Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitam E Ishq (Episode - 14)

Sitam E Ishq By Abdul Ahad Butt

 وہ خاموش سا گھر واپس آگیا تھا۔ جب سے ارباز کو معلوم ہوا تھا کہ عائشہ کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اس نے کچھ بھی ایسا غلط نہیں کیا جس سے ان کے خاندان کا سر شرم سے جھک جائے۔ یہ سب کچھ سلمی بیگم کی ایک سازش تھی۔ انھوں نے جان بوجھ کر سب کچھ جانتے ہوئے بھی اسے عائشہ کے خلاف بھڑکایا۔ عائشہ کی زندگی برباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اس نے۔ وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ کیا کرے کیا کہے عائشہ سے ؟ اس سے کیسے معافی مانگے ؟ کس منھ سے اس کے سامنے جائے ؟ وہ چلتا جارہا تھا۔ جب ہی اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو خود کو کمرے کے دروازے کے سامنے کھڑا ہوا پایا تھا۔ وہ آہستگی سے لاک کھولتا ہوا کمرے میں داخل ہوگیا تھا۔ جبکہ سامنے عائشہ کو کھڑکی میں کھڑا ہوا باہر کا خوبصورت نظارہ لیتے ہوئے پایا تھا۔ جبکہ اسے دیکھ کر وہ اس کی طرف مڑی تھی۔ اس کی شکل کے تاثرات دیکھ کر عائشہ سمجھ تو گئی تھی کہ کچھ تو ہوا ہے جو وہ یوں منھ لٹکائے گھر آیا ہے۔ ”کیا ہوا آپ پریشان لگ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔!!!“ عائشہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ ارباز میں تو اتنی بھی ہمت نہ ہوئی کہ اس سے نظریں تک ہی ملا کے اس سے بات کر لے۔ ” کچھ نہیں۔۔۔۔۔!! ویسے ہی سر درد ہے۔۔۔!!“ نظریں جھکائے ہوئے سر کو ہاتھوں میں لیے اس نے کہا تھا۔ ”میں ایک کام کرتی ہوں کہ آپ کے لیے چائے بنا لاتی ہوں۔۔۔۔!!! “ عائشہ نے اس کی بات سن کر کہا تھا۔ اور دروازے کی طرف بڑھی تھی۔ ” عائشہ رکو۔۔۔۔!! مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔!!“ وہ دروازے کے قریب ہی پہنچی تھی۔ جب ارباز نے اسے بلایا۔ اس کی بات سن کر وہ رکی تھی۔۔ ” ادھر آؤ۔۔۔ میرے پاس بیٹھو۔۔۔۔!!“ ارباز نے اسے اپنے پاس آنے کا کہا تھا۔ اس کی بات کو سن کر وہ اس کے پاس جا کر بیٹھ گئی تھی۔ ” جی کیا بات کرنی ہے آپ کو۔۔۔۔۔!!! “ اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے عائشہ نے اس سے سوال کیا تھا۔ ” آئم سو سوری عائشہ۔۔۔۔!! آئم سو سوری۔۔۔!!“ ہلکی ہلکی نظریں کو اٹھاتے ہوئے اس نے کہا تھا۔ جبکہ عائشہ کو اس کی بات سن کر بہت بڑا دھچکا لگا تھا۔ ” س۔۔ سوری کس لیے۔۔۔۔؟؟“ چہرے پر سوالیہ تاثرات لیے ہوئے اس نے کہا تھا۔ ” تمھیں غلط سمجھنے کے لیے۔۔۔۔ تم جانتی ہوں جس دن ہمارا نکاح ہوا تھا۔ اس دن مامی نے مجھ سے کہا تھا تم ایک لڑکے کے ساتھ پائی گئی ہو۔ تمھاری کڑیکٹڑ لیس ہو۔۔۔۔ تم نے ارمان بھائی کو دھوکا دیا ہے جس کی وجہ سے انھوں نے تم سے شادی نہیں کی۔۔۔۔ مجھے تم سے شادی کے لیے کہا گیا۔ میں نے تم سے میک اپ کرنے سے روکا تھا۔ لیکن مجھے اتنی بھی نفرت نہیں ہے میک اپ سے۔ دو دن پہلے جب تم نے مجھ سے اپنی سٹڈی کانٹنیو کرنے کا کہا تو مامی کی کہی ہوئی میرے ذہن میں گھومی اور میں نے تمھیں منع کردیا یہاں تک کہ تم سے تمھارے سارے حقوق چھین لیے۔۔۔۔!! جبکہ تمھارا کوئی قصور بھی نہیں تھا۔ پلیز مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔!!“ اس کی باتیں سنتے ہوئے عائشہ کی آنکھیں بھی نم ہوگئی تھی۔ جبکہ ارباز نے اس کے سامنے ہاتھ باندھے تھے۔ ” م۔۔ میں نے آپ ک۔ کو معاف کیا۔۔۔۔!!“ اس کی یہ بات سن کر اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ جبکہ عائشہ نے اس کے ہاتھوں کو نیچے کردیا تھا۔ ” میں نے آپ کو معاف کیا کیونکہ آپ حقیقت سے نا واقف تھے۔ آپ میرے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ آپ کو میرے بارے میں جو بھی بتایا گیا آپ نے اس پر یقین کر لیا۔۔۔! کیسے نہ کرتے سلمی چچی نے آپ سے کہا تھا ایسا۔۔۔۔!!“ عائشہ بول رہی تھی۔ اور وہ خاموشی سے سن رہا تھا۔ ” میں مانتا ہو کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔ پر میں اس کا ازالہ بھی کرو گا۔۔۔ ہم کل ہی جائینگے اور تمھارا ایڈمیشن میں خود کرواؤ گا۔ “ ارباز نے اس کی آنکھوں کے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔ جبکہ عائشہ مسکرائی تھی۔۔ ”ٹھیک ہے۔۔۔۔!!“ عائشہ نے مسکرا کر کہا تھا۔ ” میں ایک مرتبہ پھر سے تم سے معافی مانگتا ہوں۔۔۔۔!!“ ارباز نے ایک مرتبہ پھر سے اس سے معافی مانگی تھی۔ ” میں نے آپ کو معاف کردیا ہے اور ویسے بھی میرے دل میں آپ کے لیے کوئی شکوہ نہیں ہے۔۔۔۔!!“ عائشہ نے مسکرا کر کہا تھا۔ ” تو ٹھیک ہے ہم یہ اس رشتے کو ایک مرتبہ پھر سے شروع کرتے ہیں۔۔ میاں بیوی نہ بن کر تو بچپن کے دوست بن کر ہی سہی۔۔۔۔۔۔!! “ ارباز نے مسکرا کر کہا تھا۔ جبکہ وہ بھی مسکرائی تھی۔۔۔ ”ٹھیک ہے۔۔۔ بچپن کے دوست بن کر ہی سہی۔۔۔۔۔!!“ عائشہ نے مسکرا کر کہا تھا۔ ”کیا ایک کپ چائے ملی گی۔۔۔۔!! “ اگلے ہی لمحے ارباز نے کہا تو وہ سر اثبات میں ہلا گئی تھی۔ جبکہ ارباز کے چہرے پر گہری مسکراہٹ چھا گئی تھی۔ اور عائشہ چائے بنانے کے لیے چلی گئی تھی۔

اس دن سب کو سب کچھ معلوم ہوگیا تھا۔ شیزا رابعہ شازین سلمان نے اس سحر کی باتیں سن لی تھی۔ لیکن شازین اور باقی سب خاموش تھے۔ کیونکہ ابھی اس وقت گھر پر مہمان موجود تھے۔ وہ کوئی تماشہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس سے ان کی ہی عزت پر فرق پڑتا۔ شیزا جو سلمان پر بہت غصہ تھا۔ کہ وہ ایسا کیسے کرسکتا ہے کسی کے ساتھ کہ اس کی بات تک نہ سنی۔ وہ تو کئی سالوں سے رہی تھی ان کے ساتھ کیا اسے اتنا بھی یقین نہ تھا اس پر ؟ اگر کل کو اس کی اپنی ہی بیٹی کے ساتھ کچھ ایسا ہو تو کیا وہ اس کی بات بھی نہ سنے گا۔ یہ دنیا مکافات عمل ہے۔۔۔ ”تم مجھے اگنور کیوں کر رہی ہو۔۔۔؟؟ “ سلمان نے شیزا جو اس کے سامنے سے گزر رہی تھی۔ اس کا ہاتھ تھام کر اسے روکتے ہوئے کہا تھا۔ ”م۔ مجھے ک۔ کام ہے۔۔“ شیزا نے منھ بناتے ہوئے بھی ہچکچا کر کہا تھا۔ ” ناراض ہو مجھ سے۔۔“ ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اس نے کہا تھا۔ جبکہ وہ اسے گھور رہی تھی۔ ” جو آپ نے کیا اس کے بعد میں آپ سے ناراض بھی نہ ہو “ اس کی بات سن کر سلمان کے ماتھے پر جو بل تھے وہ گہرے ہوگئے تھے۔ ” کیا کیا ہے میں نے “ اس نے پوچھا۔ ” آپ نے جو عائشہ کے ساتھ کیا وہ کیا آپ نے کبھی بھی نہیں سوچا کہ اگر کل کو یہی اب ہماری بیٹی کے ساتھ ہو تو کیا ہوگا۔ ؟ یہ دنیا مکافات عمل ہے۔۔۔ سلمان “ پہلے تو سلمان اس کی بات بہت ہی ضبط کیے ہوئے سن رہا تھا لیکن جیسے ہی شیزا نے اپنی آخری بات مکمل کی اس کا غصہ دھک سے اڑ گیا تھا۔ اس نے ایسا پہلے کبھی بھی نہیں سوچا تھا۔ لیکن تو حقیقت تھی کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے جو بو گے وہی کاٹو گے۔ شیزا یہ کہہ کر وہاں سے جا چکی تھی۔ جبکہ وہ خاموش سا کھڑا اس کی بات کے متعلق سوچ رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *