائشہ کو بچپن سے ہی اس کے نام کردیا گیا ہے۔ پھر بھی اس نے اپنی پسند کی شادی کرلی اور تو اور ایک بچہ بھی ہے اس کا۔۔ “

جیسے شائستہ بات کرتی جارہی وہ تو جیسے زمیں میں گرتا جارہا تھا۔

“اس کی بعد ارمان نے اس لڑکی کو تعلاق بھی دے دی تھی۔۔۔۔!! اسے ناجانے کیا جلدی تھی۔ جبکہ عائشہ جس کے لیے تم یہ لفظ استعمال کررہے ہو نہ وہ تو بیچاری یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اس کا رشتہ طہ ہو چکا ہے۔ تو بتاؤ کیسے وہ بدکردار ہوئی تھی۔ “

شائستہ کہتے کہتے چپ ہوگئی تھی۔ جبکہ ارباز کو تو جیسے چپ ہی لگ گئی تھی۔

”امی یہ کیا سچ ہے۔۔۔ اور آپ نے مجھے پہلے اس بارے میں کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔۔۔ ؟؟“

ارباز نے اپنی ماں سے سوال کیا تھا۔

”میں نے اس لیے نہیں بتایا کہ تم دونوں بھائیوں کے رشتے میں کوئی دوری پیدا نہ ہو۔ اور ارمان نے بھی یہ تعلق جلد ہی ختم کردیا تھا۔ “

شائستہ نظریں گھما چکی تھی۔ جبکہ وہ تو جیسے سن پڑ گیا تھا۔ وہ عائشہ کو قصور وار ٹھہرا رہا تھا۔ جبکہ اصل قصور وار تو اس کا بھائی تھا۔ اس رشتے میں اگر کسی نے دھوکا دیا تھا تو وہ ارمان تھا۔

ارباز آہستہ آہستہ قدم پیچھے کی طرف بڑھاتا ہوا کمرے سے نکل گیا تھا۔ جبکہ شائستہ نے اسے نہ روکا تھا۔

“میں سوچ رہی ہوں کہ رابعہ کی بھی اب شادی کردینی چاہئیے ہمیں۔ اکیس کی ہوگئی ہے۔ اور کہیں یہ بھی ماں اور بہن کی طرح ہماری عزت پر تمانچہ ہی نہ مار دے۔“

کمرے میں داخل ہوتے ہوئے انوار صاحب کے پاس بیٹھتے ہوئے سلمی بیگم نے کہا تھا۔ جس پر انوار صاحب ایک گہری سوچ میں پڑ گئے تھے۔

”تم سہی کہہ رہی ہو سلمی ہمیں اب اس کی بھی شادی کردینی چاہئیے۔۔۔۔۔۔!!“

انوار صاحب ۔ے سلمی بیگم کی بات سے ایگری کیا تھا۔

”یہ تو ٹھیک ہے۔۔۔۔!! میں کوئی رشتہ دیکھتی ہوں اس کے لیے۔۔۔۔!!“

سلمی نے کہا تو انوار صاحب نے اسے حیرانگی سے دیکھا تھا۔

”رشتہ دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔۔!!“

انوار نے کہا تو سلمی نے آئی برو آچکا کر اسے دیکھا تھا۔ اس کے ذہن میں سب سے پہلے یہ خیال آیا تھا کہ کہیں اس کی شادی ڈرائیور سے تو نہیں ہونے لگی۔۔

”کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا۔۔۔۔۔۔۔؟؟“

سلمی نے مسکرا کر اس سے پوچھا تھا۔ جبکہ وہ مسکرایا تھا۔

”مطلب یہ ہے کہ رابعہ کی شادی شازین سے ہوگی۔۔۔۔۔۔!!“

انوار نے کہا تو سلمی تو جیسے سن پڑ گئی تھی۔ یہ کیا کہہ دیا تھا انوار نے۔۔۔

”ک۔۔ کیا۔۔۔۔۔۔؟؟“

سلمی نے سوال تاثرات لیے ہوئے پوچھا تھا۔

”ہاں۔۔۔ رابعہ کی شادی شازین سے ہوگی۔۔۔۔۔!!“

انوار نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ سلمی کو تو یہ بات ہضم ہونے سے رہی تھی۔ لیکن وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔ کیونکہ جو فیصلہ انوار کردیا کرتا تھا۔ وہی آخری فیصلہ ہوتا تھا۔

”لیکن شازین سے کیسے۔۔۔۔۔؟؟“

سلمی بیگم نے پوچھا تو انوار نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔ جس پر وہ نظریں جھکا گئی تھی۔

”ہاں شازین سے ہی ہوگی کیونکہ سلمان رابعہ سے بہت بڑا ہے۔۔۔۔“

انوار نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا۔

”لیکن شازین بھی تو کافی بڑھا ہے کہ رابعہ سے۔۔۔ “

سلمی بیگم نے بات سے بات پکڑی تھی۔

”کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ شازین اٹھائیس کا ہے اور رابعہ اکیس کی ویسے بھی تو شازین کی شادی کرنی ہے تو اب کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔!!“

انوار نے کہا تو سلمی چپ کر گئی تھی۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اب اس کی دال نہیں گلنی تھی۔ اب جو انوار کہا تھا وہی ہونا تھا۔۔

”ج۔۔ جی۔۔۔۔!!“

نظریں جھکائے ہوئے اس نے بمشکل ہی الفاظ ادا کیے تھے۔

رات چھا گئی۔۔ اندھیرے ڈھل چکے تھے۔ کالے بادلوں نے آسمان کو خود میں ہی چھپا لیا تھا۔ جبکہ آسمان کی طرح علی کا کمرہ بھی اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔

وہ ٹیبل پر پڑے لمپ کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھا ہوا سیگریٹ سلگا رہا تھا۔ اور کبھی لمپ کو آن تو کبھی آف کررہا تھا۔

میشا کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ اور کمرے کو تاریک میں ڈوبا ہوا دیکھ کر ایک منٹ کے لیے تو وہ چونک سی گئی تھی۔ لیکن پھر لائٹ آن کی تو علی بد مزہ ہوگیا۔ لیکن میشا اسے سیگریٹ پیتا ہوا دیکھ کر چونک اٹھی تھی۔ جبکہ علی نے سیگریٹ پہلے ہی پھینک دیا تھا۔

”بھائی۔۔۔۔۔!! آپ نے سیگریٹ پینا کب سے شروع کیا۔۔۔ “

علی کے پاس آتے ہوئے میشا نے غصے سے پوچھا تھا۔ جبکہ وہ نظریں گھما گیا تھا۔

”بھائی۔۔۔۔۔!! میں کچھ پوچھ رہی ہوں۔۔۔ آپ کو پتہ ہے نہ کہ سیگریٹ صحت برباد کر دیتی ہے۔۔۔۔!!“

میشا نے کہا تو اس نے آنکھیں گھمائی۔

”زندگی تو پہلے ہی برباد ہوگئی ہے۔۔۔۔۔!!“

اس نے کہا تو میشا اس کو دیکھنے لگی کہ وہ ایسی باتیں کیوں کر رہا ہے۔۔۔۔۔ ؟

”کیا مطلب ہے اس بات کا بھائی۔۔۔۔۔۔؟؟“

میشا نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا تھا۔

”اور ابھی تو آپ کی شادی بھی ہونی ہے پہلے ہی زندگی برباد ہوگئی۔۔۔ “

میشا کو عائشہ کے نکاح کے متعلق پتہ نہیں تھا۔ اسی وجہ سے وہ کہے جارہی تھی۔

”کونسی شادی۔۔۔۔؟؟ کس کی شادی۔۔۔۔۔؟؟ “

میشا کی بات سن کر وہ لب سختی سے بھینج گیا تھا۔ جبکہ اس سے یہ سوال کیا۔

”لو بھئی اب یہ بھی میں بتاؤ۔۔۔۔۔!! آپ کی اور عائشہ کی۔۔۔۔۔!!!“

وہ بول ہی رہی تھی کہ علی نے اس کی بات کی درمیان میں ہی کاٹ دی تھی۔ اور خود بولنے لگا تھا۔

”عائشہ کا نکاح ہوگیا ہے۔۔۔۔۔!!”

علی کی یہ بات سنتے میشا حیران رہ گئی تھی۔ کہ اتنی جلدی کیسے۔۔۔!! جبکہ علی کرسی سے کھڑا ہوا تھا۔

”چلو آجاؤ کھانا کھائے۔۔۔۔۔!!“

خود کو با مشکل سنبھالتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ میشا بھی منھ بنائے ہوئے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔ اور کمرے سے نکل گئی تھی۔

نیا سال شروع ہونے کو تھا۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ جبکہ عائشہ اس وقت لان میں بیٹھی ہوئی تاروں کو تک رہی تھی۔ اور اپنی ہی سوچوں میں گھم تھی۔

جبکہ ارباز کمپنی کے کسی کام میں مصروف تھا۔ جس کی وجہ سے وہ گھر لیٹ آیا تھا۔ جبکہ گاڑی سے اترتے ہوئے اس نے سامنے دیکھا تو عائشہ کو پایا۔ اسے آسمان کی طرف دیکھتا ہوا دیکھ کر وہ مسکرایا تھا۔

چاند کی چاندنی اس کی خوبصورتی کو مکمل واضح کر رہی تھی۔ جبکہ رات کافی گزر گئی تھی۔ اور ٹھنڈ بھی کافی تھی۔ اسے کہیں سردی ہی نہ لگ جائے۔ وہ اس کی طرف بڑھا تھا۔

اور اس کے پاس جا کر بیٹھا تھا۔ جبکہ اسے دیکھ کر عائشہ گھبرا سی گئی تھی۔ اور نظریں جھکائے کھڑی ہوگئی تھی۔ وہ تو جیسے کانپنے لگی تھی۔ اسے صبح کا سارا واقع یاد آیا تھا۔ جبکہ ارباز کو اپنی غلطی پر شدید ندامت ہوئی تھی۔

”کیا ہوا۔۔۔۔۔۔؟؟“

ارباز نے اس کی حالت کو دیکھ کر اس پر نظریں جمائے ہوئے کہا تھا۔ وہ صبح والے کپڑوں میں ہی ملبوس تھی۔ جبکہ حسن میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔

”ک۔ کچھ ن۔ ہی۔ں “

اس کے خلق سے یہی الفاظ نکلے تھے۔ وہ بھی ٹوٹے پھوٹے۔۔۔۔۔!!

”مجھ سے ڈر رہی ہو۔۔۔۔ کھا نہیں جاؤ گا۔۔۔۔۔!!“

ارباز اس کی حالت کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا تھا۔ جبکہ عائشہ اس کی بات سن حیران رہ گئی تھی۔ صبح والے ارباز اور اس ارباز میں بہت فرق تھا۔

”ن۔نہیں۔۔۔۔۔!!“

اس نے کہا تو ارباز اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔ جبکہ عائشہ ابھی بھی کھڑی تھی۔

”بیٹھ جاؤ کھڑی کیوں ہو۔۔۔۔۔؟؟“

کرسی پر بیٹھ کر ہاتھ پر ہاتھ باندھ کر اس نے سامنے کھڑی عائشہ سے کہا تھا جبکہ وہ فوراً بیٹھ گئی تھی۔

وہ اس سے کافی ڈر گئی تھی۔ جو حرکت ارباز نے صبح کی تھی اس کی وجہ سے۔۔۔۔!! جبکہ یہ ارباز اچھے سے سمجھ گیا تھا۔

”سوری۔۔۔۔۔!!“

وہ جو اس کے سامنے نظریں جھکائے ہوئے بیٹھی تھی۔ اس کی یہ بات سن کر عائشہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ جبکہ وہ سمجھ ہی نہ پائی تھی۔

”ک۔۔ س ک۔۔ کے لی۔۔ لیے۔۔۔۔!!“

عائشہ نے اس کی بات سن کر اس کی طرف نظر اٹھاتے ہوئے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اور پھر کہا۔۔

”جو میں نے صبح حرکت کی تھی اس کے لیے۔۔۔۔۔!!“

دوبدو جواب دیا گیا تھا۔ جبکہ عائشہ کو اس کی بالکل بھی امید نہ تھی کہ وہ اس سے معافی مانگے گا۔

جب سے شائستہ نے اسے ارمان کی حقیقت سے واضح کیا تھا۔ اس کی آنکھیں کھلی تھی۔ کہ غلط اس کا بھائی بھی تھا۔ جو یہ جانتے ہوئے بھی عائشہ کو چیٹ کررہا تھا کہ وہ اس کے نام پر بیٹھی ہوئی ہے۔ اور عائشہ اسے تو کچھ اس بارےمیں معلوم بھی نہیں ہے۔۔۔

”اٹس اوکے۔۔۔۔۔!!“

اگلے ہی لمحے عائشہ نے نظریں جھکائے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ وہ ایک پھر شرمندہ ہوا تھا۔

”کیا آپ چائے پیئے گے۔۔۔۔۔!!!“

کچھ لمحات گزرنے کے بعد چاند کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے سوال کیا تھا۔ جبکہ ارباز نے اسے حیرانگی سے دیکھا تھا۔

”اس وقت۔۔۔۔۔۔!!“

ارباز نے ہاتھ پر پہنی ہوئی گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے عائشہ سے کہا تھا۔

”کیوں اس وقت چائے نہیں پی سکتے ہیں۔۔۔۔۔؟ “

اس کی بات سنتے ہوئے عائشہ نے بھی اس سے سوال کیا تھا۔

”پی سکتے ہیں کیوں نہیں پی سکتے۔۔۔ لیکن ابھی ٹائم کافی ہوگیا ہے۔۔۔!!“

ارباز نے عائشہ کے سوال کا جواب دیا تھا۔

”مجھے تو پینی ہے۔ آپ بتائے کہ آپ کو پینی ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔!!“

عائشہ نے اس سے پوچھا کہ اسے پینی ہے تو بتا دے اور نہیں پینی ہے تو رہنے دے۔۔

”ایک کام کرو بنا دو۔۔۔ لیکن پھیکی مت بنانا۔۔۔۔۔!!“

ارباز نے چہرے پر ایک پراسرار سی مسکراہٹ لیے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ عائشہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔

”پھیکی۔۔۔۔۔۔۔۔!!!“

عائشہ نے منھ بسورتے ہوئے کہا تھا۔

”ہاں پھیکی۔۔ جیسے تم نے مجھے آج سے پورے بارہ سال پہلے بنا کردی تھی۔۔۔۔۔!ا“

اس نے اسے آج سے بارہ سال پہلے کی بات یاد دلائی تھی۔

بارہ سال قبل

وہ دونوں بہت اچھے دوست تھے۔ رابعہ اس وقت کافی چھوٹی تھی۔ جبکہ عائشہ اپنے ماموں کے گھر رہ رہ کر کافی کام سیکھ گئی تھی۔ اس دن سب مل بیٹھے۔ شائستہ عائشہ کا رشتہ مانگنے آئی تھی ارمان کے لیے۔ جبکہ ارمان سے زیادہ عائشہ کی دوستی تو ارباز سے تھی۔

”تم چائے پیو گے۔۔۔۔۔!!“

اس بارہ سال کی معصوم سی بچی نے اس سے سوال کیا تھا۔

”کیا تمھیں چائے بنانی آتی ہے۔۔۔۔۔!!! “

اس سولہ سالا لڑکے نے اس سے سوال کیا تھا۔ جبکہ وہ مسکرا گئی تھی۔

”ہاں بالکل مجھے میری مامی نے بنانا سکھائی تھی۔۔۔ “

عائشہ نے اس سے کہا تو وہ مسکرا گیا تھا۔

”چلو ٹھیک ہے بنا دو۔۔۔۔۔!!“

ارباز نے شامی بھر لی تھی۔ جبکہ عائشہ کچن کی طرف بڑھ گئی تھی۔

”یہ لو چائے۔۔۔۔۔۔۔!!“

کچھ لمحات کے بعد عائشہ کچن سے باہر نکلی تھی۔ اور اسے چائے دی۔ اس نے پہلا گھونٹ لیا تو منھ کی مختلف شکلیں بنائیں۔۔۔۔۔!!“

”یہ کیسی چائے ہے۔۔۔۔۔؟“

عائشہ چائے کا گھونٹ لینے ہی لگی تھی کہ جب ہی اس کی مختلف شکلیں دیکھ کر وہ کھلھکلا کر مسکرائی تھی۔ جبکہ ارباز نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔

”یہ کیسی چائے ہے۔ زرا بتانا پسند کرو گی تم مجھے۔۔۔۔۔۔۔!! جسمیں چینی نہیں ہوتی۔۔۔۔؟“

اس نے منھ بسورتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ عائشہ نے چیک کی تو اس میں چینی نہیں تھی۔ جبکہ چینی کی جگہ نمک تھا۔

”اوو سوری۔۔۔۔۔ جلدی میں مجھے پتہ نہیں چلا سوری۔۔۔۔۔!!“

عائشہ نے چکھی تو اپنی غلطی پرخود ہی مسکرا گئی تھی۔ اور اس سے معافی بھی مانگی۔

اس دن کے ایک ماہ بعد وہ سب باہر کے ملک چلے گئے تھے۔ اور کب اس کی زندگی یہ کڑواہٹ آگئی عائشہ کو معلوم نہیں تھا۔ جبکہ وہ بچپن والا ارباز نہیں تھا۔

حال۔۔۔

”اوو وہ آپ کو ابھی بھی یاد ہے۔۔۔۔!!“

عائشہ کی بچپن کی یادیں تازہ ہوگئی تھی۔ جبکہ اس نے مسکرا کر کہا تھا۔ جس پر وہ سر ہاں میں ہلا گیا تھا۔ جبکہ عائشہ کچن کی طرف بڑھ گئی تھی اور وہ اپنی ہی سوچوں میں گھم ہوگیا تھا۔

کچھ دیر بعد وہ چائے بنا کر لائی تھی۔ اور چائے ارباز کو دی تھی۔ ارباز نے ٹیسٹ کیا تو چائے کافی مزیدار تھی۔۔

”کافی اچھی بناتی ہو تم چائے۔۔۔۔۔!!“

ارباز نے ایک گھونٹ لیتے ہوئے مسکرا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

”شکریہ۔۔۔۔!!“

عائشہ نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔ جبکہ وقت گیارہ بج کر پچپن کا تھا۔ کافی ٹھنڈ ہو چکی تھی۔ جبکہ عائشہ کو اب ٹھنڈ لگنے لگی تھی۔ کیونکہ اس بس ایک سادہ سا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔ جبکہ ارباز یہ سب کچھ اچھے سے پہچان گیا تھا۔

اس نے بھی سفید رنگ کی شلوار قمیض پر ایک بلیک کلر کی جیکٹ پہنی تھی۔ اس نے وہ جیکٹ اتار کر عائشہ کے کندھوں پر رکھی تھی۔ جبکہ یہ عمل اس کے لیے کافی حیران کن تھا۔

”نیا سال مبارک ہو۔۔۔۔۔۔“

موبائل یوز کرتے ہوئے فیس بک سے ایک پوسٹ اس کی نظر سے گزری تھی۔ جبکہ عائشہ مسکرائی تھی۔

” اللہ کرے یہ سال سب کے لیے حیر و آفیت والا سال ہو۔۔۔آمین۔۔۔۔“

عائشہ نے مسکرا کر کہا تھا۔

”آمین۔۔۔۔۔!!!!“

ارباز نے بھی مسکرا کر کہا تھا۔

انوار صاحب نے رابعہ اور شازین کا رشتہ طے کردیا تھا۔ جبکہ اسی کے آخری دنوں میں شادی کی تاریخ بھی طہ کردی تھی ، سلمی بیگم کو یہ سب کچھ بالکل بھی ہضم نہ ہو رہا تھا۔ وہ کیسے رابعہ اپنے بیٹے کی دلہن بننے دیتی یہ وہی تھی جس سے اس نے ہمیشہ نفرت کی تھی ،

شازین کو انوار صاحب نے پہلے ہی بتا دیا تھا اس رشتے کے بارے میں ، اس نے ایک مرتبہ انکار کیا تھا۔ لیکن وہ کبھی ان کے خلاف نہیں جاسکتا تھا۔ اسی وجہ سے خاموش ہوگیا اور اس رشتے کو قبول کر لیا تھا ،

جبکہ رابعہ کو ابھی اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا ، سلمی بیگم رابعہ کے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ جبکہ سرد مہری اس کے چہرے پر صاف طور پر جھلک رہی تھی ،

”اسلام علیکم چچی جان۔۔۔۔!! کوئی کام تھا کیا۔۔۔۔۔؟؟“

صبح کے لگ بگ دس بج رہے تھے۔ آج رابعہ کو یونی سے چھٹی تھی۔ وہ گھر ہی تھی۔ جب ہی سلمی اسکے کمرے میں داخل ہوئی تھی اور اس نے انھیں سلام کیا تھا۔

”کوئی کام نہیں تھا بس ایک بات کرنی تھی کہ مہینے کے آخری دنوں میں دس چھٹیاں کے لینا۔۔۔۔“

سلمی نے کہا تو اس نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا۔

”چچی دس چھٹیاں کوئی خاص وجہ۔۔۔۔؟؟“

اس نے حیرانگی کی کیفیت میں اس سے سوال کیا تھا۔

”ہاں شادی ہے۔۔۔۔ اس لیے۔۔۔۔!!“

”شادی جس کی چچی جان۔۔۔۔۔؟“

”تمھاری شادی۔۔۔۔ !!“

”میری شادی۔۔۔۔ !!“

”ہاں تمھاری شادی شازین سے ہے۔۔۔۔!! پس یہی بتانا تھا مجھے تمھیں۔۔۔۔۔!!“

اپنی شادی کا سن کر تو رابعہ تو جیسے ساکت ہی ہوگئی تھی۔ اس نے مشکل ہی بات کی تھی آگے اور شازین سے شادی کا سن کر اسے مزید دھچکا لگا تھا۔ کیونکہ وہ اس کے بارے میں ایسا کچھ بھی نہیں سوچ سکتی تھی۔۔۔ لیکن ہوش تو اس وقت آئی جب چچی کمرے سے جا چکی تھی۔

”یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔ شازین بھائی سے کیسے ہو سکتی ہے شادی میری۔۔ وہ تو میرے بھائی ہیں۔۔۔۔ میں ان سے کیسے شادی کر سکتی ہوں۔۔ مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔۔۔۔۔!!! “

وہ خود میں ہی مگن کمرے کی دروازے کی طرف پشت کیے ہوئے سب کچھ بولے جا رہی تھی۔ جبکہ اسے معلوم نہ تھا کہ کمرے کے دروازے پر کھڑا تھا۔

”کیوں شادی نہیں کرنی مجھ سے۔ “

اس کی بھاری آواز ان کر وہ کانپ گئی تھی اور مڑی تو وہ سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے اسے کی گھور رہا تھا۔

”و۔۔ و۔۔۔۔ ہ “

رابعہ کے الفاظ اس کے گلے میں ہی اٹک سے گئے تھے۔ جبکہ وہ ابھی بھی اسے گھور رہا تھا۔

”وہ شازین بھائی۔۔۔۔“

”اب مجھے بھائی مت کہنا۔ صرف شازین۔۔۔۔۔۔“

وہ بول ہی رہی تھی جب شازین نے اس کی بات کاٹی تھی اور خود بولا تھا۔

”وہ شازین ہماری شادی کیسے ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔!!!“

اس کو کچھ اور نہ سوجھا تو اس نے کہا۔۔

”جیسے باقی سب کی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔!!“

شازین نے دو ٹوک الفاظ میں اس کی بات کا جواب دیا تھا۔ جبکہ وہ اسے دیکھتے ہی رہ گئی تھی۔

”لیکن میں بہت چھوٹی ہوں آپ سے۔۔۔۔۔!!“

رابعہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ شادی نہ کرنے کا کیا بہانہ بنائے۔۔۔۔!!“

”چھوٹی بچی تو نہیں ہو نہ۔۔۔۔۔ “

اس نے پھر سے دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا تھا۔ جبکہ وہ کچھ بولتی وہ پھر بولا تھا۔

”اگر اب کوئی بہانہ بنایا تو یاد رکھنا کہ کسی نے تمھاری سنی تو ہے نہیں لیکن ہاں یہ ضرور ہوگا کہ آج شام ہی میرا تم سے نکاح ضرور ہوگا۔۔۔ “

شازین نے اسے وارننگ دینے والے انداز میں کہا تھا۔ جبکہ اس کی بولتی بند ہوگئی تھی۔ اور وہ کمرے سے نکلا تھا۔ جبکہ رابعہ کو عائشہ کی یاد آئی تھی۔ کاش اس موقع پر وہ اس کے ساتھ ہوتی۔۔۔۔۔!! وہ کافی اداس تھی۔

اداسی بہت بھوکی ہوتی ہے

انسان کی مسکراہٹ کھا جاتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *