33.7K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

سعد عشال کو لے کر کینٹ ایریا میں آ گیا تھا وہ چاہتا تھا کہ عشال کو لے کر کسی بھی بھیڑ بھاڑ والے ایریا میں ہی رہے تا کہ سکندر کو ان دونوں پر حملہ کرنے کا کوئی موقع نہ ملے اور اس وقت وہ ایک کیفے میں بیٹھے کافی پی رہے تھے۔
‘کب تک یہاں رہنے کا ارادہ ہے؟
سعد نے ٹائم دیکھتے ہوئے پوچھا جہاں رات کے دو بج رہے تھے۔
‘کیا ہو گیا ہے ایجنٹ جی اتنا مزہ تو آ رہا ہے سچی اتنے عرصے کے بعد اتنے کھلے ماحول میں آئی ہوں روح تک سر شار ہو گئی ہے۔’
عشال نے ارد گرد دیکھ کر کہا۔
‘ویسے تمہیں لگتا ہے کہ تمہارا یہ طریقہ کام کرے گا؟مجھے تو بلکل امید نہیں ہے کیونکہ میں وجدان کو جانتا ہوں پھر سے اس معصوم کو ڈانٹ دے گا۔’
سعد نے کافی کا وہ تیسرا کپ پکڑا۔
‘اور میں محبت کی طاقت کو جانتی ہوں ایجنٹ جی اور یہ طاقت پہاڑوں کو گرا سکتی ہے ۔بس ایک مرتبہ محبت کا سب سے اونچا مقام حاصل ہو جائے۔’
عشال نے مسکرا کر کہا تو سعد بھی اسکے چہرے کی معصومیت کو دیکھ کر مسکرا دیا۔
‘ویسے کام اچھا کیا ہے آپ نے اب آپ کا راز میرے ساتھ دفن ہے تھینک یو سو مچ۔’
عشال نے پھر سے اپنا ہاتھ آگے کیا جو کہ سعد نے پھر سے نہیں تھاما تھا۔
‘اب بھی ہاتھ نہیں ملائیں گے ایجنٹ جی؟’
عشال کے سوال پر سعد نے انکار میں سر ہلایا تو عشال نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
‘آپ کو پتہ ہے ایجنٹ جی آپ کنفرم جنتی ہیں۔’
عشال نے شرارت سے کہا تو سعد قہقہے لگا کر ہنسنے لگا۔عشال نے بھی سعد کا بھرپور ساتھ دیا۔
‘اپنے بارے میں کچھ بتاؤ۔’
سعد نے دلچسپی سے کہا۔
‘کیا بتاؤں کچھ خاص ہے ہی نہیں۔میں بیس سال کی ہوں۔ماما بابا کی بچپن میں ہی ڈیتھ ہو گئی تھی۔بابا کے ایک دوست نے پال کر بڑا کیا جب اٹھارہ کی ہوئی تو انکی بھی ڈیتھ ہو گئی۔تب سے اکیلی ہی خود کا سہارا بنی رہی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں گریجویشن کیا، کافی جابز کیں اور گزارا چلتا رہا پھر یہ سکندر بھائی صاحب زندگی میں آ گئے اور اب بس ان سے بھاگتی پھر رہی ہوں۔’
عشال نے اپنی پوری کہانی ایک ہی سانس میں سنا دی۔سعد اسے کافی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
‘آپ کا کیا ایجنٹ جی میرے بارے میں جانا ہے تو اب اپنا بھی تو بتائیں نا۔’
سعد نے ایک گہرا سانس لیا اور پھر طویل خاموشی کے بعد بولا۔
‘اپنے بارے میں تو وہ انسان بتاتا ہے عشال جو خود کو جانتا ہو مجھے تو کبھی یہ موقع ہی نہیں ملا۔بتا دوں گا تو نفرت کرو گی مجھ سے۔’
سعد نے مٹھیاں کستے ہوئے کہا۔
‘عشال لوگوں کو انکے کردار پر جج کرتی ہے اگر آپ قابل نفرت ہوں گے تو صرف اپنے اعمال کی وجہ سے۔دوسروں کا کیا آپ پر کیوں ڈالوں۔’
عشال نے کافی سمجھداری والی بات کہی تھی۔سعد پھر سے کافی دیر خاموش رہا اور پھر اس نے بولنا شروع کیا۔
‘صفائی کرنے والوں کو شہر میں کچرے کے ڈھیر پر پڑا ملا تھا میں۔یہ اہمیت تھی میری کہ مجھے کوڑے کے ساتھ اٹھا کر پھینک دیا۔دو دن کے بچے کو جسے سڑک پر موجود کوئی آوارہ کتا بھی کھا سکتا تھا ۔میرے ماں باپ نے یہ نہیں سوچا تھا؟یا شاید انہیں میں انسان ہی نہیں لگا تھا۔
خیر اس کچرا اٹھانے والے نے مجھے یتیم خانے پہنچا دیا اس یتیم خانے کے مالک رفیق علی نے ہی مجھے اپنا نام دیا۔بارہ سال کی عمر تک وہیں رہا میں۔اپنی خاطر جینا ،چوری کرنا،جیب کاٹنا اس سب میں ماہر ہو چکا تھا۔’
سعد نے ایک پل کو رک کر گہرا سانس بھرا۔
‘تبھی ایک دن ریلوے اسٹیشن پر آصف انکل کا بٹوا چرانے کی کوشش میں پکڑا گیا بہت ذیادہ مار پڑی تھی تب لیکن آصف صاحب نے اس مار سے چھڑوا کر مجھ سے پوچھا کہ اس گھٹیا کام سے کیا کر لوں گا۔پل بھر کا گزارہ بس۔۔۔مقصد کیا ہے تمہاری زندگی کا؟جانتی ہو تب میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔’
سعد نے مسکرا کر عشال کو دیکھا لیکن اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپا دکھ عشال بخوبی دیکھ سکتی تھی۔
‘پھر آصف صاحب نے مجھ سے،کچرے کے اس ڈھیر سے کہا کہ تمہاری زندگی تمہاری نہیں اللہ کی امانت ہے اسے اللہ کی راہ میں لگا دو۔اسکے بندوں کی حفاظت میں لگا دو۔اس طرح تمہاری زندگی کے بے مقصد سفر کو ایک منزل مل جائے گی۔’
سعد اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا۔
‘پھر۔۔۔’
عشال نے نم آواز سے پوچھا۔
‘پھر بس آصف انکل نے سکول داخل کروایا تب پتہ چلا کہ میں تو انٹیلیجنٹ بھی ہوں۔سکالرشپ پر کیڈٹ کالج میں داخل ہو گیا اور پھر پڑھائی مکمل کر کے آرمی میں جاب سٹارٹ کر لی اور اب اٹھائیس سال کا ہوں اور آرمی میں کیپٹن ہوں۔’
سعد نہیں جانتا تھا کہ اس نے اتنا سب کچھ عشال کو کیوں بتایا تھا اتنا سب کچھ تو شایان اور وجدان بھی نہیں جانتے تھے۔عشال نے سعد کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تو سعد نے اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آ کر اسے دیکھا۔
‘آپ قابل نفرت نہیں ہیں ایجنٹ جی۔بلکل بھی نہیں ہیں۔بلکہ آپ قابل احترام ہیں ہمارے ملک کی خاطر لڑنے والا ہر غازی ،ہر شہید بہت ذیادہ قابل احترام ہے۔’
عشال کی بات پر سعد نے اسے مسکرا کر دیکھا اور بہت دیر تک اسکی خوبصورت ہری آنکھوں میں جھانکتا رہا۔
‘آئی تھنک اب ہمیں چلنا چاہئے کافی دیر ہو گئی ہے۔’
اچانک ہی عشال نے اسکی نظروں سے گھبرا کر کہا تو سعد نے اثبات میں سر ہلایا اور بل دے کر وہ دونوں واپس گھر کی طرف چل دیے۔
🌈🌈🌈🌈
زرش پیدل چل کر جیسے تیسے بس سٹیشن تک پہنچی تھی۔رات کے 2 بجے کا وقت ہو رہا تھا اور ایک ہلکی سی آہٹ پر بھی زرش کی جان مٹھی میں آ جاتی۔بس اسٹیشن پر بھی اس وقت ہو کا عالم تھا۔زرش جلدی سے ایک بس پر لاہور کا بورڈ لگا دیکھ کر اس میں چڑھ گئی تھی۔اسکا ارادہ حمنہ کے پاس جانے کا تھا۔ابھی بس میں بیٹھے اسے کچھ دیر ہی ہوئی تھی جب ایک بوڑھا کنڈکٹر اس کے پاس آیا تھا۔
‘کہاں جانا ہے بیٹا۔’
ایک شفیق سی آواز زرش کی سماعتوں سے ٹکرائی تو زرش نے چوک کر اسے دیکھا اور ہزار کا نوٹ نکال کر اسکے ہاتھ میں پکڑا دیا۔
‘لیکن جانا کہاں ہے؟’
زرش نے اپنے کب کھولے تھے لیکن ہمیشہ کی طرح وہ بولنے سے قاصر تھی۔اس لیے بے آواز اپنی بے بسی پر آنسو بہانے لگی۔جبکہ وہ آدمی اسے روتے دیکھ پریشان ہو گیا تھا۔
‘اچھا بیٹا تم رو نہیں۔۔۔۔۔۔۔یہ بس راولپنڈی اور لاہور جاتی ہے کیا تم نے لاہور جانا ہے؟’
کنڈکٹر کے سوال پر زرش نے اثبات میں سر ہلایا۔
‘اچھا بیٹا پریشان مت ہو کچھ نہیں ہوتا۔اللہ تعالی سب بہتر کریں تمہارا یہ سفر اچھا گزرے۔’
وہ آدمی تو دعا دے کر جا چکا تھا لیکن زرش کے ذین میں ابھی بھی اسکی بات چل رہی تھی۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اسکا سفر آسان ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ مشکلات تو اسکی زیست کا حصہ تھیں ۔
کچھ ہی دیر بعد بس روانہ ہو چکی تھی اور زرش اپنی زیست کے نئے سفر پر گامزن ہو چکی تھی۔
🌈🌈🌈🌈
وجدان اپنا سارا غصہ پنچنگ بیگ پر نکال رہا تھا اور ہاتھوں کو کور نہ کرنے کی وجہ سے وہ بری طرح سے زخمی ہو چکے تھے لیکن وجدان بے تاثر سا چہرہ لیے مکوں کی برسات کر رہا تھا۔زرش کا وہ روپ اسکی محبت کے اظہار کا ہر ایک لفظ اسکے دماغ میں کسی فلم کی طرح چل رہا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ اپنی باتوں سے وہ اس معصوم لڑکی کا دل بہت بری طرح سے توڑ چکا تھا۔لیکن یہی بہتر تھا۔ہاں محبت ایک کمزوری ہے بہت بڑی کمزوری اور وجدان وہ کسی سے بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔کسی سے بھی نہیں۔
اسکی محبت تو جان لیوا ہے نا جسے بھی وجدان خان چاہتا ہے وہ مر جاتا ہے۔اسی لیے زرش کی موت سے بہتر ان گھٹیا باتوں سے اسکا دل توڑنا تھا پھر چاہے وہ باتیں کہنے کے بعد وجدان خود کو ختم کرنا چاہ رہا تھا۔اسکا دل کر رہا تھا کہ اپنی زبان ہی کاٹ دے جس سے اس نے اس معصوم کے دل کو چکنا چور کیا۔لیکن پھر بھی یہ اسکی موت سے بہتر ہی تھا۔۔۔۔ہاں بہت زیادہ بہتر تھا کیونکہ اس لڑکی کی موت وہ کام کر دیتی جو اتنے لوگوں کی موت بھی نہیں کر پائی تھی ،وجدان خان کا دھڑکتا دل روک دیتی۔
‘ارے تم تو یہاں ہو اور میں تمہیں پورے گھر میں ڈھونڈ رہا تھا۔’
سعد کی آواز پر وجدان نے اپنا سرد مہری کا لبادا پھر سے اوڑھا تھا۔
ُکیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ؟’
سعد کی نظر وجدان کے زخمی ہاتھوں پر پڑی تھی لیکن وہ اسے نظر انداز کر گیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وجدان اسے کوئی جواب نہیں دے گا۔
‘صبح کے چار بج چکے ہیں وجدان اور تم ابھی تک جم میں ۔۔۔۔۔۔۔۔’
‘ارے میں نے تو کچھ اور ایکسپیکٹ کیا تھا اور یہاں تو کچھ اور ہی ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔اور میری لیٹل ڈال کہاں ہے؟’
عشال سعد کی بات کاٹ کر جلدی سے وجدان کے پاس آئی اور کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے گھورنے لگی۔
‘اپنے کمرے میں ہی ہو گی نا۔’
وجدان کے تاثرات پھر سے سخت ہوئے تھے۔جبکہ عشال ڈرنے والوں میں سے نہیں تھی۔اس لئے اپنے پاؤں اونچے کر کے، اپنے بڑے سے چشمے کے پیچھے سے وجدان کو گھورنے لگی۔
‘اگر میری پیاری سی دوست مجھے روتے ہوئے نظر آئی نا تو تمہاری خیریت نہیں بتا رہی ہوں میں۔تم عشال کو جانتے نہیں۔’
عشال نے اپنی چھوٹی سی انگلی وجدان کو دکھا کر اسے وارن کیا اور غصے سے وہاں سے چلی گئی۔
‘کہاں تھے تم دونوں رات بھر؟تمہیں نہیں لگتا کہ اسکو خطرے میں ڈال کر اپنے کام سے غداری کر رہے ہو؟’
وجدان کے سوال پر سعد نے گہرا سانس لیا۔
‘کیا کروں یار صحبت کا اثر تو ہوتا ہے نا جب تم لوگ اپنی زمداریوں کو سمبھال نہیں سکتے تو میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں؟’
سعد کے لہجے میں طنز بھرا تھا۔
‘میں دراب نہیں ہوں سعد اسکے جزبات اور دل کو اس نے اپنے سینے میں دفنا دیا تھا مگر انہیں ختم نہیں کیا۔اسی لئے تو جانان کو دیکھ کر وہ پھر سے بھڑک اٹھے۔لیکن میرے میں جزبات ہے ہی نہیں اور نہ ہی کبھی آئیں گے۔’
وجدان کا اطمینان قابل دید تھا لیکن یہ جھوٹ وہ صرف سعد سے بول سکا تھا اپنے دل سے نہیں۔
‘تو پھر اسکا دل توڑ کر خود کو تکلیف کیوں پہنچا رہے ہو۔’
سعد کا اشارہ اسکے ہاتھوں کی طرف تھا۔لیکن اس سے پہلے کہ وہ اسے جواب دیتا عشال ہانپتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
‘ایجنٹ جی زرش گھر میں نہیں ہے میں نے پورا گھر دیکھا ہے۔’
عشال نے ان دونوں پر بم پھوڑا تھا۔
‘کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔۔؟؟؟’
کچھ سوچے سمجھے بغیر وجدان نے اسے اسکے بازؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔
‘سچ میں کہیں بھی نہیں ہے وہ میں نے پورا گھر دیکھ لیا ہے۔’
بہادر سی عشال کی آنکھوں میں خوف کے سائے لہرا رہے تھے۔
‘میں دوبارہ چیک کرتا ہوں تم پریشان مت ہو۔’
سعد نے عشال کو وجدان کی گرفت سے چھڑوایا اور زرش کو ڈھونڈنے چلا گیا۔
چلی جاؤ یہاں سے اور اگر اب کبھی مجھے اپنی یہ شکل دیکھائی نا تو اپنے ہاتھوں سے مار کر پھینک دوں گا۔
وجدان کے ذہن میں اسی کے کہے الفاظ گونجے تھے ۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اس معصوم کو کھو چکا تھا اور ذمہ دار بھی وہ خود تھا۔بس وہ اتنی دعا کرتا تھا کہ غلطی سے بھی وہ اس درندے کے ہاتھ نہ لگ جائے۔اگر ایسا ہوا،،، اگر اسے کچھ ہو گیا تو وجدان نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا کرے گا؟
🌈🌈🌈🌈
(ماضی)
ہاشم صاحب نے اس بچے کو اپنانے کے لیے کاغزات تیار کروائے۔انہوں نے سوچا تھا کہ اس بچے کو اسی کے باپ کا نام دیں گے کیونکہ ہمارا دین اپنے لے پالکوں کو انکے باپ ہے ناموں سے بلانے کا کہتا ہے مگر بہت پوچھنے کے باوجود اس بچے نے نہ تو اپنا اور نہ ہی اپنے باپ کا نام بتایا۔جب ہاشم صاحب نے کافی زور لگایا تو اس بچے نے اپنی سبز آنکھوں سے انہیں گھورا۔
‘میرا نام اور میرے بابا کا نام میری بدنامی اور موت ہے۔کیا ابھی بھی آپ کو وہی جاننا ہے؟’
ہاشم صاحب اس چھوٹے سے بچے کے منہ سے یہ الفاظ سن کر پریشان ہو گئے۔بہت سوچ سمجھ کر انہوں نے اسے اپنے بیٹے کی پہچان اور اپنام نام اسے دے دیا۔سکندر الفاظ درانی اب وجدان ہاشم خان بن چکا تھا اور اس وجدان خان نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ اسکی کوئی کمزوری نہیں ہو گی بلکل جیسے اسکی ماں نے کہا تھا۔
اور اسکے خیال میں انسان کی محبت کرنے والے رشتوں سے بڑی کوئی کمزوری نہیں ہوتی۔خود سے پہلے انسان انکا سوچتا ہے،اپنی جان سے زیادہ خود سے منسلک رشتوں کی جان پیاری ہوتی ہے اور ان رشتوں کی خاطر ہی تو انسان کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتا ہے پھر چاہے وہ صیح ہو یا غلط۔
ہاشم صاحب کی بیوی کی طبیعت وجدان کی موجودگی میں بہتر تو ہو گئی تھی لیکن وہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ پائیں انکا غم انہیں بہت پہلے سے ہی نگل چکا تھا لیکن انکی موت کے بعد وجدان خان نے اپنے تمام احساسات ،جزبات ہر چیز کو انکی قبر میں دفنا دیا تھا۔
اتنا تو وہ سمجھ چکا تھا کہ اسکی قسمت میں ہی کسی کی بھی محبت نہیں لکھی گئی۔ہر محبت کرنے والا اس سے چھن جاتا تھا۔بلکل اسکے ماں باپ اور بھائی کی طرح۔اسی لیے تو وجدان خان محبت سے ہی نفرت کر بیٹھا اور گزرتے وقت کے ساتھ اسکے دل کی سختی بڑھتی گئی یہاں تک کے وہ دل ایک پتھر میں بدل چکا تھا ۔
وجدان کی زندگی کا بس ایک مقصد تھا۔شیراز حسن کی بربادی اور درد ناک موت۔اسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے وجدان محض چودہ سال کی عمر میں ہاشم اور میجر منور سے چھپ چھپا کر آوارہ لڑکوں کی ایک گینگ میں شامل ہو گیا ۔جس کا لیڈر ملک تھا اور وجدان سے صرف پانچ سال ہی بڑا تھا۔ملک بھی ایک ریئس باپ کی اکلوتی اولاد تھا اور کچھ حد تک بگڑا ہوا بھی تھا لیکن ملک کا مقصد ان لوگوں کو جہنم واصل کرنا تھا جو گناہ کرنے کے بعد انصاف کو خرید کر آزاد ہو جاتے اور پھر سے ایک نیا گناہ کرنے نکل پڑتے۔
ملک نے ہی وجدان کو خان کا نام دیا کیونکہ یہ انکے گروپ کا اصول تھا کہ وہ اپنی پہچان ایک دوسرے کو نہیں بتائیں گے اور انکا مقصد صرف اور صرف برے لوگوں کو ان کے انجام تک پہنچانا ہو گا۔
ملک جانتا تھا کہ وجدان ان کے ساتھ صرف اور صرف بدلے کی وجہ سے شامل ہوا ہے۔ملک نہیں چاہتا تھا کہ انکے مشن میں کسی کا ذاتی مسلہ شامل ہو مگر شیراز حسن کی سچائی وہ بھی جانتا تھا۔وہ شخص سچ میں زندہ رہنے کے قابل نہیں تھا مگر فلحال وہ ان لوگوں کی پہنچ سے دور انگلستان میں چھپ کر بیٹھا تھا۔
ملک نے وجدان کے اندر ایسے غصے اور نفرت کو محسوس کیا تھا جو کہ ایک چودہ سال کے بچے کے لیے بہت زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں اور اسی غصے اور نفرت کی وجہ سے وجدان ان میں سب سے زیادہ طاقت ور اور خطرناک ہو چکا تھا۔اتنا کہ ملک بھی اس سے ڈرنے لگا اور اسے ایک آگ بلانے لگا ایسی آگ جو اس سرد مہر بچے کے چہرے اور آنکھوں میں دیکھائی نہیں دیتی تھی لیکن پھر بھی اسکے اندر جلتی کرب اور غصے کی وہ آگ دنیا جلا سکتی تھی ۔
🌈🌈🌈
صبح کے چار بج رہے تھے اور گاڑی میں تقریبا ہر کوئی سو چکا تھا۔لیکن زرش مسلسل کھڑکی سے باہر دیکھنے میں مصروف تھی۔اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ حمنہ کے پاس ہی رہے گی کیونکہ حمنہ ہی ایک ایسی تھی جو اپنے سے جڑے رشتوں کے نظریے سمجھتی تھی اور ان کی خواہشات کا ادب کرتی تھی۔ اس وقت زرش کو اسکی بہت زیادہ ضرورت تھی۔
اچانک ہی گاڑی رکنے پر زرش نے اپنا دھیان سامنے کیا لیکن اسے کچھ خاص نظر نہیں آیا تو وہ پھر سے باہر کی طرف دیکھنے لگی۔اپنی سوچ میں وہ اس قدر گم تھی کہ اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ اسکے ساتھ موجود عورت کی جگہ پر اب ایک مرد سوار تھا۔
‘کیسی ہو؟؟؟ ڈھونڈ لیا نا تمہیں۔’
ساتھ بیٹھے شخص کی دلکش لیکن خطرناک آواز سن کر زرش کی چلتی سانسیں سینے میں اٹک گئی تھیں۔زور زور سے سانس لیتے ہوئے زرش کی نظر اس آدمی کے ہاتھوں پر پڑی جہاں مردانہ سفید انگلیوں میں وہی مخصوص RB لیٹرز والی انگوٹھی تھی۔
‘تمہیں کیا لگا کہ میں اپنی گڑیا کو بھول چکا ہوں گا؟کبھی بھی نہیں میری جان ۔تمہیں یاد نہیں۔۔۔۔۔۔تم تو نشہ ہو آر بی کا ،اسکی ضد اور بھلا ضد بھی پوری کیے بغیر کسی کو چین ملا ہے؟’
زرش اب باقائدہ خوف سے کانپ رہی تھی۔وہ پھر سے وہ زندگی نہیں جینا چاہتی تھی۔زرش نے وہاں سے اٹھ کر بھاگنے چاہا تھا لیکن اسکا ارادہ جان کر وہ شخص مسکرا دیا۔
No no my little doll there is no way out.
اور اگر چاہتی ہو نا کہ تمہاری وجہ سے ان معصوم لوگوں کی جان نہیں جائے تو خاموشی سے بیٹھ جاؤ۔ورنہ اس بس کے کھائی میں گرنے سے 40 لوگوں کی موت کی خبر کل ٹی وی میں چل رہی ہو گی۔’
آر بی کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آئی وہ مسکراہٹ اس وجیح شخص کو مزید خوبصورت بنا چکی تھی لیکن اس وجاحت اور خوبصورتی کے پیچھے ایک بھیانک شیطان چھپا تھا جو اپنی تسکین اور خواہش کے لیے کسی کو بھی تکلیف پہنچا سکتا تھا اور یہ بات زرش سے بہتر کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔
‘اور میری گڑیا تو میری ہر بات مانتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ہے نا کیونکہ بات کو نہ ماننے کا نتیجہ وہ اچھی طرح سے جانتی ہے۔’
اتنی سی بات سے وہ شخص زرش کو بہت کچھ یاد کروا گیا تھا۔زرش مزید رونے لگی۔
‘کیوں پریشان کر رہے ہو بچی کو تم؟’ یہ وہی بوڑھا کنڈکٹر تھا جو آر بی کے ایک آدمی سے اپنے آپ کو چھڑوا کر آر بی کے پاس آیا۔آر بی نے اپنی خطرناک بھوری آنکھوں سے اسے گھورا تو آر بی کا آدمی جلدی سے اس کنڈکٹر کو پکڑ کر باہر لے گیا اور زرش کے دیکھتے ہی دیکھتے اسکے سینے میں گولی مار دی۔بس میں موجود سب لوگ سہم چکے تھے۔
Come on my doll we need to go.
آر بی نے سیٹ سے اٹھ کر اپنی چوڑی ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائی تھی زرش نے اس خوفناک منظر سے اپنی آنسوؤں سے بھری نگاہیں پھیریں اور سہم کر اس سے مزید دور ہو گئی۔
Come or all of them are going to die.
اسکی آواز میں سختی محسوس کر کے زرش کی روح تک کانپ گئی تھی۔لیکن اسکے پاس کوئی چارہ نہیں تھا اپنی وجہ سے وہ اتنے لوگوں کی زندگی داؤ پر نہیں لگا سکتی تھی۔
زرش نے اپنا کپکپاتا ہوا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیا اور خود کو مار کر اپنے سب سے ڈراونے خواب کی طرف واپس چل دی۔جہاں اندھیری رات اپنی کالی چادر پھیلائے اسکا انتظار کر رہی تھی۔